اس صفحہ میں سورہ An-Nisaa کی تمام آیات کے علاوہ تفسیر بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ النساء کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔
وَٱللَّهُ أَعْلَمُ بِأَعْدَآئِكُمْ ۚ وَكَفَىٰ بِٱللَّهِ وَلِيًّا وَكَفَىٰ بِٱللَّهِ نَصِيرًا
مِّنَ ٱلَّذِينَ هَادُوا۟ يُحَرِّفُونَ ٱلْكَلِمَ عَن مَّوَاضِعِهِۦ وَيَقُولُونَ سَمِعْنَا وَعَصَيْنَا وَٱسْمَعْ غَيْرَ مُسْمَعٍ وَرَٰعِنَا لَيًّۢا بِأَلْسِنَتِهِمْ وَطَعْنًا فِى ٱلدِّينِ ۚ وَلَوْ أَنَّهُمْ قَالُوا۟ سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا وَٱسْمَعْ وَٱنظُرْنَا لَكَانَ خَيْرًا لَّهُمْ وَأَقْوَمَ وَلَٰكِن لَّعَنَهُمُ ٱللَّهُ بِكُفْرِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُونَ إِلَّا قَلِيلًا
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ ٱلْكِتَٰبَ ءَامِنُوا۟ بِمَا نَزَّلْنَا مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَكُم مِّن قَبْلِ أَن نَّطْمِسَ وُجُوهًا فَنَرُدَّهَا عَلَىٰٓ أَدْبَارِهَآ أَوْ نَلْعَنَهُمْ كَمَا لَعَنَّآ أَصْحَٰبَ ٱلسَّبْتِ ۚ وَكَانَ أَمْرُ ٱللَّهِ مَفْعُولًا
إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِۦ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن يَشَآءُ ۚ وَمَن يُشْرِكْ بِٱللَّهِ فَقَدِ ٱفْتَرَىٰٓ إِثْمًا عَظِيمًا
أَلَمْ تَرَ إِلَى ٱلَّذِينَ يُزَكُّونَ أَنفُسَهُم ۚ بَلِ ٱللَّهُ يُزَكِّى مَن يَشَآءُ وَلَا يُظْلَمُونَ فَتِيلًا
ٱنظُرْ كَيْفَ يَفْتَرُونَ عَلَى ٱللَّهِ ٱلْكَذِبَ ۖ وَكَفَىٰ بِهِۦٓ إِثْمًا مُّبِينًا
أَلَمْ تَرَ إِلَى ٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ نَصِيبًا مِّنَ ٱلْكِتَٰبِ يُؤْمِنُونَ بِٱلْجِبْتِ وَٱلطَّٰغُوتِ وَيَقُولُونَ لِلَّذِينَ كَفَرُوا۟ هَٰٓؤُلَآءِ أَهْدَىٰ مِنَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ سَبِيلًا
آیت 46 مِنَ الَّذِیْنَ ہَادُوْا یُحَرِّفُوْنَ الْکَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِہٖ وَیَقُوْلُوْنَ سَمِعْنَا وَعَصَیْنَا یہود اپنی زبانوں کو توڑ مروڑکر الفاظ کو کچھ کا کچھ بنا دیتے۔ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتے تو احکام الٰہی سن کر کہتے سَمِعْنَا وَعَصَیْنَا۔ بظاہر وہ اہل ایمان کی طرح سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا ہم نے سنا اور ہم نے قبول کیا کہہ رہے ہوتے لیکن زبان کو مروڑ کر حقیقت میں سَمِعْنَا وَعَصَیْنَا کہتے۔ وَاسْمَعْ غَیْرَ مُسْمَعٍ وہ حضور ﷺ کی مجلس میں آپ ﷺ ‘ کو مخاطب کرکے کہتے ذرا ہماری بات سنیے ! ساتھ ہی چپکے سے کہہ دیتے کہ آپ سے سنا نہ جائے ‘ ہمیں آپ کو سنانا مطلوب نہیں ہے۔ اس طرح وہ شان رسالت میں گستاخی کے مرتکب ‘ ہوتے۔ وَّرَاعِنَا لَیًّام بِاَلْسِنَتِہِمْ رَاعِنَا کا مفہوم تو ہے ہماری رعایت کیجیے لیکن وہ اسے کھینچ کر ‘ رَاعِیْنَابنا دیتے۔ یعنی اے ہمارے چرواہے !وَطَعْنًا فِی الدِّیْنِ ط۔یہود اپنی زبانوں کو توڑ مروڑ کر ایسے کلمات کہتے اور پھر دین میں یہ عیب لگاتے کہ اگر یہ شخص واقعی نبی ہوتا تو ہمارا فریب اس پر ظاہر ہوجاتا۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے ان کے فریب کو ظاہرکر دیا۔
آیت 47 یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ اٰمِنُوْا بِمَا نَزَّلْنَا یہود کی شرارتوں پر لعنت و ملامت کے ساتھ ہی انہیں قرآن کریم پر ایمان کی دعوت بھی دی جا رہی ہے۔مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَکُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ نَّطْمِسَ وُجُوْہًا فَنَرُدَّہَا عَلآی اَدْبَارِہَآ یعنی چہرے اس طرح مسخ کردیے جائیں کہ بالکل سپاٹ ہوجائیں ‘ ان پر کوئی نشان باقی نہ رہے اور پھر انہیں پشت کی طرف موڑ دیا جائے کہ چہرہ پیچھے اور گدی سامنے۔ُ ّ اَوْ نَلْعَنَہُمْ کَمَا لَعَنَّآ اَصْحٰبَ السَّبْتِ ط اصحاب سبت کے واقعے کی تفصیل سورة الاعراف میں آئے گی ‘ لیکن اجمالاً یہ واقعہ سورة البقرۃ میں آچکا ہے
آیت 48 اِنَّ اللّٰہَ لاَ یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَکَ بِہٖ وَیَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِکَ لِمَنْ یَّشَآءُ ج گویا یہ بھی کھلا لائسنس نہیں ہے کہ آپ سمجھ لیں کہ باقی سب گناہ تو معاف ہو ہی جائیں گے۔ اس کی امید دلائی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ باقی تمام گناہوں کو بغیر توبہ کے بھی معاف کرسکتا ہے ‘ لیکن شرک کے معاف ہونے کا کوئی امکان نہیں۔وَمَنْ یُّشْرِکْ باللّٰہِ فَقَدِ افْتَرآی اِثْمًا عَظِیْمًا اللہ تعالیٰ تو واحد و یکتا ہے۔ اس کی ذات وصفات میں کسی اور کو شریک کرنا بہت بڑا جھوٹ ‘ افترا اور بہتان ہے ‘ اور عظیم ترین گناہ ہے۔
آیت 49 اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ یُزَکُّوْنَ اَنْفُسَہُمْ ط یہاں یہود کے اسی فلسفے کی طرف اشارہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو بہت پاک باز اور اعلیٰ وارفع سمجھتے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ We are the chosen people of the Lord“۔ سورة المائدۃ میں ان کا یہ قول نقل ہوا ہے : نَحْنُ اَبْنآؤُا اللّٰہِ وَاَحِبَّاؤُہٗ آیت 18 یعنی ہم تو اللہ کے بیٹوں کی طرح ہیں بلکہ اس کے بہت ہی چہیتے اور لاڈلے ہیں۔ ان کے نزدیک دوسرے تمام لوگ Goyems اور Gentiles ہیں ‘ جو دیکھنے میں انسان نظر آتے ہیں ‘ حقیقت میں حیوان ہیں۔ ان کو تو جس طرح چاہو لوٹ کر کھا جاؤ ‘ جس طرح سے چاہو ان کو دھوکہ دو ‘ ان کا استحاصل کرو ‘ ہم پر کوئی گرفت نہیں ہے۔ سورة آل عمران میں ہم ان کا قول پڑھ چکے ہیں : لَیْسَ عَلَیْنَا فِی الْاُمِّیّٖنَ سَبِیْلٌ ج آیت 75 انّ اُمیوں کے معاملے میں ہم پر کوئی گرفت نہیں ہے“۔ ہم سے ان کے بارے میں کوئی محاسبہ اور کوئی مؤاخذہ نہیں ہوگا۔ جیسے آپ نے گھوڑے کو ٹانگے میں جوت لیا یا ہرن کا شکار کر کے کھالیا تو آپ سے اس پر کون مؤاخذہ کرے گا ؟ بَلِ اللّٰہُ یُزَکِّیْ مَنْ یَّشَآءُ وَلاَ یُظْلَمُوْنَ فَتِیْلاً ان کو اگر پاکیزگی نہیں ملتی تو اس کا سبب ان کے اپنے کرتوت ہیں ‘ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تو ان پر ذرا بھی ظلم نہیں کیا جاتا۔ فَتِیل دراصل اس دھاگے کو کہتے ہیں جو کھجور کے اندر گٹھلی کے ساتھ لگا ہوا ہوتا ہے۔ نزول قرآن کے زمانے میں جو چھوٹی سے چھوٹی چیزیں لوگوں کے مشاہدے میں آتی تھیں ظاہر ہے کہ وہیں سے کسی چیز کے چھوٹا ہونے کے لیے مثال پیش کی جاسکتی تھی۔
آیت 50 اُنْظُرْ کَیْفَ یَفْتَرُوْنَ عَلَی اللّٰہِ الْکَذِبَ ط وَکَفٰی بِہٖٓ اِثْمًا مُّبِیْنًا یعنی ان کی گرفت کے لیے اور ان کو عذاب دینے کے لیے یہی ایک بات کافی ہے جو انہوں نے گھڑی ‘ ہے۔
آیت 51 اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ اُوْتُوْا نَصِیْبًا مِّنَ الْکِتٰبِ یُؤْمِنُوْنَ بالْجِبْتِ وَالطَّاغُوْتِ وَیَقُوْلُوْنَ لِلَّذِیْنَ کَفَرُوْا ہٰٓؤُلَآءِ اَہْدٰی مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا سَبِیْلاً یہود اپنی ضد اور ہٹ دھرمی میں اس حد تک پہنچ گئے تھے۔ انہیں خوب معلوم تھا کہ محمد رسول اللہ ﷺ اور ان کے ساتھی رض ایمان باللہ اور ایمان بالآخرۃ میں ان سے مشابہ تھے ‘ پھر وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام پر بھی ایمان رکھتے تھے اور تورات کو اللہ کی کتاب مانتے تھے۔ لیکن اہل ایمان کے ساتھ ضدمّ ضدا اور عداوت میں وہ اس حد تک آگے بڑھے کہ مشرکین مکہ سے مل کر ان کے بتوں کی تعظیم کی اور کہا کہ یہ مشرک مسلمانوں سے زیادہ ہدایت یافتہ ہیں اور ان کا دین مسلمانوں کے دین سے بہتر ہے