سورہ نساء: آیت 66 - ولو أنا كتبنا عليهم أن... - اردو

آیت 66 کی تفسیر, سورہ نساء

وَلَوْ أَنَّا كَتَبْنَا عَلَيْهِمْ أَنِ ٱقْتُلُوٓا۟ أَنفُسَكُمْ أَوِ ٱخْرُجُوا۟ مِن دِيَٰرِكُم مَّا فَعَلُوهُ إِلَّا قَلِيلٌ مِّنْهُمْ ۖ وَلَوْ أَنَّهُمْ فَعَلُوا۟ مَا يُوعَظُونَ بِهِۦ لَكَانَ خَيْرًا لَّهُمْ وَأَشَدَّ تَثْبِيتًا

اردو ترجمہ

اگر ہم نے انہیں حکم دیا ہوتا کہ اپنے آپ کو ہلاک کر دو یا اپنے گھروں سے نکل جاؤ تو ان میں سے کم ہی آدمی اس پر عمل کرتے حالانکہ جو نصیحت انہیں کی جاتی ہے، اگر یہ اس پر عمل کرتے تو یہ ان کے لیے زیادہ بہتری اور زیادہ ثابت قدمی کا موجب ہوتا

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Walaw anna katabna AAalayhim ani oqtuloo anfusakum awi okhrujoo min diyarikum ma faAAaloohu illa qaleelun minhum walaw annahum faAAaloo ma yooAAathoona bihi lakana khayran lahum waashadda tathbeetan

آیت 66 کی تفسیر

(آیت) ” نمبر 66 تا 68۔

اسلام ایک ایسا نظام زندگی ہے جس پر ہر وہ شخص عمل کرسکتا ہے جو مستقیم اور سلیم الفطرت ہو ‘ اس پر عمل کرنے کے لئے کسی خارق العادت عزم اور کسی بڑے اولو العزم شخص کی ضرورت نہیں ہے ۔ ایسے لوگ تو دنیا میں چند ایک ہوتے ہیں اور اسلامی نظام حیات ان چند لوگوں کے لئے نہیں بھیجا گیا ۔ یہ تمام دنیا کے انسانوں کے لئے بھیجا گیا ہے ‘ اور دنیا میں ہر قسم کے لوگ پائے جاتے ہیں جو مختلف درجات کے ہوتے ہیں ۔ بعض کی طاقتیں اور صلاحتیں زیادہ ہوتی ہیں اور بعض کی کم ۔ یہ دین لوگوں کی اوسط تعداد کو مد نظر رکھ کا بھیجا گیا ہے ‘ جو احکام پر عمل کرسکتے ہیں اور معاصی سے رک سکتے ہیں۔

قتل نفس اور جلاوطن دو ایسے احکام ہیں جو نہایت ہی شاق ہیں ۔ اگر اللہ تعالیٰ لوگوں پر یہ چیزیں بطور احکام وفرائض عائد کردیتا تو ان احکام پر لوگوں کے لئے عمل کرنا مشکل ہوجاتا ۔ لیکن اللہ نے یہ احکام اس لئے عائد نہیں کئے گئے کہ اللہ تعالیٰ لوگوں کو شکست دینا نہیں چاہتا تھا اور یہ بھی نہ چاہتا تھا کہ لوگ ان احکام سے انکار کردیں بلکہ مقصد یہ تھا کہ سب لوگ احکام الہی پر عمل کریں ۔ احکام ایسے ہوں جو سب کے دائرہ قدرت میں ہوں ۔ قافلہ ایمان کے اندر تمام اوسط درجے کے لوگ بھی شامل ہوں اور یہ کہ اسلامی سوسائٹی میں مختلف طبقات کے لوگ ‘ مختلف ہمتوں کے لوگ ‘ مختلف استعدادوں اور صلاحیتوں کے لوگ شامل ہوں ۔ یہ سب لوگ مل کر اسلامی سوسائٹی کو ترقی دیں ۔ اور ایک ایسے کثیر التعداد قافلے کی شکل میں جو طویل و عریض ہو ۔

ابن جریج ‘ اسحاق ابو الازھر ‘ اسماعیل ‘ ابو اسحاق کی سند سے ابو الحاق کہتے ہیں ۔ جب یہ آیت نازل ہوئی ۔ (آیت) ” ولو انا کتبنا علیھم ان اقتلوانفسکم (4 : 66) تو ایک شخص نے کہا اگر اللہ حکم دیتا تو ہم ضرور ایسا کرتے لیکن اللہ کی بڑی مہربانی ہے کہ اس نے ہمیں معاف کردیا ۔ یہ بات حضرت نبی اکرم ﷺ تک پہنچی تو آپ ﷺ نے فرمایا : ” میری امت میں ایسے لوگ ہیں کہ ان کے دل میں ایمان ان پہاڑوں سے بھی زیادہ بیٹھا ہوا ہے جو نہایت ہی اونچے ہیں ۔ “

ایک دوسری روایت ابن ابو حاتم نے حضرت مصعب ؓ سے روایت کی ہے ۔ انہوں نے اپنے چچا عامر بن عبید ابن زبیر ؓ سے روایت کی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی ۔

(آیت) ” ولو انا کتبنا علیھم ان اقتلوانفسکم او اخرجوا من دیارکم ما فعلوہ الا قلیل منھم (4 : 66)

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” اگر یہ حکم نازل ہوتا تو ابن ام عبدان میں سے ہوتا ۔ “ انہوں نے ایک روایت شریح ابن عبید سے نقل کی ہے ۔ فرماتے ہیں ‘ جب حضور ﷺ نے یہ آیت پڑھی ۔ (آیت) ” ولو انا کتبنا علیھم ان اقتلوانفسکم (4 : 66) تو رسول اللہ ﷺ نے عبداللہ ابن رواحہ ؓ کی طرف اشارہ فرمایا : ” اگر اللہ تعالیٰ یہ فرائض عائد کرتا تو یہ ان قلیل لوگوں میں سے ہوتے ۔ “

رسول اللہ ﷺ اپنے ساتھیوں کو نہایت ہی گہرائی سے اور نہایت ہی اچھی طرح جانتے تھے ۔ ان کے خصائص اور صلاحیتیں آپ ﷺ کی نظر میں اس قدر درست تھیں کہ وہ خود بھی اپنے بارے میں اس قدر نہ جانتے تھے ۔ حضور اکرم ﷺ کی سیرت میں ایسے بیشمار واقعات ہیں جن سے حضور اکرم ﷺ کی یہ صلاحیت اچھی طرح معلوم ہوتی ہے کہ آپ اپنے ساتھیوں کے بارے میں گہری معلومات رکھتے تھے ۔ نیز حضور کو ان قبائل کی صلاحیتوں کا بھی علم تھا جن سے آپ برسر پیکار تھے ۔ آپ ایک بصیرت افروز قائد کی طرح اپنے ماحول سے اچھی طرح واقف تھے اور بعض اوقات یہ معلومات نہایت ہی معجزانہ ہوتی تھیں ۔ کیونکہ یہ لدنی علم پر مبنی تھیں ۔

اس جگہ ہمارا یہ موضوع نہیں ہے ‘ یہاں ہم جو کہنا چاہتے ہیں وہ یہ ہے کہ حضور اکرم ﷺ کو معلوم تھا کہ آپ کے ساتھیوں میں اور آپ کی امت میں ایسے لوگ ہوں گے جو ناقابل برداشت مشکلات کو برداشت کریں گے ۔ اگر یہ مشکلات ان پر فرض کردی جائیں لیکن آپ کو یہ بھی معلوم تھا کہ آپ صرف ان چند ممتاز لوگوں کی طرف رسول بنا کر نہیں بھیجے گئے تھے ۔ اللہ تعالیٰ کو اپنے پیدا کئے ہوئے انسان کی فطرت کے بارے میں اچھی طرح علم تھا ‘ اس کی محدود طاقت کا بھی اسے علم تھا ‘ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس دین کے احکام میں وہی کچھ فرض کیا جس پر سب لوگ عمل کرسکتے تھے ‘ اس لئے کہ یہ دین سب کے لئے آیا تھا ‘ بشرطیکہ کسی کے اندر عزم ہو ‘ اس کی فطرت معتدل ہو ‘ اور اس کے اندر اطاعت کا داعیہ ہو اور وہ اس دین کو مذاق اور غیر ضروری نہ سمجھتا ہو ۔

اس حقیقت کا ذہن نشین کرنا بہت بڑی اہمیت کا حامل ہے ۔ خصوصا ان تخریبی تحریکات کے حوالے سے جن کی دعوت یہ ہے کہ انسان مرتبہ حیوانیت تک اتر آئے اور وہ نفسانیت کے کیچڑ میں کیڑے کی طرح لت پت ہو ۔ اس کے لئے یہ لوگ دلیل یہ دیتے ہیں کہ یہی انسان کی حقیقی صورت حالات ہے اور یہی اس کی طبیعت ‘ فطرت اور اس کی طاقت ہے اور یہ کہ دین تو اس مقام کی طرف دعوت دیتا ہے جو ایک مثالی مقام ہے ‘ جس کا اس کرہ ارض پر حقیقت کا روپ اختیار کرنا نہایت ہی مشکل ہے ۔ اگر کوئی ایک فرد دین کے فرائض پر عمل پیرا ہو بھی جائے تو سو عمل پیرا نہیں ہو سکتے ۔

یہ نہایت ہی جھوٹا دعوی ہے ۔ یہفریب پر مبنی ہے ۔ یہ جہالت پر مبنی ہے ۔ اس لئے کہ یہ مدعی انسان کو اس طرح نہیں سمجھ سکتا جس طرح اس کو خالق رب العالمین سمجھتا ہے ۔ جس نے اس کے لئے دینی فرائض مقرر کئے ۔ وہ ذات خالق یہ جانتی ہے کہ یہ احکام اس کے دائرہ خدمت میں ہیں ۔ اس لئے کہ دین چند ممتاز لوگوں کے لئے تو نہیں بھیجا گیا ۔

یہ تو صرف عزم کی بات ہے ‘ ایک عام آدمی کی عزیمت ‘ اخلاص نیت اور کام کے آغاز کی بات ہے اور جب عزم نیت اور آغاز ہوجائے تو ۔

(آیت) ” ولو انھم فعلوا ما یوعظون بہ لکان خیرا لھم واشد تثبیتا (66) واذا لاتینھم من لدنا اجرا عظیما (67) ولھدینھم صراطا مستقیما (68)

” حالانکہ جو نصیحت انہیں کی جاتی ہے اگر یہ اس پر عمل کرتے تو یہ ان کے لئے زیادہ بہتری اور زیادہ ثابت قدمی کا موجب ہوتا ۔ اور جب یہ ایسا کرتے تو ہم انہیں اپنی طرف سے بہت بڑا اجر دیتے ۔ اور انہیں سیدھا راستہ دکھا دیتے ۔ “

صرف کام کے آغاز ہی سے اللہ کی طرف سے امداد شروع ہوجاتی ہے اور اس راہ پر گامزن ہونے لئے ثابت قدمی نصیب ہوتی ہے جس کے بعد اجر عظیم نصیب ہوتا ہے ۔ اس کے بعد صحیح راستے کی طرف راہنمائی نصیب ہوتی ہے ۔ (صدق اللہ العظیم) کیا اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کو دھوکہ دے رہے ہیں ؟ کیا وہ ان سے وہ وعدہ کر رہے ہیں جو پورا نہ ہو ؟ بلکہ اللہ تو ان سے بہت ہی سچی بات فرماتے ہیں ۔ (ومن اصدق من اللہ حدیثا) ” (اللہ سے زیادہ سچا اور کون ہے)

اس کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی نوٹ کرنے کے قابل ہے کہ اس دین میں آسانی کا مطلب یہ نہیں ہے کہ لوگوں کو چھوٹ دے دی جائے ۔ یہ دین ایسا نہیں ہے کہ اس میں ہر طرف سے چھوٹ دی جاتی رہے اور پھر بھی وہ نظام حیات ہو ۔ اس میں عزیمت بھی ہے اور رخصت بھی ہے ۔ عزیمت تو اصل دین ہے اور رخصت بعض عارضی حالات کی وجہ سے ہے ۔ ہمارے بعض مخلص لوگ جو اس دین کی طرف بلاتے ہیں وہ ان کے سامنے رخصتیں پیش کرتے ہیں ۔ وہ ایک ایک رخصت تلاش کرتے اور اسے لوگوں کے سامنے رکھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ ہے دین اور پھر وہ لوگوں کو کہتے ہیں دیکھو اس دین میں یہ یہ سہولتیں ہیں ۔ بعض لوگ شیطان کی خواہشات یا عوام الناس کی خواہشات پوری کرنا چاہتے ہیں ‘ وہ ایک سوراخ تلاش کرتے ہیں جہاں سے نکلا جاسکے اور پھر وہ کہتے ہیں کہ یہ ہے یدن ۔

یہ دین درحقیقت نہ رخصتوں کا نام ہے اور نہ ہی عزیمتوں کا نام ہے ۔ اس میں مجموعی طور پر دونوں چیزیں موجود ہیں اور یہ دین ایسا ہے کہ اگر ایک عام انسان اس پر عمل کے لئے عزم کرلے تو وہ اس پر عمل کرسکتا ہے ۔ وہ اپنی حدود بشریت کے اندر رہتے ہوئے اس کے اندر ذاتی کمال حاصل کرسکتا ہے ۔ جیسے ایک ہی باغ میں وہ انگور ‘ شہتوت ‘ انجیر خربوزہ ‘ تربوز اور دوسرے پھل پیدا ہوتے ہیں اور سب کے ذائقے جدا ہوتے ہیں کسی کے بارے میں بھی یہ نہیں کہا جاسکتا کہ وہ پختہ نہیں ہے ۔ بشرطیکہ ہو پک گیا ہو ‘ اگرچہ ایک کا ذائقہ دوسرے سے کم درجے کا ہو۔

اس دین کے باغ میں ساگ ‘ ترکاری اور کھیرے ککڑی پیدا ہوتے ہیں ۔ کینو اور انار پیدا ہوتے ہیں ۔ سیب اور اخروٹ بھی پیدا ہوتے ہیں۔ انگور اور انجیر پیدا ہوتے ہیں اور سب کے سب پکتے ہیں ۔ سب کے ذائقے مختلف ہوتے ہیں اور سب پختہ ہوتے ہیں۔ اپنے اپنے درجے میں کمال کو پہنچ جاتے ہیں ۔ دنیا اللہ کا کھیت ہے ۔ اس میں انسان اللہ کی تربیت میں اللہ کی نگرانی میں سہولت کے ساتھ آگے بڑھتے رہتے ہیں۔

اب آخر میں ‘ اس سبق کے خاتمے پر دی جاتی ہے ‘ دلوں کے اندر جوش پیدا کیا جاتا ہے اور لوگوں کو محبوب مال ومتاع کی طرف متوجہ کیا جاتا ہے ۔ یہ دولت نبیوں ‘ صدیقین ‘ صالحین اور شہداء کے ساتھ ہم نشیبی کی متاع ہے ۔

آیت 66 وَلَوْ اَنَّا کَتَبْنَا عَلَیْہِمْ اَنِ اقْتُلُوْآ اَنْفُسَکُمْ اَوِاخْرُجُوْا مِنْ دِیَارِکُمْ مَّا فَعَلُوْہُ الاَّ قَلِیْلٌ مِّنْہُمْ ط وَلَوْ اَنَّہُمْ فَعَلُوْا مَا یُوْعَظُوْنَ بِہٖ اس کا ترجمہ اس طرح بھی کیا گیا ہے : اور اگر یہ لوگ وہ کرتے جس کی انہیں ہدایت کی جاتی یعنی اپنے آپ کو قتل کرنا اور اپنے گھروں سے نکل کھڑے ہونا۔

عادت جب فطرت ثانیہ بن جائے اور صاحب ایمان کو بشارت رفاقت اللہ خبر دیتا ہے کہ اکثر لوگ ایسے ہیں کہ اگر انہیں ان منع کردہ کاموں کا بھی حکم دیا جاتا جنہیں وہ اس قوت کر رہے ہیں تو وہ ان کاموں کو بھی نہ کرتے اس لئے کہ ان کی ذلیل طبیعتیں حکم الہ کی مخالفت پر ہی استوار ہوئی ہیں، پس اللہ تعالیٰ نے اس حقیقت کی خبردی ہے جو ظاہر نہیں ہوئی لیکن ہوتی تو کس طرح ہوتی ؟ اس آیت کو سن کر ایک بزرگ نے فرمایا تھا کہ اگر اللہ تعالیٰ ہمیں یہ حکم دیتا تو یقینا ہم کر گزرتے لیکن اس کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں اس سے بچالیا۔ جب آنحضرت ﷺ کو یہ بات پہنچی تو آپ نے فرمایا بیشک میری امت میں ایسے ایسے لوگ بھی ہیں جن کے دلوں میں ایمان پہاڑوں سے بھی زیادہ مضبوط اور ثابت ہے۔ (ابن ابی حاتم) اس روایت کی دوسری سند میں ہے کہ کسی ایک صحابہ رضوان اللہ علیہم نے یہ فرمایا تھا سدی کا قول ہے کہ ایک یہودی نے حضرت ثابت بن قیس بن شماس ؓ سے فخریہ کہا کہ اللہ تعالیٰ نے ہم پر خود ہمارا قتل بھی فرض کیا تو بھی ہم کر گزریں گے اس پر حضرت ثابت ؓ نے فرمایا واللہ اگر ہم پر یہ فرض ہوتا تو ہم بھی کر گزرتے اس پر یہ آیت اتری اور روایت میں ہے کہ جب یہ آیت اتری تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا اگر یہ حکم ہوتا تو اس کے بجا لانے والوں میں ایک ابن ام عبد ؓ بھی ہوتے ہیں (ابن ابی حاتم) دوسری روایت میں ہے کہ آپ نے اس آیت کو پڑھ کر حضرت عبداللہ بن رواحہ ؓ کی طرف ہاتھ سے اشارہ کر کے فرمایا کہ یہ بھی اس پر عمل کرنے والوں میں سے ایک ہیں۔ ارشاد الٰہی ہے کہ اگر یہ لوگ ہمارے احکام بجا لاتے اور ہماری منع کردہ چیزوں اور کاموں سے رک جاتے تو یہ ان کے حق میں اس سے بہتر ہوتا کہ اور دنیا اور آخرت کی بہتر راہ کی رہنمائی کرتے پھر فرماتا ہے اور جو شخص اللہ اور رسول ﷺ کے احکام پر عمل کرے اور منع کردہ کاموں سے باز رہے اسے اللہ تعالیٰ عزت کے گھر میں لے جائے گا نبیوں کا رفیق بنائے گا اور صدیقوں کو جو مرتبے میں نبیوں کے بعد ہیں ان کا مصاحب بنائے گا شہیدوں مومنوں اور صالحین جن کا ظاہر باطن آراستہ ہے ان کا ہم جنس بنائے گا حیال تو کرو یہ کیسے پاکیزہ اور بہترین رفیق ہے صحیح بخاری شریف میں ہے حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں میں نے نبی ﷺ سے سنا تھا کہ ہر نبی کو اس کے مرض کے زمانے میں دنیا میں رہنے اور آخرت میں جانے کا اختیار دیا جاتا ہے جب حضور ﷺ بیمار ہوئے تو شدت نقاہت سے اٹھ نہیں سکتے تھے آواز بیٹھ گئی تھی لیکن میں نے سنا کہ آپ فرما رہے ہیں ان کا ساتھ جن پر اللہ نے انعام کیا جو نبی ہیں، صدیق ہیں، شہید ہیں، اور نیکو کار ہیں، یہ سن کر مجھے معلوم ہوگیا کہ اب آپ کو اختیار دیا گیا ہے۔ یہی مطلب ہے جو دوسری حدیث میں آپ کے یہ الفاظ وارد ہوئے ہیں کہ اے اللہ میں بلند وبالا رفیق کی رفاقت کا طالب ہوں یہ کلمہ آپ نے تین مرتبہ اپنی زبان مبارک سے نکالا پھر فوت ہوگئے علیہ افضل الصلوۃ والتسلیم۔ اس آیت کے شان نزول کا بیان ابن جریر میں ہے کہ ایک انصاری حضور ﷺ کے پاس آئے آپ نے دیکھا کہ سخت مغموم ہیں سبب دریافت کیا تو جواب ملا کہ حضور ﷺ یہاں تو صبح شام ہم لوگ آپ کی خدمت میں آبیٹھے ہیں دیدار بھی ہوجاتا ہے اور دو گھڑی صحبت بھی میسر ہوجاتی ہے لیکن کل قیامت کے دن تو آپ نبیوں کی اعلیٰ مجلس میں ہوں گے ہم تو آپ تک پہنچ بھی نہ سکیں گے حضور ﷺ نے کچھ جواب نہ دیا اس پر حضور جبرائیل یہ آیت لائے آنحضرت ﷺ نے آدمی بھیج کر انہیں یہ خوشخبری سنا دی۔ یہی اثر مرسل سند بھی مروی ہے جو سند بہت ہی اچھی ہے، حضرت ربیع ؒ فرماتے ہیں صحابہ رسول اللہ ﷺ نے کہا کہ یہ ظاہر ہے کہ حضور ﷺ کا درجہ آپ پر ایمان لانے والوں سے یقینا بہت ہی بڑا ہے پس جب کہ جنت میں یہ سب جمع ہوں گے تو آپس میں ایک دوسرے کو کیسے دیکھیں گے اور کیسے ملیں گے ؟ پس یہ آیت اتری اور حضور ﷺ نے فرمایا اوپر کے درجہ والے نیچے والوں کے پاس اتر آئیں گے اور پربہار باغوں میں سب جمع ہوں گے اور اللہ کے احسانات کا ذکر اور اس کی تعریفیں کریں گے اور جو چاہیں گے پائیں گے ناز و نعم سے ہر وقت رہیں گے۔ ابن مردویہ میں ہے ایک شخص حضور ﷺ کے پاس آئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ میں آپ کو اپنی جان سے اپنے اہل عیال سے اور اپنے بچوں سے بھی زیادہ محبوب رکھتا ہوں۔ میں گھر میں ہوتا ہوں لیکن شوق زیارت مجھے بیقرار کردیتا ہے صبر نہیں ہوسکتا دوڑتا بھاگتا آتا ہوں اور دیدار کر کے چلا جاتا ہوں لیکن جب مجھے آپ کی اور اپنی موت یاد آتی ہے اور اس کا یقین ہے کہ آپ جنت میں نبیوں کے سب سے بڑے اونچے درجے میں ہوں گے تو ڈر لگتا ہے کہ پھر میں حضور ﷺ کے دیدار سے محروم ہوجاؤں گا، آپ نے تو کوئی جواب نہیں دیا لیکن یہ آیت نازل ہوئی۔ اس روایت کے اور بھی طریقے ہیں، صحیح مسلم شریف میں ہے ربیعہ بن کعب اسلمی ؓ فرماتے ہیں میں رات کو حضور ﷺ کی خدمت میں رہتا اور پانی وغیرہ لا دیا کرتا تھا ایک بار آپ نے مجھ سے فرمایا کچھ مانگ لے میں نے کہا جنت میں میں آپ کی رفاقت کا طالب ہوں فرمایا اس کے سوا اور کچھ ؟ میں نے کہا وہ بھی یہی فرمایا میری رفاقت کے لئے میری مدد کر بکثرت سجدے کیا کر، مسند احمد میں ہے ایک شخص نے آنحضرت ﷺ سے کہا میں اللہ کے لا شریک ہونے کی اور آپ کے رسول ہونے کی گواہی دیتا ہوں اور رمضان کے روزے رکھتا ہوں تو آپ نے فرمایا جو مرتے دم تک اسی پر رہے گا وہ قیامت کے دن نبیوں صدیقوں اور شہیدوں کے ساتھ اس طرح ہوگا پھر آپ نے اپنی دو انگلیاں اٹھا کر اشارہ کر کے بتایا۔ لیکن یہ شرط ہے کہ ماں باپ کا نافرمان نہ ہو مسند احمد میں ہے جس نے اللہ کی راہ میں ایک ہزار آیتیں پڑھیں وہ انشاء اللہ قیامت کے دن نبیوں کے صدیقوں شہیدوں اور صالحوں کے ساتھ لکھا جائے گا، ترمذی میں ہے سچا امانت دار، تاجر نبیوں، صدیقوں اور شہیدوں کے ساتھ ہوگا، ان سب سے زیادہ زبردست بشارت اس حدیث میں ہے جو صحاج اور مسانید وغیرہ میں صاحبہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ اجمعین کی ایک زبردست جماعت ہے بہ تواتر مروی ہے کہ نبی ﷺ سے اس شخص کے بارے میں دریافت کیا گیا جو ایک قوم سے محبت رکھتا ہے لیکن اس سے ملا نہیں تو آپ نے فرمایا (حدیث المرء مع من احب) ہر انسان اس کے ساتھ ہوگا جس سے وہ محبت رکھتا تھا حضرت انس ؓ فرماتے ہیں مسلمان جس قدر اس حدیث سے خوش ہوئے اتنا کسی اور چیز سے خوش نہیں ہوئی، حضرت انس ؓ فرماتے ہیں واللہ میری محبت تو آنحضرت ﷺ سے ہے حضرت ابوبکر ؓ سے ہے اور حضرت عمر ؓ سے ہے تو مجھے امید ہے کہ اللہ مجھے بھی انہی کے ساتھ اٹھائے گا گو میرے اعمال ان جیسے نہیں (یا اللہ تو ہمارے دل بھی اپنے نبی ﷺ اور ان کے چاہنے والوں کی محبت سے بھر دے اور ہمارا حشر بھی انہی کے ساتھ کر دے آمین) رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جنتی لوگ اپنے سے بلند درجہ والے جنتیوں کو ان کے بالا خانوں میں اس طرح دیکھیں گے جیسے تم چمکتے ستارے کو مشرق یا مغرب میں دیکھتے ہو ان میں بہت کچھ فاصلہ ہوگا صحابہ ؓ نے کہا یہ منزلیں تو انبیاء کرام کے لئے ہی مخصوص ہوں گی ؟ کیوں اور وہاں تک کیسے پہنچ سکتا ہے ؟ آپ نے فرمایا کیوں نہیں اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ان منزلوں تک وہ بھی پہنچیں گے جو اللہ پر ایمان لائے رسولوں کو سچا جانا اور مانا (بخاری مسلم) ایک حبشی حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتا ہے آپ فرماتے ہیں جو پوچھنا ہو پوچھو اور سمجھو وہ کہتا ہے یا رسول اللہ ﷺ آپ کو صورت میں رنگ میں نبوت میں اللہ عزوجل نے ہم پر فضیلت دے رکھی ہے اگر میں بھی اس چیز پر ایمان لاؤں جس پر آپ ایمان لائے ہیں اور ان احکام کو بجا لاؤں جنہیں آپ بجا لا رہے ہیں تو کیا جنت میں آپ کا ساتھ ملے گا ؟ حضور ﷺ نے فرمایا ہاں اس اللہ تعالیٰ کی قسم جس کے ہاتھ جگمگاتا ہوا نظر آئے گا۔ لا الہ الا اللہ کہنے والے سے اللہ کا وعدہ ہے اور سبحان اللہ وبحمدہ کہنے والے کے لئے ایک لاکھ چوبیس ہزار نیکیاں لکھی جاتی ہیں اس پر ایک اور صاحب نے کہا حضور ﷺ جب یہ حقائق ہیں تو پھر ہم کیسے ہلاک ہوسکتے ہیں ؟ تو آپ نے فرمایا ایک انسان قیامت کے دن اس قدر اعمال لے کر آئے گا اگر کسی پہاڑ پر رکھے جائیں تو وہ بھی بوجھل ہوئے لیکن ایک ہی نعمت جو ؟ ؟ ؟ کے مقابل کھڑی ہوگی جو صرف اس کی نعمتوں کا شکریہ ادا کرنے کا نتیجہ ہوگی اس کے سامنے مذکورہ اعمال کم نظر آئیں گے محض اس کا شکریہ میں ہی یہ اعمال کم نظر آئیں گے ہاں یہ اور بات ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کاملہ سے اسے ڈھانک لے اور جنت دے دے اور یہ آیتیں اتریں (هَلْ اَتٰى عَلَي الْاِنْسَانِ حِيْنٌ مِّنَ الدَّهْرِ لَمْ يَكُنْ شَيْـــًٔا مَّذْكُوْرًا سے وَاِذَا رَاَيْتَ ثَمَّ رَاَيْتَ نَعِيْمًا وَّمُلْكًا كَبِيْرًا) 76۔ الدہر :1 تا 20) تک۔ تو حبشی صحابی ؓ کہنے لگایا رسول اللہ ﷺ کیا جنت میں جن جن چیزوں کو آپ کی آنکھیں دیکھیں گی میری آنکھیں بھی دیکھ سکیں گی ؟ آپ نے فرمایا ہاں اس پر وہ حبشی فرط شوق میں روئے اور اس قدر روئے کہ اسی حالت میں فوت ہوگئے ؓ وارضاہ حضرت ابن عمر ؓ فرماتے ہیں میں نے دیکھا کہ ان کی نعش مبارک کو خود رسول اللہ ﷺ قبر میں اتار رہے تھے یہ روایت غریب ہے اور اس میں اصولی خامیاں بھی ہیں اس کی سند بھی صغیف ہے۔ ارشاد الٰہی ہے یہ خاص اللہ کی عنایت اور اس کا فضل ہے اس کی رحمت سے ہی یہ اس کے قابل ہوئے نہ کہ اپنے اعمال سے، اللہ خوب جاننے والا ہے اس بخوبی معلوم ہے کہ مستحق معلوم ہدایت و توفیق کون ہے ؟

آیت 66 - سورہ نساء: (ولو أنا كتبنا عليهم أن اقتلوا أنفسكم أو اخرجوا من دياركم ما فعلوه إلا قليل منهم ۖ ولو أنهم فعلوا...) - اردو