سورہ نساء (4): آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں۔ - اردو ترجمہ

اس صفحہ میں سورہ An-Nisaa کی تمام آیات کے علاوہ فی ظلال القرآن (سید ابراہیم قطب) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ النساء کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔

سورہ نساء کے بارے میں معلومات

Surah An-Nisaa
سُورَةُ النِّسَاءِ
صفحہ 83 (آیات 27 سے 33 تک)

وَٱللَّهُ يُرِيدُ أَن يَتُوبَ عَلَيْكُمْ وَيُرِيدُ ٱلَّذِينَ يَتَّبِعُونَ ٱلشَّهَوَٰتِ أَن تَمِيلُوا۟ مَيْلًا عَظِيمًا يُرِيدُ ٱللَّهُ أَن يُخَفِّفَ عَنكُمْ ۚ وَخُلِقَ ٱلْإِنسَٰنُ ضَعِيفًا يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لَا تَأْكُلُوٓا۟ أَمْوَٰلَكُم بَيْنَكُم بِٱلْبَٰطِلِ إِلَّآ أَن تَكُونَ تِجَٰرَةً عَن تَرَاضٍ مِّنكُمْ ۚ وَلَا تَقْتُلُوٓا۟ أَنفُسَكُمْ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا وَمَن يَفْعَلْ ذَٰلِكَ عُدْوَٰنًا وَظُلْمًا فَسَوْفَ نُصْلِيهِ نَارًا ۚ وَكَانَ ذَٰلِكَ عَلَى ٱللَّهِ يَسِيرًا إِن تَجْتَنِبُوا۟ كَبَآئِرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنكُمْ سَيِّـَٔاتِكُمْ وَنُدْخِلْكُم مُّدْخَلًا كَرِيمًا وَلَا تَتَمَنَّوْا۟ مَا فَضَّلَ ٱللَّهُ بِهِۦ بَعْضَكُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ ۚ لِّلرِّجَالِ نَصِيبٌ مِّمَّا ٱكْتَسَبُوا۟ ۖ وَلِلنِّسَآءِ نَصِيبٌ مِّمَّا ٱكْتَسَبْنَ ۚ وَسْـَٔلُوا۟ ٱللَّهَ مِن فَضْلِهِۦٓ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ بِكُلِّ شَىْءٍ عَلِيمًا وَلِكُلٍّ جَعَلْنَا مَوَٰلِىَ مِمَّا تَرَكَ ٱلْوَٰلِدَانِ وَٱلْأَقْرَبُونَ ۚ وَٱلَّذِينَ عَقَدَتْ أَيْمَٰنُكُمْ فَـَٔاتُوهُمْ نَصِيبَهُمْ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍ شَهِيدًا
83

سورہ نساء کو سنیں (عربی اور اردو ترجمہ)

سورہ نساء کی تفسیر (فی ظلال القرآن: سید ابراہیم قطب)

اردو ترجمہ

ہاں، اللہ تو تم پر رحمت کے ساتھ توجہ کرنا چاہتا ہے مگر جو لوگ خود اپنی خواہشات نفس کی پیروی کر رہے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم راہ راست سے ہٹ کر دور نکل جاؤ

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

WaAllahu yureedu an yatooba AAalaykum wayureedu allatheena yattabiAAoona alshshahawati an tameeloo maylan AAatheeman

(آیت) ” واللہ یرید ان یتوب علیم ویرید الذین یتبعون الشھوت ان تمیلوا میلا عظیما “۔ (4 : 27) ” اللہ تو تم پر رحمت کے ساتھ توجہ کرنا چاہتا ہے مگر جو لوگ اپنی خواہشات نفس کی پیروی کرتے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم راہ راست سے ہٹ کر دور نکل جاؤ ۔ “

اس مختصر اور ایک ہی آیت میں اللہ تعالیٰ نے بتا دیا کہ اللہ تعالیٰ انسانوں کے لئے کیا چاہتے ہیں اور کیسے نظام کے ذریعے چاہتے ہیں کس طریقے سے چاہتے ہیں ؟ اور جو لوگ نظام زندگی کو صرف جنسی تعلقات (Sex) پر استوار کرنا چاہتے ہیں اور جو انسانوں کو اسلامی نظام زندگی سے ہٹانا چاہتے ہیں وہ انسان کے ساتھ کیا کر رہے ہیں ؟ حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ بھی اسلامی منہاج سے ہٹ کر کسی دوسرے منہاج کو اختیار کرتے ہیں ان کا نظام شہوات پر مبنی ہوتا ہے ۔ صرف ایک اسلامی نظام زندگی ہی ہے جو سنجیدگی ‘ سچائی راستی اور احساس ذمہ داری پر مبنی ہے۔ باقی جس قدر نظام ہیں وہ اتباع نفس ‘ اطاعت شہوت اور فسق وفجور اور کج روی وگمراہی پر مبنی ہیں ۔

اللہ تعالیٰ لوگوں کو اپنے منہاج سے اچھی طرح آگاہ کر رہا ہے اپنے طریقے تشریح کے ساتھ بیان کرتا ہے تو اس سے اس کی غرض کیا ہے ؟ صرف یہ کہ وہ انسانوں پر رحمت اور شفقت کرنے کا ارادہ کرتا ہے ۔ وہ تمہیں راہ راست کی نشاندہی کرتا ہے ۔ وہ تمہیں آگاہ کرتا ہے کہ زندگی کی راہوں میں فلاں مقامات ہیں جہاں پھسلنے کا خطرہ ہے ۔ وہ سربلندی اور ترقی میں تمہاری امداد کرنا چاہتا ہے تاکہ تم بلندی کی انتہاؤں کو چھو سکو۔ اس کے مقابلے میں جو لوگ اپنے نظاموں کو صرف شہوات کی تلاش پر رکھتے ہیں اور وہ لوگوں کے لئے شہوت پر مبنی نظامہائے زندگی تجویز کرتے ہیں اور انہیں خوب سجاتے ہیں جن کی اسلامی نظام حیات کی رو سے کوئی گجائش نہیں ہے ۔ اللہ نے ان کی اجازت دی ہے نہ اسے جائز قرار دیا ہے ۔ یہ لوگ صرف یہ چاہتے ہیں کہ مسلمان راہ راست سے ہٹ کر دور تک گمراہی کی راہوں پر نکل جائیں اور اسلامی نظام زندگی اور اس کی انتہائی بلندیوں سے محروم ہوجائیں۔

زندگی کے اس شعبے میں جس کی سابقہ آیات میں ہدایات دی گئیں ‘ یعنی خاندان کی شیرازہ بندی ‘ سوسائٹی کی طہارت ‘ مرد وزن کے باہمی تعلقات کے لئے واحد پاک وصاف طریقہ کار کے تعین اور اس کے سوا تمام طریقوں کے ساتھ جنسی ملاپ کی حرمت ‘ ان کی مذمت اور مسلمانوں کی فکر ونظر میں ان کی گراوٹ و قباحت کا شعور پیدا کرنے کے لئے اس شعبے میں اللہ تعالیٰ کا منصوبہ کیا ہے جسے اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے اور ان لوگوں کا منصوبہ کیا ہے جو صرف شہوت رانی پر انسانی سوسائٹی کو استوار کرنا چاہتے ہیں ؟

اس سلسلے میں اللہ تعالیٰ کا جو منصوبہ ہے ‘ اس کا بیان تو سابقہ آیات میں تفصیل کے ساتھ کردیا گیا ‘ جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ مرد وزن کے اس تعلق کو منظم کرنا چاہتے ہیں ۔ اس تعلق کو پاک وصاف اور مقدس بنانا چاہتے ہیں اور اسے اس طرح استوار کرنا چاہتے ہیں کہ وہ جماعت مسلمہ کے لئے ہر حال میں خیر ہی خیر ہو۔

رہے وہ لوگ جو صرف شہوت رانی چاہتے ہیں تو وہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ یہ فطری میلانات ہر طرح سے بےقید ہوجائیں ۔ ان پر نہ کوئی دینی پابندی ہو ‘ نہ اخلاقی پابندی ہو اور نہ کوئی اجتماعی پابندی ہو ۔ وہ چاہتے ہیں کہ شہوت کی یہ بھٹی بلاروک وٹوک گرم سے گرم تر ہوتی چلی جائے اس پر کسی قسم کا قدغن نہ ہو ‘ اور وہ اس قدر گرم ہو کہ ہر دل بےقرار ہوجائے ‘ اعصاب پر کوئی کنٹرول نہ رہے اور اس طرح کوئی گھر مطمئن نہ ہو ۔ کسی کی عزت محفوظ نہ رہے ‘ کسی خاندان کا وجود باقی نہ رہے اور انسانوں کی حالت یہ ہوجائے کہ ہو جانووں کا گلہ بن جائیں اور پھر ان کے نر (MAle) جانور مادہ (FemAle) جانوروں کو دیکھتے ہی ان پر ٹوٹ پڑیں ان کے لئے قوت ‘ وسائل اور تدبیر کے سوا کوئی ضابطہ نہ ہو ‘ یوں پورا معاشرہ ہل جائے ۔ ہر طرف فساد ہی فساد ہو ‘ آزادی کے نام پر ہر طرف شر و فساد برپا ہو آزادی کا اگر صرف یہ ہی مفہوم ہے تو وہ صرف آزادی شہوات ہے اور اس پر مبنی نظام صرف شہوانی نظام ہے ۔

یہ ہے وہ گمراہی اور کج روی جس سے اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو ڈراتا ہے ‘ وہ انہیں متنبہ کرتا ہے کہ اس شہوانی نظام حیات کے داعی انہٰں کس چیز کی طرف بلا رہے ہیں شہوانی نظام کے داعی اس وقت یہ جدوجہد کر رہے تھے کہ نوخیز اسلامی معاشرے کو پلٹا کر دوبارہ اخلاقی بےراہ روی کے نظام کی طرف لے جائیں جس میں وہ بہت دور جا نکلے تھے ‘ اور اسلام کے پاک وصاف اور مستحکم معاشرتی نظام کی وجہ سے وہ اس میں اکیلے رہ گئے تھے ‘ اور یہی وہ ہدف ہے جس کی طرف آج کے یہ بےراہ قلمکار اور ادیب دعوت دے رہے ہیں اور جس میں آج کے تمام ذرائع ابلاغ و تفریح رات دن مصروف ہیں ، وہ چاہتے ہیں کہ آج اسلامی معاشرے میں ‘ حیوانی شہوت رانی کی راہ میں جو تھوڑی بہت رکاوٹیں ہیں انہیں بھی ختم کردیں ، یہ حقیقت ہے کہ اس حیوانیت سے انسان کو صرف اسلامی نظام زندگی ہی نجات دے سکتا ہے جب اسلام کی انقلابی قوتیں اگر اللہ نے چاہا اس نظام کو دنیا میں نافذ کردیں گی ۔

اس اختتامیہ کی آخری جھلک میں یہ دکھایا گیا ہے کہ انسان ایک ضعیف مخلوق ہے اور اس کی ان کمزوریوں ہی کی وجہ سے اللہ کو اس پر رحم آتا ہے ۔ اس لئے اللہ اس کے لئے جو منہاج حیات وضع کرتا ہے اور جو قانون بناتا ہے اس میں وہ ضعف کو ملحوظ رکھتا ہے اس لئے ہلکے پھلکے احکام نازل کرتا ہے ‘ اس کے لئے مشکلات پیدا کرنے کے بجائے اس کے لئے آسانیاں پیدا کرتا ہے ۔ حرج مشقت مضرت سے بچاتا ہے ۔

اردو ترجمہ

اللہ تم پر سے پابندیوں کو ہلکا کرنا چاہتا ہے کیونکہ انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Yureedu Allahu an yukhaffifa AAankum wakhuliqa alinsanu daAAeefan

(آیت) ” یرید اللہ ان یخفف عنکم وخلق الانسان ضعیفا “۔ (4 : 28) ” اللہ تم پر عائد شدہ پابندیوں کو ہلکا کرنا چاہتا ہے کیونکہ انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے ۔ “

گزشتہ آیات میں خاندانی نظام کے بارے میں جو احکام دیئے گئے ہیں اور قانون سازی کی گئی ہے اور جو ہدایات دی گئی ہیں ان میں تو تخفیف بالکل واضح نظر آتی ہے ۔ مثلا انسان کے فطری میلانات اور جنسی خواہش کو تسلیم کیا گیا ہے ۔ صرف اس جذبے کو منظم کر کے اس اک رخ تعمیری خطوط کیطرف موڑ دیا گیا ہے جس کے استعمال کے لئے پاک وصاف دائرہ کار مقرر کردیا گیا ہے ۔ اس کے لئے پاک وصاف اور بہترین ماحول بنایا گیا ہے ‘ اور یہ حکم نہیں دیا گیا کہ انسان اپنی اس فطری خواہش کو دبائے یا اس کا قلع قمع کر دے یا اسے اس طرح آزاد چھوڑ دے کہ وہ حیوانی سطح تک گر جائے اور اس کے لئے کوئی حد اور قید نہ ہو ۔

خاندانی زندگی کے علاوہ اسلامی نظام زندگی کے دوسرے شعبوں میں بھی قانون سازی کے سلسلے میں تخفیف اور آسانی ہر جگہ صاف نظر آتی ہے ۔ انسانی فطرت کا لحاظ رکھا گیا ہے ۔ انسان کی طاقت اور وسعت کو پیش نظر رکھا گیا ہے انسانی حاجات اور ضروریات کو پیش نظر رکھا گیا ہے اور انسان کی تمام تعمیری قوتوں کو آزاد چھوڑا گیا ہے ۔ تاہم ان کے استعمال کے لئے ایسے حدود وقیود رکھے ہیں جن کی وجہ سے ان کے غلط استعمال کی نوبت ہی نہیں آتی ۔

بعض لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ مردوزن کے جنسی تعلقات پر اسلام نے جو قیود عائد کی ہیں ان کی پابندی بہت ہی دشوار ہے اور جو لوگ آزاد شہوت رانی کے اصول پر چلتے ہیں ان کے ساتھ چلنا آسان اور فرحت بخش ہے ۔ یہ ایک عظیم غلط فہمی ہے اس لئے کہ جنسی تعلق کو بالکل آزاد چھوڑنا ‘ مرد وزن کے تعلق میں صرف لذت اندوزی کو اختیار کرنا ‘ اور عالم انسانیت میں جنسی ملاپ کو اس سطح تک لے آنا جس طرح حیوانوں میں جنسی ملاپ ہوتا ہے ‘ اور اس طرح ان تمام فرائض اور واجبات اور اجتماعی ذمہ داریوں کو ختم کردینا اور مرد وزن کے اس تعلق کو ہر قسم کے قید وبند سے آزاد کردیتا خواہ وہ اخلاقی قید ہو یا اجتماعی ‘ یہ تمام باتیں بظاہر تو بہت آسان ‘ پرکیف اور خوش کن تصور کی جائیں گی لیکن اپنے حقیقی نتائج کی روشنی میں وہ بہت ہی بھاری جان توڑ اور تباہ کن ہیں اور ایک فرد اور ایک معاشرے پر اس کے جو برے اثرات پڑتے ہیں ان کے نتائج سخت اذیت ناک مہلک اور تباہ کن ہوتے ہیں ۔ وہ معاشرے ‘ جنہوں نے جنسی آزادی کی اس بےراہ روی کو اپنایا ہے اور دینی اخلاق اور شرم وحیا کے قیود سے آزادہو گئے ہیں ‘ ان کے حالات پر ایک سرسری نظرڈالنے سے دل کانپ اٹھتا ہے بشرطیکہ دل میں زندگی کی رمق باقی ہو ۔

دنیا میں جو جو قدیم تہذیبیں نیست ونابود ہوئیں ‘ ان کی بربادی کا عامل اساسی ان کی جنسی بےراہ روی ہی تھی ۔ خواہ یہ تہذیب یونانی تہذیب ہو ‘ رومی تہذیب ہو یا قدیم ایرانی تہذیب ہو ‘ ان سب کے زوال کا اساسی سبب انکی جنسی بےراہ روی ہی تھی ۔ آج ہمارے دور میں مغربی تہذیب میں جو شکست وریخت ہورہی ہے وہ بھی اسی جنسی انارکی کی وجہ سے ہے ۔ خصوصا آج کے فرانسیسی معاشرے کی تباہی کے آثار تو بالکل ظاہر ہیں ‘ جس نے اس جنسی انار کی کو سب سے پہلے اپنایا ۔ تہذیب جدید کے دیگر ممالک ‘ امریکہ ‘ سویڈن ‘ برطانیہ ‘ اور دوسری نام نہاد ترقی یافتہ مغربی سوسائیٹوں میں اس شکست وریخت کے آثار نمودار ہوگئے ہیں فرانس میں اس جنسی انار کی کے آثار بہت پہلے نمودار ہوئے تھے ۔ 1870 کے بعد فرانس نے جس قدر جنگوں میں بھی حصہ لیا ‘ ان میں اسے دشمن کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پڑے ۔ تمام آثار و شواہد اس بات کی طرف اشارہ کررہے ہیں فرنچ سوسائٹی مکمل طور پر تباہی کے کنارے کھڑی ہے اور پہلی عالمی جنگ کے بعد یہ آثار اچھی طرح کھل کر سامنے آگئے ہیں ۔ مولانا مودودی (رح) لکھتے ہیں :

” شہوانیت کے اس تسلط کا اولین نتیجہ یہ ہے کہ فرانسیسیوں کی جسمانی قوت رفتہ رفتہ جواب دیتی چالی جارہی ہے ، دائمی جنسی ہیجانات نے ان کے اعصاب کمزور کردیئے ہیں ۔ خواہشات کی بندگی نے ان میں ضبط اور برداشت کی طاقت کم ہی باقی چھوڑی ہے ۔ امراض خبیثہ کی کثرت نے ان کی صحت پر نہایت مہلک اثر ڈالا ہے ۔ بیسویں صدی کے آغاز سے یہ کیفیت ہے کہ فرانس کے فوجی حکام کو مجبورا ہرچند سال کے بعد نئے رنگروٹوں کے لئے جسمانی اہلیت کے معیار کو گھٹا دینا پڑتا ہے کیونکہ اہلیت کا جو معیار پہلے تھا اب اس معیار کے نوجوان قوم کم سے کم تر ہوتے جارہے ہیں ۔ یہ ایک معتبر پیمانہ ہے جو تھرمامیڑ کی طرح قریب قریب یقینی صحت کے ساتھ بتاتا ہے کہ فرنچ قوم کی جسمانی قوتیں کتنی تیزی کے ساتھ بتدریج گھٹ رہی ہیں ۔ امراض خبیثہ اس تنزل کے اسباب میں سے ایک اہم سبب ہیں جنگ عظیم اول کے ابتدائی دو سالوں میں جن سپاہیوں کو محض آتشک کی وجہ سے رخصت دے کر ہسپتالوں میں میں بھیجنا پڑا ان کی تعداد 75000 تھی ۔ صرف ایک متوسط درجے کی فوجی چھاونی میں بیک وقت دو سوبیالیس سپاہی اس مرض میں مبتلا ہوئے ، ایک طرف اس وقت کی نزاکت کو دیکھئے کہ فرانسیسی قوم کی موت وحیات کا فیصلہ درپیش تھا اور اس کے وجود وبقا کے لئے ایک ایک سپاہی کی جانفشانی درکار تھی ۔ ایک ایک فرانک بیش قیمت تھا ‘ اور وقت ‘ قوت ‘ وسائل ‘ ہر چیز کی زیادہ سے زیادہ مقدار دفاع میں خرچ ہونے کی ضرورت تھی ‘ دوسری طرف اس قوم کے جوانوں کو دیکھئے کہ کتنے ہزار افراد عیاشی کی بدولت نہ صرف خود کئی کئی مہینوں کے لئے بیکار ہوئے بلکہ انہوں نے اپنی قوم کی دولت اور وسائل کو بھی اس آڑے وقت میں اپنے علاج پر ضائع کرایا ۔

ایک فرانسیسی ماہر فن لیریڈ کا بیان ہے کہ فرانس میں ہر سال آتشک اور اس کی پیدا کردہ امراض کی وجہ سے تیس ہزار جانیں ضائع ہوتی ہیں اور دق کے بعد یہ مرض سب سے زیادہ ہلاکتوں کا باعث ہوتا ہے ۔ یہ صرف ایک مرض خبیث کا حال ہے ۔ اور امراض خبیثہ کی فہرست صرف اسی ایک مرض پر مشتمل نہیں ہے ۔ “

” فرانس میں سالانہ صرف سات آٹھ فی ہزار کا اوسط ان مردوں اور عورتوں کا ہے جو ازدواج کے رشتے میں منسلک ہوتے ہیں ۔ یہ اوسط خود اتنا کم ہے کہ اسے دیکھ کر آسانی کے ساتھ اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ آبادی کا کتنا کثیر حصہ غیر شادی شدہ ہے ۔ پھر اتنی قلیل تعداد جو نکاح کرتی ہے ‘ ان میں بھی بہت کم لوگ ایسے ہیں جو باعصمت رہتے ہیں اور پاک اخلاقی زندگی بسر کرنے کی نیت سے نکاح کرتے ہیں ۔ اس ایک مقصد کے سوا ہر دوسرا ممکن مقصد ان کے پیش نظر ہوتا ہے ۔ حتی کہ عامۃ الورود مقاصد میں ایک یہ بھی ہے کہ نکاح سے پہلے ایک عورت نے جو بچہ ناجائز طور پر جنا ہے نکاح کر کے اس مولود کو جائز بنا دیا جائے ۔ چناچہ پول بیورو لکھتا ہے کہ فرانس کے کام پیشہ لوگوں (Working ClAss) کا یہ عام دستور ہے کہ نکاح سے پہلے عورت اپنے ہونے والے شوہر سے اس بات کا وعدہ لے لیتی ہے کہ وہ اس کے بچہ کو اپنا بچہ تسلیم کرے گا ۔ 1917 میں سین (Seine) کی عدالت دیوانی کے سامنے ایک عورت نے بیان دیا کہ میں نے شادی کے وقت ہی اپنے شوہر کو اس بات سے آگاہ کردیا تھا کہ اس شادی سے میرا مقصد صرف یہ ہے کہ ہمارے قبل از نکاح آزادانہ تعلقات سے جو بچے پیدا ہوئے ہیں ان کو ” حلالی “ بنا دیا جائے ۔ باقی رہی یہ بات کہ میں اس کے ساتھ بیوی بن کر زندگی گزاروں تو یہ بات نہ اس وقت میرے ذہن میں تھی نہ اب ہے ۔ اس بناء پر جس روز شادی ہوئی اسی روز ساڑھے پانچ بجے میں اپنے شوہر سے الگ ہوگئی اور آج تک میں اس سے نہیں ملی کیونکہ میں فرائض زوجیت ادا کرنے کی کوئی نیت نہ رکھتی تھی ۔ “

” پیرس کے ایک مشہور کالج کے پر نسپل نے پول بیورو سے بیان کیا کہ عموما نوجوان نکاح میں صرف یہ مقصد پیش نظر رکھتے ہیں کہ گھر رکھتے ہیں کہ گھر پر بھی ایک داشتہ کی خدمات حاصل کرلیں ، دس بارہ سال تک وہ ہر طرف آزادانہ مزے چکھتے پھرتے ہیں پھر ایک وقت آتا ہے کہ اس قسم کی بےضابطہ آوارہ زندگی سے تھک کر وہ ایک عورت سے شادی کرلیتے ہیں تاکہ گھر کی آسائش بھی کسی حد تک بہم پہنچے اور آزادنہ ذواقی کا لطف بھی حاصل کیا جاتا رہے ۔ “ (دیکھئے الحجاب مولانا سید ابو الاعلی مودودی (رح) امیر جماعت اسلامی پاکستان ص 113۔ 114 (سید قطب (رح)) ‘ دیکھے پردہ طبع اسلامک پبلیکیشنز لاہور ۔ طبع 27 ص 91 تا 95 لاہور جون 1985) یوں فرانس تباہ ہوا اور اس کے نتیجے میں فرانس نے ہر اس جنگ میں ہزیمت اٹھائی جس میں وہ شریک ہوا ۔ اور اب اس کی حالت یہ ہوگئی ہے کہ وہ تہذیب و تمدن کے اسٹیج سے آہستہ آہستہ غائب ہو رہا ہے اور کسی بھی وقت اپنے وجود ہی سے ہاتھ دھو بیٹھے گا اور یہ سنت الہیہ کا ظہور نہایت ہی دھیمی رفتار سے ہوتا ہے ۔ اور انسان اگرچہ ہر معاملے میں جلد بازی سے کام لیتا ہے لیکن سنت الہیہ کی اپنی رفتار ہوتی ہے ۔

رہے وہ ممالک جو ابھی تک پرشوکت نظر آتے ہیں یا ان میں تباہی اور ہلاکت کے آثار ابھی تک ظاہر ہو کر سامنے نہیں ہیں تو ان کے نمونے یہ ہیں :

اس صحافی جنہوں نے حال ہی میں سوئٹزرلینڈ کا دورہ کیا ہے ۔ وہ اس ملک کے اشتراکی معاشرے ‘ اس کی اجتماعی سہولتوں اور اس کی مادی ترقیات اور خوشحالیوں سے بحث کرتے ہوئے اس میں آزادی محبت کا اظہار یوں کرتے ہیں ۔

” اگر ہمارے خواب یہی ہوں کہ ہم اپنی قوم کے لئے وہی ممتاز اقتصادی مقام چاہتے ہیں جو ان مغربی ممالک میں ہے ‘ اور ان کامیاب اشتراکی رجحانات کے مطابق معاشرے کے مختلف طبقات کے درمیان امتیازات کو ختم کردیں اور ہم اپنے اس ملک مصر کے ہر شہری کی راہ سے وہ تمام مشکلات حیات ختم کردیں جن کے ختم کرنے کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ‘ اگر ہم اپنے اس خوش کن خواب تک پہنچ جائیں جس کے حقیقت بنانے میں ہم اپنی پوری قوت اور پوری امکانیت کو ختم کر رہے ہیں ‘ تو پھر یہ اہم سوال پیدا ہوگا کہ ہم اس مادی ترقی کے تمام دوسرے نتائج کو بھی اپنے ہاں قبول کرلیں گے کی اہم اس مثالی معاشرے کے تاریک پہلو کو بھی قبول کرنیکے لئے تیار ہوں گے ۔ کی اہم آزادانہ تعلق مرد وزن کو قبول کرلیں گے اور خاندانی نظام پر پڑنے والے اس کے برے اثرات کو بھی قبول کرلیں گے ۔ “

” آئیے ذرا اعداد و شمار کی زبان میں بات کریں ۔ زندگی کے اندر قرار و سکون پیدا کرنے کی موجودہ حوصلہ افزائیوں اور تشکیل خاندان کی حالیہ مساعی کے باوجود ‘ سویڈن کی آبادی گراف مسلسل گر رہا ہے ۔ باوجود اس کے کہ موجودہ حکومت عورت کو شادی کرنے کے لئے بہت امداد د ہے رہی ہے ۔ پھر عورت کے بچے کی مفت کفالت کی جاتی ہے ۔ ‘ یہاں تک کہ وہ یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہوجائے ۔ ان سہولیات کے باوجود سویڈن کا ہر خاندان بچے پیدا کرنے سے مکمل احتراز کر رہا ہے ۔

” اس کے برعکس صورت حال یہ ہے کہ شادی کرنے والوں کی تعداد میں مسلسل کمی واقع ہورہی ہے اور ناجائز بچوں کی پیدائش میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے بیس فیصدی بالغ لڑکے اور لڑکیاں سرے سے شادی ہی نہیں کرتے ۔ سویڈن میں صنعتی دور ۔ 1870 میں شروع ہوتا ہے اور اسی کے ساتھ اشتراکی دور بھی 1870 ء میں شروع ہوتا ہے ۔ 1870 ء میں غیر شادی شدہ ماؤں کی تعداد سات فیصدی تھی ‘ جبکہ 1920 میں یہ تعداد سولہ فیصدی ہوگئی ۔ اس کے بعد کے اعداد و شمار مجھے نہیں مل سکے ‘ البتہ ان میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے ۔ علمی اداروں نے جو اعداد و شمار شائع گئے ہیں ‘ اس کے مطابق معلوم ہوتا ہے کہ مرد اٹھارہ سال کی عمر میں جنسی تعلقات قائم کرلیتے ہیں اور عورت پندرہ سال کی عمر میں جنسی تعلقات قائم کرلیتی ہے ۔ اور اکیس سال کی عمر میں پچانوے فیصد نوجوانوں کے جنسی تعلقات قائم ہوچکے ہوتے ہیں ۔ مزید تفصیلات سے معلوم ہوتا ہے کہ 7 فیصدی تعلقات ان لڑکیوں سے ہوتے ہیں جن کی منگنی ہوچکی ہوتی ہے ‘ پینتیس فیصدی دوستوں کے ساتھ ہوتے ہیں اور اٹھاون فیصدی ایسی عورتوں کے ساتھ ہوتے ہیں جو وقتی طور پر شناسا ہوتی ہیں ۔ اب ذرا عورتوں کے تعلقات جنسی کے اعداد و شمار ملاحظہ فرمائیں ۔ صرف تین فیصدی عورتوں کے تعلقات اپنے خاوند سے ہوتے ہیں ‘ اٹھائیس فیصدی عورتوں کے تعلقات اپنے منگیتر سے ہوتے ہیں اور چونسٹھ فیصد عورتوں کے تعلقات صرف چالو دوستوں سے ہوتے ہیں مزید بتایا جاتا ہے کہ اسی فیصد عورتیں شادی سے قبل جنسی تعلقات قائم کرلیتی ہیں اور بیس فیصدی ایسی ہیں جو شادی کا تکلف ہی نہیں کرتیں ۔ “ ” ان حالات کا نتیجہ یہ ہے کہ اس جنسی آزادی کی وجہ سے بالعموم شادی بہت ہی لیٹ کی جاتی ہے ‘ اور منگنی ہوجائے تو اس میں شادی کی معیاد بہت ہی طویل ہوتی ہے اور اس کے ساتھ غیر قانونی بچوں کی تعداد بڑھتی ہی جاتی ہے “۔

ان سب حالات کے نتیجے میں خاندانی نظام کے بندھن ٹوٹ گئے ۔ سویڈن کے باشندے محبت کی آزادی کے حق میں درج ذیل دلائل پیش کرتے ہیں : یہ کہ سویڈن کا معاشرہ شادی کے بعد تمام دوسرے متمدن معاشروں کی نسبت خیانت کو بہت ہی بری نظروں سے دیکھتا ہے اور یہ بات درست ہے اور ہم اس کا انکار نہیں کرتے لیکن وہ اس بات کا کوئی جواب نہیں دے سکتے اور اس جنسی بےراہ روی کی وجہ سے نسلی تنزل اور طلاق کے اعداد و شمار میں بےحد اضافے کا کوئی تشفی بخش سبب نہیں بتا سکتے ۔

اس وقت سویڈن میں طلاق کی شرح پوری دنیا میں سب سے زیادہ ہے ۔ چھ سات شادیوں میں سے ایک طلاق پر منتج ہوتی ہے ۔ اور یہ اعداد و شمار سویڈن کی اجتماعی امور کی وزارت کے شائع کردہ ریکارڈ سے لئے گئے ہیں ۔ یہ نسبت ابتداء میں کم تھی مگر آہستہ آہستہ بڑھ گئی اور 1996 میں صورت حال یہ تھی کہ ایک ہزار شادیوں میں سے چھبیس طلاق پر منتج ہوئی تھیں ۔ 1952 میں یہ تعداد ایک سو چار ہوگئی ۔ 1954 میں ایک سو چودہ ہوگئی ۔ ان واقعات کا سبب یہ ہے کہ 30 فیصدی شادیاں محض ضرورت کے تحت مجبور کے حالات میں ہوتی ہیں اور ظاہر ہے کہ ایسی شادیاں اصلی شادیوں کی طرح طویل المیعاد نہیں ہوتیں اور مجبوری یہ ہوتی ہے کہ ایک نوجوان عورت حاملہ ہوجاتی ہے ۔ عموما ایسی شادیوں میں بعد میں طلاق ہوجاتی ہے ‘ اس لئے کہ سویڈن کے قانون میں طلاق کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے ۔ جب بھی زوجین درخواست کریں کہ وہ طلاق پر راضی ہیں تو قانون طلاق کی اجازت دے دیتا ہے اور اگر زوجین میں سے کوئی ایک فریق ہی طلاق کی درخواست کرے تو ایک معمولی بہانے پر طلاق ہوجاتی ہے ۔ “

” سویڈن میں ایک تو جنسی بےراہ روی کی پوری پوری آزادی ہے ‘ لیکن اس کے ساتھ ساتھ لوگوں کو ایک دوسری آزادی بھی حاصل ہے ۔ وہ یہ کہ ہر شخص کو دہری ہونے کی آزادی ہے ۔ سویڈن کے باشندوں کی اکثریت منکر خدا ہے ۔ سویڈن میں ایک وسیع تحریک چل رہی ہے اور لوگ کنیسہ سے پوری پوری آزادی حاصل کر رہے ہیں ۔ ناروے اور ڈنمارک میں بھی انکار خدا عام ہے ۔ مدارس اور یونیورسٹیوں میں انکار خدا کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے ۔ اور نوجوانوں میں انکار خدا کے عقائد ایک منصوبے سے پھیلائے جاتے ہیں ۔ “

” سویڈن اور سکنڈے نیویا کے دوسرے ممالک کے لوگ پوری طرح اخلاق باختہ ہوچکے ہیں ‘ یہ لوگ اپنے عقیدہ انکار خدا اور خدا کا خوف نہ رکھنے کی وجہ سے ہر قسم کی اخلاقی قید وبند سے آزاد ہوگئے ہیں اور آخر کار یہاں کے نوجوان شراب نوشی اور دوسری تباہ کن منشیات کے عادی ہوگئے ہیں ۔ ایسے بچوں کی تعداد 175 ہزار ہے جن کے والدین منشیات کا استعمال کرتے ہیں اور یہ تعداد خاندانی بچوں کا دس فیصد بنتی ہے ۔ مراھق بچوں کی تعداد اس کے علاوہ ہے جو خود نشہ کرتے ہیں ۔ جن نوجوانوں کو شدید نشہ کی حالت میں گرفتار کیا جاتا ہے ان کی تعداد گزشتہ پندرہ سالوں میں تین گنا زیادہ ہوگئی ہے اور پندرہ سے سترہ سال کی عمر کے نوجوانوں کے اندر شراب نوشی کی عادت بد سے بدتر ہی جارہی ہے اور اس کے بہت برے نتائج برآمد ہورہے ہیں۔ “

” سویڈن میں بالغ ہونے والوں میں ہر دسواں بچہ دماغی اور نفسیاتی بیماریوں کا شکار ہوتا ہے ۔ سویڈن کے ڈاکٹروں کا یہ کہنا ہے کہ ان نفسیاتی بیماروں کا پچاس فیصد وہ لوگ ہوتے ہیں جن کی دماغی بیماری ‘ ان کی جسمانی بیماری کا نتیجہ ہوتی ہے ظاہر ہے کہ انکار خدا کی آزادی اور اخلاقی قیود سے آزادی کا یہی نتیجہ ہو سکتا ہے کہ آبادی نفسیاتی بیماریوں کا شکار ہو اور خاندان نظام کی چولیں ڈھیلی پڑجائیں اور اس کے نتیجے میں گھٹیا درجے کی نسل وجود میں آئے ۔ “

یہ تو حال تھا سویڈن کا لیکن امریکہ کا بھی یہی حال ہے ۔ اور برائی کے آثار خطرناک طور پر ظاہر ہو رہے ہیں ‘ لیکن امریکی قوم کو اس طرف التفات ہی نہیں ہے ۔ امریکی قوم کے وجود میں تباہی کے آثار در آئے ہیں ‘ اگرچہ بظاہر وہ تروتازہ ہے۔ ظاہری قوت اور توانائی کے مظاہر کے باوجود یہ قوم بھی جسمانی اور اخلاقی انحطاط کی طرف جارہی ہے اور اس کے آثار نمودار ہو رہے ہیں ۔ امریکہ میں ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جو اپنے ملک کے حساس فوجی راز اپنے دشمنوں کے ہاتھ بیچ دیتے ہیں ‘ اس لئے نہیں کہ انہیں روپے پیسے کی ضرورت ہوتی ہے بلکہ محض اس لئے کہ وہ جنسی بےراہ روی میں مبتلا ہوتے ہیں اور ان کی یہ بےراہ روی اس عام جنسی آزادی اور بےراہ روی کا نتیجہ ہوتی ہے جو ان کے ملک میں رائج ہے ۔ امریکہ میں بعض ریاستوں میں ازروئے قانون طلاق کے لئے یہ شرط ہے کہ خاوند یا بیوی میں سے کوئی زنا کی حالت میں پکڑا جائے ۔ اس غرض کے لئے بعض وکلاء اور ڈاکٹروں نے ایک تنظیم بنائی تھی کہ جو ایسے مقدمات می مرد یا عورت کو زنا کاری میں پھانسے کی کوشش کرتے ہیں ۔ حال ہی میں امریکی پویس نے ایک ایسی تنظیم کا پتہ چلایا جس کے شعبے کئی شہروں میں تھے ۔ حالانکہ وکلاء اور ڈاکٹر مہذب ترین لوگ ہوتے ہیں کئی جوڑے جو طلاق چاہتے تھے ‘ پہلے ایسے ادارون کی خدمات حاصل کرکے اپنے شریک حیات کو زنا کاری میں پھانستے اور پھر مقدمہ دائر کردیتے ۔ امریکہ میں ایسے دفتر عام ہیں جو بھاگی ہوئی عورتوں اور بھاگے ہوئے خاوندوں کی تلاش میں تعاون فراہم کرتے ہیں اس لئے کہ کسی خاوند کو یہ یقین نہیں ہوتا کہ جب وہ شام کو گھر آئے گا تو اس کی بیوی موجود ہوگی اور اپنے کسی محبوب کے ساتھ چلی نہ گئی ہوگی نیز بیوی کو بھی یہ یقین نہیں ہوتا کہ اس کا خاوند شام کو واپس آئے گا یا اس سے زیادہ جاذبیت رکھنے والی کسی دوشیزہ نے اسے سنبھال لیا ہوگا ۔ ایسے معاشرے میں جن میں خاندانوں کی حالت یہ ہو ‘ ان میں کسی کے اعصاب کیسے مضبوط اور درست رہ سکتے ہیں ۔ اور ایسے حالات میں امریکہ کے ایک صدر اعلان کرتے ہیں کہ ہر سات نوجوانوں میں سے چھ فوجی خدمات کے لئے نااہل ہوچکے ہیں اس لئے کہ یہ سب جنسی بےراہ روی میں مبتلا ہوتے ہیں ۔ مولانا مودودی (رح) لکھتے ہیں ۔

” ایک امریکی رسالے میں ان اسباب کو جن کی وجہ سے وہاں بداخلاقی کی غیر معمولی اشاعت ہو رہی ہے ‘ اس طرح بیان کیا گیا ہے ۔ تین شیطانی قوتیں ہیں جن کی تثلیث آج ہماری دنیا پر چھا گئی ہے اور یہ تینوں ایک جہنم تیار کرنے میں مشغول ہیں ۔ فحش لٹریچر جو جنگ عظیم کے بعد حیرت انگیز رفتار کے ساتھ اپنی بےشرمی اور کثرت اشاعت میں بڑھتا چلا جا رہا ہے ۔ متحرک تصویریں جو شہوانی محبت کے جذبات کو نہ صرف بھڑکا رہی ہیں بلکہ عملی سبق بھی دیتی ہیں ۔ عورتوں کا گرا ہوا اخلاقی معیار جو ان کے لباس اور بسا اوقات ان کی برہنگی اور سگریٹ کے روز افزوں استعمال اور مردوں کے ساتھ ان کے ہر قید وبند سے ناآشنا اختلاط کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے ۔ یہ تین چیزیں ہمارے ہاں بڑھتی چلی جا رہی ہیں اور ان کا نتیجہ مسیحی تہذیب ومعاشرے کا زوال اور آخر کار تباہی ہے ۔ اگر ان کو نہ روکا گیا تو ہماری تاریخ بھی روم اور ان دوسری قوموں کے مماثل ہوگی جن کو یہی نفس پرستی اور شہوانیت ان کی شراب اور عورتوں اور ناچ رنگ سمیت فنا کے گھاٹ اتار چکی ہے ۔ “

(الحجاب سید ابو الاعلی مودودی (رح) ‘ ص 129۔ 13۔۔۔۔۔ اردو ایڈیشن صفحات 105۔ 106 طبع 27 جون 1985 اسلامی بپلیکیشنز لاہور)

لیکن واقعات کی دنیا میں جو کچھ ہوا ‘ وہ یہ ہے کہ امریکہ اس مثلث کے سیلاب سے نہ بچ سکا بلکہ اس نے اس کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے ۔ وہ اسی راہ پر چل نکلا ہے جس پر روم چلا ، ایک دوسرے صحافی امریکہ ‘ برطانیہ اور فرانس کے نوجوانوں میں جنسی بےراہ روی کے سیلاب کے بارے میں لکھتے ہیں اور ان کا مقصد یہ ہے کہ ہمارے ہاں نوجوانوں کی بےراہ روی ان ممالک کی طرح شدید نہیں ہے ۔

” امریکہ کے نوخیز لڑکوں اور لڑکیوں کے درمیان بےراہ روی کا ایک سیلاب آیا ہوا ہے ۔ نیویارک کے گورنر نے اعلام کیا کہ اس بےراہ روی کا علاج ‘ اس ریاست میں ‘ عنقریب قومی اصلاح کے مسائل میں سرفہرست آجائے گا ۔ گورنر نے مشورہ دیا ہے کہ اصلاحی نرسریاں اور تہذیب اخلاق کی مجالس اور جسمانی تربیت کے اداروں کا قیام از بس ضروری ہے لیکن اس کے ساتھ اس نے یہ اعلان بھی کیا ہے کہ کالجوں اور یونیورسٹیوں کے طلباء اور طالبات کے درمیان منشیات یعنی چرس اور کو کین کے رواج کو ختم کرنا ان کے پروگرام میں شامل نہیں ہے اور یہ معاملہ ہم محکمہ صحت عامہ کے حوالے کر رہے ہیں۔ “

” آخری دو سالوں کی رپورٹ کے مطابق انگلستان میں عورتوں اور نوجوان ، چھوٹی نابالغ خواتین پر دست درازی کے واقعات میں بےحد اضافہ ہوا ہے خصوصا دیہاتی راستوں میں اکثر واقعات میں دست درازی کرنے والے مراھق یا نوجوان تھے اور ان واقعات میں سے بعض واقعات میں بچی یالڑ کی کا گلاگھونٹ کا اسے قتل بھی کردیا گیا تھا اور اسے ٹھنڈی اور منجمد لاش کی شکل میں چھوڑ دیا گیا تھا تاکہ بدکرداری کا راز فاش نہ ہو یا یہ کہ شناخت پریڈ کے وقت شناخت نہ ہو سکے “۔

” دو ماہ کا عرصہ ہوا ہے کہ ایک بوڑھا شخص اپنے گاؤں جارہا تھا ۔ اس نے راہ گزر پر ایک درخت کے نیچے ایک نوجوان کو ایک لڑکی کے ساتھ مباشرت کرتے ہوئے دیکھا ۔ یہ بوڑھا ان کے قریب گیا ۔ اس نے لڑکے کو اپنے عصا سے مارا ۔ اور زجر وتوبیخ کی اور اسے کہا کہ جس فعل کا وہ ارتکاب کررہا ہے وہ سرعام جائز نہیں ہے ۔ لڑکا اٹھا اور اس نے بوڑھے کے پیٹ میں ایک لات رسید کی ۔ بوڑھا گرا ۔ اس کے بعد وہ اپنے بوٹوں کے ساتھ اسے سر پر مارتا رہا یہاں تک کہ اس کا سر پھوڑ دیا ۔ اس لڑکے کی عمر صرف پندرہ سال تھی ۔ اور لڑکی کی عمر صرف تیرہ سال تھی ۔ “

امریکہ کی ” انجمن چہاردہ “ جو ملک کی اخلاقی صورت حال کی نگراں ہے ‘ نے بتایا ہے کہ امریکہ کی نوے فیصد آبادی مہلک خفیہ جنسی امراض کا شکار ہے اور یہ صورت حال اس وقت تھی جبکہ جدید جراثیم کش ادویہ بنسلین اور سٹریپٹو مائیسین ایجاد نہیں ہوئی تھیں ۔

ڈنفر کے ایک جج لکھتے ہیں کہ ہر دو نکاحوں میں سے ایک طلاق پر منتج ہوتا ہے اور مشہور عالمی ڈاکٹر الکسیس کاریل اپنی مشہور کتاب ” انسان نامعلوم “ میں لکھتے ہیں : ۔

” ہم بچوں کے اسہال ‘ سل ‘ دق اور ٹائی فائیڈ جیسی بیماریوں کی بیخ کنی کے تو بالکل قریب جاپہنچے ہیں لیکن ان بیماریوں کی جگہ اخلاقی بےراہ روی اور اخلاقی بگاڑ کی بیماریوں نے لے لی ہے جس کے نتیجے میں اعصابی اور دماغی بیماریاں پیدا ہو رہی ہیں امریکہ کی بعض ریاستوں میں عام مریضوں کے مقابلے میں دماغی مریضوں کی تعداد زیادہ ہوگئی ہے ۔ جنون کے علاوہ اعصابی اور جسمانی ناتوانی کی بیماریوں میں بھی بےحد اضافہ ہو رہا ہے ۔ ان کے نتیجے میں ہر فرد مصیبت زدہ ہوگیا ہے ۔ اور خاندانی نظام قریب الاختتام ہے ۔ ماہرین کا خیال ہے کہ متعدی بیماریوں کے مقابلے میں امریکی تہذیب کے لئے عقلی انحطاط زیادہ مضر ثابت ہو رہا ہے ۔ جبکہ ماہرین طب نے اپنی سرگرمیاں ان متعدی بیماریوں کے انسداد تک محدود کر رکھی ہیں ۔

یہ ان مصائب اور تکلیفات کی معمولی سی جھلک ہے جو اس گمراہ انسانیت نے اپنے اوپر اس لئے لاولئے ہیں کہ اس نے ان لوگوں کی پیروی شروع کردی جو صرف شہوت کے پیروکار بن گئے تھے انہوں نے خدا کے بنائے ہوئے طریقہ زندگی کی پیروی ترک کر کے جدید جاہلیت کو اپنا لیا تھا ۔ حالانکہ اسلامی نظام زندگی وہ منہاج تھا جس میں انسان کے ضعف اور کمزوری کو ملحوظ رکھ کر قانون سازی کی گئی تھی ‘ اور اس نظام میں اسے اپنی خواہشات نفس اور شہوانی میلانات کی بندگی سے بچا کر ایک ایسے راستے کی طرف ہدایت دی گئی تھی جو پرامن بھی تھا اور اس پر چل کر انسان کے گناہوں سے رجوع آسان ہوجاتا تھا اور وہ راہ طہارت اختیار کرسکتا تھا ۔

(آیت) ” واللہ یرید ان یتوب علیکم ویرید الذین یتبعون الشھوت ان تمیلوا میلا عظیما (27) یرید اللہ ان یخفف عنکم وخلق الانسان ضعیفا (28)

“ ہاں ‘ اللہ تو تم پر رحمت کے ساتھ توجہ کرنا چاہتا ہے مگر جو لوگ خود اپنی خواہشات نفس کی پیروی کر رہے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم راہ راست سے ہٹ کر دور نکل جاؤ ،۔ اللہ تم پر سے پابندیوں کو ہلکا کرنا چاہتا ہے کیونکہ انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے

اس کا سبق کا دوسرا حصہ اسلامی معاشرے کے مابین بعض مالی معاملات پر بحث کرتا ہے تاکہ باہم معاملات کے طریقے طے کردیئے جائیں اور اسلامی معاشرے کے ممبران کے درمیان باہمی معاملات پاک وصاف رہیں ۔ نیز اس میں مالی حقوق عورتوں کو بھی ویسے ہی دیئے جائیں جس طرح مردون کو دیئے گئے ہیں ۔ ہر شخص کو اس کا مقرر کردہ حصہ ملے ۔ نیز وہ مالی حقوق جو ولایت پر مبنی تھے اور جو دور جاہلیت میں عام طور پر مروج رہے ‘ اور اسلام کے آنے کے بعد بھی ابتدائی دنوں میں وہ مروج تھے ‘ ان کو ختم کردیا جائے تاکہ اس سابقہ نظام کا تصفیہ کردیا جائے اور اسلامی نظام میراث کے لئے راہ ہموار ہوجائے جس میں میراث صرف قریبی رشتہ داروں کا حق بنتی ہے اور آئندہ کے لئے قدیم موروثی ولایت کے نظام کو ختم کردیا جائے ۔

اردو ترجمہ

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، آپس میں ایک دوسرے کے مال باطل طریقوں سے نہ کھاؤ، لین دین ہونا چاہیے آپس کی رضامندی سے اور اپنے آپ کو قتل نہ کرو یقین مانو کہ اللہ تمہارے اوپر مہربان ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Ya ayyuha allatheena amanoo la takuloo amwalakum baynakum bialbatili illa an takoona tijaratan AAan taradin minkum wala taqtuloo anfusakum inna Allaha kana bikum raheeman

آیات کا یہ سلسلہ اسلامی معاشرے کی تربیت کے ساتھ بھی متعلق ہے اور اسلامی نظام کے شعبہ قانون سے بھی اس کا تعلق ہے ۔ اسلامی نظام زندگی میں تربیت ‘ اصلاح اور قانون ساتھ ساتھ کام کرتے ہیں ‘ وہ ایک دوسرے کے ساتھ تکمیلی حیثیت رکھتے ہیں ایک دوسرے کے ساتھ مربوط ہیں ۔ ایک کے سوا دوسرا مکمل نہیں ہو سکتا قانون سازی سے غرض یہ ہوتی ہے کہ اسلامی معاشرے کی تربیت اور اصلاح کی جائے اور لوگوں کی زندگی کے معاملات کو ایک ضابطے کے تحت لایا جائے ۔ قانون سازی کے اندر ایسی ہدایات بھی دی جاتی ہیں جن میں انسانی ضمیر کی تربیت مطلوب ہوتی ہے ۔ پھر اس قانون سازی میں اس بات کو بھی پیش نظر رکھا جاتا ہے کہ قانون کا نفاذ بھی اچھی طرح ہو سکے اور خود اسلامی معاشرے کا شعور قانون کے نفاذ کے لئے تیار ہو اور معاشرہ یہ سمجھتا ہو کہ اس قانون کے توڑنے میں نہیں بلکہ اس کے نفاذ میں ہماری مصلحت ہے۔ اسی لئے اسلامی نظام حیات میں قانون سازی اور اصلاح وہدایت ساتھ ساتھ چلتے ہیں ۔ دلوں کو اللہ سے جوڑا جاتا ہے ۔ اور ان میں یہ بات ڈالی جاتی ہے کہ یہ ضابطہ اور یہ قانون اسی رب ذوالجلال کی طرف سے ہے جو ہمیں ہدایت دے رہا ہے ۔ یہ صرف اسلامی نظام زندگی کا خاصہ ہے کہ اس میں اجتماعی نظام کی اطاعت از خود کی جاتی ہے ۔ اور اسلامی نظام کی یہ جامعیت انسان کی واقعی اور عملی زندگی کے لئے نہایت ہی مفید ہے ۔ اس سے انسانی ضمیر کی اصلاح بھی ہوتی رہتی ہے اور قانون پر عمل بھی ۔

آیات کے اس حصے میں ہمیں حکم دیا جاتا ہے کہ اہل ایمان آپس میں ایک دوسرے کے مال ناجائز طور پر نہ کھائیں اور یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ دوسروں کا مال باہم رضا مندی سے تجارتی لین دین کے ذریعے ہی لیا جاسکتا ہے اور دوسروں کے مال کو ناجائز طور پر کھانے کے فعل کو انسان کے قتل سے تعبیر کیا گیا ہے ۔ یہ بتایا گیا ہے کہ یہ فعل ہلاکت اور تباہی ہے ۔ اس کے ساتھ لوگوں کو عذاب آخرت سے بھی ڈرایا جاتا ہے اور یہ کہا جاتا ہے کہ جو شخص ظالمانہ طور پر دوسروں کا مال کھائے گا وہ آگ کو ضرور چھوئے گا ۔ اس وعید کے ساتھ ہی امید کی کرن بھی چمکتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ نرمی اور عفو و درگزر کا وعدہ بھی فرماتے ہیں اور انسان کی کمزوری اور اس کی تقصیرات کو معاف کرنے کی راہ میں بھی بتلاتے ہیں ۔ نیز دنیا میں احساس محرومی کو کم کرنے کے لئے خودی کا سبق دیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ اگر معاشرے میں کچھ لوگ خوش حال ہیں تو ان کی طرف للچائی ہوئی نظروں کے ساتھ نہ دیکھو ۔ ذات باری کو ہدف نظر بناؤ اس لئے کہ وہی تو ہے جو ان کو دینے والا ہے ۔ اس لئے تمہیں بھی جو کچھ مانگنا ہے اسی سے مانگو ۔ یہاں یہ بات بھی صاف کی جاتی ہے کہ اللہ سے مرد و عورت دونوں مانگ سکتے ہیں ۔ مردوں نے جو کچھ کمایا تو وہ انہی کا ہوگا اور عورتوں نے جو کچھ کمایا وہ انہی کا ہوگا ۔ اور مردوں اور عورتوں دونوں کی کمائی کے بارے میں اللہ کو خوب علم ہے ۔ اسی طرح اگر لوگوں نے ایک دوسرے کے ساتھ ” ولایت ارث “ کے معاہدے کر رکھے ہیں تو ان معاہدوں پر اچھی طرح عمل کیا جائے اس لئے کہ دوسرے گواہوں کے ساتھ ان پر اللہ بذات خود بھی گواہ ہے ۔ یہ ہیں موثر وجدانی اشارے اور جھلکیاں جن کے اندر قانون سازی بھی موجود ہے یہ ہیں وہ ہدایات جو انسان کی تربیت کے لئے اللہ علیم وخبیر نے بھیجی ہیں جو انسان کی جسمانی تخلیق سے بھی باخبر ہے ۔ اور اس کے نفسیاتی میلانات سے بھی اچھی طرح واقف ہے ۔ جو انسان کی ذہنی راہوں اور نشیب و فراز سے بھی اچھی طرح واقف ہے ۔

(آیت) ” یایھا الذین امنوا لا تاکلوا اموالکم بینکم بالباطل الا ان تکون تجارۃ عن تراض منکم ولا تقتلوا انفسکم ان اللہ کان بکم رحیما (29) ومن یفعل ذالک عدوانا وظلما فسوف نصلیہ نارا وکان ذلک علی اللہ یسیرا (30)

” اے لوگو جو ایمان لائے ہو آپس میں ایک دوسرے کے مال باطل طریقوں سے مت کھاؤ ‘ اپنے آپ کو قتل نہ کرو ‘ یقین مانو کہ اللہ تمہارے اوپر مہربان ہے ۔ جو شخص ظلم و زیادتی کے ساتھ ایسا کرے گا اس کو ہم ضرور آگ میں جھونکیں گے اور یہ اللہ کے لئے کوئی مشکل کام نہیں ہے ۔

یہ پکار اہل ایمان کے لئے ہے ‘ انہی کو منع کیا گیا ہے کہ وہ آپس میں ایک دوسرے کے مال باطل طریقوں سے نہ کھائیں ۔

(آیت) ” یایھا الذین امنوا لا تاکلوا اموالکم بینکم بالباطل “۔ ” اے لوگو جو ایمان لائے ہو آپس میں ایک دوسرے کے مال باطل طریقوں سے مت کھاؤ ‘ (4 : 29)

اس سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اسلامی معاشرے کو جاہلیت کی باقی ماندہ گراوٹوں سے پاک وصاف کیا جارہا ہے ۔ اور ” اے لوگو جو ایمان لائے ہو “ کے الفاظ میں خطاب کر کے اہل اسلام کے ضمیر کو جگایا جاتا ہے اور انہیں جوش دلایا جاتا ہے کہ وہ جاہلیت کے تمام کاموں کو چھوڑ دیں ، یوں ایمانی تقاضوں کو بیدار کیا جاتا ہے ‘ ان تقاضوں کو جو ان کے لقب ” اہل ایمان “ کے تقاضے ہیں تاکہ وہ آپس میں ایک دوسرے کے اموال ناجائز طریقوں سے نہ کھائیں ۔

باطل طور پر ایک دوسرے کے اموال کھانے میں وہ تمام طریقے شامل ہیں جن کے ذریعے دولت ایک دوسرے کی طرف منتقل ہوتی ہے اور جن کے استعمال کی اجازت اللہ کی جانب سے نہ ہو یا یہ کہ اللہ نے بصراحت اس سے منع کیا ہو مثلا دوسرے کا مال دبانا ‘ رشوت لینا ‘ قمار بازی کے ذریعے مال کھانا ‘ ضروریات زندگی کا ذخیرہ کرنا تاکہ مہنگے داموں پر انہیں بیچا جائے اور خرید وفروخت کے وہ تمام طریقے استعمال کرنا جو ممنوع ہیں اور ربا ان سب میں سر فہرست ہے ۔ ہم یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ یہ آیت تحریم ربا سے پہلے نازل ہوئی ہے یا بعد میں ۔ اگر یہ پہلے نازل ہوئی تو یہ تحریم ربا کے لئے بطور تمہید ہوگی ‘ اس لئے کہ سود خواری باطل طریقوں میں سرفہرست ہے ۔ اور اگر یہ آیت تحریم ربا کے بعد نازل ہوئی ہے تو اس میں ربا بھی شامل ہے اور ربا کے علاوہ دوسرے وہ تمام طریقے بھی شامل ہیں جن سے دوسروں کی دولت ناجائز طور پر حاصل کرلی جاتی ہے ۔

ہاں یہاں یہ بتانا بھی ضروری سمجھا گیا کہ باہم رضا مندی سے جو تجارتی لین دین ہوتا ہے ‘ اس میں اگر دوسرے کی دولت بطور منافع آجائے تو وہ جائز ہے ۔

(آیت) ” الا ان تکون تجارۃ عن تراض منکم “۔ (4 : 29) ” الا یہ کہ باہم رضا مندی سے تجارتی لین دین ہو۔ “

یہ استثناء منقطع ہے ۔ مفہوم یہ ہے کہ اگر معاملہ رضا مندی پر مبنی لین دین کا ہو تو وہ صورت سابق آیت میں داخل نہیں ہے ۔ یہاں تجارت کو استثنائی شکل میں اس لئے لایا گیا ہے کہ تجارت کے لین دین اور باقی باطل طریقوں کے لین دین میں بظاہر مماثلت پائی جاتی ہے ۔ جو طریقے شریعت کے قانون میں ممنوع ہیں ان کے ذریعہ جو مال لیا جاتا ہے وہ باطل طریقے سے کھایا جاتا ہے ۔ یہ مشاکلت اس وقت ظاہر ہوجاتی ہے جب سورة بقرہ میں آیت الرباء کا مطالعہ کیا جاتا ہے جہاں سود خواروں کا یہ اعتراض نقل کیا گیا ہے ۔ (آیت) ” انما البیع مثل الربوا “۔ (2 : 275) ” بیشک بیع اور ربا ایک ہی جیسے ہیں “۔ اور انکے اس اشکال کو یوں رد کیا گیا تھا ۔ (آیت) ” واحل اللہ البیع وحرم الربوا “۔ (2 : 257) ” اللہ نے بیع کو حلال قرار دیا ہے اور ربا کو حرام قرار دیا ہے ۔ “ سود خوار یہ مغالطہ ڈالتے تھے ‘ اور اپنے زیر رواج سودی کاروبار کا دفاع یوں کرتے تھے کہ بیع بھی تجارت ہے اور اس میں انسان کی دولت میں بذریعہ منافع اضافہ ہوتا ہے جبکہ ربا میں مال میں بذریعہ منافع اضافہ ہوتا ہے ‘ اس لئے اس کا کوئی خاص سبب سامنے نہیں آتا کہ تجارت کو جائز کیا جائے اور سود کو حرام قرار دیا جائے ۔

حقیقت یہ ہے کہ تجارتی لین دین اور سودی کاروبار میں بہت بڑا فرق ہے ۔ وہ بدترین نتائج بھی ہمارے سامنے ہیں جو سودی کاروبار کی وجہ سے تجارت وصنعت اور عوام کو درپیش ہوتے ہیں اور وہ خوشگوار اثرات بھی جو صاف ستھری تجارت اور صنعت کی وجہ سے عوام الناس پر مرتب ہوتے ہیں ۔

تجارت میں ایک تاجر ایک ضرور تمند اور خریدار اور ایک صنعت کار کے درمیان ایک ایسا واسطہ ہوتا ہے جو دونوں کے لئے مفید ہوتا ہے ۔ تاجر اشیائے صرف کے لئے مارکیٹ تلاش کرتا ہے اور مصنوعات کو رواج دیتا ہے ۔ وہ ان کو خوبصورتی کے ساتھ اہل ضرورت کے لئے مہیا کرتا ہے اور ان کے لئے سہولت فراہم کرتا ہے ۔ یوں گویا وہ دونوں فریقوں کے لئے مفید ہوتا ہے اور اپنی خدمات کا صلہ لیتا ہے ۔ اور اس کا صلہ اپنی جدوجہد اور اس کی مہارت کا بھی عوض ہوتا ہے ۔ پھر تاجر ہر وقت نفع اور نقصان دونوں کے لئے تیار رہتا ہے جبکہ سود خواری کا نظام اس صورت حال سے بالکل مختلف اور متضاد نظام ہے اس لئے کہ اس نظام میں مصنوعات پر اصل اخراجات کے علاوہ سودی واجبات کا اضافہ کیا جتا ہے اور یہ اضافہ پھر تاجر اور خریدار ‘ ضرورتمند سے وصول کیا جاتا ہے ۔ یوں پورے معاشی نظام پر بوجھ پڑجاتا ہے ۔ اور جس طرح مغربی صنعتی ممالک میں عملا یہ نتائج نکلے ‘ یہ منحوس نظام آخر کار نہ تو بذات خود صنعت کے لئے مفید ہوتا ہے اور نہ خریداروں (Customers) کے لئے مفید ہوتا ہے اور نہ وہ ان دونوں کے مفادات کو پیش نظر رکھتا ہے بلکہ اس کا ہدف صرف یہ ہوتا ہے کہ صنعتی قرضوں پر زیادہ سے زیادہ نفع حاصل کیا جائے اور سرمایہ کار کو فائدہ دیا جائے ۔ جمہور عوام کو ضروریات زندگی دستیاب ہوں یا نہ ہوں لیکن سامان تعیش کی فراوانی ہو ان چیزوں کی پیداوار میں اضافہ کردیا جائے جو انسانی جذبات کو مشتعل کرنے والی ہوں ‘ خواہ یہ انسانی جسم اور صحت کے لئے مضر ہوں ۔ نیز یہ کہ سرمایہ کے لئے دائما منافع متعین کردینا اور سرمایہ دار کے لئے کسی صورت میں بھی خسارہ میں شریک نہ ہونا ‘ جیسا کہ تجارت میں ہوتا ہے اور پھر اس کے نتیجے میں انسانی جدوجد پر اعتماد نہ کرنا ‘ جو تجارتی نظام کی جان ہوتی ہے ۔ یہ اور اس طرح کے دوسری وہ وجوہات جو اس سودی نظام کے کھاتے میں آتی ہیں اس بات کے لئے کافی ہیں کہ اس نظام کو ختم ہونا چاہئے جس طرح اسلام نے اسے ختم کیا ہے ۔ (تفصیلات کے لئے دیکھئے فی ضلال القرآن ج سوئم صفحات ۔۔۔۔۔۔ نیز تفصیلات کے لئے دیکھئے مولانا ابو الاعلی مودودی (رح) امیر جماعت اسلامی پاکستان کی کتاب ” الربا “ (سیدقطب)

نظام ربا اور نظام تجارت میں بعض پہلوؤں سے چونکہ یک رنگی نظر آتی تھی اس لئے قرآن کریم کو بطور استدراک یہ نوٹ دینا پڑا (آیت) ” الا تکون تجارۃ عن تراض منکم “۔ (4 : 29) ” الا یہ کہ تمہارے درمیان باہم رضا مندی سے تجارتی لین دین ہو۔ “ لوگوں کے اموال باطل طریقے سے کھانے کی ممانعت کے بعد یہ کہا جاتا ہے کہ ایک دوسرے کو قتل نہ کرو ‘ اگرچہ نحویوں کی رائے کے مطابق یہ استثنائے منقطع ہے ۔ (آیت) ” ولا تقتلوا انفسکم ان اللہ کان بکم رحیما “۔ (4 : 29) ” اور اپنے آپ کو قتل نہ کرو یقین مانو کہ اللہ تمہارے اوپر مہربان ہے ۔ “

یہ فقرہ ایک دوسرے کے اموال ناجائز طور پر کھانے کی ممانعت کے بعد آتا ہے جس میں یہ اشارہ ہے کہ اگر تم ایک دوسرے کے اموال باطل طریقوں سے کھاتے ہو تو گویا تم ایک دوسرے کو قتل کر رہے ہو ‘ اور سودی نظام کے آثار تباہ کن ہوں گے ۔ اور اللہ تعالیٰ اس سودی نظام کی ممانعت کر کے تم پر ظلم نہیں کر رہا ہے بلکہ یہ نہایت ہی رحیمانہ حکم ہے اور حقیقت بھی یہ ہے کہ یہ اللہ کی جانب سے انسانیت پر بہت بڑا رحم ہے ۔

جس سوسائٹی میں بھی ان امور کا رواج ہوجائے ‘ مثلا سود خواری ‘ چور بازاری ‘ قمار بازی ‘ ذخیرہ اندوزی ‘ دھوکہ بازی ‘ چوری ‘ چھینا چھپٹی ‘ سرقہ ‘ رشوت ‘ ناقابل فروخت اشیاء کی فروخت ‘ مثلا عزت وناموس ‘ ضمیر واخلاق ‘ ذمہ داری اور فرض منصبی ‘ اور مذہب اور دین وغیرہ جیسا کہ یہ چیزیں قدیم جاہلی سوسائٹی میں بھی جاری تھیں اور آج کے جدید جاہلیت میں بھی یہ کام جاری ہیں۔ غرض یہ امور جس سوسائٹی میں بھی پائے جائیں گے ‘ وہ خود اس کی جانب سے خود کشی کے مترادف ہوں گے اور وہ سوسائٹی اپنے آپ کو ہلاکت کے گڑھے میں جانتے بوجھتے گرا رہی ہوگی ۔

اور اللہ کا منشاء یہ ہے کہ وہ اس تباہ کن خود کشی سے اہل ایمان کو بچائے اور ان پر رحم کرے ۔ یہ بھی دراصل اللہ کی جانب سے انسانیت پر ایک تخفیف ہے اور اس کے لئے ایک رعایت ہے انسان کی ضعیفی کا ایک علاج ہے اس لئے کہ انسان اپنی اس کمزوری کی وجہ سے اللہ کی ہدایات سے نکل کر ان لوگوں کی راہنمائی میں آجاتا ہے جو اپنی نفسانی خواہشات کی پیروی کرتے ہیں ۔

عذاب آخرت کی دھمکی کے بعد ‘ اب ان لوگوں کو دھمکی دی جارہی ہے جو لوگوں کے مال ناجائز طریقے سے کھاتے ہیں۔ جو حدود سے تجاوز کرتے ہیں اور دوسروں کے حقوق مارتے ہیں ۔ ایسے لوگوں کو عذاب آخرت کی دھمکی ہے ۔ یعنی نہ صرف یہ کہ دنیا میں دوسروں کا مال کھانے سے ایک سو سائٹی تباہ وبرباد ہوگی بلکہ آخرت میں بھی ایسے ظالموں کو عذاب سے دوچار ہونا ہوگا ۔ دنیا میں جو تباہی ہے ‘ وہ تمام لوگوں پر آئے گی ‘ جو ظالم ہے اس پر تو اس لئے کہ اس نے ظلم کیا اور مظلوم پر اس لئے کہ اس نے ظلم کے خلاف کام نہ کیا اس لئے کہ دنیا میں انسان برائی کے نتائج کے لئے اجتماعی طور پر ذمہ دار ہوتے ہیں۔ اس لئے جس سوسائٹی میں دوسرے کے حقوق مارے جاتے ہیں وہ سوسائٹی دنیا وآخرت دونوں میں برے نتائج بھگتے گی ۔ یہی سنت الہی ہے اور یہی اللہ کا فیصلہ ہے ۔

اردو ترجمہ

جو شخص ظلم و زیادتی کے ساتھ ایسا کرے گا اُس کو ہم ضرور آگ میں جھونکیں گے اور یہ اللہ کے لیے کوئی مشکل کام نہیں ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Waman yafAAal thalika AAudwanan wathulman fasawfa nusleehi naran wakana thalika AAala Allahi yaseeran

(آیت) ” ومن یفعل ذلک عدوانا وظلما فسوف نصلیہ نارا وکان ذلک علی اللہ یسیرا “۔ (4 : 30) ”

” جو شخص ظلم و زیادتی کے ساتھ ایسا کرے گا اس کو ہم ضرور آگ میں جھونکیں گے اور یہ اللہ کے لئے کوئی مشکل کام نہیں ہے ۔ “

اسلامی نظام حیات نفس انسانی کو اس کے ایک وسیع دائرے تک لے جاتا ہے یعنی دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی دونوں جہانوں کو پیش نظر رکھ کر اس کے لئے ضابطہ بندی کی جاتی ہے اور اسے ہدایات دی جاتی ہیں ۔ نفس انسانی کے اندر ایک بیدار اور محتاط چوکیدار بٹھایا جاتا ہے جو ہر ہدایت کو بسروچشم قبول کرتا ہے اور ہر اسلامی قانون کو بطیب خاطر نافذ کرتا ہے ۔ پھر اسلامی سوسائٹی میں بھی ہر شخص کو دوسرے کے لئے نگران بنایا جاتا ہے اس لئے کہ وہ اجتماعی طور پر بھی مسئول ہیں ۔ اگر ظلم ہوگا تو سوسائٹی کے تمام افراد گویا قتل ہوں گے اور ان پر تباہی آئے گی ، یعنی اس دنیا میں اور آخرت میں تمام ان لوگوں سے محاسبہ ہوگا جنہوں نے اپنی سوسائٹی کو ظالمانہ روش پر رہنے دیا اور اس کے باطل طور طریقوں کے بدلنے کے لئے جدوجہد نہ کی ۔ (آیت) ” وکان ذلک علی اللہ یسیرا “۔ (4 : 30) ”

” اور یہ اللہ کے لئے کوئی مشکل کام نہیں ہے “۔ اسے دنیاوی تباہی لانے اور آخری محاسبہ کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا ۔ نہ اس کی راہ میں کوئی حائل ہو سکتا ہے اور جب تباہی کے اسباب مہیا ہوجائیں تو اللہ کی سنت یہی ہے کہ پھر وہ آکر رہتی ہے ۔

لیکن اگر تم لوگ ممنوعات میں سے بڑی بڑی ممنوعہ چیزوں سے اجتناب کرو ‘ جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ لوگوں کے اموال کو ظالمانہ طریقے سے کھانا اور ان کا استحصال کرنا چھوڑ دو ‘ تو اس کے نتیجے میں اللہ کی رحمت تمہارے شامل حال رہے گی ۔ تمہارے ساتھ نرم سلوک کیا جائے گا تمہارے دلوں کے اطمینان کے لئے اور آگ سے تمہیں بچانے کے لئے تمہارے وہ گناہ معاف کردیئے جائیں گے جو کبائر نہیں ہیں بشرطیکہ تم ارتکاب ظلم اور ارتکاب فواحش سے اجتناب کرو۔

اردو ترجمہ

اگر تم اُن بڑے بڑے گناہوں سے پرہیز کرتے رہو جن سے تمہیں منع کیا جا رہا ہے تو تمہاری چھوٹی موٹی برائیوں کو ہم تمہارے حساب سے ساقط کر دیں گے اور تم کو عزت کی جگہ داخل کریں گے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

In tajtaniboo kabaira ma tunhawna AAanhu nukaffir AAankum sayyiatikum wanudkhilkum mudkhalan kareeman

(آیت) ” ان تجتنبوا کبآئر ما تنھون عنہ نکفر عنکم سیاتکم وندخلکم مدخلا کریما “۔ (4 : 31) ”

” اگر تم ان بڑے بڑے گناہوں سے پرہیز کرتے رہو جن سے تمہیں منع کیا جارہا ہے تو تمہاری چھوٹی موٹی برائیوں کو ہم تمہارے حساب سے ساقط کردیں گے اور تم کو عزت کی جگہ داخل کریں گے ۔

ذرا دیکھئے تو سہی ! کس قدر فیاض ہے یہ دین اور اس نظام میں کس قدر سہولتیں دی گئی ہیں ۔ ببانگ دہل دعوت دی جارہی ہے کہ انسانو ! آؤ بلندیوں کی طرف ‘ علو شان کی طرف پاکیزگی کی طرف اور ڈسپلن کی طرف ۔ یاد رکھو کہ تم پر جو فرائض عائد کئے جاتے ہیں ‘ تمہارے لئے جو حدود بھی مقرر ہوتے ہیں ‘ اور اوامر ونواہی کے جو جو احکام دیئے جاتے ہیں ‘ ان سب کا مقصد صرف یہ ہے کہ اس جہان میں پاک وصاف نفوس پیدا کئے جائیں اور پھر ان نفوس طیبہ سے ایک پاک وصاف معاشرہ وجود میں لایا جائے ۔

لیکن یہ دعوت دیتے وقت اور یہ حدود وقیود عائد کرتے وقت انسان کی ضعیفی اور اس کی فطری کو تاہیاں بھی پیش نظر رکھی گئی ہیں ۔ یہ فرائض وواجبات اس کی فطری طاقت کے دائرے کے اندر اندر ہیں۔ ان میں اس کی فطرت ‘ اس کی طاقت کے حدود اور اس کے رجحانات کو پیش نظر رکھا گیا ہے ۔ نیز انسانی زندگی کی راہوں کے نشیب و فراز کو بھی مدنظر رکھا گیا ہے ۔

یہی وجہ ہے کہ اسلامی نظام زندگی میں ‘ فرائض وواجبات عائد کرتے وقت ان فرائض اور انسانی مقدرت کے اندر ایک حسین امتزاج اور توازن رکھا گیا ہے ۔ انسانی ضروریات اور انسانی خواہشات کے درمیان بھی توازن موجود ہے ۔ میلانات اور رکاوٹوں کے درمیان بھی توازن ہے ‘ اوامر اور نواہی کے درمیان بھی توازن ہے ۔ ترغیب اور ترہیب کے درمیان توازن ہے ‘ اور اسی طرح ایک طرف عذاب الہی سے سخت ڈراوا ہے ۔ اگر معصیت کا ارتکاب کیا گیا اور دوسری جانب اگر کوئی پیشمان ہوجائے اور واپس لوٹنا چاہئے تو اس کے لئے بھی معافی کا دروازہ بند نہیں کیا گیا ۔

دین اسلام کا حقیقی مطلوب ومقصود صرف یہی ہے کہ وہ نفس انسانی کا قبلہ درست کرکے اس کا رخ اللہ کی طرف موڑ دے ‘ اور اس قبلہ رخی میں اسے مخلص ہونا چاہئے ۔ وہ حتی المقدور اپنے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرے ۔ اس کے بعد اللہ کی رحمت کی سرحد شروع ہوجاتی ہے ۔ اللہ کی رحمت ضعیف وناتواں سب کے شامل حال رہتی ہے ‘ وہ تقصیرات درگزر کرتی ہے ‘ وہ توبہ قبول کرتی ہے ‘ کمزوریوں سے صرف نظر کرتی ہے ‘ گناہ معاف کرتی ہے اور واپس آنے والوں کے لئے اپنے دروازے کھول دیتی ہے اور بڑے انس و محبت سے آنے والوں کا استقبال کرتی ہے ۔

اس آیت میں حکم یہ دیا گیا ہے کہ تم کبائرے اجتناب کرو۔ گناہ کبیرہ ہمیشہ واضح ‘ کھلے اور عظیم ہوتے ہیں ‘ اس لئے کوئی شخص یہ عذر نہیں کرسکتا کہ اس نے ان گناہوں کا ارتکاب کیا جن کا اسے علم نہ تھا کہ یہ گناہ ہیں ‘ یا وہ سمجھا ہی نہیں ہے اور گناہ کا ارتکاب ہوگیا ہے ‘ اس لئے کہ جو شخص ان گناہوں کا ارتکاب کرتا ہے ‘ وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ اس نے گناہ سے بچنے اور اجتناب کرنے کی سعی کی ہے ‘ یا اس نے اس کے ارتکاب کے خلاف پورا مقابلہ کیا ہے لیکن ان گناہوں کے ارتکاب کے بعد بھی اگر ایک شخص صحیح طرح پورے اخلاص کے ساتھ توبہ کرے تو بھی اللہ کے ہاں معافی ہو سکتی ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس کا وعدہ بھی فرمایا ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔

(آیت) ” والذین اذا فعلوا فاحشۃ او ظلموا انفسم ذکروا اللہ فاستغفروا لذنوبھم ومن یغفر الذنوب الا اللہ ولم یصروا علی ما فعلوا وھم یعلمون “۔ (3 : 135) ”

” اور جن کا حال یہ ہے کہ اگر کبھی کوئی فحش کام ان سے سرزد ہوجاتا ہے یا کسی گناہ کا ارتکاب کرکے وہ اپنے اوپر ظلم کر بیٹھتے ہیں تو معا اللہ انہیں یاد آجاتا ہے اور اس سے وہ اپنے قصوروں کی معافی چاہتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ کیونکہ اللہ کے سوا اور کون ہے جو گناہ معاف کرسکتا ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور وہ دیدہ و دانستہ اپنے کئے پر اصرار نہیں کرتے ۔ ایسے لوگوں کی جزاء ان کے رب کے پاس یہ ہے کہ وہ ان کے گناہ معاف کر دے گا ۔ “ اور ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے متقیوں میں شمار فرمایا ہے ۔

یہاں کبائر سے توبہ کی بحث نہیں ‘ یہاں مدعا یہ ہے کہ اگر کوئی کبائر سے اجتناب کرے تو اس کے چھوٹے گناہ براہ راست اللہ تعالیٰ معاف فرماتے ہیں ‘ یہاں اسی کا وعدہ کیا جارہا ہے اور مسلمانوں کو خوشخبری دی جا رہی ہے ۔

یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ کبائر کیا ہیں جن کے ارتکاب سے بچنے کی ہدایت فرمائی گئی ہے ‘ احادیث میں ان کا ذکر ہوا ہے ‘ لیکن کسی حدیث میں ان کی پوری تعداد کا ذکر نہیں ہوا ‘ بلکہ موقعہ ومحل کے اعتبار سے جن گناہوں سے ممانعت کی زیادہ ضرورت تھی ان کا ذکر کردیا گیا ‘ اس لئے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ کسی حدیث میں کبائر کی پوری فہرست دے دی گئی ہے ۔ ہاں مختلف احادیث میں مختلف نوعیت اور مختلف تعداد کو کبائر کہا گیا ہے اور یہ جرائم مختلف معاشروں اور مختلف سوسائٹیون میں مختلف ہو سکتے ہیں ۔

یہاں ہم حضرت عمر بن خطاب ؓ کا واقع نقل کرنا مناسب سمجھتے ہیں ‘ حضرت عمر ؓ معصیت کے معاملے میں بےحد حساس اور متشدد تھے اور وہ معاصی سے سخت اجتناب فرماتے تھے ، اس واقعے سے معلوم ہوگا کہ اسلام نے ان کے اس تیز احساس کو کس طرح سیدھے راستے پر ڈال دیا تھا ‘ اور ان کے ہاتھ میں یہ ترازو ‘ حساس ہونے کے باوجود کس قدر اعتدال پر تھا ‘ خصوصا جبکہ ان کا واسطہ اجتماعی امور اور انسان کے نفسیاتی معاملات سے پڑا کرتا تھا ۔

ابن جریر نے یعقوب ابن ابراہیم ، ابن علی ‘ ابن عون اور ۔۔۔۔۔۔۔ کے واسطے سے نقل کیا ہے کہ مصر میں بعض لوگوں نے عبداللہ ابن عمرو سے پوچھا کہ ہم اللہ جل شانہ کی کتاب میں بعض احکام پاتے ہیں کہ ان کے بارے میں حکم دیا گیا ہے کہ ان پر عمل کیا جائے ‘ لیکن ان پر عمل نہیں کیا جاتا ‘ اس لئے ہم نے ارادہ کیا ہے کہ اس سلسلے میں امیر المومنین سے ملیں ۔ چناچہ عبداللہ بن عمرو مدینہ آئے اور وہ لوگ بھی ان کے ساتھ آئے اور حضرت عمر ؓ سے ملے ۔ انہوں نے پوچھا تم کب آئے ہو ؟ انہوں نے کہا میں فلاں فلاں تاریخ کو آیا ہوں ‘ حضرت عمر ؓ نے پوچھا کہ کیا تم اجازت لے کر آئے ہو ؟ راوی کہتے ہیں کہ مجھے یاد نہیں کہ اس سوال کا حضرت عبداللہ ابن عمرو ؓ نے کیا جواب دیا ۔ اس کے بعد انہوں نے کہا کہ امیر المومنین ! مجھے مصر میں بعض لوگ ملے تھے ‘ انہوں نے سوال کیا تھا کہ ہم قرآن کریم میں بعض احکام پاتے ہیں کہ ان پر عمل کیا جائے مگر ان پر عمل نہیں کیا جاتا ‘ تو ان لوگوں نے اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ وہ اس سلسلے میں آپ سے ملنا چاہتے ہیں ۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا : آپ ان لوگوں کو میرے لئے جمع کریں ۔ انہوں نے ان لوگوں کو جمع کیا ۔ ابو عون نے کہا : ” میرا خیال ہے کہ اس نے کہا بیٹھک میں جمع کیا ۔ اس پر انہوں نے ان میں سے ادنی تر آدمی سے بات کی اور کہا : میں خدا کو حاضر وناظر جان کر اور اسلام کا آپ پر جو حق اس کو مدنظر رکھتے ہوئے تم سے پوچھتا ہوں : ” کیا تم نے پور کے قرآن مجید کو پڑھ لیا ہے ؟ “ اس نے جواب دیا : ” ہاں “ اس پر انہوں نے فرمایا : ” کیا وہ پورا تمہارے ذہن میں ہے ؟ ‘ اس نے جواب دیا : ” خدا جانتا ہے نہیں ۔ “ اگر یہ شخص کہتا ہاں سب قرآن میرے ذہن میں ہے تو حضرت عمر یہیں سے اس کے ساتھ مباحثہ شروع کردیتے ۔ اس کے بعد حضرت عمر ؓ نے کہا : ” کیا سب قرآن تمہارے پیش نظر ہے ؟ “ کیا سب قرآن لفظ ” تمہیں یاد ہے ؟ کیا سب قرآن پر تم عمل پیرا ہو ؟ غرض ایسے ہی سوالات انہوں نے سب سے کئے اور آخری شخص تک وہ سب سے یہ سوالات کرتے چلے گئے ، اس کے بعد حضرت عمر ؓ نے فرمایا : ” تمہیں تمہاری ماں روئے : کیا تم عبداللہ بن عمرو کو اس بات کا مکلف بناتے ہو کہ وہ لوگوں کو مکمل طور پر قرآن کریم کے مطابق استوار کردے ۔ ہمارے اللہ کو یہ معلوم تھا کہ ہم میں گناہ گار بھی ہوں گے ۔ “ اس کے بعد حضرت عمر ؓ نے یہ آیت تلاوت فرمائی ۔

(آیت) ” ان تجتنبوا کبآئر ما تنھون عنہ نکفر عنکم سیاتکم “۔ (4 : 31) ”

” اگر تم کبائر سے اجتناب کرو جن سے تمہیں منع کیا جارہا ہے تو ہم تمہارے گناہ معاف کردیں گے ۔ “

اس کے بعد حضرت عمر ؓ نے فرمایا : ” کیا اہل مدینہ جانتے ہیں ۔ “ یا فرمایا : ” کیا کسی ایک شخص کو معلوم ہے کہ تم یہاں کس لئے آئے ہو ؟ “ تو انہوں نے کہا : ” نہیں۔ “ تو فرمایا اگر اہل مدینہ کو علم ہوتا تو میں تمہیں ضرور وعظ کرتا ۔ “ (لفظ احصیۃ فی اثرک کا مفہوم یہ ہے کہ کیا تم نے اپنی پوری زندگی میں قرآن کو نافذ کردیا ہے ۔ اور ابن کثیر نے اسے نقل کیا ہے اور کہا ہے : ” اسناد صحیح ہے ‘ متن حسن ہے ۔ اگرچہ یہ عمر سے حسن نے روایت کی ۔ اس میں لقطاع ہے ۔ بہرحال یہ مشہور ہے اور مشہور ہونے کی وجہ سے ہم اسے نقل کر رہے ہیں ۔ )

حضرت عمر ؓ جیسے حساس اور سخت گیر شخص بھی اس حکمت کے ساتھ معاشرے کی اصلاح کر رہے ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کے شعور کو قرآن کریم نے استوار کردیا تھا ‘ اور ان کو گہری حکمت و دانائی عطا کردی تھی ۔ انہوں نے کیا خوب کہا ‘ ” ہمارے اللہ کو پیشگی علم تھا کہ ہم سے گناہوں کا صدور ہوگا “۔ اور ہم ظاہر ہے کہ اللہ کے علم کے خلاف تو ہو نہیں سکتے ‘ اس لئے مدار فیصلہ اس پر ہوگا کہ ہم نے کیا ارادہ کیا ؟ ہم نے کس قدر اپنے آپ کو درست کرنے کی نیت کی ‘ کس قدر کوشش کی کس قدر خواہشمند رہے ‘ کس قدر ہم نے پابندی شریعت کرنے کی سعی کی ‘ کس قدر جدوجہد اور وفاداری کرنے کی کوشش کی ؟ یہ ہے اسلامی نظام زندگی کا توازن ‘ سنجیدگی ‘ اعتدال اور ہر معاملے میں آسانی پیدا کرنے کی کوشش ۔

اردو ترجمہ

اور جو کچھ اللہ نے تم میں سے کسی کو دوسروں کے مقابلہ میں زیادہ دیا ہے اس کی تمنا نہ کرو جو کچھ مَردوں نے کمایا ہے اُس کے مطابق ان کا حصہ ہے اور جو کچھ عورتوں نے کمایا ہے اس کے مطابق اُن کا حصہ ہاں اللہ سے اس کے فضل کی دعا مانگتے رہو، یقیناً اللہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wala tatamannaw ma faddala Allahu bihi baAAdakum AAala baAAdin lilrrijali naseebun mimma iktasaboo walilnnisai naseebun mimma iktasabna waisaloo Allaha min fadlihi inna Allaha kana bikulli shayin AAaleeman

(آیت) ” ولا تتمنوا ما فضل اللہ بہ بعضکم علی بعض للرجال نصیب مما اکتسبوا وللنسآء نصیب مما اکتسبن واسئلوا اللہ من فضلہ ان اللہ کان بکل شیء علیما (32) ولکل جعلنا موالی مما ترک الوالدن والا قربون والذین عقدت ایمانکم فاتوھم نصیبھم ان اللہ کان علی کل شیء شھیدا (33) (4 : 32۔ 33)

” اور جو کچھ اللہ نے تم میں سے کسی کو دوسروں کے مقابلے میں زیادہ دیا ہے اس کی نسبت تمنا نہ کرو ‘ جو کچھ مردوں نے کمایا ہے اس کے مطابق ان کا حصہ ہے ‘ اور جو کچھ عورتوں نے کمایا ہے اس کے مطابق ان کا حصہ ہے ہاں اللہ سے اس کے فضل کی دعا مانگتے رہو ‘ یقینا اللہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے ۔ اور ہم نے ہر اس ترکے کے حقدار مقرر کردیئے ہیں جو والدین اور رشتہ دار چھوڑیں ‘ اب رہے وہ لوگ جن سے تمہارے عہد و پیمان ہوں تو ان کا حصہ انہیں دو ‘ یقینا اللہ ہر چیز پر نگران ہے ۔ “

اللہ تعالیٰ نے دوسرے لوگوں کو جو فضیلت دی ہے اس کی تمنا کرنے سے اہل اسلام کو منع کیا گیا ہے اور یہ نص اس بارے میں عام ہے کہ یہ فضیلت کیسی بھی ہو ۔ مثلا عہدہ و مرتبہ میں فضیلت ‘ صلاحیت و قابلیت میں فضیلت ‘ مال واسباب میں فضیلت ‘ غرض اس زندگی میں نصیبہ کے اعتبار سے جو بھی فرق و امتیاز موجود ہو ‘ اس بارے میں دوسروں کے مقابلے میں تمنائیں نہیں کرنی چاہئیں ۔ جو کچھ مانگنا ہے ‘ اللہ سے مانگا جائے اور ہر امر کی طلب براہ راست اللہ سے ہونی چاہئے اور یہ نہ ہونا چاہئے کہ دوسروں کی فضیلتون پر خواہ مخواہ للچائی ہوئی نظروں سے دیکھ کر دل کی حسرتوں کی آماجگاہ بنا لے ‘ اور اس کے بعد اس غلط تمنا کے ساتھ حسد وکینہ اور بغض وانتقام کے برے جذبات اپنے لاؤ لشکر کے ساتھ انسانوں پر حملہ آور ہوں ‘ یا ان کے اندر محرومیت ‘ ہلاکت اور تباہی کے جذبات اور مہلک احسانات پیدا ہوں ۔ ان جذبات کے بعد پھر ہر کسی کے خلاف بدظنی پیدا ہو ‘ اور پھر خدا اور مخلوق دونوں سے یہ شکایت پیدا ہو کہ انہیں کم دیا گیا ہے ۔ یہ صورت حال اس قدر تباہ کن ہوگی کہ معاشرے میں امن و سکون کا نام ونشان نہ رہے گا ‘ ہر شخص ذہنی پریشانی اور قلق کا شکار ہوگا ‘ انسانی قوتیں غلط رجحانات اور بدی کی راہوں میں صرف ہو کر ضائع ہوں گی جبکہ اس کے مقابلے میں یہ رجحان کہ سب کچھ عطا کرنے والا اللہ ہے ‘ وہی فضل وکرم اور داد ودہش کا منبع ہے کیا خوب ہے ۔ اور یہ عقیدہ کہ عطا اور داد ودہش سے اس کے خزانوں میں کوئی کمی پیدا نہیں ہوتی ، اور اس کی درگاہ اس قدر وسیع ہے کہ اگر تمام کائنات کے سوالی اس پر اژدہام کرلیں تب بھی اس میں تنگی نہیں آتی ‘ امن و اطمینان بھی اس کی درگاہ سے ملتا ہے ‘ امید وآسرا بھی وہیں سے دستیاب ہے ۔ اسباب کی تلاش اور جدوجہد میں وہی مثبت راہ بتلاتا ہے ‘ جس راستے میں ایک دوسرے کے خلاف عداوت ‘ جلن ‘ اختلاف اور دشمنی بھی پیدا نہیں ہوتی ۔

ایک عام ہدایت دیتے ہوئے یہ آیت اپنے مفہوم میں عام ہے لیکن سیاق کلام میں اس کا مفہوم خاص ہوجاتا ہے اور اس کے اسباب نزول کے سلسلے میں بعض روایات بھی وارد ہیں جن کی وجہ سے آیت کا مفہوم عموم کسی قدر خاص ہو کر اس میں فرق آجاتا ہے اور بعض امور کی فضیلت متعین ہوجاتی ہے ۔ یہ آیت انہیں امور کو متعین کرتی ہے ۔ مثلا مردوں اور عورتوں کے حصے میں فرق ہے ۔ مردوں کا حصہ میراث میں زیادہ متعین ہوا ہے ‘ جس کا اظہار اس آیت سے بھی ہوتا ہے اور سیاق کلام سے بھی ہوتا ہے اور سیاق کلام سے بھی ہوتا ہے ۔ لیکن یہ پہلو یعنی بعض امور میں مرد وزن کے درمیان مقام و مرتبہ میں خصوصی تفاوت اس آیت کی عمومیت پر اثر انداز نہیں ہوتی اس لئے کہ مرد و زن کے تعلقات کی درستی اور ان کے درمیان باہم مکمل تعاون اور تکافل اور اسلامی معاشرے میں ایک خاندان کی تشکیل اور افراد معاشرہ کی باہم رضا مندی اور پورے معاشرے کی درمیان نظم کے قیام کے لئے اس تفاوت کی بڑی اہمیت ہے ۔ اس لئے کہ اس تفاوت اور فرق مراتب کی وجہ سے فریقین کے فرائض اور ذمہ داریاں متعین ہوجاتی ہیں لیکن اس خصوصی تفاوت کے باوجود آیت کی عمومیت متاثر نہیں ہوتی ‘ اس لئے روایات میں جو خاص اسباب نزول بیان ہوئے ہیں وہ آیت کے عمومی مفہوم کو متاثر نہیں کرتے ۔

امام احمد نے سفیان ‘ ابو نجیح ‘ مجاہد کی سند کے ساتھ حضرت ام سلمہ ؓ سے یہ روایت کی ہے کہ ام سلمہ ؓ نے حضور ﷺ کے سامنے یہ عرض کی کہ حضور ! مرد جہاد کرتے ہیں لیکن ہم عورتیں جہاد میں شریک نہیں ہوتیں ‘ اور میراث میں بھی ہمارا حصہ نصف ہے ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی ” اور جو اللہ نے تم میں سے کسی کو دوسرے کے مقابلے میں زیادہ دیا ہے اس کی تمنا نہ کرو ۔ “

امام ابو حاتم ‘ ابن جریر ‘ ابن مردویہ اور حاکم نے مستدرک میں امام ثوری کی حدیث بروایت ابن جیح ‘ مجاہد حضرت ام سلمہ ؓ سے یوں روایت کی ہے کہ انہوں نے حضور ﷺ سے کہا کہ ہم عورتیں جنگ میں حصہ نہیں لیتیں تاکہ ہم شہید ہوں اور میراث میں بھی ہمارا پورا حصہ نہیں ہے تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔ (آیت) ” انی لا اضیع عمل عامل منکم من ذکر اواثنی) ” میں تم میں کسی کام کرنے والے کے کام کو ضائع نہیں کرتا ‘ مرد ہو یا عورت۔ “

حضرت سدی اس آیت کے بارے میں فرماتے ہیں کہ بعض لوگوں نے یہ کہا تھا کہ ہمارے لئے عورتوں کے ثواب کے مقابلے میں دوگنا ثواب ہونا چاہئے اس لئے کہ ازروئے فطرت ہم جنگ نہیں لڑ سکتیں لیکن اگر اللہ نے ہم پر جہاد فرض کیا ہوتا تو ہم جنگ میں حصہ لیتیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان خیالات کی تردید فرمائی اور حکم دیا کہ وہ میرے فضل کے بارے میں دعا کریں ‘ اور یہ فضل دنیا جیسا عارضی نہیں ہے ۔۔۔۔۔ ایسی ہی روایت قتادہ سے بھی مروی ہے ۔ بعض دوسری روایات بھی ہیں جو اس آیت کے مفہوم کی عمومیت کو ظاہر کرتی ہیں ۔

علی ابن ابو طلحہ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے ۔ انہوں نے فرمایا : ” کوئی شخص یہ تمنا نہ کرے کہ فلاں شخص کا مال اور اس کی عورت اسے ملیں ۔ اللہ نے اس سے منع کیا ہے اور حکم دیا ہے کہ وہ اللہ کے فضل کے طلبگار ہوں ۔ حسن ‘ محمد بن سیرین ‘ عطاء اور ضحاک سے بھی ایسی ہی تفسیر مروی ہے ۔

مرد وزن کے درمیان زمانہ جاہلیت میں جو تعلقات پائے جاتے تھے ‘ ان کے حوالے سے دیکھا جائے تو محولہ بالا پہلے اقوال میں آثار جاہلیت کا پر تو نظر آتا ہے جبکہ دوسری جانب مرد وزن کے درمیان جذبہ مسابقت اور تنافس اس بات کا نتیجہ ہے کہ اسلام نے عورتوں کو جو حقوق عطا کئے اور جو آزادیاں عنایت کیں اس کے نتیجے میں اس قسم کے تنافس کا پیدا ہونا ایک قدری امر تھا ‘ اس لئے کہ اسلام نے عورت کو جو حقوق عطا کئے وہ اصول کرامت انسانی اور ہر جنس اور ہر گروہ کے ساتھ منصفانہ سلوک پر مبنی تھے ۔ اور یہ منصفانہ رویہ ہر شخص کو یوں سکھایا گیا کہ اس نے خود اپنی ذات کے ساتھ بھی انصاف کرنا تھا ۔

اسلام کے اہداف یہ ہیں کہ وہ اپنے متکافل اور معاون نظام زندگی کو ۔۔۔۔۔۔۔ نافذ کرنا چاہتا ہے ۔ اس کا مقصد نہ مردوں کی حمایت ہے اور نہ عورتوں کی حمایت کرنا ہے ۔ بلکہ اس کے پیش نظر انسان من حیث الانسان ہے ۔ اور اسلامی معاشرہ کی تخلیق ہے ۔ اسلام علی الاطلاق اور علی العموم انسانیت کی اصلاح اور بھلائی کے لئے کام کرتا ہے ۔ وہ اس دنیا میں عمومی اور بےقید عادلانہ نظام چاہتا ہے ‘ جو ہمہ جہت اور ہمہ پہلو عادلانہ اسباب پر مبنی ہو ۔

اسلامی نظام زندگی ‘ فرائض وواجبات کے تعین میں راہ فطرت پر چلتا ہے ۔ اسی طرح وہ مرد وزن کے حصہ رسدی کے تعین میں بھی دونوں کی فطری صلاحیتوں کو پیش نظر رکھتا ہے ۔ اور فطرت نے ابتدائے تخلیق سے مرد کو مرد عورت کو عورت قرار دیا ۔ ان میں سے ہر ایک کے اندر متعین صلاحیتیں پیدا کیں ۔ اور ان خاص صلاحیتوں کے مطابق ان کے فرائض متعین کئے ۔ ان فرائض کے تعین میں کسی مخصوص مقصد کو سامنے نہیں رکھا گیا ‘ نہ کسی ایک جنس کو دوسری پر ترجیح دی گئی ہے ۔ بلکہ انسان کی پوری زندگی کو پیش نظر رکھا گیا ہے ۔ جس کا قیام اور تنظیم اور جس کی خصوصیات کی تکمیل اور جس کے مقاصد کی تکمیل اسی صورت میں ممکن ہے کہ مرد وزن کے درمیان فرق و امتیاز ہو ‘ اور یہ فرق و امتیاز ان دونوں کی خصوصیات اور صلاحیتوں اور فرائض وواجبات کے درمیان فرق و امتیاز کے مطابق ہو تاکہ وہ خلافت فی الارض اور اللہ کی بندگی کے اعلی مقاصد پورے کرسکیں ۔ اللہ تعالیٰ نے حیات انسانی کے عظیم ادارے کی تنظیم اور تکمیل کے لئے مرد و زن کے درمیان تنوع پیدا کیا ۔ ان کو مختلف صلاحیتیں دیں ۔ ان کے لئے مختلف فرائض منصبی مقرر کئے ۔ اور ان کے لئے مختلف حقوق متعین کئے اور جدا جدا دائرہ کار کا تعین کیا ۔ تاکہ کاروان زندگی صحیح سمت پر سفر جاری رکھ سکے ۔

انسان جب غیر جانبداری سے مکمل اسلامی نظام زندگی کا مطالعہ کرے ‘ خصوصا اس نظام میں مرد وزن کے باہمی تعلقات کی نوعیت کا گہرا جائزہ لے تو نہ اس نزاع کا کوئی موقعہ رہتا ہے جو قدیم روایات میں پایا جاتا ہے اور نہ ان جدید مجادلات اور نزاعات کی کوئی حقیقت رہتی ہے ‘ جو آج کل کے دور میں مردوں اور عورتوں کے درمیان بےفائدہ ہوجاتے ہیں اور جس کا شور وغوغا کبھی اس قدر بلند ہوجاتا ہے جس میں سنجیدہ مردوں اور عورتوں کی آواز دب کر رہ جاتی ہے ۔

یہ ایک عبث کوشش ہوگی کہ ہم صورت حال کی تصویر کشی یوں کریں کہ گویا مرد اور عورت کے درمیان ایک معرکہ کار زار گرم ہے ۔ اس میں ہر شخص اپنا اپنا موقف بیان کر رہا ہے ۔ ہر شخص جنگ کو جیتنے کی سعی میں لگا ہوا ہے ۔ کچھ سنجیدہ اہل قلم بھی بعض اوقات ایسا موقف اختیار کرتے ہیں کہ وہ عورت کی ذات میں نقائص نکالتے ہیں ‘ اس سے کمالات کی نفی کرتے ہیں اور اس کی طرف ہر عیب کی نسبت کرتے ہیں ۔ یہ کام وہ علمی بحث و مباحثہ کے طور پر کریں یا اسلامی نقطہ نظر سے کریں ۔ دونوں صورتیں حقیقت نفس الامری سے دور ہیں ۔ مسئلہ دراصل دونوں فریقوں کے درمیان معرکہ آرائی کا نہیں ہے بلکہ مسئلہ دونوں اصناف کی نوعیت اور تقسیم کار کا ہے ۔ ایک دوسرے کے ساتھ تکافل اور تعاون کا ہے اور اسلامی نظام زندگی کے مطابق ان کے درمیان قیام عدل کا ہے ۔

یہ ممکن ہے کہ جاہلی معاشروں کے اندر مرد وزن کے درمیان کوئی معرکہ آرائی ہو ۔ اس لئے کہ جاہلی معاشرت اپنے لئے نظام حیات از خود تجویز کرتے ہیں ۔ ان جاہلی معاشروں کا نظام خالص ذاتی اور نبوی اغراض ومقاصد پر مبنی ہوتا ہے یا ان نظاموں میں بعض غالب طبقات کے مفادات کو مدنظر رکھا گیا ہوتا ہے یا بعض خاندانوں اور بعض افراد کے مفادات کی حفاظت مطلوب ہوتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ان جاہلی نظاموں میں انسان کی اصلیت اور جاہلیت کی نسبت جہالت کی وجہ سے عورتوں کے حقوق کو غصب کیا گیا ہوتا ہے یا ان میں مرد و زن کے فرائض طبیعی کو نظر انداز کرکے ان کے حقوق وفرائض متعین کئے ہوتے ہیں یا ان میں کام کرنے والی عورت کے حقوق اس ہی جیسے کام کرنے والے مرد کے حقوق کے مقابلے میں کم رکھے گئے ہوتے ہیں ۔ اور یہ کمی محض اقتصادی وجوہات سے ہوتی ہے یا مثلا تقسیم میراث کے میدان اور مالی تصرفات کے شعبے میں عورتوں کے حقوق کم رکھے گئے ہوتے ہیں جس طرح جدید جاہلی معاشروں میں بھی صورت حال ایسی ہی ہے ۔

رہا اسلامی نظام زندگی تو اس میں کہیں بھی ایسی صورت حال نہیں ہے ۔ اس میں اولا مرد وزن کے درمیان کوئی معرکہ برپا نہیں ہوتا ۔ اس میں دنیاوی مفادات کی بنا پر ایک دوسرے کے مقابلے میں کوئی دشمنی نہیں ہوتی ۔ اس میں نہ مرد عورت کے مفادات پر حملہ آور ہو کر اسے لوٹتا ہے اور نہ عورت مرد کے مفادات پر حملہ آور ہو کر اسے لوٹتی ہے ۔ نہ وہ ایک دوسرے کی کمزوریوں کی ٹوہ میں لگے رہتے ہیں اور انہیں اجاگر کرتے ہیں ۔ اسلامی نظام میں اس قسم کے افکار کی بھی گنجائش نہیں ہے ۔ مرد وزن کے درمیان طبیعی خصائص میں اس بین فرق و امتیاز کے باوجود مرد وزن کے درمیان فرائض اور واجبات کا کوئی فرق نہیں ہے اور یہ کہ ان فرائض واجبات وجہ سے مرد وزن کے منصب اور حیثیت پر کوئی اثرات مرتب نہیں ہوتے ۔ اس قسم کے افکار غلط فہمی پر مبنی ہیں ‘ اور اپنی جگہ از کار رفتہ بھی ہیں ۔ اسلامی نظام کے بارے میں یہ افکار جہالت پر مبنی ہیں ‘ اور مرد وزن کی فطری ساخت اور طبیعی وظائف کے بارے میں گہری لاعلمی کی وجہ سے وجود میں آئے ہیں ۔

ذرا جہاد کے معاملے پر غور فرمائیے ! جہاد اور شہادت فی سبیل اللہ ‘ اس میں عورت کی شرکت اور حصول ثواب کے مسائل کے معاملے میں دور اول کی صالح عورتوں کے دل میں تشویش تھی ۔ ان صالح عورتوں کی تشویش کا تعلق صرف آخروی نقطہ نظر سے تھا ۔ اس کا تعلق اس دنیا میں حیثیت یا برتری سے ہر گز نہ تھا ۔ بعض اوقات اس فرق و امتیاز کا تعلق دنیاوی امور سے بھی تھا مثلا وراثت میں مرد کا حصہ عورت کے مقابلے میں زیادہ رکھا گیا تھا ‘ زمانہ قدیم سے مردوں اور عورتوں کے دلوں میں اس امتیاز کے بارے میں تشویش تھی ۔ آج کے دور جدید میں بھی یہ اور اس قسم کے دوسرے مسائل دلوں میں کھٹکتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فعل جہاد نہ عورت پر فرض کیا ہے اور نہ ہی اس کے لئے جہاد میں شرکت کو حرام قرار دیا ہے ۔ نیز اگر فریضہ جہاد میں عورت کی ضرورت ہو اور مرد آبادی اس کے لئے کفایت نہ کرتی ہو تو عورت کو اس سے منع بھی نہیں کیا گیا ۔ نیز تاریخ اسلام سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض عورتیں جہاد میں شریک بھی ہوئیں ۔ انہوں نے تیمار داری اور باربرداری کے علاوہ جہاد میں بھی حصہ لیا لیکن ایسے واقعات قلیل اور نادر ہیں اور انتہائی ضرورت کے اوقات میں پیش آئے ، عمومی اصول اور معمول یہ نہ تھا ۔ بہرحال یہ حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جس طرح مردوں پر جہاد فرض قرار دیا ‘ اس طرح عورتوں پر اسے فرض نہیں کیا گیا ۔

عورتوں پر جہاد اس لئے نہیں فرض کیا گیا کہ وہ مجاہدین کو پیدا کرنے کا ذریعہ (Producer) ہیں ۔ عورت کی تخلیق ہی اس لئے ہوئی ہے کہ وہ مردوں کو پیدا کرے ۔ اس کی عضویاتی ساخت اور نفسیاتی میلان ہی اس طرف ہے کہ وہ مجاہدین پیدا کرے اور انہیں جہاد فی سبیل اللہ کے لئے تیار کرے ‘ انہیں اچھی زندگی بسر کرنے کے لئے تیار کرے۔ اس میدان میں عورت زیادہ قوت اور خوش اسلوبی سے کام کرسکتی ہے کہ اس کی عضویاتی اور نفسیاتی تشکیل ہی اس مقصد کے لئے ہوئی ہے ۔ یہ بات صرف عورت کی عضویاتی ساخت کی بنا پر ہی نہیں کہی جارہی بلکہ علی الخصوص اس کے اندرونی نظام میں خلیات کی پیوند کاری یعنی ۔ یہ کہ وہ اللہ تعالیٰ کی مرضی سے مرد ہے یا عورت ہے عورت پیدائش کے وقت سے ہی اس فریضہ کے لئے واحد ذمہ دار ہے ۔ (دیکھئے فصل المراۃ وعلاقہ الجنین ۔ جو کتاب الاسلام ومشکلات الحصارہ کا حصہ ہے)

ظاہری اعظاء کے افعال تو بعد میں یکے بعد دیگرے کام کرتے ہیں اور اس عرصہ کے بعد عظیم نفسیاتی اثرات حاملہ عورت پر مرتب ہوتے ہیں لہذا اس کی جانب سے امت مسلمہ کے لئے جہاد میں شرک کے مقالبے میں یہ عظیم فریضہ سرانجام دینا زیادہ نفع بخش ہے ۔ اس لئے کہ جب جنگ کا طوفان بڑی تعداد میں مردون کو فنا کردیتا ہے تو عورت مزید آبادی کی پیداوار کے ذریعے کے طور پر اپنا فرض ادا کرتی ہے ۔ اور وہ مزید مرد پیدا کرکے خلا کو پر کرتی ہے ۔ لیکن اگر جنگ کا بھوت مرد اور عورت دونوں ہی کو کھالے یا وہ مردوں کو چھوڑ کر صرف عورتوں کو اچک لے اور مردوں کو باقی رکھے تو یہ صورت باقی نہیں رہتی ۔ اس لئے کہ اسلامی نظام زندگی میں اگر ایک مرد ہے اور وہ پوری رخصت کو کام میں لائے تو وہ بیک وقت چار عورتوں سے شادی کرسکتا ہے ۔ اور بیک وقت وہ چار عورتیں آبادی میں اضافہ کرسکتی ہیں ۔ اور یوں وہ کمی پوری ہو سکتی ہے ۔ (اگرچہ ایک عرصہ بعد) جو جہاد و قتال کی وجہ سے واقع ہوا کرتی ہے ۔ لیکن اگر ایک ہزار افراد بھی ایک عورت کے ساتھ ہمبستری کریں تو بھی وہ عورت اسی مقدار میں بچے دے سکتی ہے جو ایک مرد کی ہمبستری سے دے سکتی ہے ۔ عورتوں کی کمی کی صورت میں آبادی کی کمی ہر گز پوری نہ ہو سکے گی ۔ اور یہ تو اللہ تعالیٰ کی بےپناہ حکمتوں میں سے ایک ہی نکتہ ہے جو اس حکم کی تہہ میں پوشیدہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے عورتوں کو جہاد سے معاف رکھا ۔ اس حکم کے بیشمار منافع ہیں۔ مثلا اسلامی معاشرہ میں اخلاقی پاکیزگی کا اہتمام ‘ اسلامی معاشرے کے مزاج کو مدنظر رکھنا انسان کے دونوں اصناف کے لئے علیحدہ علیحدہ دائرہ کار کی نشاندہی وغیرہ جن کے بارے میں تفصیلات بیان کرنے کا یہاں موقع نہیں ہے ۔ اس لئے کہ اس نکتے پر خاص اور طویل بحث کی ضرورت ہے ۔ (دیکھئے کتاب ” نحو مجتمع اسلامی “ کی فصل ” نظام عائلی “ )

رہا معاملہ اجر وثواب کا تو اللہ تعالیٰ نے مرد و عورت دونوں کو اس کی پوری پوری یقین دہانی کرائی ہے ‘ بشرطیکہ وہ اپنے فرائض وواجبات کو خدا کوفی سے بحسن و خوبی سرانجام دیں اور ان میں وہ درجہ احسان تک پہنچ جائیں ۔

رہا مسئلہ حصص میراث کا تو بادی النظر میں ” مرد کے لئے دو عورتوں کے برابر حصہ ہوگا “ کے اصول سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ عورت پر مرد کو ترجیح دی گئی ہے ۔ لیکن مرد اور عورت کے پورے فرائض اور واجبات پر اگر ایک نظر دوڑائی جائے تو بہت جلد اس رائے کی سطحیت آشکارا ہوجاتی ہے ۔ آمدن اور حصص کا تعین ذمہ داریوں کو دیکھ کر کیا گیا ہے ۔ اسلامی نظام زندگی کا یہ ایک مستقل اصول ہے کہ اس میں مفادات کا تعین ذمہ داریوں کی نسبت سے کیا جاتا ہے ۔ مرد پر یہ بات فرض کی گئی ہے کہ وہ عورت کو مہر ادا کرے جبکہ اگر کوئی امیر سے امیر عورت بھی ہو تو اس پر مرد کے لئے مہر واجب نہیں کیا گیا ۔ پھر مرد پر عورت اور اس کی اولاد دونوں کے اخراجات عائد کئے گئے ہیں جبکہ عورت پر یہ ذمہ داری عائد نہیں کی گئی اگرچہ وہ مالدار ہو ۔ مرد اگر ان فرائض کی ادائیگی میں کوتاہی کرے تو اسے سزائے قید دی جاسکتی ہے ۔ پھر مرد پر مختلف قسم کی دیات اور تاوان بھی عائد ہوتے ہیں (یعنی رخموں کے تاوان) اور یہ تاوان اسے اجتماعی طور پر خاندان کا فرد ہونے کی حیثیت سے ادا کرنے ہوتے ہیں جبکہ دیات اور ارش کے تاوانوں سے عورت کو معاف رکھا گیا ہے ۔ مرد پر اپنے خاندان کے ناداروں اور مساکین کا نفقہ بھی واجب ہے خواہ مرد ہوں یا عورتیں ہوں بشرطیکہ ہو کمانے پر قادر نہ ہوں ۔ یہ فریضہ قریب سے قریب رشتہ داروں سے شروع ہوتا ہے اور عورت اس قسم کے عام خاندانی فرائض سے مستثنی ہے ۔ یہاں تک کہ جس خاوند سے اس کی اولاد پیدا ہوتی ہے ‘ اس کے ساتھ بھی اگر اس کا معاشی اشتراک نہ ہو یا طلاق ہوگئی ہو تو بچے کی پرورش کے انتظامات بھی اس مرد پر عائد ہوتے ہیں اور وہ خود اس عورت کے اخراجات کے ساتھ اسے ادا کرنے کا پابند ہے ۔ غرض اسلامی نظام ایک مکمل اور جامع نظام ہے اور اس میں تقسیم میراث کے وقت مرد و عورت کی مالی ذمہ داریوں کو بھی پیش نظر رکھا گیا ہے ۔ یہ بات واضح طور پر معلوم ہوتی ہے کہ شریعت نے ذمہ داریوں کا جو بھاری بوجھ مرد پر ڈالا ہے ‘ اس کی نسبت سے میراث میں مرد کا حصہ کوئی زیادہ نہیں ہے ۔ ان تمام امور میں مرد کی معاشی سرگرمیوں کی زیادہ قدرت اور مہارت کو بھی پیش نظر رکھا گیا ہے ۔ اور عورت کے زیادہ سے زیادہ آرام اور اطمینان کو پیش نظر رکھا گیا ہے تاکہ وہ دل جمعی کے ساتھ انسان کے قیمتی سرمائے یعنی بچوں کی نگہداشت کرسکے ‘ جو ہر قسم کے مال ‘ ہر قسم کے سازوسامان اور ہر قسم کی مفید عام ہنر مندی سے زیادہ قیمتی ہے ۔

اس غور و فکر کے نتیجے میں معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی نظام زندگی ‘ جس کی تشکیل ایک حکیم وعلیم ذات نے فرمائی ہے ۔ اس میں وسیع توازن اور گہری حکمت پوشیدہ ہے اور اسلام نے اس آیت میں عورت کو انفرادی ملکیت کا حق ان الفاظ میں دیا ہے ۔

(آیت) ” للرجال نصیب مما اکتسبوا وللنساء نصیب مما اکتسبن “۔ (4 : 32) ” جو کچھ مردوں نے کمایا ہے اس کے مطابق ان کا حصہ ہے اور جو کچھ عورتوں نے کمایا ہے اس کے مطابق ان کا حصہ ہے ۔ “ ۔۔۔۔۔ اور یہ وہ حق ہے جو عربی جاہلیت تمام دوسری جاہلیتوں کی طرح ‘ عورت کو عطا کرنے میں ہمیشہ ہچکچاتی رہی ہے اور کبھی بھی عورت کے اس حق کو کھلے دل سے تسلیم نہیں کیا گیا ۔ شاذو نادر ہی کبھی عورت کو یہ حق دیا گیا اور آج بھی عورت کے اس حق کو مارنے کے حیلے کئے جاتے ہیں جبکہ خود عورت ذات کو اسی طرح وراثت میں پکڑا جاتا ہے اور میراث کی طرح تقسیم کیا جاتا ہے ۔

یہ وہ حق ہے جو جاہلیت جدیدہ آج بھی عورت کو دینے میں ہچکچا رہی ہے ‘ حالانکہ اس کا دعوی یہ ہے کہ اس نے عورت کو وہ حقوق عطا کئے جو اس کو کبھی عطا نہ کئے گئے تھے ۔ جاہلیت جدیدہ میں بعض قوانین ایسے ہیں کہ سب سے بڑے مرد وارث کو تمام میراث کا حقدار سمجھتے ہیں اور بعض قوانین یہ لازم کرتے ہیں کہ عورت جو مالی معاہدہ بھی کرے اس کی منظوری ولی کی طرف سے از روئے قانون ضروری ہے ۔ اور یہ قوانین بیوی کی جانب سے خاص اپنی جائیداد کے بارے میں بھی کسی قسم کا تصرف صرف اس وقت جائز کرتے ہیں جب خاوند اس کی منظوری دے ۔ اور یہ ناقص حقوق جاہلیت جدیدہ نے اسے تب دئیے جب اس نے ان کے حصول کے لئے تحریکات چلائیں عظیم انقلابات برپا کئے اور اس کے نتجیے میں عورت کی زندگی کا نظم برباد ہوا ‘ خاندانی نظام ختم ہوگیا اور عام اخلاقی حالت ناگفتہ بہ ہوگئی ۔

لیکن اسلام نے ابتداء ہی سے عورت کو یہ حقوق از خود دے دئیے بغیر اس کے کہ وہ ان کے حصول کے کوئی چارٹر آف ڈیمانڈ تیار کرے ۔ قبل اس کے کہ وہ بغاوت پر اتر آئے قبل اس کے کہ وہ ان کے حصول کے لئے عورتوں کی تنظمیں قائم کرے اور قبل اس کے کہ وہ پارلیمنٹ کی ممبری تک پہنچ کر ان کا مطالبہ کرے ۔ یہ حقوق اسلام نے اسے محض انسانیت کے احترام میں عطاکئے یہ اسے محض اس لئے دیئے گئے کہ نفس انسانی کے دو اصناف ہیں مرد اور عورت اور اس لئے دیئے گئے کہ اسلام نے اپنے اجتماعی نظام کی اکائی ایک خاندان کو قرار دیا ہے ۔ اور اس خاندانی نظام کو باہم محبت ‘ باہم الفت کے ساتھ مرد و عورت کے درمیان مساوات کے اصول پر مربوط کردیا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ کسب وکمائی اور ملکیت کے نقطہ نظر سے اسلام نے مرد اور عورت دونوں کو از روئے اصول مکمل طور پر مساوی حقوق دیئے ہیں ۔

ڈاکٹر عبدالواحد وانی اپنی کتاب ” انسانی حقوق “ میں اسلام اور جدید مغربی ممالک میں عورت کے حقوق کے بارے میں تقابلی مطالعہ یوں پیش کرتے ہیں ” اسلام نے مرد اور عورت کو قانون کے نقطہ نظر سے مساوی حقوق دیئے ‘ اور تمام شہری حقوق میں مرد اور عورت کو برابر قرار دیا ‘ اور اس سلسلے میں شادی شدہ اور غیر شادی شدہ کے درمیان کوئی فرق امتیاز نہیں برتا گیا ۔ اسلام اور پوری مسیحی دنیا کے درمیان شادی کی نوعیت میں بہت بڑا اختلاف پایا جاتا ہے ۔ اسلامی قانون کے مطابق شادی کی وجہ سے نہ عورت کا نام ختم ہوتا ہے نہ اس کی شخصیت ختم ہوتی ہے ‘ نہ اس کے معاملات طے کرنے کی حیثیت میں کوئی فرق آتا ہے ‘ اور نہ اس کا حق ملکیت محدود ہوتا ہے بلکہ ایک مسلمان عورت کا شادی کے بعد نام بھی وہی رہتا ہے ‘ اس کی قانونی اور شہری حیثیت بھی اپنی جگہ بحال رہتی ہے اور تمام قانونی حقوق اسے حاصل رہتے ہیں ۔ اس پر وہ تمام ذمہ داریاں عائد رہتی ہیں جو پہلے اس پر عائد تھیں ۔ وہ اپنے معاملات میں ہر قسم کے فیصلے اور معاہدے کرسکتی ہے ۔ مثلا خرید وفروخت ‘ رہن ‘ ہبہ اور وصیت وغیرہ ۔ وہ جن چیزوں کی مالک ہوتی ہے ‘ نکاح کی وجہ سے اس کے حق ملکیت پر کوئی قید عائد نہیں ہوتی ۔ غرض اسلام میں شادی کے بعد بھی عورت کو مستقل قانونی حیثیت حاصل ہوتی ہے اور وہ مستقل شخصیت کی مالک ہوتی ہے ‘ اس کی جائیداد اس کے شوہر کی جائیداد سے علیحدہ خود اس کی ملکیت ہوتی ہے ۔ خاوند کو کوئی قانونی اختیار نہیں ہوتا کہ وہ کوئی چیز اس کی اجازت کے بغیر حاصل کرے خواہ وہ کم ہو یا زیادہ ہو ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

(آیت) ” وان اردتم استبدال زوج مکان زوج واتیتم احدھن قنطارا فلا تاخذوا منہ شیئا اتاخذونہ بھتانا واثما مبینا (20) وکیف تاخذونہ وقد افضی بعضکم الی بعض واخذن منکم میثاقا غلیظا “۔ (21) (4 : 20۔ 21)

” اور اگر تم بیوی کی جگہ دوسری بیوی لے آنے کا ارادہ ہی کرلو تو خواہ تم نے اسے ڈھیر سا مال ہی کیوں نہ دیا ہو ‘ اس میں سے کچھ واپس نہ لینا ‘ کیا تم اسے بہتان لگا کر اور صریح ظلم کر کے واپس لوگے ؟ اور آخر تم اسے کس طرح لے لوگے جب کہ تم ایک دوسرے سے لطف اندوز ہوچکے ہو ۔ اور وہ تم سے پختہ عہد لے چکی ہیں ۔ “ اگر کسی خاوند کے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اپنی مطلقہ بیوی سے وہ دولت واپس لے جو اس نے خود اسے عطا کی تھی تو اس کے لئے خود اس عورت کی مملوکہ دولت کا ہڑپ کرلینا بطریق اولی جائز نہیں ہے الا یہ کہ یہ سب کچھ اس کی مرضی سے ہو ‘ اور وہ کوئی چیز اپنی خوشی سے عطا کر رہی ہو اور اس بارے میں اللہ تعالیٰ کا حکم یہ ہے ۔

(آیت) ” واتوالنساء صدقتھن نحلۃ فان طبن لکم عن شیء منہ نفسا فکلوہ ھنیئا مریئا (4 : 4)

” اور عورتوں کو ان کے مہر خوشدلی کے ساتھ ادا کرو ‘ البتہ اگر وہ خود اپنی خوشی سے مہر کا کوئی حصہ تمہیں معاف کردیں تو اسے تم مزے سے کھا سکتے ہو “۔

اور مرد اپنی بیوی کی دولت میں کسی قسم کا تصرف بھی نہیں کرسکتا ‘ الا یہ کہ وہ اسے اس کی اجازت دے دے یا اس نے اپنے خاوند کو کسی قسم کے تصرف اور معاہدے کی اجازت دے دی ہو ۔ لیکن ایسے حالات میں بھی اس کو اجازت ہے کہ وہ اپنے دیئے ہوئے ان اختیارات کو واپس لے لے اور جس دوسرے شخص کو چاہے وہ اختیارات دے دے ۔ “

” یہ وہ مقام بلند ہے جس تک عورت آج کے جدید دور جمہوریت میں ان ممالک میں بھی نہیں پہنچ سکی جو اس کرہ ارض پر انتہائی ترقی یافتہ ممالک ہیں ۔ فرانس میں ماضی قریب تک عورتوں کی حالت یہ تھی کہ گویا وہ باندیاں لونڈیاں ہیں بلکہ ابھی تک یہ صورت حال موجود ہے ۔ قانون نے کئی شہری معاملات میں اس کے حقوق سلب کئے ہوئے ہیں ۔ مثلا فرانس کے سول کوڈ کی دفعہ 217 میں یہ طے کیا جاتا ہے کہ ” شادی شدہ عورت ‘ چاہے نکاح کی شرائط میں یہ طے کردیا گیا ہو کہ عورت اور مرد کی ملکیت علیحدہ علیحدہ ہوگی اس کے باوجود وہ اپنی جائیداد ہبہ نہیں کرسکتی نہ اس کی ملکیت منتقل کرسکتی ہے ‘ نہ رہن کرسکتی ہے ‘ نہ وہ بالعوض یا بلاعوض تملیک کرسکتی ہے ‘ الا یہ کہ اس کا شوہر کسی معاہدے میں اس کے ساتھ شریک ہو ‘ یا یہ کہ وہ تحریری طور پر ان امور میں سے کسی امر کی اجازت دے دے ۔ “

” بعد کے ادوار میں اس دفعہ میں متعدد ترمیمیں اور تبدیلیاں کی گئیں لیکن اس قانون کے کافی آثار ابھی تک باقی ہیں اور فرانسیسی عورت پر قانونی پابندی عائد کرتا ہے کہ عورت شادی ہوتے ہی اپنا اور اپنے خاندان کا نام کھو دیتی ہے ‘ اس کے بعد اس کا نام فلاں بنت فلاں نہیں لیا جاتا بلکہ اسے بیگم فلاں سے پکارا جاتا ہے یا اس کے نام کے ساتھ اس کے خاوند کا نام لگ جاتا ہے ۔ لیکن اس کے نام کے ساتھ اس کے باپ اور اس کے خاندان کا نام نہیں لیا جاتا ۔ اس طرح عورت کا نام ختم ہونے سے اس بات کا اظہار ہوتا ہے کہ عورت کے بعد عورت کی شہری اور قانون حیثیت ختم ہوگئی ہے اور وہ اپنے خاوند کی شخصیت میں گم ہوگئی ہے ۔ “

” مزید تعجب کی بات یہ ہے کہ مسلمانوں میں سے اکثر خواتین ان مغربی خواتین کے ساتھ یک جہتی کے طور پر اپنے لئے بھی اس کم تر اور ثانوی حیثیت کو قبول کر لینی ہیں اور اپنا نام لینے کے بجائے اپنے آپ کو بیگم فلاں ظاہر کرتی ہیں یا اپنے نام کے ساتھ اپنے خاوند اور اس کے خاندان کا نام چسپاں کرلیتی ہیں اور اپنے نام کے ساتھ اپنے باپ اور اپنے خاندان کا نام لینا پسند نہیں کرتیں ‘ جیسا کہ اسلامی نظام زندگی کی خواہش اور مزاج ہے ۔ اس کو کہتے ہیں بھونڈی نقل یا اندھی تقلید ۔ لیکن تعجب یہ ہے کہ جو خواتین مغربی عورت کی غلامی کی بھی نقالی کرتی ہیں ‘ ہمارے ہاں وہ عورت کی آزادی اور حقوق کا مطالبہ کرتی ہیں ‘ اور عورتوں کو مردوں کے ساتھ تشبہ کرنے پر ابھارتی اور حقوق کا مطالبہ کرتی ہیں ‘ حالانکہ درحقیقت وہ ان بہترین حقوق سے دستبردار ہو رہی ہوتی ہیں جو اسلام نے انہیں عطا کئے تھے حالانکہ اسلام نے ان کی قدر ومنزلت میں اضافہ کیا تھا اور ان حقوق میں انہیں مردوں کے برابر حیثیت دی تھی ۔ “ (صفحات 59 تا 61)

اب ہم اس سبق کی آخری آیت کی طرف آتے ہیں ۔ اس میں ان معاہدوں کے احکام بتائے گئے ہیں جو احکام میراث کے آنے سے پہلے ہوئے تھے ۔ اسلام کے نظام وراثت کو رشتہ داری اور قرابت کے اساس پر مرتب کیا گیا جبکہ دوستی اور ولایت کے یہ معاہدے قرابت داری کے دائرے سے باہر بھی ہوا کرتے تھے جیسا کہ تفصیلات آرہی ہیں۔

اردو ترجمہ

اور ہم نے ہر اُس ترکے کے حق دار مقرر کر دیے ہیں جو والدین اور رشتہ دار چھوڑیں اب رہے وہ لوگ جن سے تمہارے عہد و پیمان ہوں تو ان کا حصہ انہیں دو، یقیناً اللہ ہر چیز پر نگراں ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Walikullin jaAAalna mawaliya mimma taraka alwalidani waalaqraboona waallatheena AAaqadat aymanukum faatoohum naseebahum inna Allaha kana AAala kulli shayin shaheedan

(آیت) ” ولکل جعلنا موالی مما ترک الوالدن والا قربون والذین عقدت ایمانکم فاتوھم نصیبھم ان اللہ کان علی کل شیء شھیدا (4 : 33)

” اور ہم نے ہر اس ترکے کے حقدار مقرر کردیئے ہیں جو والدین اور رشتہ دار چھوڑیں ‘ اب رہے وہ لوگ جن سے تمہارے عہد و پیمان ہوں تو ان کا حصہ انہیں دو ‘ یقینا اللہ ہر چیز پر نگران ہے ۔ “

اس کلیہ کے بعد کہ مردوں نے جو کمایا ان کا ہے اور عورتوں نے جو کمایا ان کا ہے اور اس حوالے کے بعد کہ قانون میراث کے مطابق مردوں اور عورتوں کے حصص بھی مقرر ہوچکے ہیں اب فرماتے ہیں کہ ہر شخص کے رشتہ داروں میں سے ہم نے اس کے وارث مقرر کردیئے ہیں ‘ جو اس کی میراث پائیں گے اور یہ وارث اس شخص کے اس ترکے کے حقدار ہوں گے جو اسے اپنے والدین اور اقرباء سے ملا ۔ یہ مال اس نظام میراث کے مطابق نسلا بعد نسل منتقل ہوتا رہے گا ۔ وراثت پانے والے پائیں گے پھر وہ اپنے اس موروثی مال میں مزید اپنی کمائی جمع کریں گے ۔ یہ ایک ایسی تصویر ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی نظام میں دولت کی گردش کس طرح عمل میں آتی ہے ۔ یہ گردش کسی نسل میں نہیں رکتی اور نہ یہ دولت کسی ایک گھرانے اور ایک فرد کے پاس جمع اور مرتکز ہوتی ہے بلکہ نظام میراث ہمیشہ اپنا کام کرتا رہتا ہے ۔ ایک مسلسل تقسیم ہے جو جاری وساری ہے ۔ اموال کے مالک اس میں کوئی ترمیم نہیں کرسکتے ۔ نہ وارثوں کے حصص میں کمی بیشی کی جاسکتی ہے ۔ وقفے وقفے کے بعد تقسیم کا یہ خود کار عمل جاری رہتا ہے ۔

اس کے بعد ان سابقہ معاہدوں کی بات ہوئی جن کو شریعت اسلامیہ نے برقرار رکھا ہے اور جن کے مطابق میراث کے حقدار کبھی کبھار غیر اقرباء بھی ہوجاتے تھے ۔ ان معاہدوں کو عقود موالات کہا جاتا تھا ۔ جب اسلامی معاشرے کا آغاز ہوا تو اس میں ان میں سے بعض پائے جاتے تھے مثلا :

(1) معاہدہ موالات عتق ‘ جو شخص غلام کو آزاد کو آزاد کرتا وہ اس کی جانب سے دیت بھی ادا کرتا ‘ اگر کسی وقت اس پر عائد ہوجائے یعنی جب وہ کوئی جرم کرتا جیسا کہ اپنے اہل نسب کے درمیان دیت کی ادائیگی ہوا کرتی تھی ۔ اور اگر کوئی شخص مر جاتا تو اگر اس کے عصبات نہ ہوتے تو پھر یہ مالک اس کی میراث کا بھی حقدار ہوتا ۔

(2) دوسرا عقد موالات ‘ وہ یوں کہ ایک غیر عربی کے ساتھ دوستی کا معاہدہ کرلیتا جبکہ اس کے اقرباء عرب میں نہ ہوتے ‘ اس معاہدے کے نتیجے میں یہ غیر عربی کسی بھی عرب خاندان کسی بھی عرب خاندان کا ایک فرد ہوجاتا ۔ ولی بھی اس کی جانب سے دیت ادا کرتا اگر اس سے کوئی جرم سرزد ہوجاتا اور یہ شخص جب مرجاتا تو اس کی میراث کا حقدار وہ ولی ہوتا ۔

(3) وہ معاہدہ جو ابتدائے ہجرت کے ایام میں حضور ﷺ نے انصار ومہاجرین کے درمیان کرایا تھا ۔ اس طرح مہاجرین اور انصار ایک دوسرے کے وارث بھی ہوتے ‘ اگر انصار کے اہل مسلمان ہوتے ورنہ ان کے درمیان وارثت نہ ہوتی ۔

(4) ایسے معاہدے جاہلیت میں ہوتے تھے کہ دو شخص ایک دوسرے کے ساتھ معاہدہ کرتے کہ ہم ایک دوسرے کی وارثت کے حقدار ہوں گے ۔

اسلام نے ان تمام معاہدوں کو کالعدم کردیا ‘ خصوصا تیسرے اور چھو تھے معاہدے کو اور یہ قرار دیا کہ وراثت کے اندر حقیقی عامل قرابت اور صرف قرابت ہے لیکن اسلام نے اول الذکر دو معاہدوں کو بحال رکھا اور یہ حکم دیا کہ آئندہ ایسے معاہدے نہ کئے جائیں ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ۔ (آیت) ” والذین عقدت ایمانکم فاتوھم نصیبھم “۔ (4 : 33) (وہ لوگ جن سے تمہارے عہد و پیمان ہوں ان کا حصہ انہیں دو ) اور اس بارے میں سخت تاکید بھی کی گئی اور ان معاہدوں اور ان کے تصرفات کے بارے اپنی شہادت تحریر فرمائی ۔ (آیت) ” ان اللہ کان علی کل شیء شھیدا “۔ (4 : 33)

(یقینا اللہ ہر چیز پر نگران ہے) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : لا حلف فی الاسلام ایما حلف فی الجاھلیۃ لم یزدہ الاسلام الاشدہ “ (اسلام میں کوئی معاہدہ ولا نہ ہوگا لیکن جو معاہدے جاہلیت کے دور میں ہوئے ہیں اسلام ان کو مزید پختہ کرتا ہے ۔ احمد ومسلم)

اسلام نے ان معاہدوں کے خاتمہ میں وہی پالیسی اختیار فرمائی جو وہ تمام مالی قوانین کے سلسلے میں ہمیشہ اپناتا ہے ۔ جب بھی وہ کوئی قانون مالی اصلاحات کے طور پر نافذ کرتا ہے ‘ اسلام کی پالیسی وہی ہوتی ہے یعنی اسلام مالی اصلاحات کا کوئی قانون موثر بماضی (Retropective) نافذ نہیں کرتا ۔ مثلا جب حرمت ربا کا قانون نافذ ہوا تو اس کا نفاذ اس تاریخ سے ہوا ‘ جس تاریخ کو حکم آیت کے اندر نازل ہوا ۔ اور اس سے پہلے جو سود لیا جا چکا تھا ‘ اسے نہ چھیڑا گیا ۔ اور یہ حکم نہ دیا کہ جن لوگوں نے منافع لئے ہیں وہ واپس کریں ۔ اگرچہ سابقہ معاہدے بھی منسوخ کردیئے البتہ جنھوں نے معاہدوں کے مطابق قرض وصول کر لئے تھے وہ ان کے پاس رہنے دیئے تھے ۔ یہاں ولایت کے معاملے میں معاہدوں کو منسوخ نہیں کیا گیا ‘ البتہ یہ حکم دیا گیا کہ جدید معاہدے نہ کئے جائیں اس لئے کہ ان معاہدوں کی رو سے مالی ذمہ داریوں کے علاوہ معاہدہ کرنے والے اجنبی افراد اس خاندان کے فرد بن جاتے تھے ۔ اور ان کے درمیان مختلف قسم کے پیچیدہ روابط قائم ہوجاتے تھے جن کا کاٹنا مناسب نہ تھا ۔ البتہ جدید معاہدے کرنے سے منع کردیا گیا اور سابقہ معاہدوں کے بارے میں حکم دیا کہ نافذ کیا جائے ۔ جدید معاہدوں کو اس لئے منع کردیا گیا تاکہ ان کی وجہ سے ایسے آثار اور مسائل پیدا نہ ہوں جن کا حل ضروری ہوجائے ۔

اس فیصلے کی وجہ سے ایک لوگوں کو ایک سہولت دی گئی دوسرے یہ کہ اس کے اندر ان مسائل کا حل پایا جاتا ہے جو اس وقت اس معاشرے کے لئے اہم تھے ۔ اور یہ حل زیادہ گہرائی حکمت اور پورے حالات کے تقاضے پر مبنی تھا خصوصا ان حالات میں جن میں اسلام جدید اسلامی معاشرے کے خدوخال وضع کر رہا تھا ‘ اور سابق جاہلی معاشرے کے نشانات ایک ایک کرکے مٹائے جارہے تھے اور ہر قانون سازی کے عمل میں یہ کام ذرا اور آگے بڑھتا تھا ۔ (حضرت ابن عباس ؓ سے اس آیت کی تشریح میں یہ بات منقول ہے کہ وہ وراثت کو قانون وراثت کے مطابق دیتے ‘ البتہ جن لوگوں کے ساتھ معاہدے تھے ان کی امداد ‘ اعانت اور ان کے ساتھ ہمدری کا حکم دیتے تھے ۔ )

اس سبق کا آخری موضوع اسلام کے نظام خاندان کی تنظیم اور اس کے امور اور معاملات کی ضابطہ بندی ہے ۔ خاندان کے اندر کس کی کیا حیثیت ہوگی اور یہ کہ خاندان کے اندر کس کی کیا ڈیوٹی ہوگی ۔ اور وہ انتظامات جن کے ذریعے اس اہم ادارے کے امور کی بندی کی گئی ہے ۔ اور یہ کہ اس ادارے کو اختلافات اور ذاتی خواہشات کے جھٹکوں سے کس طرح محفوظ کرنا ہے ۔ نیز اسے ان عناصر سے کس طرح بچانا ہے جو اس کو منہدم کرنے اور اس کی جڑیں اکھاڑنے کا باعث بنتے ہیں ۔ اس سلسلے میں پوری پوری کوشش کی گئی ہے ۔

83