اس صفحہ میں سورہ An-Nisaa کی تمام آیات کے علاوہ فی ظلال القرآن (سید ابراہیم قطب) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ النساء کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔
وَلَوْ أَنَّا كَتَبْنَا عَلَيْهِمْ أَنِ ٱقْتُلُوٓا۟ أَنفُسَكُمْ أَوِ ٱخْرُجُوا۟ مِن دِيَٰرِكُم مَّا فَعَلُوهُ إِلَّا قَلِيلٌ مِّنْهُمْ ۖ وَلَوْ أَنَّهُمْ فَعَلُوا۟ مَا يُوعَظُونَ بِهِۦ لَكَانَ خَيْرًا لَّهُمْ وَأَشَدَّ تَثْبِيتًا
وَإِذًا لَّءَاتَيْنَٰهُم مِّن لَّدُنَّآ أَجْرًا عَظِيمًا
وَلَهَدَيْنَٰهُمْ صِرَٰطًا مُّسْتَقِيمًا
وَمَن يُطِعِ ٱللَّهَ وَٱلرَّسُولَ فَأُو۟لَٰٓئِكَ مَعَ ٱلَّذِينَ أَنْعَمَ ٱللَّهُ عَلَيْهِم مِّنَ ٱلنَّبِيِّۦنَ وَٱلصِّدِّيقِينَ وَٱلشُّهَدَآءِ وَٱلصَّٰلِحِينَ ۚ وَحَسُنَ أُو۟لَٰٓئِكَ رَفِيقًا
ذَٰلِكَ ٱلْفَضْلُ مِنَ ٱللَّهِ ۚ وَكَفَىٰ بِٱللَّهِ عَلِيمًا
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ خُذُوا۟ حِذْرَكُمْ فَٱنفِرُوا۟ ثُبَاتٍ أَوِ ٱنفِرُوا۟ جَمِيعًا
وَإِنَّ مِنكُمْ لَمَن لَّيُبَطِّئَنَّ فَإِنْ أَصَٰبَتْكُم مُّصِيبَةٌ قَالَ قَدْ أَنْعَمَ ٱللَّهُ عَلَىَّ إِذْ لَمْ أَكُن مَّعَهُمْ شَهِيدًا
وَلَئِنْ أَصَٰبَكُمْ فَضْلٌ مِّنَ ٱللَّهِ لَيَقُولَنَّ كَأَن لَّمْ تَكُنۢ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُۥ مَوَدَّةٌ يَٰلَيْتَنِى كُنتُ مَعَهُمْ فَأَفُوزَ فَوْزًا عَظِيمًا
۞ فَلْيُقَٰتِلْ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ ٱلَّذِينَ يَشْرُونَ ٱلْحَيَوٰةَ ٱلدُّنْيَا بِٱلْءَاخِرَةِ ۚ وَمَن يُقَٰتِلْ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ فَيُقْتَلْ أَوْ يَغْلِبْ فَسَوْفَ نُؤْتِيهِ أَجْرًا عَظِيمًا
(آیت) ” نمبر 66 تا 68۔
اسلام ایک ایسا نظام زندگی ہے جس پر ہر وہ شخص عمل کرسکتا ہے جو مستقیم اور سلیم الفطرت ہو ‘ اس پر عمل کرنے کے لئے کسی خارق العادت عزم اور کسی بڑے اولو العزم شخص کی ضرورت نہیں ہے ۔ ایسے لوگ تو دنیا میں چند ایک ہوتے ہیں اور اسلامی نظام حیات ان چند لوگوں کے لئے نہیں بھیجا گیا ۔ یہ تمام دنیا کے انسانوں کے لئے بھیجا گیا ہے ‘ اور دنیا میں ہر قسم کے لوگ پائے جاتے ہیں جو مختلف درجات کے ہوتے ہیں ۔ بعض کی طاقتیں اور صلاحتیں زیادہ ہوتی ہیں اور بعض کی کم ۔ یہ دین لوگوں کی اوسط تعداد کو مد نظر رکھ کا بھیجا گیا ہے ‘ جو احکام پر عمل کرسکتے ہیں اور معاصی سے رک سکتے ہیں۔
قتل نفس اور جلاوطن دو ایسے احکام ہیں جو نہایت ہی شاق ہیں ۔ اگر اللہ تعالیٰ لوگوں پر یہ چیزیں بطور احکام وفرائض عائد کردیتا تو ان احکام پر لوگوں کے لئے عمل کرنا مشکل ہوجاتا ۔ لیکن اللہ نے یہ احکام اس لئے عائد نہیں کئے گئے کہ اللہ تعالیٰ لوگوں کو شکست دینا نہیں چاہتا تھا اور یہ بھی نہ چاہتا تھا کہ لوگ ان احکام سے انکار کردیں بلکہ مقصد یہ تھا کہ سب لوگ احکام الہی پر عمل کریں ۔ احکام ایسے ہوں جو سب کے دائرہ قدرت میں ہوں ۔ قافلہ ایمان کے اندر تمام اوسط درجے کے لوگ بھی شامل ہوں اور یہ کہ اسلامی سوسائٹی میں مختلف طبقات کے لوگ ‘ مختلف ہمتوں کے لوگ ‘ مختلف استعدادوں اور صلاحیتوں کے لوگ شامل ہوں ۔ یہ سب لوگ مل کر اسلامی سوسائٹی کو ترقی دیں ۔ اور ایک ایسے کثیر التعداد قافلے کی شکل میں جو طویل و عریض ہو ۔
ابن جریج ‘ اسحاق ابو الازھر ‘ اسماعیل ‘ ابو اسحاق کی سند سے ابو الحاق کہتے ہیں ۔ جب یہ آیت نازل ہوئی ۔ (آیت) ” ولو انا کتبنا علیھم ان اقتلوانفسکم (4 : 66) تو ایک شخص نے کہا اگر اللہ حکم دیتا تو ہم ضرور ایسا کرتے لیکن اللہ کی بڑی مہربانی ہے کہ اس نے ہمیں معاف کردیا ۔ یہ بات حضرت نبی اکرم ﷺ تک پہنچی تو آپ ﷺ نے فرمایا : ” میری امت میں ایسے لوگ ہیں کہ ان کے دل میں ایمان ان پہاڑوں سے بھی زیادہ بیٹھا ہوا ہے جو نہایت ہی اونچے ہیں ۔ “
ایک دوسری روایت ابن ابو حاتم نے حضرت مصعب ؓ سے روایت کی ہے ۔ انہوں نے اپنے چچا عامر بن عبید ابن زبیر ؓ سے روایت کی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی ۔
(آیت) ” ولو انا کتبنا علیھم ان اقتلوانفسکم او اخرجوا من دیارکم ما فعلوہ الا قلیل منھم (4 : 66)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” اگر یہ حکم نازل ہوتا تو ابن ام عبدان میں سے ہوتا ۔ “ انہوں نے ایک روایت شریح ابن عبید سے نقل کی ہے ۔ فرماتے ہیں ‘ جب حضور ﷺ نے یہ آیت پڑھی ۔ (آیت) ” ولو انا کتبنا علیھم ان اقتلوانفسکم (4 : 66) تو رسول اللہ ﷺ نے عبداللہ ابن رواحہ ؓ کی طرف اشارہ فرمایا : ” اگر اللہ تعالیٰ یہ فرائض عائد کرتا تو یہ ان قلیل لوگوں میں سے ہوتے ۔ “
رسول اللہ ﷺ اپنے ساتھیوں کو نہایت ہی گہرائی سے اور نہایت ہی اچھی طرح جانتے تھے ۔ ان کے خصائص اور صلاحیتیں آپ ﷺ کی نظر میں اس قدر درست تھیں کہ وہ خود بھی اپنے بارے میں اس قدر نہ جانتے تھے ۔ حضور اکرم ﷺ کی سیرت میں ایسے بیشمار واقعات ہیں جن سے حضور اکرم ﷺ کی یہ صلاحیت اچھی طرح معلوم ہوتی ہے کہ آپ اپنے ساتھیوں کے بارے میں گہری معلومات رکھتے تھے ۔ نیز حضور کو ان قبائل کی صلاحیتوں کا بھی علم تھا جن سے آپ برسر پیکار تھے ۔ آپ ایک بصیرت افروز قائد کی طرح اپنے ماحول سے اچھی طرح واقف تھے اور بعض اوقات یہ معلومات نہایت ہی معجزانہ ہوتی تھیں ۔ کیونکہ یہ لدنی علم پر مبنی تھیں ۔
اس جگہ ہمارا یہ موضوع نہیں ہے ‘ یہاں ہم جو کہنا چاہتے ہیں وہ یہ ہے کہ حضور اکرم ﷺ کو معلوم تھا کہ آپ کے ساتھیوں میں اور آپ کی امت میں ایسے لوگ ہوں گے جو ناقابل برداشت مشکلات کو برداشت کریں گے ۔ اگر یہ مشکلات ان پر فرض کردی جائیں لیکن آپ کو یہ بھی معلوم تھا کہ آپ صرف ان چند ممتاز لوگوں کی طرف رسول بنا کر نہیں بھیجے گئے تھے ۔ اللہ تعالیٰ کو اپنے پیدا کئے ہوئے انسان کی فطرت کے بارے میں اچھی طرح علم تھا ‘ اس کی محدود طاقت کا بھی اسے علم تھا ‘ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس دین کے احکام میں وہی کچھ فرض کیا جس پر سب لوگ عمل کرسکتے تھے ‘ اس لئے کہ یہ دین سب کے لئے آیا تھا ‘ بشرطیکہ کسی کے اندر عزم ہو ‘ اس کی فطرت معتدل ہو ‘ اور اس کے اندر اطاعت کا داعیہ ہو اور وہ اس دین کو مذاق اور غیر ضروری نہ سمجھتا ہو ۔
اس حقیقت کا ذہن نشین کرنا بہت بڑی اہمیت کا حامل ہے ۔ خصوصا ان تخریبی تحریکات کے حوالے سے جن کی دعوت یہ ہے کہ انسان مرتبہ حیوانیت تک اتر آئے اور وہ نفسانیت کے کیچڑ میں کیڑے کی طرح لت پت ہو ۔ اس کے لئے یہ لوگ دلیل یہ دیتے ہیں کہ یہی انسان کی حقیقی صورت حالات ہے اور یہی اس کی طبیعت ‘ فطرت اور اس کی طاقت ہے اور یہ کہ دین تو اس مقام کی طرف دعوت دیتا ہے جو ایک مثالی مقام ہے ‘ جس کا اس کرہ ارض پر حقیقت کا روپ اختیار کرنا نہایت ہی مشکل ہے ۔ اگر کوئی ایک فرد دین کے فرائض پر عمل پیرا ہو بھی جائے تو سو عمل پیرا نہیں ہو سکتے ۔
یہ نہایت ہی جھوٹا دعوی ہے ۔ یہفریب پر مبنی ہے ۔ یہ جہالت پر مبنی ہے ۔ اس لئے کہ یہ مدعی انسان کو اس طرح نہیں سمجھ سکتا جس طرح اس کو خالق رب العالمین سمجھتا ہے ۔ جس نے اس کے لئے دینی فرائض مقرر کئے ۔ وہ ذات خالق یہ جانتی ہے کہ یہ احکام اس کے دائرہ خدمت میں ہیں ۔ اس لئے کہ دین چند ممتاز لوگوں کے لئے تو نہیں بھیجا گیا ۔
یہ تو صرف عزم کی بات ہے ‘ ایک عام آدمی کی عزیمت ‘ اخلاص نیت اور کام کے آغاز کی بات ہے اور جب عزم نیت اور آغاز ہوجائے تو ۔
(آیت) ” ولو انھم فعلوا ما یوعظون بہ لکان خیرا لھم واشد تثبیتا (66) واذا لاتینھم من لدنا اجرا عظیما (67) ولھدینھم صراطا مستقیما (68)
” حالانکہ جو نصیحت انہیں کی جاتی ہے اگر یہ اس پر عمل کرتے تو یہ ان کے لئے زیادہ بہتری اور زیادہ ثابت قدمی کا موجب ہوتا ۔ اور جب یہ ایسا کرتے تو ہم انہیں اپنی طرف سے بہت بڑا اجر دیتے ۔ اور انہیں سیدھا راستہ دکھا دیتے ۔ “
صرف کام کے آغاز ہی سے اللہ کی طرف سے امداد شروع ہوجاتی ہے اور اس راہ پر گامزن ہونے لئے ثابت قدمی نصیب ہوتی ہے جس کے بعد اجر عظیم نصیب ہوتا ہے ۔ اس کے بعد صحیح راستے کی طرف راہنمائی نصیب ہوتی ہے ۔ (صدق اللہ العظیم) کیا اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کو دھوکہ دے رہے ہیں ؟ کیا وہ ان سے وہ وعدہ کر رہے ہیں جو پورا نہ ہو ؟ بلکہ اللہ تو ان سے بہت ہی سچی بات فرماتے ہیں ۔ (ومن اصدق من اللہ حدیثا) ” (اللہ سے زیادہ سچا اور کون ہے)
اس کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی نوٹ کرنے کے قابل ہے کہ اس دین میں آسانی کا مطلب یہ نہیں ہے کہ لوگوں کو چھوٹ دے دی جائے ۔ یہ دین ایسا نہیں ہے کہ اس میں ہر طرف سے چھوٹ دی جاتی رہے اور پھر بھی وہ نظام حیات ہو ۔ اس میں عزیمت بھی ہے اور رخصت بھی ہے ۔ عزیمت تو اصل دین ہے اور رخصت بعض عارضی حالات کی وجہ سے ہے ۔ ہمارے بعض مخلص لوگ جو اس دین کی طرف بلاتے ہیں وہ ان کے سامنے رخصتیں پیش کرتے ہیں ۔ وہ ایک ایک رخصت تلاش کرتے اور اسے لوگوں کے سامنے رکھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ ہے دین اور پھر وہ لوگوں کو کہتے ہیں دیکھو اس دین میں یہ یہ سہولتیں ہیں ۔ بعض لوگ شیطان کی خواہشات یا عوام الناس کی خواہشات پوری کرنا چاہتے ہیں ‘ وہ ایک سوراخ تلاش کرتے ہیں جہاں سے نکلا جاسکے اور پھر وہ کہتے ہیں کہ یہ ہے یدن ۔
یہ دین درحقیقت نہ رخصتوں کا نام ہے اور نہ ہی عزیمتوں کا نام ہے ۔ اس میں مجموعی طور پر دونوں چیزیں موجود ہیں اور یہ دین ایسا ہے کہ اگر ایک عام انسان اس پر عمل کے لئے عزم کرلے تو وہ اس پر عمل کرسکتا ہے ۔ وہ اپنی حدود بشریت کے اندر رہتے ہوئے اس کے اندر ذاتی کمال حاصل کرسکتا ہے ۔ جیسے ایک ہی باغ میں وہ انگور ‘ شہتوت ‘ انجیر خربوزہ ‘ تربوز اور دوسرے پھل پیدا ہوتے ہیں اور سب کے ذائقے جدا ہوتے ہیں کسی کے بارے میں بھی یہ نہیں کہا جاسکتا کہ وہ پختہ نہیں ہے ۔ بشرطیکہ ہو پک گیا ہو ‘ اگرچہ ایک کا ذائقہ دوسرے سے کم درجے کا ہو۔
اس دین کے باغ میں ساگ ‘ ترکاری اور کھیرے ککڑی پیدا ہوتے ہیں ۔ کینو اور انار پیدا ہوتے ہیں ۔ سیب اور اخروٹ بھی پیدا ہوتے ہیں۔ انگور اور انجیر پیدا ہوتے ہیں اور سب کے سب پکتے ہیں ۔ سب کے ذائقے مختلف ہوتے ہیں اور سب پختہ ہوتے ہیں۔ اپنے اپنے درجے میں کمال کو پہنچ جاتے ہیں ۔ دنیا اللہ کا کھیت ہے ۔ اس میں انسان اللہ کی تربیت میں اللہ کی نگرانی میں سہولت کے ساتھ آگے بڑھتے رہتے ہیں۔
اب آخر میں ‘ اس سبق کے خاتمے پر دی جاتی ہے ‘ دلوں کے اندر جوش پیدا کیا جاتا ہے اور لوگوں کو محبوب مال ومتاع کی طرف متوجہ کیا جاتا ہے ۔ یہ دولت نبیوں ‘ صدیقین ‘ صالحین اور شہداء کے ساتھ ہم نشیبی کی متاع ہے ۔
(آیت) ” نمبر 69۔ 70 :
یہ ایک ایسا سچ ہے جس سے تمام قلبی احساسات جاگ اٹھتے ہیں بشرطیکہ کسی دل میں بھلائی کا کوئی ذرہ موجود ہو ‘ بشرطیکہ نیکی کا کوئی بیج موجود ہو بشرطیکہ اس میں کسی باعزت مقام اور اللہ کے جوار رحمت میں داخل ہونے اور اللہ کی شان کریمی کی تلاش کا کوئی داعیہ ہو ۔ یہ مجلس ایسے ہی اولوالعزم اور بلندیوں کے متلاشیوں کے لئے ہے ۔ یہ اللہ کا فضل ہے اور اس فضل وکرم کے مقام تک کوئی شخص صرف اپنی اطاعت شعاری اور اپنے عمل کے ذریعے نہیں پہنچ سکتا ۔ بلکہ یہ تو صرف اللہ کا وسیع اور عمیق اور بھر پور فضل وکرم ہوتا ہے اور اس کا عمومی فیضان ہوتا ہے اور جس کی قسمت ہو اسے ڈھانپ لیتا ہے ۔
یہاں مناسب ہے کہ ہم چند لمحے نبی ﷺ کے صحابہ کی محفل میں گزاریں ۔ یہ لوگ دنیا وآخرت میں دونوں میں حضور ﷺ کی محفل کے مشتاق تھے ۔ ان حضرات میں سے بعض تو ایسے تھے کہ وہ آپ کی جدائی کے تصور ہی سے پریشان ہوجاتے تھے ۔ حالانکہ آپ ﷺ اس وقت ان کے درمیان موجود تھے ۔ اسی لئے یہ آیات نازل ہوئیں ‘ جس سے ان کی محبت تروتازہ ہوگئی اور ان کا پاکیزہ جذبہ جوش میں آگیا ۔ اور ان کی پاک و شفاف محبت اور پاک ہوگئی ۔
ابن جریر نے حضرت سعید ابن جبیر سے روایت کی ہے ۔ انصار میں سے ایک شخص آیا جو بہت ہی پریشان تھا ۔ حضور ﷺ نے فرمایا ‘ ” اے فلاں تم پریشان کیوں ہو ؟ اس نے جواب دیا اللہ کے نبی میں ایک معاملے میں سوچ رہا تھا ۔ آپ نے دریافت کیا کہ کیا تھا وہ ؟ اس نے کہا وہ یہ تھا کہ ہم صبح وشام آپ سے آکر ملتے ہیں آپ کے چہرے کی طرف دیکھتے ہیں اور آپ کی مجلس میں بیٹھتے ہیں ۔ کل آپ نبیوں کے ہاں چلے جائیں گے تو ہم آپ سے ملاقات نہ کرسکیں گے ۔ حضرت نبی اکرم ﷺ نے اس شخص کے سوال کا کوئی جواب نہ دیا ۔ اتنے میں حضرت جبرائیل (علیہ السلام) یہ آیت لے کر آئے ۔
(آیت) ” ومن یطع اللہ والرسول فاولئک مع الذین انعم اللہ علیھم من النبین “۔ (4 : 69) نبی ﷺ نے اس شخص کے لئے پیغام بھیجا اور اسے خوشخبری دی ۔ حضرت ابوبکر ؓ ابن مردیہ نے حضرت عائشہ ؓ سے بھی اس روایت کو نقل کیا ہے کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا حضور آپ میرے لئے میری جان سے زیادہ محبوب ہیں ‘ آپ میرے لئے میرے اہل خاندان سے زیادہ محبوب ہیں اور آپ میرے لئے میری بیٹیوں سے زیاہد محبوب ہیں اور جب میں گھر پہ ہوتا ہوں تو میں آپ کو یاد کرتا ہوں اور اٹھ کر آجاتا ہوں اور آپ کو دیکھ لیتا ہوں ‘ صبر نہیں کرسکتا ۔ جب میں اپنی موت اور آپ کی موت کے بارے میں سوچتا ہوں تو خیال آتا ہے کہ آپ جنت میں داخل ہو کر نبیوں کے گروہ میں داخل ہوجائیں گے اور میں اگر جنت میں چلا بھی جاؤں تو شاید آپ کو دیکھ نہ سکوں۔ اس شخص کے ان خدشات کا آپ نے کوئی جواب نہ دیا یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی
(آیت) ” ومن یطع اللہ والرسول فاولئک مع الذین انعم اللہ علیھم من النبین والصدیقین والشھدآء والصلحین وحسن اولئک رفیقا “۔ (4 : 69)
” جو لوگ اللہ اور رسول کی اطاعت کریں گے وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے انعام فرمایا ہے یعنی انبیاء اور صدیقین اور شہداء اور صالحین اور اچھے ہیں یہ رفیق جو کسی کو میسر آئیں ۔ “
صحیح مسلم نے ربیعہ کی حدیث نقل کی ہے ‘ فرماتے ہیں میں ایک رات نبی کریم ﷺ کے پاس تھا ۔ میں نے آپ کو وضو کے لئے پانی اور دوسری ضروریات فراہم کیں تو حضور ﷺ نے فرمایا : مانگو جو مانگتے ہو تو میں نے کہا کہ اے رسول خدا ﷺ میں تو جنت میں آپ کی رفاقت چاہتا ہوں ۔ آپ نے فرمایا اس کے سوا کچھ اور ؟ تو اس نے کہا بس صرف یہی ۔ تو حضور ﷺ نے فرمایا آپ کثرت سجود کے ذریعے اپنے نفس کے خلاف میری معاونت کریں ۔
بخاری شریف میں متعدد طریقوں سے یہ روایت آئی ہے کہ ایک شخص ایک گروہ کو پسند کرتا ہے مگر ان سے ملاقات نہیں ہوتی تو اس کا کیا حال ہوگا ؟ آپ نے فرمایا آدمی انہیں لوگوں کے ساتھ ہوگا جن کو وہ محبوب سمجھتا ہے ۔ یہی بات تھی ‘ جس میں ان کے دل و دماغ ہر وقت مشغول تھے ۔ محبت رسول اور آخرت میں صحبت رسول ۔۔۔۔۔۔۔۔ انہوں نے دنیا میں بھی صحبت رسول کا مزہ چکھا ہوا تھا ۔ اور آج اس کا مزہ صرف وہی دل چکھ سکتا ہے جس کے اندر محبت رسول موجود ہو اور ہم لوگوں کے لئے اس آخری حدیث میں روشنی کی کرن ‘ اطمینان کا سامان اور امید کی شمع نظر آتی ہے ۔
درس 36 ایک نظر میں :
میں اس بات کو ترجیح دیتا ہوں کہ اس سبق میں آیات کا جو مجموعہ دیا گیا ہے ‘ وہ مدینہ کے ابتدائی دور میں غزوہ احد کے بعد اور غزوہ خندق سے پہلے نازل ہوا ہوگا کیونکہ اس میں اسلامی سوسائٹی کی جو تصویر کشی کی گئی ہے ‘ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ابھی تک پختگی کے مقام تک نہ پہنچی تھی ۔ اس سوسائٹی میں مختلف قسم کے گروہ موجود تھے ‘ جن میں بعض ناپختہ تھے اور بعض ایسے لوگ بھی موجود تھے جو ایمان ہی نہ لائے تھے اور محض منافقت کر رہے تھے ۔ ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی سوسائٹی کو اپنی تعلیم و تربیت کی مزید ضرورت تھی اور اس سلسلے میں عظیم جدوجہد اور گہری توجہ کی ضرورت تھی ۔ اسے اس عظیم مقصد کے لئے تیار کرنے اور وہ بوجھ اٹھانے کا اہل بنانے کی ضرورت تھی جو اسلام نے اس کے کاندھوں پر ڈال دیا گیا تھا ‘ نیز اسلامی انقلاب کے لئے جس سطح کے لوگوں کی ضرورت تھی ‘ اس سطح تک اس سوسائٹی کو بلند کرنا ضروری تھا ۔ چاہے یہ تربیت اور اصلاح عقائد و تصورات کے میدان میں ہو ‘ یا مخالف کیمپوں کے ساتھ مقابلہ کرنے کے میدان میں ہو۔
اور یہ جو ہم کہہ رہے ہیں کہ بعض لوگ ناپختہ تھے ‘ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس سوسائٹی میں نہایت ہی بلند معیار کے لوگوں کی کمی تھی ۔ یہاں ہم اس وقت کی اسلامی سوسائٹی کو مجموعی طور پر لے رہے ہیں ۔ اس سوسائٹی میں مختلف عناصر موجود تھے ‘ لیکن سب ایک جیسے نہیں تھے ۔ لہذا اس بات کی ضرورت تھی کہ اس سوسائٹی کے تمام عناصر کو بلند سطح تک لانے کی سعی کی جائے تاکہ اس کے افراد کے درمیان مکمل ہم آہنگی پیدا ہو ۔ اس بات کا اظہار ان آیات وہدایات سے اچھی طرح ہوتا ہے ۔
اللہ تعالیٰ کی جانب سے نازل کردہ ان ہدایات کے گہرے مطالعے سے ہمیں اس وقت کی مسلم سوسائٹی کا جائزہ لینے کا موقع ملتا ہے اور جماعت مسلمہ کے ایسے خدوخال سامنے آتے ہیں جن میں یہ سوسائٹی ایک انسانی سوسائٹی نظر آتی ہے ۔ اس کا یہ پہلو ہم اکثر اوقات نظر انداز کردیتے ہیں ۔ اس سوسائٹی میں ہمیں اعلیٰ معیار کی تربیت اور قوت بھی نظر آتی ہے اور اس میں بعض کمزوریاں بھی نظر آتی ہیں ۔ یہ بھی نظر آتا ہے کہ قرآن کریم انسانی کمزوریوں ‘ جاہلیت کے باقی ماندہ آثار اور اسلام کے مخالف کیمپ کے ساتھ کس طرح معرکہ آرائی کرتا ہے اور یہ سب کام بیک وقت ہوتا ہے ۔ ہم قرآن کریم کے انداز تربیت کا مطالعہ کرتے ہیں تو قرآن عالم واقعہ میں زندہ انسانوں کے ساتھ معامل کرتا دکھائی دیتا ہے اور یہ بھی نظر آتا ہے کہ تربیت کے میدان میں قرآن کریم نے کس قد کامیاب جدوجہد کرکے ایک ایسی سوسائٹی تخلیق کی جس کو جاہلیت کے معاشرہ سے لیا گیا تھا ‘ جس میں مختلف درجات اور مختلف طبقات کے لوگ موجود تھے اور جس میں مختلف خصوصیات کے لوگ موجود تھے قرآن نے انہیں اس قدر ہم آہنگ ‘ اس قدر بلند ‘ اس قدر متحد بنا دیا جس کا کامل رنگ حضور کے آخری دور میں صاف نظر آتا ہے اور یہ اس قدر بلند اور کامل ومکمل سوسائٹی تھی جس سے آگے جانا انسانوں کے لئے ممکن نہیں ہے ۔
کسی انسانی سوسائٹی کے مطالعے سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ انسانی نفس کے اندر کیا کیا صلاحیتیں ہیں ‘ اور دنیا کی بہترین جماعت اور سوسائٹی میں ان کا ظہور کس شکل میں ہوتا ہے ۔ وہ جماعت جس کی تربیت خود حضور ﷺ نے فرمایا تھی اور یہ تربیت تھی بھی قرآنی منہاج کے مطابق ۔
اس سے ہمیں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم کا منہاج تربیت کیا تھا اور یہ کہ قرآن کریم انسانی نفوس کے ساتھ کیسا برتاؤ کرتا تھا ۔ اس کا رویہ اس کے ساتھ کس قدر پر لطف تھا اور جماعت کے اندر مختلف سطح کے لوگوں کو اس نے کس طرح باہم متحد اور منسلک کردیا تھا ۔ ہم قرآن کریم کا مجاز تربیت دیکھتے ہیں اور ہمیں عالم واقعہ میں انسانی طبیعت کے مطابق یہ تربیتی نظام کام کرتا ہوا نظر آتا ہے ۔
اس سے ایک فائدہ ہمیں یہ بھی حاصل ہوتا ہے کہ ہم اپنے حالات اور دوسری انسانی سوسائٹیوں کے حالات کا مقابلہ اس انسانی جماعت سے کریں جو اللہ نے برپا کی ہے اس کے بعد ان سوسائٹیوں کی انسانی اعتبار سے جو اصل صورت حال تھی اس کا مطالعہ کریں تاکہ اپنی کوتاہیوں کو دیکھ کر دور جدید میں اصلاح حال سے مایوس نہ ہوجائیں اور اپنی اصلاح کے لئے کوشش کرنا ترک نہ کردیں ۔ یہ بھی نہ ہو کہ اسلام کی یہ پہلی سوسائٹی ہمارے تصورات میں کہیں محض خیالی سو سائٹی ہی نہ بن جائے اور ہم کہیں یہ سعی ترک نہ کردیں کہ اس جماعت کے نقش قدم پر ہمیں چلنا ہے اور دور جدید میں ان جدید سوسائٹیوں کو موجودہ گراوٹ سے اونچا کرکے مقام بلند تک پہنچاتا ہے ۔
یہ عبرتوں کا ایک بڑا ذخیرہ ہے ۔ اور ظلال القرآن میں زندگی بسر کرکے جب ہم یہ ذخیرہ اخذ کریں گے تو یہ ہمارے لئے بھلائی کا ایک عظیم سامان ہوگا ۔
اس سبق میں دی گئی آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی صفوں میں اس وقت درج ذیل قسم کے لوگ موجود تھے ۔
(الف) ایسے لوگ بھی تھے جو اپنے آپ کو جہاد میں پیچھے رکھتے تھے اس سے دوسروے لوگوں میں بھی سستی پیدا ہوتی تھی اور اگر وہ جہاد کو نہ جاتے اور گھروں میں صحیح وسالم رہتے تو اسے اپنے لئے کامیابی سمجھتے تھے جبکہ جہاد میں شریک ہونے والے مسلمانوں کو اس جہاد میں مشکلات اور تکالیف پیش آتیں ۔ اسی طرح یہ لوگ اگر جہاد میں نہ جاتے اور مسلمانوں کو مال غنیمت مل جاتا تو ایسے لوگ محسوس کرتے کہ ان کو خسارہ ہوگیا کہ مال غنیمت میں سے ان کو حصہ نہ ملا ۔ اس طرح یہ لوگ آخرت کے مقابلے میں دنیا کو خریدتے تھے ۔
(ب) ان لوگوں میں بعض مہاجرین بھی تھے جب یہ لوگ مکہ میں تھے اور ان پر مظالم ہوتے تھے تو وہ جوش دفاع اور بہادری کے جذبے سے یہ کہتے تھے کہ کاش انہیں جہاد کرنے اور جنگ کرنے کی اجازت ہوتی لیکن وہاں ان کے لئے جنگ کرنا بالکل بند کردیا گیا تھا ۔ اب مدینہ طیبہ میں جب جہاد کا حکم آگیا اور یہ کہا گیا کہ کفار کے ساتھ جنگ شروع کر دو تو یہ لوگ تمنا کرنے لگے کہ کاش ابھی اور مہلت ملتی اور جنگ کا حکم نہ آیا ہوتا ۔
(ج) ان میں ایسے لوگ بھی تھے کہ اگر کوئی بھلائی نصیب ہوتی تو کہتے کہ یہ اللہ کا فضل ہے اور مصیبت آتی تو کہتے کہ یہ مصیبت نبی ﷺ کی ذات کی وجہ سے ہے ۔ یہ بات وہ اس لئے نہ کہتے تھے کہ ان کا خدا تعالیٰ کی ذات پر پختہ ایمان اور بھروسہ تھا بلکہ وہ یہ باتیں اسلامی قیادت پر تنقید کرتے ہوئے کرتے تھے ۔
(د) بعض ایسے لوگ بھی تھے کہ جو حضور ﷺ کے سامنے اپنے آپ کو نہایت مطیع فرمان ظاہر کرتے مگر جب آپ کے پاس سے چلے جاتے تو مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرتے اور اپنے ہم نشینوں کے ساتھ کوئی اور بات کرتے ۔
(ھ) بعض ایسے لوگ تھے جو افواہوں پر کان دھرتے تھے اور اسلامی صفوں میں انہیں پھیلاتے تھے ۔ اس طرح وہ اسلامی محاذ میں بےچینی پیدا کردیتے تھے حالانکہ انہیں چاہئے تھا کہ وہ بات کو ثبوت تک پہنچاتے یا خود اسلامی قیادت کی طرف رجوع کرتے ۔
(ر) بعض لوگ ایسے بھی تھے جن کو اس بارے میں شک تھا کہ آیا ان ہدایات کا مصدر اور منبع اللہ کی ذات ہے یا نہیں ‘ وہ یہ سمجھتے تھے کہ بعض باتیں نبی ﷺ اپنی جانب سے کرتے ہیں ۔
(ز) بعض ایسے تھے جو منافقین کی جانب سے مدافعت کیا کرتے تھے جیسا کہ اگلے سبق کے شروع میں بعض نمونے ہیں۔ ان کی کوشش یہ ہوتی کہ منافقین کے بارے میں جماعت مسلمہ دوگروہوں میں بٹ جائے ۔ اس سے معلوم ہوتا تھا کہ ان کے اسلامی تصور اور تنظیم میں ابھی تک مکمل ہم آہنگی نہ تھی اور یہ لوگ قیادت کے فرائض اور ایسے معاملات میں قیادت کے ساتھ رابطے کی ضرورت کو اچھی طرح نہ سمجھتے تھے ۔
یہ تمام عناصر جو اسلامی صفوں میں موجود تھے یہ منافقین کے گروہ تھے۔ ہو سکتا ہے کہ یہ ایک ہی گروہ سے متعلق ہوں ‘ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ مدینہ کی سوسائٹی میں یہ لوگ منافقین کے کئی گروہوں سے تعلق رکھتے ہوں یا ان لوگوں میں بعض ضعیف الایمان مسلمان بھی ہوں جن کی ایمانی حالت ابھی پختہ نہ ہوئی ہو ۔ ان میں سے کچھ لوگ مہاجریں بھی ہو سکتے ہیں ۔ بہرحال ایسے کئی گروپ اسلامی جماعت کے اندر موجود تھے اور یہ جماعت اس وقت مدینہ کے یہودیوں میں گھری ہوئی تھی جبکہ مکہ میں وہ مشرکین کے نرغے میں تھی اور پورے جزیرۃ العرب میں یہ جماعت متربصین کے نرغے میں تھی جو انتظار کر رہے تھے کہ اس تحریک کا اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔ یہ جماعت مسلسل مسلمانوں کی صفوں کے اندر بےچینی پیدا کر رہی تھی ۔ لہذا اندرونی صفوں میں تربیت وتطہیر کی ضرورت تھی اور لوگوں کو جہاد پر ابھارنے کی ضرورت تھی ۔
ان آیات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم نے یہ داخلی جہاد اور تربیت کس نہج پر کی ۔ قرآن نے مسلمانوں کی صفوں سے مایوسی کو دور کیا اور جماعت کے ہر فرد کو مطمئن کردیا ۔ نہایت ہی گہرائی دقت اور صبر کے ساتھ اور اس تحریک کے قائد حضرت محمد ﷺ نہایت ہی صبر آزما حالات میں یہ تربیت فرما رہے تھے ۔ ذرا اس کے نمونے ملاحظہ فرمائیں ۔
(الف) حکم دیا جاتا ہے کہ ہر وقت محتاط رہو ۔ مجاہدین اور مومنین اکیلے نہ پھریں اور مہمات اور سرایا میں اکھٹے جائیں ۔
یعنی سرایا اور دستوں کی شکل میں یا سب کے سب فوج کی شکل میں نکلیں ۔ اس لئے کہ ان کے اردگرد کے علاقے میں مختلف قسم کی دشمنیاں ہیں اور دشمن گھات میں بیٹھے ہوئے ہیں جن کے اندر منافقین ہیں یا ایسے دشمن ہیں جن کو منافقین پناہ دے رہے ہیں ۔ نیز یہودی بھی پورے جزیرۃ العرب کے دشمنوں کے ساتھ ملے ہوئے ہیں جو موقع کے انتظار میں ہیں۔
(ب) بعض لوگ جو جہاد میں پیچھے رہ جاتے تھے ان کی بھی یہاں ایک قابل نفرت تصویر نظر آتی ہے ۔ ان کی ہمت جواب دے گئی ہے وہ مفاد پرست ہیں اور نہایت ہی متلون مزاج ہیں اور حالات کے ساتھ بہت جلد یہ لوگ بدل جاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے حال پر تعجب ہوتا ہے کہ مکہ میں تو بہت ہی پرجوش تھے مگر اب جبکہ مدینہ میں جہاد فرض ہوگیا ہے تو وہ جزع وفزع کرتے ہیں ۔
(ج) یہاں اللہ کی راہ میں مقاتلین کے لئے اللہ کی جانب سے وعدہ بھی صاف نظر آتا ہے کہ اللہ انہیں اجر عظیم عطا کرے گا اور انہیں دو اچھے انجاموں میں سے ایک ضرور ملے گا ۔ یعنی ” اور جو شخص اللہ کی راہ میں قتال کرتا ہے اور مارا جاتا ہے ‘ یا غالب ہوجاتا ہے تو دونوں صورتوں میں اللہ اسے اجر عظیم دے گا “۔
(د) قرآن کریم مقاصد کی بلندی ‘ اہداف کی پاکیزگی ‘ اور کامرانی کے مقاصد کی نشاندہی بھی کرتا ہے جس کی وجہ سے جہاد و قتال فرض کیا گیا ہے کہ یہ ” اللہ کے راستے میں ’ ضعیف مردوں ‘ عورتوں اور بچوں کی حمایت میں ہے ‘ جو ہر وقت یہ کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہمیں اس گاؤں سے نکال جس کے باشندے ظالم ہیں اور ہمارے لئے اپنی جانب سے کوئی ولی مقرر کر اور اپنی جانب سے ہمارے لئے کوئی مدد گار بنا ۔ “
(ھ) پھر قرآن مجید ان مقاصد کی سچائی کو بھی ریکارڈ پر لاتا ہے اور یہ طے کرتا ہے کہ ان کی پشت پر سند قوی ہے اور ان مقاصد کا برسرباطل ہونا بھی بتاتا ہے جن کے لئے کافر لڑتے ہیں اور ان کی سند بھی ضعیف ہے ۔ ” وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں وہ اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں اور جن لوگوں نے کفر کی راہ اختیار کی ہے وہ طاغوت کی راہ میں لڑتے ہیں ‘ پس تم شیطان کے دوستوں کے ساتھ لڑو ‘ بیشک شیطان کا مکر کمزور ہے ۔ “
ّ (و) ان آیات میں قرآن کریم ان تصورات فاسدہ کا علاج بھی کرتا ہے جن کی وجہ سے دل و دماغ میں فاسد احساسات اور کردار میں فاسد اور ضعیف طرز عمل جنم لیتا ہے ۔ اور یہ کام وہ غلط عقائد کی ۔۔۔۔۔۔۔۔ کے ذریعے کرتا ہے ۔ ایک تو حقیقت دنیا اور حقیقت آخرت کے بیان کے ذریعے کرتا ہے ۔ ” کہہ دیجئے دنیا کا سامان بہت قلیل ہے ۔ اور آخرت ان لوگوں کے بہت ہی خیر ہے جو متقی ہیں اور تم پر ذرہ برابر ظلم نہ ہوگا ۔ “ اور دوسری حقیقت موت اور مقررہ وقت کے اٹل ہونے کے بارے میں کہ انسان جس قدر بھی احتیاط کرے اور جس قدر بھی جہاد سے دور بھاگے ‘ موت بہرحال اپنے وقت پر آپہنچتی ہے ۔ ” جہاں بھی تم ہوگے ‘ موت تمہیں پالے گی اگرچہ تم پختہ محلات میں بیٹھے ہو۔ “ پھر ان کے تصورات مسئلہ تقدیر کے بارے میں درست کئے جاتے ہیں کہ انسان کے عمل اور قضا وقدر کا تعلق کیا ہے ۔ ” اگر انکو کوئی بھلائی نصیب ہو تو کہتے ہیں کہ یہ تو اللہ کی جانب سے ہے اور اگر کوئی برائی پہنچے تو وہ کہتے ہیں یہ تمہاری جانب سے ہے ۔ کہو سب کچھ اللہ کی جانب سے آتا ہے ۔ لیکن ان لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ یہ بات کو سمجھنے والے نہیں ۔ اگر تمہیں کوئی بھلائی ملے تو یہ اللہ کی جانب سے ہے اور اگر کوئی برائی تمہیں ملے تو یہ تمہارے نفس کی وجہ سے ہے ۔ “
(ز) قرآن کریم اللہ اور رسول ﷺ کے درمیان گہرے تعلق کی نشاندہی کرتا ہے اور یہ کہ رسول کی اطاعت اللہ کی اطاعت تصور ہوتی ہے ۔ پورے کا پورا قرآن مجید اللہ کی جانب سے ہے ۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کو دعوت دیتے ہیں کہ اس کے اندر پائی جانے والی مکمل وحدت فکر پہ غور کرو ‘ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ قرآن ایک ہی منبع سے آیا ہے ۔ “ ” جو رسول کی اطاعت کرے اس نے اللہ کی اطاعت کی ۔ “ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا وہ قرآن کریم پر غور نہیں کرتے ‘ اگر وہ اللہ کے سوا کسی اور کی جانب سے آتا تو وہ اس میں بہت زیادہ اختلاف فکرپاتے ۔ “
(ح) ان آیات میں ہم دیکھتے ہیں کہ مدینہ میں افواہیں پھیلانے والوں کو صحیح طریق کار اپنانے کی ہدایت کی جاتی ہے ۔ وہ طریق کار کسی بھی صحت مند جماعت کی قیادت اور تنظیم کے لئے مناسب ہے اور وہ یہ ہے کہ ” اگر وہ کسی واقعہ کو رسول اللہ ﷺ اور ان لوگوں کے پاس لاتے جن کے ہاتھ میں امور مملکت تھے تو جو لوگ اس سے صحیح نتائج اخذ کرسکتے تھے وہ ان کے علم میں آجاتا۔ “
(ط) ان آیات میں اس غلط طریق کار سے انہیں ڈرایا جاتا ہے اور ان کو یاد دلایا جاتا ہے کہ اللہ نے اپنا کرم کیا کہ ان کو ہدایت سے نوازا ” اگر اللہ کا فضل تم پر نہ ہوتا اور اس کی رحمت تمہارے شامل حال نہ ہوتی تو تم لوگ شیطان کے متبع ہوتے مگر کم لوگ ۔
مدینہ کی اسلامی جماعت اور سوسائٹی کے جو حالات ان آیات ان آیات میں بیان ہوئے ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ انکی وجہ سے اس جماعت کے اندر کس قدر انتشار اور بےچینی پیدا کردی گئی تھی ۔ ان حالات میں جب نبی کریم ﷺ کو جہاد و قتال کا حکم ہوا تو آپ کو کس قدر ہمہ جہت اور مختلف قسم کی جدوجہد کرنا پڑی ہوگی ۔ جب ہم یہ سنتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نبی ﷺ سے کہتے کہ وہ جہاد کریں اگرچہ وہ اکیلے ہوں اور یہ کہ اہل ایمان کو جہاد پر اکسائیں ۔ آپ اپنی ذات ہی سے مسئول ہوں گے اور اللہ خود ہی معرکے میں حصہ لے گا ۔ ” پس اے نبی ﷺ تم اللہ کی راہ میں لڑو ‘ تم اپنی ذات کے سوا کسی اور کے ذمہ دار نہیں ہو ۔ البتہ اہل ایمان کو لڑنے کے لئے اکساؤ ‘ بعید نہیں کہ اللہ کافروں کا زور توڑ دے ۔ اللہ کا زور سب سے زیادہ زبردست اور اس کی سزا سب سے زیادہ سخت ہے ۔ “ اس انداز گفتگو سے اہل ایمان کے اندر بہت ہی زیادہ جوش پیدا ہوتا ‘ اور ان کی ہمتیں بلند ہوجاتیں کیونکہ اس میں فتح ونصرت کی پوری امید بھی تھی ‘ اور اللہ کی تائید اور اس کی قوت پر پورا یقین بھی ۔
قرآن کریم اس جماعت کو لے کر متعدد میدانوں میں برسرپیکار تھا ۔ پہلا معرکہ نفس انسانی کے اندر برپا تھا ۔ یہ معرکہ وساوس ‘ خواہشات نفسانی ‘ بدظنی ‘ غلط افکار ‘ جاہلی تصورات اور انسانی اخلاق کی کمزوریوں کے خلاف تھا۔ اگرچہ یہ کمزورریاں نفاق کی وجہ سے نہ ہوں بلکہ بشری کمزوریاں ہوں ۔ قرآن کریم اس جماعت کو ایسی پالیسی کے ساتھ چلا رہا تھا کہ وہ قوت اور شوکت کے مقام تک پہنچ جائے ۔ پھر اس کے اندر ہر قسم کی ہم آہنگی اور یک جہتی پیدا ہوجائے ۔ اور یہ نہایت ہی دور رس اغراض ومقاصد تھے ۔ اس لئے کہ اگر کسی جماعت کے اندر زور آور لوگ بھی ہوں تو بھی اسے بےفکر نہ ہونا چاہئے ۔ اگر اس کی صفوں میں کمزور لوگ موجود ہوں ۔ تو جماعت کے اندر مختلف سطح کے لوگوں کے اندر مکمل تناسق اور مکمل یک جہتی کی ضرورت ہوتی ہے ۔ خصوصا جب اسے مختلف قسم کے معرکوں سے سابقہ درپیش ہو۔ اس تبصرہ کے بعد اب مناسب یہ ہے کہ ہم اس سبق کی آیات پر تفصیلی بات چیت کریں ۔
(آیت) ” 71 تا 74۔
یہ اہل ایمان کو نصیحت ہے ۔ یہ عالم بالا کی قیادت سے ان کے لئے ہدایات ہیں ‘ جن کے اندر ان کے لئے منہاج عمل درج کیا گیا ہے ، مستقبل کا راستہ متعین کیا گیا ہے ۔ جب انسان قرآن مجید کا مطالعہ کرتا ہے ‘ تو اسے یہ دیکھ کر تعجب ہوتا ہے کہ یہ کتاب اہل ایمان کے لئے معرکہ جہاد کی عمومی اسکیم بھی تیار کرتی ہے ۔ جنگ کی اسٹریٹیجی بھی قرآن میں درج کی جا رہی ہے ۔ ایک دوسری آیت میں ہے ۔
(آیت) ” یایھا الذین امنوا قاتلو الذین یلونکم من الکفار ولیجدوا فیکم غلظۃ) ” اے لوگو جو ایمان لائے ہو ‘ ان لوگوں کے ساتھ قتال کرو جو کفار میں سے تمہارے قریب ہیں ۔ اور چاہئے کہ وہ تم میں سختی پائیں ۔ “ اسلامی تحریک کے لئے یہ عام منصوبہ ہے ۔ اس آیت میں اہل ایمان کو کہا جاتا ہے ۔
(آیت) ” یایھا الذین امنوا خذوا حذرکم فانفروا اثبات اوانفروا جمیعا “۔ (4 : 71)
” اے لوگو جو ایمان لائے ہو ‘ مقابلہ کے لئے ہر وقت تیار رہو ‘ پھر جیسا موقع ہو الگ الگ دستوں کی شکل میں نکلو یا اکٹھے ہو کر “۔ یہ عملی اقدام کی اسکیم کا ایک حصہ ہے جسے ٹیکٹکس کہتے ہیں ۔ اور سورة انفال میں بھی بعض ایسی ہدایات دی گئی ہیں جو میدان جنگ کے بارے میں ہیں ۔
(آیت) ” فاما تثقفنھم فی الحرب فشردبھم من خلفھم لعلھم یذکرون) ” پس اگر تم انہیں لڑائی میں پاؤ تو انہیں ایسی سزا دو کہ جو لوگ ان کے پس پشت ہیں ان کو بھاگتے دیکھ کر خود بھی بھاگ کھڑے ہوں اور شاید وہ بدعہدی کے انجام سے عبرت پکڑیں ۔ “
یہ ہے قرآن مجید ‘ اس میں مسلمانوں کو صرف عبادات اور مراسم عبودیت ہی نہیں سکھائے گئے اور نہ اس میں صرف انفرادی اسلامی آداب اور اخلاق ہی سکھائے گئے ہیں ۔ جیسا کہ بعض لوگوں کا اس دین کے بارے میں ایسا فقیرانہ تصور ہے بلکہ یہ قرآن کریم لوگوں کی زندگی کو پورے طور پر (As A Whole) لیتا ہے ۔ یہ زندگی کے عملی واقعات میں سے ہر ایک واقعہ پر اپنا فیصلہ دیتا ہے ۔ اور پوری زندگی کے لئے مکمل ہدایات دیتا ہے ۔ یہ کتاب ایک مسلمان فرد اور ایک مسلمان معاشرے سے ‘ اس سے کم کسی چیز کا مطالبہ نہیں کرتی کہ انکی پوری پوری زندگی اس کتاب کے مطابق بسر ہو ۔ اس کتاب کے تصرف میں ہو ‘ اس کی ہدایات کے مطابق بسر ہو ۔ خصوصا یہ کتاب کسی مسلمان فرد اور سوسائٹی کو یہ اجازت نہیں دیتی کہ وہ اپنی زندگی کے لئے متعدد نظام اختیار کرلیں جن کے اصول مختلف ہوں ۔ ایسا نہیں ہونا چاہئے کہ ذاتی نظام ‘ عبادات اور اخلاق وآداب کا نظام تو وہ کتاب اللہ سے لے لیں ‘ اور اقتصادی ‘ اجتماعی ‘ سیاسی اور بین الاقوامی معاملات میں ہدایات کسی دوسری کتاب یا کسی انسان کے دیئے ہوئے تصورات سے اخذ کرلیں۔ اس کتاب کے مطابق انسان کا کام یہ ہے کہ وہ اپنی فکر اور تصورات اس کتاب اور اس کے منہاج سے اخذ کرے اور اپنی زندگی کے لئے تفصیلی احکام اس کتاب سے لے کر زندگی کے واقعات پر ان کا انطباق کرے ۔ اس لئے کہ زندگی کے اندر مسلسل نئے نئے مسائل اور حالات پیش آتے رہتے ہیں اور یہ احکام وہ اس طرح مستنبط کرے جس طرح اس سبق سے پہلے سبق میں اس کی تفصیلات خود اس کتاب نے دی ہیں۔ اس کے سوا کوئی اور راستہ اس کتاب نے کھلا نہیں چھوڑا ورنہ ‘ نہ ایمان ہوگا اور نہ اسلام ۔ سرے سے اسلام اور ایمان ہوگا ہی نہیں اس لئے کہ جو لوگ اس کتاب کا یہ مطالبہ تسلیم نہیں کرتے وہ ایمان اور اسلام میں داخل ہی نہیں ہوتے اور گویا انہوں نے ارکان اسلام کا اعتراف ہی نہیں کیا ہے ۔ ان ارکان میں سے پہلا کلمہ شہادت (لاالہ الا اللہ) جس کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ کے سوا کوئی حاکم نہیں ہے اور اللہ کے سوا کوئی شارع نہیں ہے ۔
یہ ہے قرآن کریم جو اس معرکے میں مسلمانوں کے لئے میدان جنگ کا منصوبہ بناتا ہے جو اس وقت ان کے موقف کے ساتھ شامل تھا ‘ اور جو ان کے وجود کے لئے ضروری تھا کیونکہ ان کے اردگرد ہر طرف بیشمار مخالفتیں تھیں ‘ جن میں وہ گھرے ہوئے تھے ۔ اسلامی مملکت کے اندر یہودی اور منافقین مسلمانوں کے خلاف گہری سازشیں کر رہے تھے ۔ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ مومنین کو خبردار کرتے ہیں۔
(آیت) ” یایھا الذین امنوا خذوا حذرکم فانفروا اثبات اوانفروا جمیعا “۔ (4 : 71)
” اے لوگو جو ایمان لائے ہو ‘ مقابلہ کے لئے ہر وقت تیار رہو ‘ پھر جیسا موقع ہو الگ الگ دستوں کی شکل میں نکلو یا اکٹھے ہو کر “۔
ثبات ثبت کی جمع ہے ‘ یعنی مجموعہ ‘ حکم یہ ہے کہ جہاد کے لئے اکیلے نکلنا جائز نہیں ہے ۔ جہاد کے لئے یا تو چھوٹے چھوٹے دستوں کی شکل میں نکلو یا بڑے لشکر اور فوج کی شکل میں نکلو ‘ جس طرح کا معرکہ درپیش ہو ‘ اس لئے کہ افراد کو دشمن سہولت سے پکڑ سکتا ہے ‘ اور اس وقت دشمن ہر طرف پھیلا ہوا تھا ۔ اس وقت بالخصوص یہ حکم تھا ‘ اس لئے کہ اس دور میں دشمن اسلام کے مرکز میں پھیلے ہوئے تھے ۔ اور مدینہ میں یہودیوں اور منافقین کی صورت میں کھلے پھرتے تھے ۔
(آیت) ” وان منکم لمن لیبطئن فان اصابتکم مصیبۃ قال قد انعم اللہ علی اذلم اکن معھم شیھدا (72) ولئن اصابکم فضل من اللہ لیقولن کان لم تکن بینکم وبینہ مودۃ یلیتنی کنت معھم فافوز فوزا عظیما “۔ (73) (4 : 72۔ 73)
” ہاں ‘ تم میں کوئی کوئی آدمی ایسا بھی ہے جو لڑائی سے جی چراتا ہے ۔ اگر تم پر کوئی مصیبت آئے تو کہتا ہے اللہ نے مجھ پر بڑا فضل کیا کہ میں ان لوگوں کے ساتھ نہ گیا ۔ اور اگر اللہ کی طرف سے تم پر فضل ہو تو کہتا ہے ۔۔۔۔۔۔ اور اس طرح کہتا ہے کہ گویا تمہارے اور اس کے درمیان محبت کا تو کوئی تعلق تھا ہی نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کہ کاش میں بھی ان کے ساتھ ہوتا تو بڑا کام بن جاتا ۔ “
منظم دستوں کی شکل میں نکلو یا سب کے سب نکلو ‘ یہ نہ ہو کہ تم میں بعض لوگ تو نکلیں اور بعض لوگ سستی کریں ۔ جیسا کہ بعض لوگ سستی کر رہے ہیں ‘ اور ہر وقت تیار ہو ۔ صرف خارجی دشمن کے مقابلے میں نہیں بلکہ ان اندرونی دشمنوں کے مقابلے میں بھی ‘ ان لوگوں کے مقابلے میں بھی تیار رہو جو پہلو تہی کرتے ہیں ‘ لڑائی سے جی چراتے ہیں اور جو شکست خوردہ ہیں۔ یہ لوگ اپنے آپ کو جہاد سے روکتے اور سستی کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی جنگ سے روکتے ہیں شکست خوردہ ذہنیت کے لوگوں کی عادت بالعموم ایسی ہی ہوتی ہے ۔
(لیبطئن) کا لفظ جو یہاں استعمال ہوا ہے اس کے اندر ایک قسم کا بھاری پن اور پھسلن پائی جاتی ہے ۔ اس کے حروف کی ادائیگی اور صوتی حرکت کے اندر بھی ایک قسم کی پھسلن پائی جاتی ہے ۔ اور جب زبان اس کے آخری اور مشدد حرف کو ادا کرتی ہے تو اس میں بھی کھچاؤ ہے ۔ ایک لفظ کے ساتھ اس پوری نفسیاتی کشمکش کو ادا کردیا گیا جو ایسے لوگوں کے ذہن میں ہوتی تھی اور خود لفظ جو اس مفہوم کی ادائیگی کے لئے استعمال کیا گیا ہے پوری کشمکش اپنے اندر رکھتا ہے ۔ جس طرح مفہوم بھاری ہے اس طرح لفظ بھی بھاری استعمال کیا گیا ہے اور یہ وہ کمال درجے کا اسلوب ادا ہے جو صرف قرآن کا خاصہ ہے ۔ (دیکھئے التصویر الفئی فی القرآن ‘ فصل تناسق) اس لفظ کے بعد پھر (آیت) ” وان منکم لمن لیبطئن “۔ (4 : 72) کے پورے جملے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ پوری طرح سست روی کا شکار ہیں ‘ یہ لوگ معدودے چند ہیں اور ان کو اس پہلو تہی پر پوری طرح اصرار ہے ۔ وہ اس میں سخت کوشاں ہیں اور یہ بات ان تاکیدی حروف سے معلوم ہوتی ہے جو اس فقرے میں استعمال ہوئے ہیں اور جن سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ گروہ اپنے رویے پر مصر ہے اور اسلامی محاذ پر اس کا اثر پڑ رہا ہے اور بہت برا اثر ہو رہا ہے ۔
یہ وجہ ہے کہ قرآن کریم ان کے بارے میں تفصیلی وضاحتیں کرتا ہے ۔ ان کے دلوں کے اندر پوشیدہ رازوں کا انکشاف کرتا ہے ۔ ان کی قابل نفرت حقیقت کی خوب تصویر کشی کرتا ہے اور یہ قرآن کریم کا عجیب معجزانہ انداز ہے ۔
یہ لو یہ لوگ تمہارے سامنے ہیں ‘ اپنے پورے ارادوں کے ساتھ ‘ اپنے مکمل مزاج اور اپنے اقوال وافعال کے ساتھ ‘ بالکل سامنے ‘ آنکھوں کے سامنے بالکل ننگے کھڑے ہیں ۔ گویا انہیں مائیکرو اسکوپ کے نیچے کھڑا کردیا گیا ہے ۔ اور یہ اندرونی مائیکرواسکوپ انکے دلی رازوں کا افشا کر رہا ہے اور ان کے تمام اغراض ومقاصد اس سے واضح ہو رہے ہیں ۔
دیکھو یہ لوگ ہیں ‘ جو عہد رسول اللہ ﷺ میں نظر آتے ہیں اور آپ کے عہد کے بعد ہر زمان ومکان میں یہ قسم یوں ہی باقی رہے گی ۔ یہ کیا ہیں ؟ کمزور ‘ منافق اور آئے دن بدلنے والے ‘ جن کے مقاصد نہایت ہی چھوٹے ہیں ‘ نہایت پیش پا افتادہ ‘ جو اپنے ذاتی مفادات اور شخصی فائدے سے اعلی کسی اور فائدے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے ۔ وہ اپنی شخصیت سے اونچے افق کی طرف نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھتے ‘ یہ لوگ پوری دنیا کو ایک ہی محور کے گرد گھماتے ہیں اور یہ محور ان کی ذات اور ذاتی مفادات کا محور ہے ‘ اسے وہ کبھی نہیں بھولتے ۔
یہ لوگ سست اور ڈھیلے ہیں اور آگے بڑھنے والے نہیں ہیں کہ اپنے اصل مقام پر جا کھڑے ہوں ‘ اور نفع ونقصان کے بارے میں ان کا جو تصور ہے وہ گھٹیا درجے کے منافقین کے لائق ہے ۔
یہ لوگ معرکہ جہاد سے پیچھے رہنے والے ہیں ‘ اگر مجاہدین پر مصیبتیں آجائیں اور وہ مبتلائے مشکلات ہوجائیں جس طرح اکثر اوقات ایسا ہوتا ہے تو یہ پسماندہ لوگ بہت ہی خوش ہوتے ہیں اور یہ سوچتے ہیں کہ جہاد سے ان کا فرار اور مشکلات سے ان کا بچ نکلنا ان کے لئے مفید ہے ۔
(آیت) ” وان منکم لمن لیبطئن فان اصابتکم مصیبۃ قال قد انعم اللہ علی اذلم اکن معھم شیھدا (4 : 72۔ )
” ہاں ‘ تم میں کوئی کوئی آدمی ایسا بھی ہے جو لڑائی سے جی چراتا ہے ۔ اگر تم پر کوئی مصیبت آئے تو کہتا ہے اللہ نے مجھ پر بڑا فضل کیا کہ میں ان لوگوں کے ساتھ نہ گیا ۔
ایسے لوگوں کو اس بات سے شرم نہیں آتی کہ وہ بزدلی کی اس زندگی کو اللہ کی نعمت تصور کرتے ہیں اور پھر وہ اسے اس اللہ کا فضل کہتے ہیں جس کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے یہ لوگ پیچھے بیٹھ گئے ہیں ایسے حالات میں اگر کوئی بچ بھی نکلے تو وہ کبھی نعمت خداوندی نہیں پا سکتا کیونکہ اللہ کی نعمت اللہ کے حکم کی خلاف ورزیاں کرکے نہیں ملتی اگرچہ بظاہر وہ صاحب نجات نظر آئیں
یہ بیشک ایک نعمت ہوگی مگر ان لوگوں کے نزدیک جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ معاملہ نہیں کرتے ۔ یہ ان لوگوں کے نزدک بچنا ہے جو یہ نہیں سمجھتے کہ ان کا مقصد تخلیق کیا ہے ؟ اور وہ اطاعت کرکے اور جہاد کرکے اللہ کی غلامی نہیں کرتے تاکہ وہ اسلامی نظام حیات کو دنیا میں قائم کریں ۔ یہ ان لوگوں کے نزدیک نعمت ہے جن کی نظریں اپنے قدموں کے آگے بلند آفاق پر نہیں پڑ سکتیں ۔ یہ چیونٹیوں کی طرح کے لوگ ہیں ‘ یہ نجات ان لوگوں کے نزدیک نعمت ہے جو اس بات کا احساس نہیں رکھتے کہ اللہ کے راستے میں جہاد کی مشکلات برداشت کرنا اسلامی نظام کے قیام کے لئے اور اعلائے کلمۃ اللہ کے لئے ہے ۔ یہ اللہ کا فضل ہے اور یہ اللہ کا خصوصی انتخاب ہے جس کے ذریعے وہ جسے چاہتا ہے اپنے بندوں میں سے منتخب کرلیتا ہے تاکہ وہ دنیا کی اس زندگی میں بشری کمزوریوں پر قابو پائیں ۔ اس طرح وہ انہیں دنیا کی قید سے رہائی دلاتا ہے ۔ وہ ایک برگزیدہ زندگی پر فائز ہوجاتے ہیں ‘ وہ زندگی کے مالک ہوجاتے ہیں اور زندگی ان کی مالک نہیں ہوتی ۔ تاکہ یہ آزادی اور یہ سربلندی ان کو ان بلندیوں تک لے جائے جو آخرت میں شہداء کے لئے مقرر ہیں ۔ بیشک سب لوگ مرتے ہیں لیکن اللہ کی راہ میں جان دینے والے ہی شہید ہوتے ہیں اور یہ اللہ کا فضل عظیم ہے۔
اگر صورت حال دوسری پیش آجائے اور مجاہدین کامیاب ہوجائیں ‘ وہ جو یہ تیاری کرکے نکلے تھے کہ اللہ کی راہ میں انہیں جو پیش آتا ہے ‘ آئے اور انہیں اللہ کا فضل نصیب ہوجائے ‘ فتح اور غنیمت کی صورت میں تو یہ پیچھے رہنے والے لوگ سخت نادم ہوتے ہیں کہ وہ کیوں نہ اس نفع بخش معرکے میں شریک ہوئے ۔ اس فائدے میں ان کے نزدیک نہایت ہی گھٹیا معیار ہوتا ہے ‘ خالص دنیاوی معیار ۔
(آیت) ” ولئن اصابکم فضل من اللہ لیقولن کان لم تکن بینکم وبینہ مودۃ یلیتنی کنت معھم فافوز فوزا عظیما “۔ (4 : 73)
” اور اگر اللہ کی طرف سے تم پر فضل ہو تو کہتا ہے ۔۔۔۔۔۔ اور اس طرح کہتا ہے کہ گویا تمہارے اور اس کے درمیان محبت کا کوئی تعلق تھا ہی نہیں ۔۔۔۔۔ کہ کاش میں بھی ان کے ساتھ ہوتا تو بڑا کام بن جاتا۔
یہ نہایت ہی گھٹیا خواہش ہے محض مال غنیمت کی خواہش اور اسے یہ شخص فوز عظیم سے تعبیر کرتا ہے ۔ مومن بھی مال غنیمت کے ساتھ واپسی کو برا تو نہیں سمجھتا بلکہ اس سے توقع تو یہی ہے کہ وہ بھی اللہ سے ایسی کامیابی مانگے ۔ اور مومن سے یہ توقع نہیں کی جاتی کہ وہ مشکلات کی طلب کرے بلکہ مطلوب تو یہ ہے کہ وہ عافیت کی دعا کرے ۔ مومن کا مجموعی تصور ان متخلفین کے تصور سے بالکل جدا ہوتا ہے ۔ اس لئے ان لوگوں کے تصور کو قرآن کریم نہایت ہی مکروہ صورت میں پیش کرتا ہے جو قابل نفرت ہے ۔
حقیقت یہ ہے کہ مومن بھی مشکلات اور مصائب کی تمنا نہیں کرتا بلکہ عافیت کا طلبگار ہوتا ہے لیکن اسے جب جہاد کی طرف بلایا جائے تو وہ بوجھل قدموں کے ساتھ آگے نہیں بڑھتا ۔ جب وہ نکلتا ہے تو وہ دو اچھے انجاموں میں سے ایک کا طالب ہوتا ہے یا نصرت و کامرانی کا یاشہادت فی سبیل اللہ کا اور یہ دونوں ہی اللہ کے فضل میں سے ہیں اور دونوں ہی فوز عظیم ہیں ۔ اہل ایمان کی قسمت میں یا تو شہادت آجاتی ہے تو پھر بھی وہ راضی برضا ہوتے ہیں اور اس گروہ میں جاتے ہیں جو شہادت کے مقام پر فائز ہوا ۔ یا وہ زندہ مال غنیمت کے ساتھ واپس آتا ہے تو اس صورت میں وہ اللہ کے فضل پر شکر گزار ہوتا ہے اور اس کی جانب سے آئی ہوئی فتح پر خوش ہوتا ہے مگر یہ خوشی محض زندہ بچ جانے کی وجہ سے نہیں ہوتی ۔
یہ ہے وہ اعلی افق جس کے بارے میں اللہ کا ارادہ ہے کہ اہل ایمان اپنی نظریں اس پر رکھیں ۔ اللہ تعالیٰ ان اہل ایمان میں سے اس فریق کی تصویر ان کے سامنے کھینچتے ہیں اور یہ انکشاف فرماتے ہیں کہ تمہاری صفوں میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو جہاد سے پہلو تہی کرنے والے ہیں اور یہ انکشاف اس لئے کیا جاتا ہے کہ اہل ایمان ان سے چوکنے رہیں جس طرح وہ ظاہری دشمنوں سے چوکنے رہتے ہیں۔
اس طرح متنبہ کرنے اور اس دور میں جماعت مسلمہ کو مواقع عبرت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ قرآن کریم ایک ایسے انسانی ماڈل کا ایک عام نمونہ یہاں منقش کرتا ہے ‘ جو ہر دور اور ہر جگہ بار بار سامنے آتا رہتا ہے اور یہ تصویر کشی قرآن مجید چند الفاظ کے اندر کرتا ہے ۔
یہ حقیقت جماعت مسلمہ کو ہمیشہ پیش نظر رکھنی چاہئے اس لئے کہ اسلامی حلقوں کے اندر ہمیشہ ایسے لوگ پائے جاسکتے ہیں ۔ جماعت کو ایسے لوگوں کی حرکات سے مایوس نہیں ہونا چاہئے بلکہ اپنی تیاری کو ہر حال میں مکمل رکھنا اور آگے بڑھنا چاہئے ۔ ہر وقت تربیت ہدایت اور جہد مسلسل کے لئے تیار رہنا چاہئے تاکہ جماعت تمام نقائص سے پاک ہو۔ اپنی کمزوریوں کا مداوا ہر وقت ہوتا رہے اور جماعت کے عملی اقدامات ‘ اس کے نظریات اور اس کی تمام حرکات کے درمیان باہم ربط ہو۔
اب اگلی آیت میں یہ سعی کی جاتی ہے کہ یہ سست رو ‘ پہلو تہی کرنے والوں اور دنیاوی گندگیوں میں آلودہ لوگوں کو قدرے اٹھایا جائے اور ان کے حس و شعور میں اس دنیا سے آگے آخرت کا شعور پیدا کیا جائے ۔ ان کو اس بات پر آمادہ کیا جائے کہ وہ دنیا کو فروخت کرکے آخرت کو خریدنے والے بنیں ‘ اور اس کام میں انہیں دو اچھے انجاموں میں سے ایک ضرور نصیب ہوگا یا تو فتح ونصرت سے ہمکنار ہوں گے یا شہادت ان کو نصیب ہوگی ۔
(آیت) ” فلیقاتل فی سبیل اللہ الذین یشرون الحیوۃ الدینا بالاخرۃ ومن یقاتل فی سبیل اللہ فیقتل اویغلب فسوف نوتیہ اجرا عظیما (4 : 74)
(ایسے لوگوں کو معلوم ہو کہ) اللہ راہ میں لڑنا چاہئے ان لوگوں کو جو آخرت کے بدلے دنیا کی زندگی کو فروخت کردیں ‘ پھر جو اللہ کی راہ میں لڑے گا اور مارا جائے گا یا غالب رہے گا اسے ضرور ہم اجر عظیم عطا کریں گے ۔ “
اس لئے مومنین کو اللہ کی راہ میں لڑنا چاہئے ‘ اسلام ماسوائے اس کے کہ اللہ کی راہ میں جنگ کی جائے ‘ کسی اور جنگ کا قائم ہی نہیں ہے ۔ اس لئے جنگ نہ کی جائے کہ مصنوعات کے لئے خام مال فراہم کیا جائے ‘ نہ اسلام غنیمت کے لئے جنگ کی اجازت دیتا ہے ‘ نہ اقتدار کے حصول کے لئے اجازت دیتا ہے ‘ نہ وہ ذاتی اور قومی برتری کے لئے جنگ کی اجازت دیتا ہے ‘ نہ ملکوں کو فتح کرنے کے لئے جنگ کی اجازت دیتا ہے ‘ نہ لوگوں کو غلام بنانے کے لئے اجازت دیتا ہے ‘ اور نہ اسلام کسی ایسی جنگ کی اجازت دیتا ہے جو منڈیوں کے حصول کے لئے لڑی جائے ‘ اور نہ اسلام کی جنگ اس بات کے لئے کہ نو آبادیاتی علاقوں میں سرمایہ لگا کر مفادات حاصل کئے جائیں ۔
اسلام ذاتی برتری کے لئے جنگ کی اجازت نہیں دیتا اور نہ کسی خاندان کی برتری کے لئے جنگ کی اجازت دیتا ہے ۔ نہ کسی طبقے اور کسی حکومت کی برتری کے لئے اسلام جنگ کی اجازت دیتا ہے نہ کسی قوم اور نہ کسی نسل کی برتری کے لئے اسلام لڑتا ہے ۔ اسلام صرف اللہ کی راہ میں جنگ کی اجازت دیتا ہے ‘ اور زمین پر اللہ کا کلمہ بلند کرنے کے لئے اسلام کی اجازت اجازت دیتا ہے اور یہ اس لئے کہ اس کرہ ارض پر تمام انسانوں کے درمیان بےقید عدل و انصاف جاری کرے لیکن اس نظام کے تحت ہر شخص کو عقیدے اور نظریے کی مکمل آزادی ہو ۔ یوں اس ربانی انسانی اور عالمی نظام حیات کے تحت لوگ زندہ رہیں۔
جب ایک مسلمان اللہ کے راستے میں لڑنے کے لئے نکلتا ہے ‘ اور یہ لڑائی وہ صرف اعلائے کلمۃ اللہ کے لئے کرتا ہے اور زندگی میں اسلامی نظام حیات کی حکمرانی کے لئے لڑتا ہے اور پھر وہ قتل ہوجاتا ہے تو وہ شہید ہوتا ہے ۔ وہ اللہ کے نزدیک مقام شہداء پر فائز ہوتا ہے اور اگر وہ اس مقصد کے سوا کسی اور مقصد کی خاطر لڑتا ہے تو وہ کسی صورت میں بھی شہید نہیں ہوتا اور اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کے لئے کوئی اجر اور صلہ نہیں ہے ۔ بلکہ اس کا صلہ ان مقاصد کے زعماء کے پاس ہوتا ہے جو لوگ ایسے لوگوں کو شہداء کہتے ہیں وہ اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں اور وہ اپنے آپ کو اس چیز کے ساتھ تقدس دیتے ہیں جس کی ساتھ اللہ کسی کو مقدس نہیں بناتا ۔ یہ اللہ پر افتراء کے سوا کچھ نہیں ہے ۔
لہذا اللہ کے راستے میں صرف اس ایک مقصد کے لئے لڑنا جائز ہے ۔ اور یہ لڑائی وہ لوگ کرتے ہیں جو دنیا فروخت کرکے آخرت خریدتے ہیں ان کے لئے اللہ تعالیٰ کا فضل عظیم انتظار میں ہے ۔ دونوں حالتوں میں ان پر فضل ہے ۔ اگر وہ اللہ کی راہ میں قتل ہوجائیں تو بھی فضل ہے اور اگر وہ اللہ کی راہ میں غالب ہوجائیں تو بھی اللہ کا فضل ہے ۔
(آیت) ” ومن یقاتل فی سبیل اللہ فیقتل اویغلب فسوف نوتیہ اجرا عظیما (4 : 74)
‘ پھر جو اللہ کی راہ میں لڑے گا اور مارا جائے گا یا غالب رہے گا اسے ضرور ہم اجر عظیم عطا کریں گے ۔ “
اس طرح قرآنی نظام حیات ان نفوس قدسیہ کو بلند کرتا ہے اور وہ دونوں حالتوں میں اللہ کے عظیم فضل کے امیدوار ہوجاتے ہیں ۔ ان پر اللہ کی راہ میں موت اور جان دینا آسان ہوجاتا ہے ۔ وہ اس دنیا کے مال غنیمت کے حصول کی امید سے بھی بالا ہوجاتے ہیں ۔ اس لئے کہ پوری کی پوری زندگی اور مال غنیمت کے بڑے بڑے ڈھیر بھی اللہ کے فضل عظیم کے مقابلے میں کچھ نہیں ہیں ۔ اسی طرح یہ مختصر ٹچ ‘ انسان کے دلوں میں اس سودے کے خلاف نفرت پیدا کردیتا ہے جس میں کوئی شخص آخرت کے مقابلے میں دنیا کو خریدتا ہے ۔ لفظ یشرون متضاد الفاظ میں سے ہے جو خرید کے معنی میں بھی آتا ہے اور فروخت کے معنی میں بھی آتا ہے لیکن زیادہ تر یہ فروخت کے معنی میں آتا ہے ‘ تو یہ سودا نہایت ہی خسارے کا ہوگا چاہے انہیں دنیا میں مال غنیمت ملے یا نہ ملے اس لئے کہ دنیا کا آخرت سے کیا مقابلہ ہے اور مال غنیمت کے حقیر مال کا اللہ کے فضل عظیم کے ساتھ کیا مقابلہ ہے ۔ اللہ کے فضل میں مال بھی شامل ہے اور مال کے علاوہ دوسرے اکرام اور انعام بھی شامل ہیں ۔
اب روئے سخن مسلمانوں کی طرف پھرجاتا ہے ۔ جنگ سے پہلو تہی کرنے والوں اور جی چرانے والوں کی تصویر کشی کے انداز کو اب چھوڑ کر مسلمانوں سے خطاب کیا جاتا ہے ۔ مسلمانوں کی مروت اور جوانمردی کو ابھارا جاتا ہے ۔ ان کے دلوں کے اندر احساس فرض پیدا کیا جاتا ہے ۔ اس دنیا اور جزیرۃ العرب میں زیردست لوگوں کے حالات پر غور کرو۔ مرد ‘ عورتیں اور بچے جو مکہ مکرمہ میں مشرکین کے ہاتھوں مظالم سہ رہے ہیں اورا ن کے اندر اس قدر قوت بھی نہیں ہے کہ وہ دارالاسلام کی طرف ہجرت کر آئیں اور فرار اختیار کر کے اپنے دین اور نظریات کو بچا لیں ۔ وہ آزادی کی آس لئے ہوئے ہیں اور ہر وقت دست بدعاء رہتے ہیں کہ اے پروردگار ہمیں اس گاؤں سے نکال جہاں کے رہنے والے ظالم ہیں۔ اس صورت حال کی طرف مسلمانوں کو متوجہ کرکے انہیں بتاتا ہے کہ تمہاری جنگ بلند مقاصد کے لئے ہے تمہارے اہداف بلند ہیں ‘ اور یہ جنگ جس کے لئے تمہیں نکلنے کا حکم دیا جارہا ہے اس کے مقاصد نہایت ہی اونچے مقاصد ہیں۔ اس لئے انہیں اس کی طرف بوجھل قدموں سے نہ نکلنا چاہئے ، یہ پکار نہایت ہی تاکیدی ار برانگیختہ کرنے کے انداز میں ہے ۔ اور سستی اور پیچھے رہنے کو بہت ہی برا سمجھا گیا ہے ۔