(آیت) ” نمبر 51 تا 55۔
جن لوگوں کو کتاب دی گئی تھی وہ اس بات کے زیادہ مستحق ہیں کہ وہ اس آخری کتاب قرآن پر ایمان لے آئیں اور شرک سے باز آجائیں جو ان لوگوں کا شیوہ ہے جن کو اللہ کی طرف سے کوئی کتاب ہدایت نہیں ملی ۔ وہ اپنی زندگیوں میں کتاب اللہ کے مطابق فیصلے کریں اور طاغوت کی اطاعت نہ کریں (طاغوت ہر وہ قانون ہے ‘ جو اللہ کی طرف سے نہیں ہے اور ہر وہ حکم ہے جس کی پشت پر کوئی شرعی سند نہیں ہے) لیکن یہودی جو ہر وقت پاکی دامان کے قصہ خواں تھے اور اس امر پر فخر کرتے تھے کہ وہ اللہ کے محبوب بندے ہیں ‘ ان دعاوی کے ساتھ ساتھ وہ باطل اور شرک کے پیروکار تھے ۔ وہ کاہنوں کی تابع داری کرتے تھے اور اپنے احبار کی اطاعت کرتے تھے جو ان کے لئے ایسے قوانین بناتے تھے جن پر اللہ کی جانب سے کوئی سند نہ ہوتی تھی ۔ وہ طاغوت پر ایمان لاتے تھے (طاغوت وہ نظام حکومت اور قانونی نظام ہے جو شریعت پر مبنی نہ ہو ) اسے طاغوت اس لئے کہا جاتا ہے کہ اس میں طغیان اور دست درازی پائی جاتی ہے ۔ مثلا کوئی انسان اپنے لئے ان خصوصیات کا مدعی ہوجاتا ہے جو اللہ کی الوہیت اور حاکمیت کی اہم خصوصیات ہیں اور یہ انسان اپنے آپ کو شریعت کے ضابطے کی اطاعت سے باہر نکال لیتا ہے ‘ جس کے مطابق عدل کرنا اس پر لازمی تھا ۔ یہ عمل ہے طغیان کا اور ایسا شخص طاغوت ہے اور اس طاغوت کے مطیع اور اس پر ایمان لانے والے مشرک ہیں یا کافر ہیں ۔ ایسے لوگوں پر اللہ تعجب کا اظہار فرماتے ہیں کہ وہ یہ فعل مکروہ اس کے باوجود کرتے ہیں کہ ان کو اس سے قبل کتاب دی گئی تھی ، لیکن انہوں نے اس کتاب کی پیروی نہ کی ۔
جبت (ہرقسم کی وہمیات) اور طاغوت پر ایمان لانے پر مزید انہوں نے یہ کیا کہ کفار اور مشرکین کی صف میں جا کھڑے ہوئے اور ان مسلمانوں کے خلاف صف آرا ہوگئے جن کو اللہ نے کتاب دی ہے ۔
(آیت) ” ویقولون للذین کفروا ھولآء اھدی من الذین امنوا سبیلا (4 : 51) ” اور کافروں کے متعلق کہتے ہیں کہ ایمان لانے والوں سے تو یہی زیادہ صحیح راستے پر ہیں ۔ “
ابن اسحاق نے بواسطہ محمد ابن ابی محمد ‘ عکرمہ اور سعید ابن جبیر ‘ حضرت ابن عباس ؓ اجمعین سے یہ روایت نقل کی ہے کہ قریش ‘ غطفان ‘ بنی قریظہ کے جن لوگوں نے جنگ احزاب میں تمام پارٹیوں اور احزاب کو جمع کیا تھا ان میں حیی ابن اخطب ‘ سلام ابن الحقیق ‘ ابو رافع ‘ ربیع ابن الحقیق ‘ ابو عامر ‘ وحوح ابن عامر اور ہوذہ ابن قیس تھے ۔ جب یہ لوگ قریش کے پاس آئے تو انہوں نے کہا : ” یہ لوگ یہودیوں کے احبار اور علماء ہٰں اور یہ لوگ پہلی کتاب کے ماہرین علماء ہیں آپ لوگ ان سے جو پوچھنا چاہیں پوچھ لیں کہ تمہارا دین اچھا ہے یا محمد ﷺ کا دین اچھا ہے ۔ قریش نے ان سے پوچھا انہوں نے جواب دیا : تمہارا دین محمد کے دین سے بہتر ہے اور جو لوگ محمد کے تابع ہوگئے ہیں تم ان سے زیادہ ہدایت پر ہو اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ۔
(آیت) ” الم تر الی الذین اوتوا نصیبا من الکتب) سے لے کر (واتینھم ملکا عظیما) (4 : 54) اور یہ ان لوگوں پر لعن طعن ہے اور اس بات کا اعلان ہے کہ دنیا اور آخرت دونوں میں ان کا کوئی ناصر اور مددگار نہ ہوگا ‘ یہ لوگ اب مشرکین سے امداد چاہتے ہیں ۔ انہوں نے مشرکین کو زیادہ ہدایت یافتہ اس لئے کہا تاکہ ان کو اپنی امداد کے لئے مائل کرلیں ۔ چناچہ انہوں نے انکی دعوت قبول کرلی اور یوم الاحزاب میں یہ لوگ لشکر لے کر آگئے ۔ اس جنگ میں حضور ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام ؓ اجمعین نے مدینہ کے اردگر خندق کھودی اور ان لوگوں کے اس عظیم شرکا دفعیہ صرف اللہ نے کیا اور (اللہ نے ان لوگوں کو بھاری غم واندوہ کے ساتھ لوٹا دیا جنہوں نے کفر کیا تھا ‘ اور وہ کچھ خیر نہ پاسکے اور اللہ تعالیٰ مومنین کی مدد کے لئے کافی تھا ۔ وہ تو بہت قوی اور غالب تھا) ۔
یہ بات تعجب انگیز تھی کہ یہودی یہ کہنے پر اتر آئیں کہ مشرکین کا دین ‘ دین محمد ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کے دین سے بہتر ہے ۔ اور مشرکین ان لوگوں سے زیادہ ہدایت یافتہ ہیں جو اللہ کی کتاب اور اس کے رسول حضرت محمد ﷺ پر ایمان لائے ہیں لیکن یہودیوں کی جانب سے یہ کوئی انوکھی بات نہیں ہے ۔ حق و باطل کے درمیان انہوں نے ہمیشہ باطل کو ترجیح دی اور اہل حق اور اہل باطل میں سے ان کو ہمیشہ اہل باطل اچھے لگتے ہیں ۔ یہ اس قدر لالچی ہیں جس کی کوئی انتہا نہیں ہے ۔ وہ اس قدر نفسانیت میں مبتلا ہوگئے ہیں کہ ان کے مزاج میں اعتدال کا آنا ممکن ہی نہیں ہے ۔ ان کے سینے بغض سے بھرے ہوئے ہیں جو کبھی صاف نہیں ہو سکتے ۔ وہ اہل حق کے ہاں ‘ اپنی ٰخواہشات ‘ اپنے لالچ اور اپنے کین سے کا سامان نہیں پاتے ۔ انہیں اگر کچھ ملتا ہے تو ہمیشہ اہل باطل سے ملتا ہے ۔ اس لئے وہ ہمیشہ شہادت حق کے مقابلہ میں شہادت زور کے عادی ہیں اور اہل حق کے مقابلے میں اہل باطل کے لئے شہادت دیتے ہیں ۔
یہ ان کے دائمی حالات و عادات ہیں۔ ان حالات کی پشت پر جو اسباب تھے وہ اب بھی قائم ہیں اس لئے کہ یہ فعل ان کا طبیع اور منطقی فعل تھا کہ وہ کافروں کے متعلق یہ شہادت دیں کہ وہ اہل ایمان مسلمانوں کے مقابلے میں زیادہ ہدایت پر ہیں۔
آج یہودی برملا کہتے ہیں کہ وہ اپنی اس قوت سے جو میڈیا کے حوالے سے ان کے قبضے میں ہے ‘ اس کرہ ارض پر کامیاب ہونے والی ہر تحریک کو باکام کرسکتے ہیں اور اس سلسلے میں وہ اہل باطل کے ساتھ پوری پوری معاونت کرتے ہیں تاکہ وہ تحریک اسلامی کو بدنام اور نیست ونابود کر دے ۔ اور یہ راز داری وہ اس لئے اختیار کرتے ہیں کہ اگر یہ کھل کر سامنے آتے ہیں تو دور جدید میں ان کے فریب کا پردہ چاک ہوتا ہے اور ان کے ایجنٹ عوام الناس میں بدنام ہوتے ہیں ‘ جو درحقیقت ان کے اشاروں پر کام کرتے ہیں اور ہر جگہ اسلامی تحریکات کو بیخ وبن سے اکھاڑ پھینکنے کے لئے رات دن کام کرتے ہیں ۔
بلکہ بعض اوقات ان کیمکاری اور ہشیاری اس حد تک پہنچ جاتی ہے کہ وہ بظاہر اپنے ایجنٹوں کے ساتھ اپنی دشمنی کا اظہار کرتے ہیں اور ان کے ساتھ لڑتے نظر آتے ہیں لیکن دراصل وہ ان لوگوں کے مددگار ہوتے جو اسلامی تحریکات کا قلع قمع کرنے میں لگے ہوئے ہوتے ہیں اور سچائی کو مٹا رہے ہوتے ہیں ۔ بعض اوقات وہ اپنے ان ایجنٹوں کے ساتھ جھوٹی لڑائی شروع کردیتے ہیں جو صرف زبان و کلام کے لئے کام کرکے انکے دور رس مقاصد پورے کرتے رہیں ۔ وہ اسلام اور مسلمانوں کی شکل بگاڑنے کے کام کو کبھی نہیں چھوڑتے اس لئے کہ انہیں اصل بغض تو اسلامی نظریہ حیات سے ہے اور ان کی اصل دشمنی احیائے اسلام کی ہر اس تحریک کے ساتھ ہے جو انہیں دور سے نظر آئے اور وہ اسے دھوکے میں نہ ڈال سکتے ہوں۔
یہ ایک ہی فطرت ہے ‘ ایک ہی منصوبہ ہے اور یک ہی مقصد ہے یہی وجہ ہے کہ ان لوگوں کو اللہ کی جانب سے مردود اور ملعون ہونے کا اعلان ہوتا ہے ۔ ان کو راندہ درگاہ قرار دیا جاتا ہے ۔ اور یہ فیصلہ کردیا جاتا ہے کہ ان کے لئے کوئی نصرت نہ ہوگی اور نہ ان کا کوئی مددگار ہوگا ۔
(آیت) ” اولئک الذین لعنھم اللہ ومن یلعن اللہ فلن تجدلہ نصیرا “۔ (4 : 52)
”۔ ایسے ہی لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی ہے اور جس پر اللہ لعنت کر دے پھر تم اس کا کوئی مددگار نہیں پاؤ گے ۔ “
آج یہ بات ہمیں ہولناک نظر آتی ہے کہ تمام مغربی ممالک یہودیوں کے ناصر و مددگار ہیں۔ اس لئے یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر اللہ کا یہ وعدہ کہاں گیا کہ اللہ نے یہودیوں پر لعنت کی اور جس کو اللہ نے ملعون قرار دے دیا ‘ اس کا کوئی مددگار نہ ہوگا ؟
حقیقت یہ ہے کہ حقیقی مددگار صرف اللہ تعالیٰ ہے ۔ حقیقی مددگار لوگ نہیں ہیں اور نہ حکومتیں ہیں۔ اگرچہ ان کے پاس ایٹم بم اور ہائیڈروجن بم ہوں اور میزائل ہوں۔ حقیقی ناصر اللہ ہے اور وہ اپنے تمام بندوں کے اوپر کنٹرول والا ہے اور بم اور میزائل ان لوگوں کے پاس ہیں جو اللہ تعالیٰ کے مکمل کنٹرول میں ہیں ۔ اللہ ہی حقیقی مددگار ہے ان لوگوں کا جو اس کی مدد کرتے ہیں۔ (آیت) ” (وینصرون اللہ من ینصرہ) اور اللہ صرف ان لوگوں کی معاونت کرتا ہے جو اللہ پر اس طرح ایمان لے آئیں جس طرح ایمان لانے کا حق ہے اور وہ اس کے نظام کی اس طرح اطاعت کرتے ہیں جس طرح اطاعت کا حق ہوتا ہے اور جو تسلیم ورضا کے ساتھ اپنے تمام فیصلے اسلامی منہاج اور اسلامی شریعت کے مطابق کرتے ہیں ۔
اللہ تعالیٰ نے ان آیات کے ذریعے ایک ایسی امت کو خطاب کیا تھا جو صحیح معنوں میں اللہ پر ایمان لا چکی تھی ۔ وہ اسلامی نظام زندگی کی مطیع تھی ۔ وہ اپنے تمام فیصلے شریعت کے مطابق کرتی تھی اور اللہ تعالیٰ نے اس مومن امت کے مقابلے میں اس کے دشمنوں یعنی یہودیوں کو کمزور بنایا تھا اور اس وقت اہل ایمان کو یہودیوں پہ نصرت ملتی تھی اور فتح حاصل ہوتی تھی اس لئے کہ ان کا مددگار کوئی نہ تھا ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ کئے ہوئے وعدے کو عملی شکل دے دی تھی اور اللہ کا وعدہ عملی شکل صرف ان لوگوں کے ذریعے اختیار کرتا ہے جو صحیح معنوں میں مومن ہوں ۔
ہمیں اس وقت تمام ملحدین ‘ مشرکین اور اہل صلیب کی جانب سے بالاتفاق یہودیوں کی پشت پناہی سے خائف نہیں ہونا چاہئے اس لئے کہ وہ تو ہر دور میں اسلام کے خلاف یہودیوں کے ناصر و مددگار رہے ہیں ۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے لیکن ہمیں یہ بات دھوکے میں بھی نہ ڈال دے ۔ نصرت کا وعدہ صرف مومنین کے ساتھ ہے ۔ جب بھی ہم مومن بن جائیں گے فتح ہمارے قدم چومے گی ۔
اہل اسلام کو چاہئے کہ وہ تجربہ کرلیں ‘ ایک بار تجربہ کریں کہ وہ صحیح مسلمان بن جائیں پھر دیکھیں کہ آیا یہودیوں کے لئے کوئی مددگار اس دنیا رہتا ہے اور کیا یہودیوں کو ان مشرکین اور اہل صلیب کی نصرت کوئی فائدہ دیتی ہے ؟
اہل کتاب کے حالات ان کے موقف اور ان کی باتوں پر تعجب کا اظہار کرنے اور ان کو ذلیل اور ملعون قرار دینے کے بعد ‘ اس بات پر نکیر کی جاتی ہے کہ ان لوگوں کا موقف حضرت محمد ﷺ اور مسلمانوں کے بارے میں قابل مواخذہ ہے ۔ نیز یہ کہ وہ اس بات پر سیخ پا ہیں کہ اللہ نے حضور اکرم ﷺ اور مسلمانون پر یہ احسان کیوں فرمایا کہ ان کو دین ‘ نصرت اور فتح سے ہمکنار کیا اور پھر اللہ نے ان پر فضل وکرم کی جو بارش کی اس پر بھی وہ جل بھن گئے ۔ حالانکہ اہل اسلام کو کوئی خیر یا بھلائی ان سے چھین کر نہ دی گئی تھی ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ کس قدر سخت مزاج اور کس قدر لالچی تھے ۔ وہ برداشت نہیں کرسکتے تھے کہ ان کے علاوہ بھی کسی کو کچھ ملے ۔ حالانکہ اللہ نے ان پر بھی فیضان رحمت فرمایا ۔ ان کے آباء پر بھی احسان کیا اور ان کو فیاضی اور رواداری سے منع نہ کیا تھا اور نہ ان کو یہ بغض اور حسد سکھایا تھا ۔
(آیت) ” ام لھم نصیب من الملک فاذا لا یوتون الناس نقیرا (53) ام یحسدون الناس علی ما اتھم اللہ من فضلہ فقد اتینا ال ابرھیم الکتب والحکمۃ واتینھم ملکا عظیما (54) (4 : 53۔ 54)
” کیا حکومت میں ان کا کوئی حصہ ہے ؟ اگر ایسا ہوتا تو دوسروں کو ایک پھوٹی کوڑی تک نہ دیتے ۔ پھر کیا یہ دوسروں سے اس لئے حسد کرتے ہیں اللہ نے انہیں اپنے فضل سے نواز دیا ؟ اگر یہ بات ہے تو انہوں معلوم ہو کہ ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد کو کتاب اور حکمت عطا کی اور ملک عظیم بخش دیا ۔ “
یہ نہایت ہی تعجب انگیز بات ہے کہ یہ لوگ یہ برداشت ہی نہیں کرسکتے کہ اللہ اپنے خزانوں سے کسی اور پر فضل وکرم کرے ۔ کیا یہ لوگ اللہ کے ساتھ اس کے نہ ختم ہونے والے خزانوں میں شریک ہیں ۔ کیا یہ لوگ اللہ کے اقتدار میں اس کے شریک ہیں ۔ یہ تو اللہ ہی ہے جو داتا ہے اور وہی ہے جو روکتا ہے ۔ اگر ایسا ہوتا تو یہ لوگ اپنی کنجوسی اور سختی کی وجہ سے کسی کو پھوٹی کوڑی بھی نہ دیتے نقیر سے مراد وہ جھلی ہے جو گٹھلی کی پشت پر ہوتی ہے ۔ اور یہودیوں کی کنجوسی اور ان کا بخل اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ وہ اتنا بھی کسی کو دے دیں اگر اللہ کی بادشاہی میں ان کا کوئی حصہ ہوتا ۔ یہ خدا کا شکر ہے کہ خدائی میں ان کا کوئی حصہ نہیں ہے ۔ اگر ایسا ہوتا تو اگر تمام لوگ بھی بھوک سے ہلاک ہوجاتے تو وہ کسی کو گٹھلی کا چھلکا تک نہ دیتے ۔
شاید انہیں رسول خدا ﷺ سے اس بات پر حسد ہے کہ اللہ نے ان کو اپنے فضل سے نوازا ہے کہ انکو یہ دین دیا جس سے ان عربوں کو جدید جنم نصیب ہوا اور وہ از سر نو ترقی کرنے لگے اور ان جاہل عربوں کو صاحب امتیاز قوم اور انسان بنا دیا ان کو روشنی یقین ‘ اطمینان اور اعتماد عطا کیا ۔ انکو پاکیزگی اور صفائی اور دنیا کے اندر اقتدار عطا کیا یقینا یہ صورت حال ان یہودیوں کے حسد کی وجہ ہے ۔ وہ اس بات پر مر گئے تھے کہ جاہل ‘ متفرق ‘ باہم متصادم عربوں پر ان کی ادبی اور ثقافتی اور اقتصادی برتری اب ختم ہونے والی ہے ۔ یہ برتری اس وقت قائم تھی جب ان کے پاس کوئی دینی پیغام نہ تھا ۔
یہ لوگ اس بات پر کیوں حسد کرتے ہیں کہ اللہ کسی قوم کو نبوت اور زمین پر اقتدار اعلی عطا فرمائے حالانکہ ان پر تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے زمانے سے ہی یہ فضل وکرم ہوتا رہا ہے جن کو اللہ نے کتاب اور حکمت (نبوت) عطا کی تھی ۔ ان کی آل واولاد میں نبوت جاری رہی تھی اور ان کو حکومت اور اقتدار اعلی بھی دیا گیا تھا لیکن انہوں نے اس فضل وکرم کی کچھ قدر نہ کی ۔ نہ اس نعمت کو سنبھالا ‘ نہ انہوں نے اس عہد قدیم کا پاس رکھا جو انہوں نے اللہ سے کیا تھا بلکہ ان میں سے کئی لوگ تو سرے سے مومن ہی نہ تھے ۔ جن لوگوں پر اس قدر فضل عظیم کیا گیا ہو ‘ ان کے لئے یہ تو مناسب نہیں ہے کہ ان میں منکر اور کافر پیدا ہوں ۔
(آیت) ” فقد اتینا ال ابرھیم الکتب والحکمۃ واتینھم ملکا عظیم (54) فمنھم من امن بہ ومنھم من صد عنہ وکفی بجھنم سعیرا “۔ (55) (4 : 54۔ 55)
” ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد کو کتاب اور حکمت عطا کی اور ملک عظیم بخش دیا ‘ ۔ مگر ان میں سے کوئی اس پر ایمان لایا اور کوئی اس سے منہ موڑ گیا ‘ اور منہ موڑنے والوں کے لئے تو بس جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ ہی کافی ہے “۔
حسد کا درد کس کے حصے میں آتا ہے ۔ اگر کوئی نادار شخص کسی مالدار صاحب نعمت سے حسد کرے تو یہ حسد بھی فعل بد ہے ۔ لیکن اگر کوئی مالدار صاحب نعمت کسی پر حسد کرنے لگے تو یہ رذالت سے بھی آگے نہایت گہرا شر ہے اور اس قسم کا شر و فساد صرف یہودیوں کا حصہ ہے ‘ یہی وجہ ہے کہ انکو جہنم کی آگ کی دھمکی دی گئی ہے ‘ جو اس رذالت کے لئے نہایت ہی مناسب جزاء ہے ۔ (آیت) ” وکفی بجھنم سعیرا “۔ (4 : 55) (ان کیلئے جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ ہی کافی ہے) ۔
جب بات یہاں تک پہنچی کہ آل ابراہیم میں سے بعض لوگ مومن ہوئے اور بعض نے لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکا تو اس کے بعد ضروری ہوگیا کہ اہل ایمان کا انجام بھی بتا دیا جائے اور ان لوگوں کا انجام بھی بتا دیا جائے جو راہ ایمان سے روکتے ہیں ۔ یہ سزا وجزاء ہر دین میں ہمیشہ ایس طرح رہی ہے اور اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں نہایت ہی شدید اور خوفناک مناظر قیامت کی صورت میں اس کا ذکر کرتے ہیں۔
آیت 51 اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ اُوْتُوْا نَصِیْبًا مِّنَ الْکِتٰبِ یُؤْمِنُوْنَ بالْجِبْتِ وَالطَّاغُوْتِ وَیَقُوْلُوْنَ لِلَّذِیْنَ کَفَرُوْا ہٰٓؤُلَآءِ اَہْدٰی مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا سَبِیْلاً یہود اپنی ضد اور ہٹ دھرمی میں اس حد تک پہنچ گئے تھے۔ انہیں خوب معلوم تھا کہ محمد رسول اللہ ﷺ اور ان کے ساتھی رض ایمان باللہ اور ایمان بالآخرۃ میں ان سے مشابہ تھے ‘ پھر وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام پر بھی ایمان رکھتے تھے اور تورات کو اللہ کی کتاب مانتے تھے۔ لیکن اہل ایمان کے ساتھ ضدمّ ضدا اور عداوت میں وہ اس حد تک آگے بڑھے کہ مشرکین مکہ سے مل کر ان کے بتوں کی تعظیم کی اور کہا کہ یہ مشرک مسلمانوں سے زیادہ ہدایت یافتہ ہیں اور ان کا دین مسلمانوں کے دین سے بہتر ہے
منہ پر تعریف و توصیف کی ممانعت یہود و نصاری کا قول تھا کہ ہم اللہ تعالیٰ کی اولاد اور اس کہ چہیتے ہیں اور کہتے تھے کہ جنت میں صرف یہود جائیں گے یا نصرانی ان کے اس قول کی تردید میں یہ (آیت الم تر الخ،) نازل ہوئی اور یہ قول حضرت مجاہد ؒ کے خیال کے مطابق اس آیت کا شان نزول ہی ہے کہ یہ لوگ اپنے بچوں کو امام بناتے تھے اور کہتے تھے کہ یہ بےگناہ ہے، یہ بھی مروی ہے کہ ان کا خیال تھا کہ ہمارے جو بچے فوت ہوگئے ہیں وہ ہمارے لئے قربت الہ کا ذریعہ ہیں ہمارے سفارشی ہیں اور ہمیں وہ بچالیں گے پس یہ آیت اتری۔ حضرت ابن عباس ؓ یہودیوں کا اپنے بچوں کا آگے کرنے کا واقعہ بیان کر کے فرماتے ہیں وہ جھوٹے ہیں اللہ تعالیٰ کسی گنہگار کو بےگناہ کی وجہ سے چھوڑ نہیں دیتا، یہ کہتے تھے کہ جیسے ہمارے بچے بےخطا ہیں ایسے ہیں ہم بھی بےگناہ ہیں اور کہا گیا ہے کہ یہ آیت دوسروں کو بڑھی چڑھی مدح و ثنا بیان کرنے کے رد میں اتری ہے، صحیح مسلم شریف میں ہے کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ ہم مدح کرنے والوں کے منہ مٹی سے بھر دیں، بخاری و مسلم میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ایک مرتبہ ایک شخص کو دوسرے کی مدح و ستائش کرتے ہوئے سن کر فرمایا افسوس تو نے اپنے ساتھی کی گردن توڑ دی پھر فرمایا اگر تم میں سے کسی کو ایسی ہی ضرورت کی وجہ سے کسی کی تعریف کرنی بھی ہو تو یوں کہے کہ فلاں شخص کے بارے میں میری رائے یہ ہے اللہ کے نزدیک پسندیدہ عمل یہی ہے کہ کسی کی منہ پر تعریف نہ کی جائے۔ مسند احمد میں حضرت عمر بن خطاب ؓ کا قول ہے کہ جو کہے میں مومن ہوں وہ کافر ہے اور جو کہے کہ میں عالم ہوں وہ جاہل ہے اور جو کہے میں جنتی ہوں جہنمی ہے، ابن مردویہ میں آپ کے فرمان میں یہ بھی مروی ہے کہ مجھے تم پر سب سے زیادہ خوف اس بات کا ہے کہ کوئی شخص خود پسندی کرنے لگے اور اپنی سمجھ پر آپ فخر کرنے بیٹھ جائے، مسند احمد میں ہے کہ حضرت معاویہ ؓ بہت ہی کم حدیث بیان فرماتے اور بہت کم جمعے ایسے ہوں گے جن میں آپ نے یہ چند حدیثیں نہ سنائی ہوں کہ جس کے ساتھ اللہ کا ارادہ بھلائی کا ہوتا ہے اسے اپنے دین کی سمجھ عطا فرماتا ہے اور یہ مال میٹھا اور سبز رنگ ہے جو اسے اس کے حق کے ساتھ لے گا اسے اس میں برکت دی جائے گی تم لوگ آپس میں ایک دوسرے کی مدح و ستائش سے پرہیز کرو اس لئے کہ یہ دوسرے پر چھری پھیرنا ہے یہ پچھلا جملہ ان سے ابن ماجہ میں بھی مروی ہے حضرت ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ انسان کے پاس ایک صبح کو اپنے دین میں سے کچھ بھی نہیں ہوتا (اس کی وجہ یہ ہوتی ہے) کہ وہ صبح کسی سے اپنا کام نکالنے کے لئے ملا، اس کی تعریف شروع کردی اور اس کی مدح سرائی شروع کی اور قسمیں کھا کر کہنے لگا آپ ایسے ہیں اور ایسے ہیں حالانکہ نہ وہ اس کے نقصان کا مالک ہے نہ نفع اور بسا ممکن ہے کہ ان تعریفی کلمات اور اس کا تفصیلی بیان (فَلَا تُزَكُّوْٓا اَنْفُسَكُمْ) 53۔ النجم :32) کی تفسیر میں آئے گا انشاء اللہ تعالیٰ پس یہاں ارشاد ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی ہے وہ جسے چاہے پاک کر دے کیونکہ تمام چیزوں کی حقیقت اور اصلیت کا عالم وہی ہے، پھر فرمایا کہ اللہ ایک دھاگے کے وزن کے برابر بھی کسی کی نیکی نہ چھوڑے گا، فتیل کے معنی ہیں کھجور کی گٹھلی کے درمیان کا دھاگہ اور مروی ہے کہ وہ دھاگہ جسے کوئی اپنی انگلیوں سے بٹ لے، پھر فرماتا ہے ان کی افترا پردازی تو دیکھو کہ کس طرح اللہ عزوجل کی اولاد اور اس کے محبوب بننے کے دعویدار ہیں ؟ اور کیسی باتیں کر رہے ہیں کہ ہمیں تو صرف چند دن آگ میں رہنا ہوگا کس طرح اپنے بروں کے نیک اعمال پر اعتماد کیے بیٹھے ہیں ؟ حالانکہ ایک کا عمل دوسرے کو کچھ نفع نہیں دے سکتا جیسے ارشاد ہے (تِلْكَ اُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ ۚ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَلَكُمْ مَّا كَسَبْتُمْ ۚ وَلَا تُسْـــَٔــلُوْنَ عَمَّا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ) 2۔ البقرۃ :134) یہ ایک گروہ ہے جو گزر چکا ان کے اعمال ان کے ساتھ اور تمہارے اعمال تمہارے ساتھ پھر فرماتا ہے ان کا یہ کھلا کذب و افترا ہی ان کے لئے کافی ہے " جبت " کے معنی حضرت فاروق اعظم ؓ وغیرہ سے جادو اور طاغوت کے معین شیطان کے مروی ہیں، یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جبت جبش کا لفظ ہے اس کے معنی شیطان کے ہیں، شرک بت اور کاہن کے معنی بھی بتائے گئے ہیں بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد حی بن اخطب ہے، بعض کہتے ہیں کعب بن اشرف ہے، ایک حدیث میں ہے فال اور پرندوں کو ڈانٹنا یعنی ان کے نام یا ان کے اڑنے یا بولنے یا ان کے نام سے شگون لینا اور زمین پر لکیریں کھینچ کر معاملہ طے کرنا اور جبت ہے، حسن کہتے ہیں جبت شیطان کی غنغناہٹ ہے، طلاغوت کی نسبت سوال کیا گیا تو فرمایا کہ یہ کاہن لوگ ہیں جن کے پاس شیطان آتے تھے مجاہد فرماتے ہیں انسانی صورت کے یہ شیاطین ہیں جن کے پاس لوگ اپنے جھگڑے لے کر آتے ہیں اور انہیں حاکم مانتے ہیں حضرت امام مالک فرماتے ہیں اس سے مراد ہر چیز ہے جس کی عبادت اللہ کے سوا کی جائے پھر فرمایا کہ ان کی جہالت بےدینی اور خود اپنی کتاب کے ساتھ کفر کی نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ کافروں کو مسلمانوں پر ترجیح اور افضلیت دیتے ہیں، ابن ابی حاتم میں ہے کہ حی بن اخطب اور کعب بن اشرف مکہ والوں کے پاس آئے تو اہل مکہ نے ان سے کہا تم اہل کتاب اور صاحب علم ہو بھلا بتاؤ تو تم بہتر ہیں یا محمد ﷺ انہوں نے کہا تم کیا ہو ؟ اور وہ کیا ہیں ؟ تو اہل مکہ نے کہا ہم صلہ رحمی کرتے ہیں تیار اونٹنیاں ذبح کر کے دوسروں کو کھلاتے ہیں لسی پلاتے ہیں غلاموں کو آزاد کرتے ہیں حاجیوں کو پانی پلاتے ہیں اور محمد ﷺ تو صنبور ہیں ہمارے رشتے ناتے تڑوا دئیے۔ ان کا ساتھ حاجیوں کے چوروں نے دیا جو قبیلہ غفار میں سے ہیں اب بتاؤ ہم اچھے یا وہ ؟ تو ان دونوں نے کہا تم بہتر ہو اور تم زیادہ سیدھے راستے پر ہو اس پر یہ آیت اتری دوسری روایت میں ہے کہ انہی کے بارے میں (آیت ان شانئک ھو الابتر) اتری ہے، بنو وائیل اور بنو نضیر کے چند سردار جب عرب میں حضور ﷺ کے خلاف آگ لگا رہے تھے اور جنگ عظیم کی تیاری میں تھے اس قوت جب یہ قریش کے پاس آئے تو قریشیوں نے انہیں عالم و درویش جان کر ان سے پوچھا کہ بتاؤ ہمارا دین اچھا ہے یا محمد کا ؟ تو ان لوگوں نے کہا تم اچھے دین والے اور ان سے زیادہ صحیح راستے پر ہو اس پر ہی آیت اتری اور خبر دی گئی کہ یہ لعنتی گروہ ہے اور ان کا ممد و معاون دنیا اور آخرت میں کوئی نہیں اس لئے کہ صرف کفار کو اپنے ساتھ ملانے کے لئے بطور چاپلوسی اور خوشامد کے یہ کلمات اپنی معلومات کے خلاف کہہ رہے ہیں لیکن یاد رکھ لیں کہ یہ کامیاب نہیں ہوسکتے چناچہ یہی ہوا زبردست لشکر لے کر سارے عرب کو اپنے ساتھ ملا کر تمام تر قوت و طاقت اکٹھی کر کے ان لوگوں کو مدینہ شریف پر چڑھائی کی یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ کو مدینہ کے اردگرد خندق کھودنی پڑی لیکن بالآخر دنیا نے دیکھ لیا ان کی ساری سازشیں ناکام ہوئیں یہ خائب و خاسر رہے، نامراد و ناکام پلٹے، دامن مراد خالی رہا بلکہ نامرادی مایوسی اور نقصان عظیم کے ساتھ لوٹنا پڑا۔ اللہ تعالیٰ نے مومنوں کی مدد آپ کی اور اپنی قوت و عزت سے (کافروں کو) اوندھے منہ گرا دیا، فالحمد اللہ الکبیر المتعال