سورہ نساء: آیت 33 - ولكل جعلنا موالي مما ترك... - اردو

آیت 33 کی تفسیر, سورہ نساء

وَلِكُلٍّ جَعَلْنَا مَوَٰلِىَ مِمَّا تَرَكَ ٱلْوَٰلِدَانِ وَٱلْأَقْرَبُونَ ۚ وَٱلَّذِينَ عَقَدَتْ أَيْمَٰنُكُمْ فَـَٔاتُوهُمْ نَصِيبَهُمْ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍ شَهِيدًا

اردو ترجمہ

اور ہم نے ہر اُس ترکے کے حق دار مقرر کر دیے ہیں جو والدین اور رشتہ دار چھوڑیں اب رہے وہ لوگ جن سے تمہارے عہد و پیمان ہوں تو ان کا حصہ انہیں دو، یقیناً اللہ ہر چیز پر نگراں ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Walikullin jaAAalna mawaliya mimma taraka alwalidani waalaqraboona waallatheena AAaqadat aymanukum faatoohum naseebahum inna Allaha kana AAala kulli shayin shaheedan

آیت 33 کی تفسیر

(آیت) ” ولکل جعلنا موالی مما ترک الوالدن والا قربون والذین عقدت ایمانکم فاتوھم نصیبھم ان اللہ کان علی کل شیء شھیدا (4 : 33)

” اور ہم نے ہر اس ترکے کے حقدار مقرر کردیئے ہیں جو والدین اور رشتہ دار چھوڑیں ‘ اب رہے وہ لوگ جن سے تمہارے عہد و پیمان ہوں تو ان کا حصہ انہیں دو ‘ یقینا اللہ ہر چیز پر نگران ہے ۔ “

اس کلیہ کے بعد کہ مردوں نے جو کمایا ان کا ہے اور عورتوں نے جو کمایا ان کا ہے اور اس حوالے کے بعد کہ قانون میراث کے مطابق مردوں اور عورتوں کے حصص بھی مقرر ہوچکے ہیں اب فرماتے ہیں کہ ہر شخص کے رشتہ داروں میں سے ہم نے اس کے وارث مقرر کردیئے ہیں ‘ جو اس کی میراث پائیں گے اور یہ وارث اس شخص کے اس ترکے کے حقدار ہوں گے جو اسے اپنے والدین اور اقرباء سے ملا ۔ یہ مال اس نظام میراث کے مطابق نسلا بعد نسل منتقل ہوتا رہے گا ۔ وراثت پانے والے پائیں گے پھر وہ اپنے اس موروثی مال میں مزید اپنی کمائی جمع کریں گے ۔ یہ ایک ایسی تصویر ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی نظام میں دولت کی گردش کس طرح عمل میں آتی ہے ۔ یہ گردش کسی نسل میں نہیں رکتی اور نہ یہ دولت کسی ایک گھرانے اور ایک فرد کے پاس جمع اور مرتکز ہوتی ہے بلکہ نظام میراث ہمیشہ اپنا کام کرتا رہتا ہے ۔ ایک مسلسل تقسیم ہے جو جاری وساری ہے ۔ اموال کے مالک اس میں کوئی ترمیم نہیں کرسکتے ۔ نہ وارثوں کے حصص میں کمی بیشی کی جاسکتی ہے ۔ وقفے وقفے کے بعد تقسیم کا یہ خود کار عمل جاری رہتا ہے ۔

اس کے بعد ان سابقہ معاہدوں کی بات ہوئی جن کو شریعت اسلامیہ نے برقرار رکھا ہے اور جن کے مطابق میراث کے حقدار کبھی کبھار غیر اقرباء بھی ہوجاتے تھے ۔ ان معاہدوں کو عقود موالات کہا جاتا تھا ۔ جب اسلامی معاشرے کا آغاز ہوا تو اس میں ان میں سے بعض پائے جاتے تھے مثلا :

(1) معاہدہ موالات عتق ‘ جو شخص غلام کو آزاد کو آزاد کرتا وہ اس کی جانب سے دیت بھی ادا کرتا ‘ اگر کسی وقت اس پر عائد ہوجائے یعنی جب وہ کوئی جرم کرتا جیسا کہ اپنے اہل نسب کے درمیان دیت کی ادائیگی ہوا کرتی تھی ۔ اور اگر کوئی شخص مر جاتا تو اگر اس کے عصبات نہ ہوتے تو پھر یہ مالک اس کی میراث کا بھی حقدار ہوتا ۔

(2) دوسرا عقد موالات ‘ وہ یوں کہ ایک غیر عربی کے ساتھ دوستی کا معاہدہ کرلیتا جبکہ اس کے اقرباء عرب میں نہ ہوتے ‘ اس معاہدے کے نتیجے میں یہ غیر عربی کسی بھی عرب خاندان کسی بھی عرب خاندان کا ایک فرد ہوجاتا ۔ ولی بھی اس کی جانب سے دیت ادا کرتا اگر اس سے کوئی جرم سرزد ہوجاتا اور یہ شخص جب مرجاتا تو اس کی میراث کا حقدار وہ ولی ہوتا ۔

(3) وہ معاہدہ جو ابتدائے ہجرت کے ایام میں حضور ﷺ نے انصار ومہاجرین کے درمیان کرایا تھا ۔ اس طرح مہاجرین اور انصار ایک دوسرے کے وارث بھی ہوتے ‘ اگر انصار کے اہل مسلمان ہوتے ورنہ ان کے درمیان وارثت نہ ہوتی ۔

(4) ایسے معاہدے جاہلیت میں ہوتے تھے کہ دو شخص ایک دوسرے کے ساتھ معاہدہ کرتے کہ ہم ایک دوسرے کی وارثت کے حقدار ہوں گے ۔

اسلام نے ان تمام معاہدوں کو کالعدم کردیا ‘ خصوصا تیسرے اور چھو تھے معاہدے کو اور یہ قرار دیا کہ وراثت کے اندر حقیقی عامل قرابت اور صرف قرابت ہے لیکن اسلام نے اول الذکر دو معاہدوں کو بحال رکھا اور یہ حکم دیا کہ آئندہ ایسے معاہدے نہ کئے جائیں ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ۔ (آیت) ” والذین عقدت ایمانکم فاتوھم نصیبھم “۔ (4 : 33) (وہ لوگ جن سے تمہارے عہد و پیمان ہوں ان کا حصہ انہیں دو ) اور اس بارے میں سخت تاکید بھی کی گئی اور ان معاہدوں اور ان کے تصرفات کے بارے اپنی شہادت تحریر فرمائی ۔ (آیت) ” ان اللہ کان علی کل شیء شھیدا “۔ (4 : 33)

(یقینا اللہ ہر چیز پر نگران ہے) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : لا حلف فی الاسلام ایما حلف فی الجاھلیۃ لم یزدہ الاسلام الاشدہ “ (اسلام میں کوئی معاہدہ ولا نہ ہوگا لیکن جو معاہدے جاہلیت کے دور میں ہوئے ہیں اسلام ان کو مزید پختہ کرتا ہے ۔ احمد ومسلم)

اسلام نے ان معاہدوں کے خاتمہ میں وہی پالیسی اختیار فرمائی جو وہ تمام مالی قوانین کے سلسلے میں ہمیشہ اپناتا ہے ۔ جب بھی وہ کوئی قانون مالی اصلاحات کے طور پر نافذ کرتا ہے ‘ اسلام کی پالیسی وہی ہوتی ہے یعنی اسلام مالی اصلاحات کا کوئی قانون موثر بماضی (Retropective) نافذ نہیں کرتا ۔ مثلا جب حرمت ربا کا قانون نافذ ہوا تو اس کا نفاذ اس تاریخ سے ہوا ‘ جس تاریخ کو حکم آیت کے اندر نازل ہوا ۔ اور اس سے پہلے جو سود لیا جا چکا تھا ‘ اسے نہ چھیڑا گیا ۔ اور یہ حکم نہ دیا کہ جن لوگوں نے منافع لئے ہیں وہ واپس کریں ۔ اگرچہ سابقہ معاہدے بھی منسوخ کردیئے البتہ جنھوں نے معاہدوں کے مطابق قرض وصول کر لئے تھے وہ ان کے پاس رہنے دیئے تھے ۔ یہاں ولایت کے معاملے میں معاہدوں کو منسوخ نہیں کیا گیا ‘ البتہ یہ حکم دیا گیا کہ جدید معاہدے نہ کئے جائیں اس لئے کہ ان معاہدوں کی رو سے مالی ذمہ داریوں کے علاوہ معاہدہ کرنے والے اجنبی افراد اس خاندان کے فرد بن جاتے تھے ۔ اور ان کے درمیان مختلف قسم کے پیچیدہ روابط قائم ہوجاتے تھے جن کا کاٹنا مناسب نہ تھا ۔ البتہ جدید معاہدے کرنے سے منع کردیا گیا اور سابقہ معاہدوں کے بارے میں حکم دیا کہ نافذ کیا جائے ۔ جدید معاہدوں کو اس لئے منع کردیا گیا تاکہ ان کی وجہ سے ایسے آثار اور مسائل پیدا نہ ہوں جن کا حل ضروری ہوجائے ۔

اس فیصلے کی وجہ سے ایک لوگوں کو ایک سہولت دی گئی دوسرے یہ کہ اس کے اندر ان مسائل کا حل پایا جاتا ہے جو اس وقت اس معاشرے کے لئے اہم تھے ۔ اور یہ حل زیادہ گہرائی حکمت اور پورے حالات کے تقاضے پر مبنی تھا خصوصا ان حالات میں جن میں اسلام جدید اسلامی معاشرے کے خدوخال وضع کر رہا تھا ‘ اور سابق جاہلی معاشرے کے نشانات ایک ایک کرکے مٹائے جارہے تھے اور ہر قانون سازی کے عمل میں یہ کام ذرا اور آگے بڑھتا تھا ۔ (حضرت ابن عباس ؓ سے اس آیت کی تشریح میں یہ بات منقول ہے کہ وہ وراثت کو قانون وراثت کے مطابق دیتے ‘ البتہ جن لوگوں کے ساتھ معاہدے تھے ان کی امداد ‘ اعانت اور ان کے ساتھ ہمدری کا حکم دیتے تھے ۔ )

اس سبق کا آخری موضوع اسلام کے نظام خاندان کی تنظیم اور اس کے امور اور معاملات کی ضابطہ بندی ہے ۔ خاندان کے اندر کس کی کیا حیثیت ہوگی اور یہ کہ خاندان کے اندر کس کی کیا ڈیوٹی ہوگی ۔ اور وہ انتظامات جن کے ذریعے اس اہم ادارے کے امور کی بندی کی گئی ہے ۔ اور یہ کہ اس ادارے کو اختلافات اور ذاتی خواہشات کے جھٹکوں سے کس طرح محفوظ کرنا ہے ۔ نیز اسے ان عناصر سے کس طرح بچانا ہے جو اس کو منہدم کرنے اور اس کی جڑیں اکھاڑنے کا باعث بنتے ہیں ۔ اس سلسلے میں پوری پوری کوشش کی گئی ہے ۔

آیت 33 وَلِکُلٍّ جَعَلْنَا مَوَالِیَ مِمَّا تَرَکَ الْوَالِدٰنِ وَالْاَقْرَبُوْنَ ط۔قانون وراثت کی اہمیت کو دیکھئے کہ اب آخر میں ایک مرتبہ پھر اس کا ذکر فرمایا۔ وَالَّذِیْنَ عَقَدَتْ اَیْمَانُکُمْ فَاٰتُوْہُمْ نَصِیْبَہُمْ ط۔ ایک نیا مسئلہ یہ پیدا ہوگیا تھا کہ جن لوگوں کے ساتھ دوستی اور بھائی چارہ ہے یا مواخات کا رشتہ ہے مدینہ منورہ میں رسول اللہ ﷺ نے ایک انصاری اور ایک مہاجر کو بھائی بھائی بنا دیا تھا تو کیا ان کا وراثت میں بھی حصہ ہے ؟ اس آیت میں فرمایا گیا کہ وراثت تو اسی قاعدہ کے مطابق ورثاء میں تقسیم ہونی چاہیے جو ہم نے مقرر کردیا ہے۔ جن لوگوں کے ساتھ تمہارے دوستی اور بھائی چارے کے عہد و پیمان ہیں ‘ یا جو منہ بولے بھائی یا بیٹے ہیں ان کا وراثت میں کوئی حصہ نہیں ہے ‘ البتہ اپنی زندگی میں ان کے ساتھ جو بھلائی کرنا چاہو کرسکتے ہو ‘ انہیں جو کچھ دینا چاہو دے سکتے ہو ‘ اپنی وراثت میں سے بھی کچھ وصیت کرنا چاہو تو کرسکتے ہو۔ لیکن جو قانون وراثت طے ہوگیا ہے اس میں کسی ترمیم و تبدیلی کی گنجائش نہیں۔ وراثت میں حق دار کوئی اور نہیں ہوگا سوائے اس کے جس کو اللہ نے مقرر کردیا ہے۔ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ شَہِیْدًا ۔اب آرہی ہے اصل میں وہ کانٹے دار آیت جو عورتوں کے حلق سے بہت مشکل سے اترتی ہے ‘ کانٹا بن کر اٹک جاتی ہے۔ اب تک اس ضمن میں جو باتیں آئیں وہ دراصل اس کی تمہید کی حیثیت رکھتی ہیں۔ پہلی تمہید سورة البقرۃ میں آچکی ہے : وَلَھُنَّ مِثْلُ الَّذِیْ عَلَیْھِنَّ بالْمَعْرُوْفِص وَلِلرِّجَالِ عَلَیْھِنَّ دَرَجَۃٌ ط آیت 228 اور عورتوں کے لیے اسی طرح حقوق ہیں جس طرح ان پر ذمہ داریاں ہیں دستور کے مطابق ‘ البتہ مردوں کے لیے ان پر ایک درجہ فوقیت کا ہے“۔ یہ کہہ کر بات چھوڑ دی گئی۔ اس کے بعد ابھی ہم نے پڑھا : وَلاَ تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللّٰہُ بِہٖ بَعْضَکُمْ عَلٰی بَعْضٍ ط یہ ہدایت عورتوں کے لیے مزید ذہنی تیاری کی غرض سے دی گئی۔ اور اب دو ٹوک انداز میں ارشاد ہو رہا ہے :

مسئلہ وارثت میں موالی ؟ وارث اور عصبہ کی وضاحت و اصلاحات بہت سے مفسرین سے مروی ہے کہ موالی سے مراد وارث ہیں بعض کہتے ہیں عصبہ مراد ہیں ؟ چچا کی اولاد کو بھی موالی کہا جاتا ہے جیسے حضرت فضل بن عباس کے شعر میں ہے۔ پس مطلب آیت کا یہ ہوا کہ اے لوگو ! تم میں سے ہر ایک کے لئے ہم نے عصبہ مقرر کر دئیے ہیں جو اس مال کے وارث ہوں گے جسے ان کے ماں باپ اور قرابتدار چھوڑ مریں اور تمہارے منہ بولے بھائی ہیں تم جن کی قسمیں کھا کر بھائی بنے ہو اور وہ تمہارے بھائی بنے ہیں انہیں ان کی میراث کا حصہ دو جیسے کہ قسموں کے وقت تم میں عہد و پیمان ہوچکا تھا، یہ حکم ابتدائے اسلام میں تھا پھر منسوخ ہوگیا اور حکم ہوا کہ جن سے عہد و پیمان ہوئے وہ نبھائے جائیں اور بھولے نہ جائیں لیکن میراث انہیں نہیں ملے گی صحیح بخاری شریف میں حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ موالی سے مراد وارث ہیں اور بعد کے جملہ سے مراد یہ ہے کہ مہاجرین جب مدینہ شریف میں تشریف لائے تو یہ دستور تھا کہ ہر مہاجر اپنے انصاری بھائی بند کا وارث ہوتا اس کے ذو رحم رشتہ دار وارث نہ ہوتے پس آیت نے اس طریقے کو منسوخ قرار دیا اور حکم ہوا کہ ان کی مدد کرو انہیں فائدہ پہنچاؤ ان کی خیر خواہی کرو لیکن میراث انہیں نہیں ملے گی ہاں وصیت کر جاؤ۔ قبل از اسلام یہ دستور تھا کہ دو شخصوں میں عہد و پیمان ہوجاتا تھا کہ میں تیرا وارث اور تو میرا وارث اسی طرح قبائل عرب عہد و پیمان کرلیتے تھے پس حضور ﷺ نے فرمایا جاہلیت کی قسمیں اور اس قسم کے عہد اس آیت نے منسوخ قرار دے دیئے اور فرمایا معاہدوں والوں کی بہ نسبت ذی رحم رشتہ دار کتاب اللہ کے حکم سے زیادہ ترجیح کے مستحق ہیں۔ ایک روایت میں ہے کہ حضور ﷺ نے جاہلیت کی قسموں اور عہدوں کے بارے میں یہاں تک تاکید فرمائی کہ اگر مجھے سرخ اونٹ دئیے جائیں اور اس قسم کے توڑنے کو کہا جائے جو دارالندوہ میں ہوئی تھی تو میں اسے بھی پسند نہیں کرتا، ابن جریر میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں میں اپنے بچپنے میں اپنے ماموؤں کے ساتھ حلف طیبین میں شامل تھا میں اس قسم کو سرخ اونٹوں کے بدلے بھی توڑنا پسند نہیں کرتا پس یاد رہے کہ قریش و انصار میں جو تعلق رسول اللہ ﷺ نے قائم کیا تھا وہ صرف الفت و یگانگت پیدا کرنے کے لئے تھا، لوگوں کے سوال کے جواب میں بھی حضور ﷺ کا یہ فرمان مروی ہے کہ جاہلیت کے حلف نبھاؤ۔ لیکن اب اسلام میں رسم حلف کالعدم قرار دے دی گئی ہے فتح مکہ والے دن بھی آپ نے کھڑے ہو کر اپنے خطبہ میں اسی بات کا اعلان فرمایا داؤد بن حصین ؒ کہتے ہیں میں حضرت ام سعد بنت ربیع ؓ سے قرآن پڑھتا تھا میرے ساتھ ان کے پوتے موسیٰ بن سعد بھی پڑھتے تھے جو حضرت ابوبکر کی گود میں یتیمی کے ایام گزار رہے تھے میں نے جب اس آیت میں عاقدت پڑھا تو مجھے میری استانی جی نے روکا اور فرمایا عقدت پڑھو اور یاد رکھو یہ آیت حضرت ابوبکر ؓ اور ان کے صاحبزادے حضرت عبدالرحمن ؓ کے بارے میں نازل ہوئی ہے کہ عبدالرحمن اسلام کے منکر تھے حضرت صدیق ؓ نے قسم کھالی کہ انہیں وارث نہ کریں گے بالآخر جب یہ مسلمانوں کے بےانتہا حسن اعمال سے اسلام کی طرف آمادہ ہوئے اور مسلمان ہوگئے تو جناب صدیق ؓ کو حکم ہوا کہ انہیں ان کے ورثے کے حصے سے محروم نہ فرمائیں لیکن یہ قوم غریب ہے اور صحیح قول پہلا ہی ہے الغرض اس آیت اور ان احادیث سے ان کا قول رد ہوتا ہے جو قسم اور وعدوں کی بنا پر آج بھی ورثہ پہنچنے کے قائل ہیں جیسے کہ امام ابو حنفیہ ؒ اور ان کے ساتھیوں کا خیال ہے اور امام احمد ؒ سے بھی اس قسم کی ایک روایت ہے۔ جسے جمہور اور امام مالک اور امام شافعی سے صحیح قرار دیا ہے اور مشہور قول کی بنا پر امام احمد کا بھی اسے صحیح مانتے ہیں، پس آیت میں ارشاد ہے کہ ہر شخص کے وارث اس کے قرابتی لوگ ہیں اور کوئی نہیں۔ بخاری و مسلم میں ہے رسول مقبول ﷺ فرماتے ہیں حصہ دار وارثوں کو ان کے حصوں کے مطابق دے کر پھر جو بچ رہے تو عصبہ کو ملے اور وارث وہ ہیں جن کا ذکر فرائض کی دو آیتوں میں ہے اور جن سے تم سے مضبوط عہد و پیمان اور قسموں کا تبادلہ ہے یعنی آس آیت کے نازل ہونے سے پہلے کے وعدے اور قسمیں ہوں خواہ اس آیت کے اترنے کے بعد ہوں سب کا یہی حکم ہے کہ ایسے حلف برداروں کو میراث نہ ملے اور بقول حضرت ابن عباس ؓ ان کا حصہ نصرت امداد خیر خواہی اور وصیت ہے میراث نہیں آپ فرماتے ہیں لوگ عہدو پیمان کرلیا کرتے تھے کہ ان میں سے جو پہلے مرے گا بعد والا اس کا وارث بنے گا پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے (وَاُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُهُمْ اَوْلٰى بِبَعْضٍ فِيْ كِتٰبِ اللّٰهِ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُهٰجِرِيْنَ اِلَّآ اَنْ تَفْعَلُوْٓا اِلٰٓى اَوْلِيٰۗىِٕكُمْ مَّعْرُوْفًا) 33۔ الاحزاب :6) نازل فرما کر حکم دیا کہ ذی رحم محرم ایک سے اولی ہے البتہ اپنے دوستوں کے ساتھ حسن سلوک کرو یعنی اگر ان سے مال کا تیسرا حصہ دینے کی وصیت کر جاؤ تو جائز ہے یہی معروف و مشہور امر اور بہت سے سلف سے بھی مروی ہے کہ یہ آیت منسوخ ہے اور ناسخ (وَاُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُهُمْ اَوْلٰى بِبَعْضٍ فِيْ كِتٰبِ اللّٰهِ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُهٰجِرِيْنَ اِلَّآ اَنْ تَفْعَلُوْٓا اِلٰٓى اَوْلِيٰۗىِٕكُمْ مَّعْرُوْفًا) 33۔ الاحزاب :6) والی ہے۔ حضرت سعید بن جبیر ؒ فرماتے ہیں انہیں ان کا حصہ دو یعنی میراث۔ حضرت ابوبکر ؓ نے ایک صاحب کو اپنا بیٹا بناتے تھے اور انہیں اپنی جائیداد کا جائز وارث قرار دیتے تھے پس اللہ تعالیٰ نے ان کا حصہ وصیت میں تو برقرار رکھا میراث کا مستحق موالی یعنی ذی رحم محرم رشتہ داروں اور عصبہ کو قرار دے دیا اور سابقہ رسم کو ناپسند فرمایا کہ صرف زبانی دعوؤں اور بنائے ہوئے بیٹوں کو ورثہ نہ دیا جائے ہاں ان کے لئے وصیت میں سے دے سکتے ہو۔ امام ابن جریر ؒ فرماتے ہیں میرے نزدیک مختار قول یہ ہے کہ انہیں حصہ دو یعنی نصرت نصیحت اور معونت کا یہ نہیں کہ انہیں ان کے ورثہ کا حصہ دو تو یہ معنی کرنے سے پھر آیت کو منسوخ بتلانے کی وجہ باقی نہیں رہتی نہ یہ کہنا پڑتا ہے کہ یہ حکم پہلے تھا اب نہیں رہا۔ بلکہ آیت کی دلالت صرف اسی امر پر ہے کہ جو عہد و پیمان آپس میں امداد و اعانت کے خیر خواہی اور بھلائی کے ہوتے تھے انہیں وفا کرو پس یہ آیت محکم اور غیر منسوخ ہے لیکن امام صاحب کے قول میں ذرا اشکال سے اس لئے کہ اس میں تو شک نہیں کہ بعض عہد و پیمان صرف نصرت و امداد کے ہی ہوتے تھے لیکن اس میں بھی شک نہیں کہ بعض عہد و پیمان ورثے کے بھی ہوتے تھے جیسے کہ بہت سے سلف صالحین سے مروی ہے اور جیسے کہ ابن عباس ؓ کی تفسیر بھی منقولی ہیں۔ جس میں انہوں نے صاف فرمایا ہے کہ مہاجر انصار کا وارث ہوتا تھا اس کے قرابتی لوگ وارث نہیں ہوتے تھے نہ ذی رحم رشتہ دار وارث ہوتے تھے یہاں تک کہ یہ منسوخ ہوگیا پھر امام صاحب کیسے فرما سکتے ہیں کہ یہ آیت محکم اور غیر محکم منسوخ ہے واللہ تعالیٰ اعلم۔

آیت 33 - سورہ نساء: (ولكل جعلنا موالي مما ترك الوالدان والأقربون ۚ والذين عقدت أيمانكم فآتوهم نصيبهم ۚ إن الله كان على كل شيء...) - اردو