اس صفحہ میں سورہ An-Nisaa کی تمام آیات کے علاوہ تفسیر ابن کثیر (حافظ ابن کثیر) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ النساء کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔
فَبِمَا نَقْضِهِم مِّيثَٰقَهُمْ وَكُفْرِهِم بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ وَقَتْلِهِمُ ٱلْأَنۢبِيَآءَ بِغَيْرِ حَقٍّ وَقَوْلِهِمْ قُلُوبُنَا غُلْفٌۢ ۚ بَلْ طَبَعَ ٱللَّهُ عَلَيْهَا بِكُفْرِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُونَ إِلَّا قَلِيلًا
وَبِكُفْرِهِمْ وَقَوْلِهِمْ عَلَىٰ مَرْيَمَ بُهْتَٰنًا عَظِيمًا
وَقَوْلِهِمْ إِنَّا قَتَلْنَا ٱلْمَسِيحَ عِيسَى ٱبْنَ مَرْيَمَ رَسُولَ ٱللَّهِ وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَٰكِن شُبِّهَ لَهُمْ ۚ وَإِنَّ ٱلَّذِينَ ٱخْتَلَفُوا۟ فِيهِ لَفِى شَكٍّ مِّنْهُ ۚ مَا لَهُم بِهِۦ مِنْ عِلْمٍ إِلَّا ٱتِّبَاعَ ٱلظَّنِّ ۚ وَمَا قَتَلُوهُ يَقِينًۢا
بَل رَّفَعَهُ ٱللَّهُ إِلَيْهِ ۚ وَكَانَ ٱللَّهُ عَزِيزًا حَكِيمًا
وَإِن مِّنْ أَهْلِ ٱلْكِتَٰبِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِۦ قَبْلَ مَوْتِهِۦ ۖ وَيَوْمَ ٱلْقِيَٰمَةِ يَكُونُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا
فَبِظُلْمٍ مِّنَ ٱلَّذِينَ هَادُوا۟ حَرَّمْنَا عَلَيْهِمْ طَيِّبَٰتٍ أُحِلَّتْ لَهُمْ وَبِصَدِّهِمْ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ كَثِيرًا
وَأَخْذِهِمُ ٱلرِّبَوٰا۟ وَقَدْ نُهُوا۟ عَنْهُ وَأَكْلِهِمْ أَمْوَٰلَ ٱلنَّاسِ بِٱلْبَٰطِلِ ۚ وَأَعْتَدْنَا لِلْكَٰفِرِينَ مِنْهُمْ عَذَابًا أَلِيمًا
لَّٰكِنِ ٱلرَّٰسِخُونَ فِى ٱلْعِلْمِ مِنْهُمْ وَٱلْمُؤْمِنُونَ يُؤْمِنُونَ بِمَآ أُنزِلَ إِلَيْكَ وَمَآ أُنزِلَ مِن قَبْلِكَ ۚ وَٱلْمُقِيمِينَ ٱلصَّلَوٰةَ ۚ وَٱلْمُؤْتُونَ ٱلزَّكَوٰةَ وَٱلْمُؤْمِنُونَ بِٱللَّهِ وَٱلْيَوْمِ ٱلْءَاخِرِ أُو۟لَٰٓئِكَ سَنُؤْتِيهِمْ أَجْرًا عَظِيمًا
اہل کتاب، قاتلان انبیاء، عیسیٰ ؑ کی روداد اور مراحل قیامت اہل کتاب کے ان گناہوں کا بیان ہو رہا ہے جن کی وجہ سے وہ اللہ کی رحمتوں سے دور ڈال دیئے گئے اور ملعون و جلا وطن کردیئے گئے اولاً ان کی عہد شکنییہ تھی کہ جو وعدے انہوں نے اللہ سے کئے ان پر قائم نہ رہے، دوسرے اللہ کی آیتوں یعنی حجت و دلیل اور نبیوں کے معجزوں سے انکار اور کفر، تیر سے بلا وجہ، ناحق انبیاء کرام کا قتل۔ ان کے رسولوں کی ایک بڑی جماعت ان کے ہاتھوں قتل ہوئی۔ چوتھی ان کا یہ خیال اور قول کہ ہمارے دل غلافوں میں ہیں یعنی پردے میں ہیں، جیسے مشرکین نے کہا تھا آیت (وَقَالُوْا قُلُوْبُنَا فِيْٓ اَكِنَّةٍ مِّمَّا تَدْعُوْنَآ اِلَيْهِ وَفِيْٓ اٰذَانِنَا وَقْرٌ وَّمِنْۢ بَيْنِنَا وَبَيْنِكَ حِجَابٌ فَاعْمَلْ اِنَّنَا عٰمِلُوْنَ) 41۔ فصلت :5) یعنی " اے نبی تیری دعوت سے ہمارے دل پردے میں ہیں " اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کے اس قول کا مطلب یہ ہے کہ " ہمارے دل علم کے ظروف ہیں وہ علم و عرفان سے پُر ہیں۔ " سورة بقرہ میں بھی اس کی نظیر گذر چکی ہے، اللہ تعالیٰ ان کے اس قول کی تردید کرتا ہے کہ یوں نہیں بلکہ ان پر اللہ تعالیٰ نے مہر لگا دی ہے کیونکہ یہ کفر میں پختہ ہوچکے تھے۔ پس پہلی تفسیر کی بنا پر یہ مطلب ہوا کہ وہ عذر کرتے تھے کہ ہمارے دل بوجہ ان پر غلاف ہونے کے نبی کی باتوں کو یاد نہیں کرسکتے تو انہیں جواب دیا گیا کہ ایسا نہیں بلکہ تمہارے کفر کی وجہ سے تمہارے دل مسخ ہوگئے ہیں اور دوسری تفسیر کی بنا پر تو جواب ہر طرح ظاہر ہے۔ سورة بقرہ کی تفسیر میں اس کی پوری تفصیل و تشریح گذر چکی ہے۔ پس بطور نتیجے کے فرما دیا کہ اب ان کے دل کفر و سرکشی اور کمی ایمان پر ہی رہیں گے، پھر ان کا پانچواں جرم عظیم بیان ہو رہا ہے کہ انہوں نے سیدہ مریم (علیہا السلام) پر زنا کاری جیسی بدترین اور شرمناک تہمت لگائی اور اسی زنا کاری کے حمل سے حضرت عیسیٰ کو پیدا شدہ بتایا، بعض نے اس سے بھی ایک قدم آگے رکھا اور کہا کہ یہ بدکاری حیض کی حالت میں ہوئی تھی۔ اللہ کی ان پر پھٹکار ہو کہ ان کی بد زبانی سے اللہ کے مقبول بندے بھی نہ بچ سکے۔ پھر ان کا چھٹا گناہ بیان ہو رہا ہے کہ یہ بطور تمسخر اور اپنی بڑائی کے یہ ہانک بھی لگاتے ہیں کہ " ہم نے حضرت عیسیٰ کو مار ڈالا " جیسے کہ بطور تمسخر کے مشرکین حضور ﷺ سے کہتے ہیں کہ اے وہ شخص جس پر قرآن اتارا گیا ہے تو تو مجنون ہے۔ پورا واقعہ یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ ؑ کو نبوت دے کر بھیجا اور آپ کے ہاتھ پر بڑے بڑے معجزے دکھائے مثلاً بچپن کے اندھوں کو بینا کرنا، کوڑھیوں کو اچھا کرنا، مردوں کو زندہ کرنا، مٹی کے پرند بنا کر پھونک مارنا اور ان کا جاندار ہو کر اڑ جانا وغیرہ تو یہودیوں کو سخت طیش آیا اور مخالفت پر کمر بستہ ہوگئے اور ہر طرح سے ایذاء رسانی شروع کردی، آپ کی زندگی تنگ کردی، کسی بستی میں چند دن آرام کرنا بھی آپ کو نصیب نہ ہوا، ساری عمر جنگلوں اور بیابانوں میں اپنی والدہ کے ساتھ سیاحت میں گذاری، پھر بھی انہیں چین نہ لینے دیا، یہ دمشق کے بادشاہ کے پاس گئے جو ستارہ پرست مشرک شخص تھا (اس مذہب والوں کے ملک کو اس وقت یونان کہا جاتا تھا) یہ بہت روئے پیٹے اور بدشاہ کو حضرت عیسیٰ کے خلاف اکسایا اور کہا کہ یہ شخص بڑا مفسد ہے۔ لوگوں کو بہکا رہا ہے، روز نئے فتنے کھڑے کرتا ہے، امن میں خلل ڈالتا ہے۔ لوگوں کو بغاوت پہ اکساتا ہے وغیرہ۔ بادشاہ نے اپنے گورنر کو جو بیت المقدس میں تھا، ایک فرمان لکھا کہ وہ حضرت عیسیٰ کو گرفتار کرلے اور سولی پر چڑھا کر اس کے سر پر کانٹوں کا تاج رکھ کر لوگوں کو اس دکھ سے نجات دلوائے۔ اس نے فرمان شاہی پڑھ کر یہودیوں کے ایک گروہ کو اپنے ساتھ لے کر اس مکان کا محاصرہ کرلیا جس میں روح اللہ تھے، آپ کے ساتھ اس وقت بارہ تیرہ یا زیادہ سے زیادہ ستر آدمی تھے، جمعہ کے دن عصر کے بعد اس نے محاصرہ کیا اور ہفتہ کی رات تک مکان کو گھیرے میں لئے رہا جب حضرت عیسیٰ نے یہ محسوس کرلیا کہ اب وہ مکان میں گھس کر آپ کو گرفتار کرلیں گے یا آپ کو خود باہر نکلنا پڑے گا تو آپ نے صحابہ سے فرمایا تم میں سے کون اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اس پر میری مشابہت ڈال دی جائے یعنی اس کی صورت اللہ مجھ جیسی بنا دے اور وہ ان کے ہاتھوں گرفتار ہو اور مجھے اللہ مخلصی دے ؟ میں اس کے لئے جنت کا ضامن ہوں۔ " اس پر ایک نوجوان نے کہا مجھے یہ منظور ہے لیکن حضرت عیسیٰ نے انہیں اس قابل نہ جان کر دوبارہ یہی کہا، تیسری دفعہ بھی کہا مگر ہر مرتبہ صرف یہی تیار ہوئے ؓ۔ اب آپ نے یہی منظور فرما لیا اور دیکھتے ہی دیکھتے اس کی صورت قدرتاً بدل گئی بالکل یہ معلوم ہونے لگا کہ حضرت عیسیٰ یہی ہیں اور چھت کی طرف ایک روزن نمودار ہوگیا اور حضرت عیسیٰ کی اونگھ کی حالت ہوگئی اور اسی طرح وہ آسمان پر اٹھا لئے گئے۔ جیسے قرآن کریم میں ہے آیت (اِذْ قَال اللّٰهُ يٰعِيْسٰٓى اِنِّىْ مُتَوَفِّيْكَ وَرَافِعُكَ اِلَيَّ وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَجَاعِلُ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْكَ فَوْقَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ) 3۔ آل عمران :55) یعنی جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا " اے عیسیٰ میں تم سے مکمل تعاون کرنے والا ہوں اور اپنی طرف اٹھانے والا ہوں۔ " حضرت روح اللہ کے سوئے ہوئے آسمان پر اٹھائے جانے کے بعد یہ لوگ اس گھر سے باہر نکلے، یہودیوں کی جماعت نے اس بزرگ صحابی کو جس پر جناب مسیح ؑ کی شباہت ڈال دی گئی تھی، عیسیٰ سمجھ کر پکڑ لیا اور راتوں رات اسے سولی پر چڑھا کر اس کے سر پر کانٹوں کا تاج رکھ دیا۔ اب یہود خوشیاں منانے لگے کہ ہم نے عیسیٰ بن مریم کو قتل کردیا اور لطف تو یہ ہے کہ عیسائیوں کی کم عقل اور جاہل جماعت نے بھی یہودیوں کی ہاں میں ہاں ملا دی اور ہاں صرف وہ لوگ جو مسیح ؑ کے ساتھ اس مکان میں تھے اور جنہیں یقینی طور پر معلوم تھا کہ مسیح آسمان پر چڑھا لئے گئے اور یہ فلاں شخص ہے جو دھوکے میں ان کی جگہ کام آیا۔ باقی عیسائی بھی یہودیوں کا سا راگ الاپنے لگے، یہاں تک کہ پھر یہ بھی گھڑ لیا کہ عیسیٰ کی والدہ سولی تلے بیٹھ کر روتی چلاتی رہیں اور یہ بھی کہتے ہیں کہ آپ نے ان سے کچھ باتیں بھی کیں، واللہ اعلم۔ دراصل یہ سب باتیں اللہ کی طرف سے اپنے بزرگ بندوں کا امتحان ہیں جو اس کی حکمت بالغہ کا تقاضا ہے، پس اس غلطی کو اللہ تعالیٰ نے واضح اور ظاہر کر کے حقیقت حال سے اپنے بندوں کو مطلع فرما دیا اور اپنے سب سے بہتر رسول اور بڑے مرتبے والے پیغمبر کی زبانی اپنے پاک، سچے اور بہترین کلام میں صاف فرما دیا کہ " حقیقتاً نہ کسی نے حضرت عیسیٰ کو قتل کیا، نہ سولی دی بلکہ ان کی شبیہ جس پر ڈالی گئی تھی، اسے عیسیٰ ہی سمجھ بیٹھے، جو یہود و نصاریٰ آپ کے قتل کے قائل ہوگئے وہ سب کے سب شک و شبہ میں حیرت و ضلالت میں مبتلا ہیں۔ ان کے پاس کوئی دلیل نہیں نہ انہیں خود کچھ علم ہے صرف سنی سنائی باتوں پہ یقین کے سوا کوئی ان کے پاس دلیل نہیں۔ اسی لئے پھر اسی کے متصل فرما دیا کہ " یہ یقینی امر ہے کہ روح اللہ کو کسی نے قتل نہیں کیا بلکہ جناب باری عزاسمہ نے جو غالب تر ہے اور جس کی قدرتیں بندوں کے فہم میں بھی نہیں آسکتیں اور جس کی حکمتوں کی تہ تک اور کاموں کی لم تک کوئی نہیں پہنچ سکتا، اپنے خاص بندے کو جنہیں اپنی روح کہا تھا اپنے پاس اٹھا لیا " حضرت ابن عباس ؓ ما فرماتے ہیں جب اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ ؑ کو آسمان پر اٹھانا چاہا تھا، آپ گھر میں آئے اور گھر میں بارہ حواری تھے، آپ کے بالوں سے اپنی کے قطرے ٹپک رہے تھے، آپ نے فرمایا ! تم میں بعض ایسے ہیں جو مجھ پر ایمان لا چکے ہیں مگر کچھ مجھ سے کفر کریں گے۔ پھر آپ نے فرمایا " تم میں سے کون شخص اسے پسند کرتا ہے کہ اس پر میری شبیہ ڈالی جائے اور میری جگہ وہ قتل کردیا جائے اور جنت میں میرا رفیق بنے۔ " اس روایت میں یہ بھی ہے کہ حضرت روح اللہ کی پیش گوئی کے مطابق بعض نے آپ سے بارہ بارہ بار کفر کیا۔ پھر ان کے تین گروہ ہوگئے، یعقوبیہ، نسطوریہ اور مسلمان، یعقوبیہ تو کہنے لگے خود اللہ ہم میں تھا، جب تک چاہا رہا، پھر آسمان پر چڑھ گیا، نسطوریہ کا خیال ہوگیا کہ اللہ کا لڑکا ہم میں تھا، جسے ایک زمانے تک ہم میں رکھ کر پھر اللہ نے اپنی طرف اٹھا لیا اور مسلمانوں کا یہ عقیدہ رہا کہ اللہ کا بندہ اور رسول ہم میں تھا جب تک اللہ نے چاہا وہ ہم میں رہا اور پھر اللہ نے اسے اپنی طرف اٹھا لیا۔ ان پہلے دو گمراہ فرقوں کا زور ہوگیا اور انہوں نے تیسرے سچے اور اچھے فرقے کو کچلنا اور دبانا شروع کیا، چناچہ یہ کمزور ہوتے گئے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے پیغمبر آخر الزمان ﷺ کو مبعوث فرما کر اسلام کو غالب کیا۔ اس کی اسناد بالکل صحیح ہے اور نسائی میں حضرت ابو معاویہ سے بھی یہی منقول ہے اسی طرح سلف میں سے بہت سے بزرگوں کا قول ہے، حضرت وہب بن منبہ ؒ فرماتے ہیں جس وقت شاہی سپاہی اور یہودی حضرت عیسیٰ پر چڑھ دوڑے اور گھیرا ڈال دیا اس وقت آپ کے ساتھ سترہ آدمی تھے۔ ان لوگوں نے جب دروازے کھول کر دیکھا تو دیکھا کہ سب کے سب حضرت عیسیٰ کی صورت میں ہیں تو کہنے لگے تم لوگوں نے ہم پر جادو کردیا ہے، اب یا تو تم اسے جو حقیقی عیسیٰ ہوں ہمیں سونپ دو یا اسے منظور کرلو کہ ہم تم سب کو قتل کر ڈالیں۔ یہ سن کر روح اللہ نے فرمایا " کوئی ہے جو جنت میں میرا رفیق بنے اور یہاں میرے بدلے سولی پر چڑھنا منظور کرے " ایک صحابی اس کے لئے تیار ہوگئے اور کہنے لگے عیسیٰ میں تیار ہوں، چناچہ دشمنان دین نے انہیں گرفتار کیا قتل کیا اور سولی چڑھایا اور بغلیں بجانے لگے کہ ہم نے عیسیٰ کو قتل کیا، حالانکہ دراصل ایسا نہیں ہوا بلکہ وہ دھوکے میں پڑگئے اور اللہ نے اپنے رسول کو اسی وقت اپنے پاس چڑھا لیا۔ تفسیر ابن جریر میں ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ ؑ کو یہ وحی کردیا کہ وہ دنیا سے رخصت ہونے والے ہیں تو آپ پر بہت گراں گذرا اور موت کی گھبراہٹ بڑھ گئی تو آپ نے حواریوں کی دعوت کی، کھانا تیار کیا اور سب سے کہہ دیا کہ آج رات کو میرے پاس تم سب ضرور آنا، مجھے ایک ضروری کام ہے۔ جب وہ آئے تو خود کھانا کھلایا سب کام کاج اپنے ہاتھوں کرتے رہے، جب وہ کھاچکے تو خود ان کے ہاتھ دھلائے اور اپنے کپڑوں سے کے ہاتھ پونچھے یہ ان پر بھاری پڑا اور برا بھی لگا لیکن آپ نے فرمایا " اس رات میں جو کچھ کر رہا ہوں، اگر تم میں سے کسی نے مجھے اس سے روکا تو میرا اس کا کچھ واسطہ نہیں نہ وہ میرا نہ میں اس کا۔ " چناچہ وہ سب خاموش رہے۔ جب آپ ان تمام کاموں سے فارغ ہوگئے تو فرمایا دیکھو ! تمہارے نزدیک میں تم سب سے بڑے مرتبے والا ہوں اور میں نے تمہاری خدمت خود کی ہے، یہ اس لئے کہ تم میری اس سنت کے عامل بن جاؤ، خبردار تم میں سے کوئی اپنے آپ کو اپنے بھائیوں سے بڑا نہ سمجھے، بلکہ ہر بڑا چھوٹے کی خدمت کرے، جس طرح خود میں نے تمہاری خدمت کی ہے۔ اب تم سے میرا جو خاص کام تھا جس کی وجہ سے آج میں نے تمہیں بلایا ہے وہ بھی سن لو کہ " تم سب مل کر آج رات بھر خشوع و خضوع سے میرے لئے دعائیں کرو کہ اللہ میری اجل کو مؤخر کر دے۔ " چناچہ سب نے دعائیں شروع کیں لیکن خشوع و خضوع سے میرے لئے دعائیں کرو کہ اللہ میری اجل کو مؤخر کر دے۔ " چناچہ سب نے دعائیں شروع کیں لیکن خشوع و خضوع کا وقت آنے سے پہلے ہی اس طرح انہیں نیند آنے لگی کہ زبان سے ایک لفظ نکالنا مشکل ہوگیا، آپ نے انہیں بیدار کی کوشش میں ایک ایک کو جھنجھوڑ جھنجھوڑ کر کہا تمہیں کیا ہوگا ؟ ایک رات بھی جاگ نہیں سکتے ؟ میری مدد نہیں کرتے ؟ لیکن سب نے جواب دیا اے رسول اللہ ہم خود حیران ہیں کہ یہ کیا ہو رہا ہے ؟ ایک چھوڑ کئی کئی راتیں جاگتے تھے، جاگنے کے عادی ہیں لیکن اللہ جانے، آج کیا بات ہے کہ بری طرح نیند نے گھیر رکھا ہے، دعا کے اور ہمارے درمیان کوئی قدرتی رکاوٹ پیدا ہوگئی ہے تو آپ نے فرمایا ! اچھا پھر چرواہا رہے گا اور بکریاں تین تیرہ ہوجائیں گی، غرض اشاروں کنایوں میں اپنا مطلب ظاہر کرتے رہے، پھر فرمایا " دیکھو تم میں سے ایک شخص صبح کا مرغ بولنے سے پہلے تین مرتبہ میرے ساتھ کفر کرے گا اور تم میں سے ایک چندہ درہموں کے بدلے مجھے بیچ دے گا اور میری قیمت کھائے گا۔ " اب یہ لوگ یہاں سے باہر نکلے ادھر ادھر چلے گئے، یہود جو اپنی جستجو میں تھے، انہوں نے شمعون حواری کو پہچان کر اسے پکڑا اور کہا یہ بھی اس کا ساتھی ہے، مگر شمعون نے کہا " غلط ہے میں اس کا ساتھی نہیں ہوں۔ انہوں نے یہ باور کر کے اسے چھوڑ دیا لیکن کچھ آگے جا کر یہ دوسری جماعت کے ہاتھ لگ گیا، وہاں سے بھی اسی طرح انکار کر کے اپنا آپ چھڑایا۔ اتنے میں مرغ نے بانگ دی اب یہ پچھتانے لگے اور سخت غمگین ہوئے۔ صبح ایک حواری یہودیوں کے پاس پہنچتا ہے اور کہتا ہے کہ اگر میں تمہیں عیسیٰ کا پتہ بتادوں تو تم مجھے کیا دلواؤ گے ؟ انہوں نے کہا تیس درہم، چانچہ اس نے وہ رقم لے لی، اور حضرت عیسیٰ ؑ کا پتہ بتادیا۔ اس سے پہلے وہ شبہ میں تھے، اب انہوں نے گرفتار کرلیا اور رسیوں میں جکڑ کر گھسیٹتے ہوئے لے چلے اور بطور طعنہ زنی کے کہتے جاتے تھے کہ آپ تو مردوں کو زندہ کرتے تھے، جنات کو بھگا دیا کرتے تھی، مجنون کو اچھا کردیا کرتے تھے، اب کیا بات ہے کہ خود اپنے آپ کو نہیں بچا سکتے ان رسیوں کو بھی نہیں توڑ سکتے، تھو ہے تمہارے منہ پر ! یہ کہتے جاتے تھے اور کانٹے ان کے اوپر ڈالتے جاتے تھے۔ اسی طرح بےدردی سے گھسیتے ہوئے جب اس لکڑی کے پاس لائے جہاں سولی دینا تھی اور ارادہ کیا کہ سولی پر چڑھا دیں اس وقت اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو اپنی طرف چڑھا لیا اور انہوں نے دوسرے شخص کو جو آپ کے مشابہ تھا سولی پر چڑھا دیا۔ " پھر سات دن کے بعد حضرت مریم اور وہ عورت جس کو حضرت عیسیٰ نے جن سے نجات دلوائی تھی۔ وہاں آئیں اور رونے پیٹنے لگیں تو ان کے پاس حضرت عیسیٰ آئے اور ان سے کہا کہ " کیوں روتی ہو ؟ مجھے تو اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف بلند کرلیا ہے اور مجھے ان کی اذیتیں نہیں پہنچیں، ان پر تو شبہ ڈال دیا گیا ہے میرے حواریوں سے کہو کہ مجھ سے فلاں جگہ ملیں " چناچہ یہ بشارت جب حواریوں کو ملی تو وہ سب کے سب گیارہ آدمی اس جگہ پہنچے، جس حواری نے آپ کو بیچا تھا، اسے انہوں نے وہاں نہ پایا، دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ وہ ندامت اور شرمندگی کی وجہ سے اپنا گلا گھونٹ کر آپ ہی مرگیا، اس نے خودکشی کرلی۔ آپ نے فرمایا " اگر وہ توبہ کرتا تو اللہ اس کی توبہ قبول فرما لیتا۔ " پھر پوچھا کہ یہ بچہ جو تمہارے ساتھ ہے، اس کا نام یحییٰ ہے، اب یہ تمہارا ساتھی ہے سنو صبح کو تمہاری زبانیں بدل دی جائیں گی، ہر شخص اپنی اپنی قوم کی زبان بولنے لگے گا، اسے چاہئے کہ اسی قوم میں جا کر اسے میری دعوت پہنچائے اور اللہ سے ڈرائے۔ یہ واقعہ نہایت ہی غریب ہے، ابن اسحاق کا قول ہے کہ بنی اسرائیل کا بادشاہ جس نے حضرت عیسیٰ کے قتل کے لئے اپنی فوج بھیجی تھی اس کا نام داؤد تھا۔ حضرت عیسیٰ اس وقت سخت گھبراہٹ میں تھے، کوئی شخص اپنی موت سے اس قدر پریشان حواس باختہ اور اس قدر واویلا کرنے والا نہ ہوگا، جس قدر آپ نے اس وقت کیا۔ یہاں تک کہ فرمایا یا اللہ اگر تو موت کے پیالے کو کسی سے بھی ٹالنے والا ہے تو مجھ سے ٹال دے اور یہاں تک کہ گھبراہٹ اور خوف کے مارے ان کے بدن سے خون پھوٹ کر بہنے لگا، اس وقت اس مکان میں آپ کے ساتھ بارہ حواری تھے، جن کے نام یہ ہیں فرطوس، یعقوبس، ربداء، یبخس، (یعقوب کا بھائی) اندارا ابلیس، فیلبس، ابن یلما، منتا طوم اس، یعقوب بن حلقایا، نداوسیس، قتابیا، لیودس وکریا یوطا۔ بعض کہتے ہیں تیرہ آدمی تھے اور ایک کا نام سرجس تھا۔ اسی نے اپنا آپ سولی پر چڑھایا جانا حضرت عیسیٰ کی بشارت پر منظور کیا تھا۔ جب حضرت عیسیٰ ؑ آسمان پر چڑھا لئے گئے اور بقیہ لوگ یہودیوں کے ہاتھوں میں اسیر ہوگئے، اب جو گنتی گنتے ہیں تو ایک کم نکلا۔ اس کے بارے میں ان میں آپس میں اختلاف ہوا۔ یہ لوگ جب اس جماعت پر چھاپہ مارتے ہیں اور انہیں گرفتار کرنا چاہتے ہیں تو حضرت عیسیٰ کو چونکہ پہچانتے نہ تھے تو لیودس وکریا یوطا نے تیس درہم لے کر ان سے کہا تھا کہ میں سب سے پہلے جاتا ہوں جسے میں جا کر بوسہ دوں تم سمجھ لینا کہ عیسیٰ وہی ہے، جب یہ اندر پہنچتے ہیں، اس وقت حضرت عیسیٰ اٹھا لئے گئے تھے اور حضرت سرجس آپ کی صورت میں بنا دیئے گئے تھے، اس نے جا کر حسب قرار داد انہی کا بوسہ لیا اور یہ گرفتار کر لئے گئے پھر تو یہ بہت نادم ہوا اور اپنے گلے میں رسی ڈال کر پھانسی پر لٹک گیا اور نصرانیوں میں ملعون بنا۔ بعض کہتے ہیں اس کا نام یودس رکریا بوطا تھا، یہ جیسے ہی حضرت عیسیٰ کی پہچان کرانے کے لئے اس گھر میں داخل ہوا، حضرت عیسیٰ تو اٹھا لئے گئے اور خود اس کی صورت حضرت عیسیٰ جیسی ہوگئی اور اسی کو لوگوں نے پکڑ لیا، یہ ہزار چیختا چلاتا رہا کہ میں عیسیٰ نہیں ہوں، میں تو تمہارا ساتھی ہوں، میں نے ہی تو تمہیں عیسیٰ کا پتہ دیا تھا لیکن کون سنتا ؟ آخر اسی کو تختہ دار پر لٹکا دیا، اب اللہ ہی کو علم ہے کہ یہی تھا یا وہ تھا، جس کا ذکر پہلے ہوا۔ حضرت مجاہد کا قول ہے کہ حضرت روح اللہ کی مشابہت جس پر ڈال دی گئی تھی اسے صلیب پر چڑھایا اور حضرت عیسیٰ کو اللہ تعالیٰ نے زندہ آسمان پر اٹھا لیا۔ امام ابن جریر فرماتے ہیں " حضرت عیسیٰ کی شبیہ آپ کے ان تمام ساتھیوں پر ڈال دی گی تھی۔ " اس کے بعد ذکر ہوتا ہے کہ جناب روح اللہ کی موت سے پہلے جملہ اہل کتاب آپ پر ایمان لائیں گے اور قیامت تک آپ ان کے گواہ ہوں گے۔ امام ابن جریر فرماتے ہیں اس کی تفسیر میں کئی قول ہیں ایک تو یہ کہ عیسیٰ موت سے پہلے یعنی جب آپ دجال کو قتل کرنے کے لئے دوبارہ زمین پر آئیں گے اس وقت تمام مذاہب ختم ہوچکے ہوں گے اور صرف ملت اسلامیہ جو دراصل ابراہیم حنیف کی ملت ہے رہ جائے گی۔ ابن عباس فرماتے ہیں (موتہ) سے مراد موت عیسیٰ ہے ابو مالک فرماتے ہیں جب جناب مسیح اتریں گے، اس وقت کل اہل کتاب آپ پر ایمان لائیں گے۔ ابن عباس سے اور روایت میں ہے خصوصاً یہودی ایک بھی باقی نہیں رہے گا۔ حسن بصری فرماتے ہیں یعنی نجاشی اور ان کے ساتھی آپ سے مروی ہے کہ قسم اللہ کی حضرت عیسیٰ اللہ کے پاس اب زندہ موجود ہیں۔ جب آپ زمین پر نازل ہوں گے، اس وقت اہل کتاب میں سے ایک بھی ایسا نہ ہوگا جو آپ پر ایمان نہ لائے۔ آپ سے جب اس آیت کی تفسیر پوچھی جاتی ہے تو آپ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے مسیح ؑ کو اپنے پاس اٹھا لیا ہے اور قیامت سے پہلے آپ کو دوبارہ زمین پر اس حیثیت سے بھیجے گا کہ ہر نیک و بد آپ پر ایمان لائے گا۔ حضرت قتادہ، حضرت عبدالرحمٰن وغیرہ بہت سے مفسرین کا یہی فیصلہ ہے اور یہی قول حق ہے اور یہی تفسیر بالکل ٹھیک ہے، انشاء اللہ العظیم اللہ تعالیٰ کی مدد اور اس کی توفیق سے ہم اسے بادلائل ثابت کریں گے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ ہر اہل کتاب آپ پر اپنی موت سے پہلے ایمان لاتا ہے۔ اس لئے کہ موت کے وقت حق و باطل سب کھل جاتا ہے تو ہر کتابی حضرت عیسیٰ کی حقانیت کو زمین سے سدھارنے سے پہلے یاد کرلیتا ہے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کوئی یہودی نہیں مرتا جب تک کہ وہ حضرت روح اللہ پر ایمان نہ لائے۔ حضرت مجاہد کا یہی قول ہے۔ بلکہ ابن عباس سے تو یہاں تک مروی ہے کہ اگر کسی اہل کتاب کی گردن تلوار سے اڑا دی جائے تو اس کی روح نہیں نکلتی جب تک کہ وہ حضرت عیسیٰ پر ایمان نہ لائے اور یہ نہ کہہ دے کہ آپ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ حضرت ابی کی تو قرأت میں (قبل موتھم) ہے۔ ابن عباس سے پوچھا جاتا ہے کہ فرض کرو کوئی دیوار سے گر کر مرجائے ؟ فرمایا پھر بھی اس درمیانی فاصلے میں وہ ایمان لا چکتا ہے۔ عکرمہ، محمد بن سیرین، محمد ضحاک، سعید بن جبیر سے بھی یہی مروی ہے۔ ایک قول امام حسن سے ایسا بھی مروی ہے کہ جس کا مطلب پہلے قول کا سا بھی ہوسکتا ہے اور حضرت عیسیٰ کی موت سے پہلے کا بھی ہوسکتا ہے۔
تیسرا قول یہ ہے کہ اہل کتاب میں سے کوئی بھی ایسا نہیں ہوگا جو آنحضرت ﷺ پر اپنی موت سے پہلے ایمان لائے گا۔ عکرمہ یہی فرماتے ہیں۔ امام ابن جریر فرماتے ہیں ان سب اقوال میں زیادہ تر صحیح قول پہلا ہے کہ حضرت عیسیٰ آسمان سے قیامت کے قریب اتریں گے، اس وقت کوئی اہل کتاب آپ پر ایمان لائے بغیر نہ رہے گا۔ فی الواقع امام صاحب کا یہ فیصلہ حق بجانب ہے۔ اس لئے کہ یہاں کی آیتوں سے صاف ظاہر ہے کہ اصل مقصود یہودیوں کے اس دعوے کو غلط ثابت کرنا ہے کہ ہم نے جناب مسیح کو قتل کیا اور سولی دی اور اسی طرح جن جاہل عیسائیوں نے یہ بھی کہا ہے ان کے قول کو بھی باطل کرنا ہے، روح اللہ نہ مقتول ہیں، نہ مصلوب۔ تو اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ فی الواقع نفس الامر میں نہ تو روح اللہ مقتول ہوئے، نہ مصلوب ہوئے بلکہ ان کے لئے شبہ ڈال دیا گیا اور انہوں نے حضرت عیسیٰ جیسے ایک شخص کو قتل کیا لیکن خود انہیں اس حقیقت کا علم نہ ہوسکا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو تو اپنے پاس چڑھا لیا۔ وہ زندہ ہیں، اب تک باقی ہیں، قیامت کے قریب اتریں گے۔ جیسے صحیح متواتر احادیث میں ہے مسیح ہر گمراہ کو قتل کریں گے، صلیب کو توڑیں گے، خنزیروں کو قتل کریں گے، جزیہ قبول نہیں کریں گے، اعلان کردیں گے کہ یا تو اسلام کو قبول کرو یا تلوار سے مقابلہ کرو۔ پس اس آیت میں خبر دیتا ہے کہ اس وقت تمام اہل کتاب آپ کے ہاتھ پر ایمان قبول کریں گے اور ایک بھی ایسا نہ رہے گا جو اسلام کو مانے بغیر رہ جائے یا رہ سکے۔ پس جسے یہ گمراہ یہود اور یہ جاہل نصرانی مرا ہوا جانتے ہیں اور سولی پر چڑھایا ہوا مانتے ہیں، یہ ان کی حقیقی موت سے پہلے ہی ان پر ایمان لائیں گے اور جو کام انہوں نے ان کی موجودگی میں کئے ہیں اور کریں گے یہ ان پر قیامت کے دن اللہ کے سامنے گواہی دیں گے یعنی آسمان پر اٹھائے جانے کے قبل زندگی کے مشاہدہ کئے ہوئے کام اور دوبارہ کی آخری زندگی جو زمین پر گذاریں گے، اس میں ان کے سامنے جتنے کام انہوں نے کئے وہ سب آپ کی نگاہوں کے سامنے ہوں گے اور انہیں اللہ کے سامنے انہیں پیش کریں گے۔ ہاں اس کی تفسیر میں جو دو قول اور بیان ہوئے ہیں وہ بھی واقعہ کے اعتبار سے بالکل صحیح اور درست ہیں۔ موت کا فرشتہ آجانے کے بعد احوال آخرت، سچ جھوٹ کا معائنہ ہوجاتا ہے، اس وقت ہر شخص سچائی کو سچ کہنے اور سمجھنے لگتا ہے لیکن وہ ایمان اللہ کے نزدیک معتبر نہیں۔ اسی سورت کے شروع میں ہے آیت (وَلَيْسَتِ التَّوْبَةُ لِلَّذِيْنَ يَعْمَلُوْنَ السَّـيِّاٰتِ ۚ حَتّٰى اِذَا حَضَرَ اَحَدَھُمُ الْمَوْتُ قَالَ اِنِّىْ تُبْتُ الْــٰٔنَ وَلَا الَّذِيْنَ يَمُوْتُوْنَ وَھُمْ كُفَّارٌ ۭاُولٰۗىِٕكَ اَعْتَدْنَا لَھُمْ عَذَابًا اَلِـــيْمًا) 4۔ النسآء :18) اور جگہ فرمان ہے آیت (فَلَمَّا رَاَوْا بَاْسَنَا قَالُوْٓا اٰمَنَّا باللّٰهِ وَحْدَهٗ وَكَفَرْنَا بِمَا كُنَّا بِهٖ مُشْرِكِيْنَ) 40۔ غافر :84) یعنی جو لوگ موت کے آجانے تک برائیوں میں مشغول رہے ان کی توبہ قبول نہیں اور جو لوگ عذاب رب دیکھ کر ایمان لائیں، انہیں بھی ان کا ایمان نفع نہ دے گا۔ پس ان دونوں آیتوں کو سامنے رکھ کر ہم کہتے ہیں کہ پچھلے دو اقوال جن کی امام ابن جریر نے تردید کی ہے وہ ٹھیک نہیں۔ اس لئے کہ امام صاحب فرماتے ہیں اگر پچھلے دونوں قولوں کو اس آیت کی تفسیر میں صحیح مانا جائے تو لازم آتا ہے کہ کسی یہودی یا نصرانی کے اقرباء اس کے وارث نہ ہوں، اس لئے کہ وہ تو حضرت عیسیٰ پر اور حضرت محمد ﷺ پر ایمان لا کر مرا اور اس کے وارث یہود و نصاریٰ ہیں، مسلمان کا وارث کافر نہیں ہوسکتا۔ لیکن ہم کہتے ہیں یہ اس وقت ہے جب ایمان ایسے وقت لائے کہ اللہ کے نزدیک معتبر ہو، نہ ایسے وقت ایمان لانا جو بالکل بےسود ہے۔ ابن عباس کے قول پر گہری نظر ڈالئے کہ دیوار سے گرتے ہوئے، درندے کے جبڑوں میں، تلوار کے چلتے ہوئے وہ ایمان لاتا ہے تو ایسی حالت کا ایمان مطلق نفع نہیں دے سکتا۔ جیسے قرآن کی مندرجہ بالا دونوں آیتیں ظاہر کر رہی ہیں واللہ اعلم۔ میرے خیال سے تو یہ بات بہت صاف ہے کہ اس آیت کی تفسیر کے پچھلے دونوں قول بھی معتبر مان لینے سے کوئی اشکال پیش نہیں آتی۔ اپنی جگہ وہ بھی ٹھیک ہیں۔ لیکن ہاں آیت سے واقعی مطلب تو یہ نکلتا ہے جو پہلا قول ہے۔ تو اس سے مراد یہ ہے کہ عیسیٰ ؑ آسمانوں پر زندہ موجود ہیں، قیامت کے قریب زمین پر اتریں گے اور یہودیوں و نصرانیوں دونوں کو جھوٹا بتائیں گے اور جو افراط تفریط انہوں نے کی ہے، اسے باطل قرار دیں گے۔ ایک طرف ملعون جماعت یہودیوں کی ہے، جنہوں نے آپ کو آپ کی عزت سے بہت گرا دیا اور ایسی ناپاک باتیں آپ کی شان میں کہیں جن سے ایک بھلا انسان نفرت کرے۔ دوسری جانب نصرانی ہیں جنہوں نے آپ کے مرتبے کو اس قدر بڑھایا کہ جو آپ میں نہ تھا اس کے اثبات میں اتنے بڑھے کہ مقام نبوت سے مقام ربوبیت تک پہنچا دیا جس سے اللہ کی ذات بالکل پاک ہے۔ اب ان احادیث کو سنئے جن میں بیان ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ آخر زمانے میں قیامت کے قریب آسمان سے زمین پر اتریں گے اور اللہ وحدہ لا شریک لہ کی عبادت کی طرف سب کو بلائیں گے۔ صحیح بخاری شریف جسے ساری امت نے قبول کیا ہے اس میں امام محمد بن اسماعیل بخاری علیہ رحمتہ والرضوان کتاب ذکر انبیاء میں یہ حدیث لائے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ عنقریب تم میں ابن مریم نازل ہوں گے۔ عادل منصف بن کر صلیب کو توڑیں گے، خنزیر کو قتل کریں گے۔ جزیہ ہٹا دیں گے۔ مال اس قدر بڑھ جائے گا کہ اسے لینا کوئی منظور نہ کرے گا، ایک سجدہ کرلینا دنیا اور دنیا کی سب چیزوں سے محبوب تر ہوگا۔ اس حدیث کو بیان فرما کر راوی حدیث حضرت ابوہریرہ نے بطور شہادت قرآنی کے اسی آیت (وان من) کی آخر تک تلاوت کی۔ صحیح مسلم شریف میں بھی یہ حدیث ہے اور سند سے یہی روایت بخاری مسلم میں مروی ہے اس میں ہے کہ سجدہ اس وقت فقط اللہ رب العالمین کے لئے ہی ہوگا۔ اور اس آیت کی تلاوت میں قبل موتہ کے بعد یہ فرمان بھی ہے کہ قبل موت عیسیٰ بن مریم پھر اسے حضرت ابوہریرہ کا تین مرتبہ دوہرانا بھی ہے۔ مسند احمد کی حدیث میں ہے حضرت عیسیٰ حج یا عمرے پر یا دونوں پر لبیک کہیں گے، میدان حج میں، روحاء میں۔ یہ حدیث مسلم میں بھی ہے۔ مسند کی اور حدیث میں ہے عیسیٰ بن مریم اتریں گے، خنزیر کو قتل کریں گے، صلیب کو مٹائیں گے، نماز با جماعت ہوگی اور اللہ کی راہ میں مال اس قدر کثرت سے دیا جائے گا کہ کوئی قبول نہ کرنے والا نہ ملے گا۔ خراج چھوڑ دیں گے، روحاء میں جائیں گے اور وہاں سے حج یا عمرہ کریں گے یا دونوں ایک ساتھ کریں گے۔ پھر ابوہریرہ نے یہی آیت پڑھی لیکن آپ کے شاگرد حضرت حنظلہ کا خیال ہے کہ حضرت ابوہریرہ نے فرمایا " حضرت عیسیٰ کے انتقال سے پہلے آپ پر ایمان لائیں گے۔ " مجھے نہیں معلوم کہ یہ سب حدیث کے ہی الفاظ ہیں یا حضرت ابوہریرہ کے اپنے۔
صحیح بخاری میں ہے اس وقت کیا ہوگا، جب تم میں مسیح بن مریم اتریں گے اور تمہارا امام تمہیں میں سے ہوگا۔ ابو داؤد، مسند احمد وغیرہ میں ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا " انبیاء کرام (علیہم السلام) سب ایک باپ کے بیٹے بھائی کی طرح ہیں، مائیں جدا جدا اور دین ایک۔ عیسیٰ بن مریم سے زیادہ تر نزدیک میں ہوں اس لئے کہ میرے اور ان کے درمیان کوئی اور نبی نہیں، یقیناً وہ اترنے والے ہیں پس تم انہیں پہچان رکھو۔ درمیان قد ہے، سرخ سفید رنگ ہے۔ وہ دو گیروے رنگ میں رنگے ہوئے کپڑے اوڑھے اور باندھے ہوں گے، بال خشک ہونے کے باوجود ان کے سر سے قطرے ٹپک رہے ہوں گے، خنزیر کو قتل کریں گے، جزیہ قبول نہ کریں گے، لوگوں کو اسلام کی طرف بلائیں گے، ان کے زمانے میں تمام ملتیں مٹ جائیں گی، صرف اسلام ہی اسلام رہے گا، ان کے زمانے میں اللہ تعالیٰ مسیح دجال کو ہلاک کرے گا۔ پھر زمین پر امن ہی امن ہوگا یہاں تک کہ کالے ناگ اونٹوں کے ساتھ، چیتے گایوں کے ساتھ اور بھیڑیئے بکریوں کے ساتھ چرتے پھریں گے اور بچے سانپوں سے کھیلیں گے، انہیں کوئی نقصان نہ پہنچائیں گے، چالیس برس تک ٹھہریں گے، پھر فوت ہوں گے اور مسلمان آپ کے جنازے کی نماز ادا کریں گے۔ " ابن جریر کی اسی روایت میں ہے، آپ لوگوں سے اسلام کے لئے جہاد کریں گے، اس حدیث کا ایک ٹکڑا بخاری شریف میں بھی ہے اور روایت میں ہے " سب سے زیادہ قریب تر حضرت عیسیٰ سے دنیا اور آخرت میں میں ہوں۔ " صحیح مسلم میں ہے " قیامت قائم نہ ہوگی، جب تک رومی اعماق یا والق میں نہ اتریں اور ان کے مقابلہ کے لئے مدینہ سے مسلمانوں کا لشکر نہ نکلے گا، جو اس وقت تمام زمین کے لوگوں سے زیادہ اللہ کے پسندیدہ بندے ہوں گے، جب صفیں بندھ جائیں گی تو رومی کہیں گے تم سے ہم لڑنا نہیں چاہتے، ہم میں سے جو دین بدل کر تم میں ملے ہم ان سے لڑنا چاہتے ہیں تم بیچ میں سے ہٹ جاؤ لیکن مسلمان کہیں گے واللہ یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ ہم اپنے ان کمزور بھائیوں کو تمہارے حوالے کردیں۔ چناچہ لڑائی شروع ہوگی مسلمانوں کے اس لشکر کا تہائی حصہ تو شکست کھا کر بھاگ کھڑا ہوگا، ان کی توبہ اللہ تعالیٰ ہرگز قبول نہ فرمائے گا اور تہائی حصہ شہید ہوجائے گا، جو اللہ کے نزدیک سب سے افضل شہید ہیں لیکن آخری تہائی حصہ فتح حاصل کرے گا اور رومیوں پر غالب آجائے گا، پھر یہ کسی فتنے میں نہ پڑیں گے، قسطنطنیہ کو فتح کریں گے، ابھی تو وہ اپنی تلواریں زیتون کے درختوں پر لٹکائے ہوئے مال غنیمت تقسیم کر ہی رہے ہوں گے جو شیطان چیخ کر کہے گا کہ تمہارے بال بچوں میں دجال آگیا، اس کے اس جھوٹ کو سچ جان کر مسلمان یہاں سے نکل کھڑے ہوں گے، شام میں پہنچیں گے، دشمنوں سے جنگ آزما ہونے کے لئے صفیں ٹھیک کر رہے ہوں گے کہ دوسری جانب نماز کی اقامت ہوگی اور حضرت عیسیٰ بن مریم نازل ہوں گے، ان کی امامت کرائیں گے، جب دشمن رب انہیں دیکھے گا تو اسی طرح گھلنے لگے گا جس طرح نمک پانی میں گھلتا ہے، اگر حضرت عیسیٰ ؑ اسے یونہی چھوڑ دیں، جب بھی وہ گھلتے گھلتے ختم ہوجائے لیکن اللہ تعالیٰ اسے آپ کے ہاتھ سے قتل کرائے گا اور آپ اپنے حربے پر اس کا خون لوگوں کو دکھائیں گے۔ " مسند احمد اور ابن ماجہ میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں " معراج والی رات میں نے ابراہیم، موسیٰ اور عیسیٰ (علیہم السلام) سے ملاقات کی، آپس میں قیامت کی نسبت بات چیت ہونے لگی، ابراہیم ؑ نے اپنی لاعلمی ظاہر کی، اس طرح موسیٰ ؑ نے بھی، لیکن حضرت عیسیٰ نے فرمایا اس کے آنے کا ٹھیک وقت تو سوائے اللہ عزوجل کے کوئی نہیں جانتا، ہاں مجھ سے میرے رب نے جو عہد لیا ہے وہ یہ ہے کہ دجال نکلے گا اس کے ہمراہ دو شاخیں ہوں گی، مجھے دیکھ کر اس طرح پگھلنے لگے گا جس طرح سیسہ پگھلتا ہے، یہاں تک کہ پتھر اور درخت بھی بولنے لگیں گے کہ اے مسلمان یہاں میرے پیچھے ایک کافر ہے اور اسے قتل کرلیں، اللہ تعالیٰ ان سب کو غارت کر دے گا اور لوگ امن وامان کے ساتھ اپنے اپنے وطن اور شہروں کو لوٹ جائیں گے، اب یاجوج ماجوج نکلیں گے، ہر طرف سے چڑھ دوڑیں گے، تمام شہروں کو روندیں گے، جس جس چیز پر گذر ہوگا اسے ہلاک کردیں گے، جس پانی کے پاس سے گذریں گے پی جائیں گے، لوگ پھر لوٹ کر میرے پاس آئیں گے، میں اللہ سے دعا کروں گا، اللہ ان سب کو ایک ساتھ فنا کر دے گا لیکن ان کے مردہ جسموں سے ہوا بگڑ جائے گی، بدبو پھیل جائے گی، پھر مینہ برسے گا اور اس قدر کہ ان کی تمام لاشوں کو بہا کر سمندر میں ڈال دے گا۔ بس اس وقت قیامت کی اس طرح آمد آمد ہوگی جس طرح پورے دن کی حاملہ عورت ہو کہ اس کے گھر والے نہیں جانتے کہ صبح کو بچہ ہوجائے یا شام کو، رات کو پیدا ہو یا دن کو ؟ " مسند احمد میں ہے حضرت ابو نضرہ فرماتے ہیں ہیں ہم حضرت عثمان بن ابو العاص کے پاس جمعہ والے دن آئے کہ ہم اپنا لکھا ہوا قرآن ان کے قرآن سے ملائیں، جب جمعہ کا وقت آیا تو آپ نے ہم سے فرمایا " غسل کرلو " پھر خوشبو لے آئے جو ہم نے ملی، پھر ہم مسجد میں آئے اور ایک شخص کے پاس بیٹھ گئے جنہوں نے ہم سے دجال والی حدیث بیان کی پھر حضرت عثمان بن ابو العاص آئے، ہم کھڑے ہوگئے، پھر سب بیٹھ گئے، آپ نے فرمایا " میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ مسلمان کے تین شہر میں جائیں گے، ایک دونوں سمندر کے ملنے کی جگہ پر، دوسرا حیرہ میں اور تیسرا شام میں، پھر تین گھبراہٹیں لوگوں کو ہوں گی، پھر دجال نکلے گا، یہ پہلے شہر کی طرف جائے گا، وہاں کے لوگ تین حصوں میں بٹ جائیں گے، ایک حصہ تو کہے گا ہم اس کے مقابلہ پر ٹھہرے رہیں گے اور دیکھیں گے کہ کیا ہوتا ہے ؟ دوسری جماعت گاؤں کے لوگوں میں مل جائے گی اور تیسری جماعت دوسرے شہر میں چلی جائے گی جو ان سے قریب ہوگا، دجال کے ساتھ ستر ہزار لوگ ہوں گے، جن کے سروں پر تاج ہوں گے، ان کی اکثریت یہودیوں کی اور عورتوں کی ہوگی، یہاں کے یہ مسلمان ایک گھاٹی میں سمٹ کر محصور ہوجائیں گے، ان کے جانور جو چرنے چگنے کو گئے ہوں گے، وہ بھی ہلاک ہوجائیں گے، اس سے ان کے مصائب بہت بڑھ جائیں گے اور بھوک کے مارے برا حال ہوجائے گا، یہاں تک کہ اپنی کمانوں کی تانیں سینک سینک کر کھا لیں گے، جب سخت تنگی کا عالم ہوگا تو انہیں سمندر میں سے آواز آئے گی کہ لوگو تمہاری مدد آگئی، اس آواز کو سن کر یہ لوگ خوش ہوں گے، کیونکہ آواز سے جان لیں گے کہ یہ کسی آسودہ شخص کی آواز ہے، عین صبح کی نماز کے وقت حضرت عیسیٰ بن مریم ؑ نازل ہوں گے، ان کا امیر آپ سے کہے گا کہ اے روح اللہ آگے بڑھئے اور نماز پڑھایئے لیکن آپ کہیں گے کہ اس امت کے بعض بعض کے امیر ہیں، چناچہ انہی کا امیر آگے بڑھے گا اور نماز پڑھائے گا، نماز سے فارغ ہو کر اپنا حربہ ہاتھ میں لے کر مسیح دجال کا رخ کریں گے، دجال آپ کو دیکھ کر سیسے کی طرح پگھلنے لگے گا، آپ اس کے سینہ پر وار کریں گے جس سے وہ ہلاک ہوجائے گا اور اس کے ساتھی شکست کھا کر بھاگ کھڑے ہوں گے، لیکن انہیں کہیں امن نہیں ملے گا، یہاں تک کہ اگر وہ کسی درخت تلے چھپیں گے تو وہ درخت پکار کر کہے گا کہ اے مومن یہ ایک کافر میرے پاس چھپا ہوا ہے اور اسی طرح پتھر بھی۔ " ابن ماجہ میں ہے کہ حضور ﷺ نے اپنے ایک خطبہ کا کم و بیش حصہ دجال کا واقعہ بیان کرنے اور اس سے ڈرانے میں ہی صرف کیا، جس میں یہ بھی فرمایا کہ دنیا کی ابتداء سے لے کر انتہا تک کوئی فتنہ اس سے بڑا نہیں، تمام انبیاء اپنی اپنی امتوں کو اس سے آگاہ کرتے رہے ہیں، میں سب سے آخری نبی ہوں اور تم سب سے آخری امت ہو، وہ یقینا تمہیں میں آئے گا، اگر میری موجودگی میں آگیا تو میں آپ اس سے نمٹ لوں گا اور اگر بعد میں آیا تو ہر شخص کو اپنے آپ کو اس سے بچانا پڑے گا۔ میں اللہ تعالیٰ کو ہر مسلمان کا خلیفہ بناتا ہوں۔ وہ شام و عراق کے درمیان نکلے گا، دائیں بائیں خوب گھومے گا، لوگو اے اللہ کے بندو ! دیکھو دیکھو تم ثابت قدم رہنا، سنو میں تمہیں اس کی ایسی صفت بتاتا ہوں جو کسی نبی نے اپنی امت کو نہیں بتائی۔ وہ ابتداء میں دعویٰ کرے گا کہ میں نبی ہوں، پس تم یاد رکھنا کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں، پھر وہ اس سے بھی بڑھ جائے گا اور کہے گا میں اللہ ہوں، پس تم یاد رکھنا کہ اللہ کو ان آنکھوں سے کوئی نہیں دیکھ سکتا، ہاں مرنے کے بعد دیدار باری تعالیٰ ہوسکتا ہے اور سنو وہ کانا ہوگا اور تمہارا رب کانا نہیں، اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان " کافر " لکھا ہوگا جسے پڑھا لکھا اور ان پڑھ غرض ہر ایمان دار پڑھ لے گا۔ اس کے ساتھ آگ ہوگی اور باغ ہوگا اس کی آگ دراصل جنت ہوگی اور اس کا باغ دراصل جہنم ہوگا، سنو تم میں سے جسے وہ آگ میں ڈالے، وہ اللہ سے فریاد رسی چاہے اور سورة کہف کی ابتدائی آیتیں پڑھے، اس کی وہ آگ اس پر ٹھنڈک اور سلامتی بن جائے گی جیسے کہ خلیل اللہ پر نمرود کی آگ ہوگئی، اس کا ایک فتنہ یہ بھی ہوگا کہ وہ ایک اعرابی سے کہے گا کہ اگر میں تیرے مرے ہوئے باپ کو زندہ کر دوں تو تو مجھے رب مان لے گا وہ اقرار کرے گا، اتنے میں دو شیطان اسکی ماں اور باپ کی شکل میں ظاہر ہوں گے اور ان سے کہیں گے بیٹے یہی تیرا رب ہے تو اسے مان لے، اس کا ایک فتنہ یہ بھی ہوگا کہ وہ ایک شخص پر مسلط کردیا جائے گا اسے آرے سے چروا کردو ٹکڑے کروا دے گا، پھر لوگوں سے کہے گا میرے اس بندے کو دیکھنا اب میں اسے زندہ کر دوں گا، لیکن پھر بھی یہی کہے گا کہ اس کا رب میرے سوا اور ہے، چناچہ یہ اسے اٹھا بیٹھائے گا اور یہ خبیث اس سے پوچھے گا کہ تیرا رب کون ہے ؟ وہ جواب دے گا میرا رب اللہ ہے اور تو اللہ کا دشمن دجال ہے۔ اللہ کی قسم اب تو مجھے پہلے سے بھی بہت زیادہ یقین ہوگیا۔ دوسری سند سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا " یہ مومن میری تمام امت سے زیادہ بلند درجہ کا جنتی ہوگا۔ " حضرت ابو سعید خدری ؓ فرماتے ہیں اس حدیث کو سن کر ہمارا خیال تھا کہ یہ شخص حضرت عمر بن خطاب ہی ہوں گے آپ کی شہادت تک ہمارا یہی خیال رہا، حضور ﷺ فرماتے ہیں اس کا ایک فتنہ یہ بھی ہوگا کہ وہ آسمان کو پانی برسانے کا حکم دے گا اور آسمان سے بارش ہوگی، وہ زمین کو پیداوار اگانے کا حکم دے گا اور زمین سے پیداوار نکلے گی، اس کا ایک فتنہ یہ بھی ہوگا کہ وہ ایک قبیلے کے پاس جائے گا وہ اسے نہ مانیں گے، اسی وقت ان کی تمام چیزیں برباد اور ہلاک ہوجائیں گی، ایک اور قبیلے کے پاس جائے گا جو اسے خدا مان لے گا، اسی وقت اس کے حکم سے ان پر آسمان سے بارش برسے گی اور زمین پھل اور کھیتی اگائے گی، ان کے جانور پہلے سے زیادہ موٹے تازے اور دودھ والے ہوجائیں گے۔ سوائے مکہ اور مدینہ کے تمام کا گشت کرے گا، ان کے جانور پہلے سے زیادہ موٹے تازے اور دودھ والے ہوجائیں گے۔ سوائے مکہ اور مدینہ کے تمام زمین کا گشت کرے گا، جب مدینہ کا رخ کرے گا تو یہاں ہر ہر راہ پر فرشتوں کو کھلی تلواریں لئے ہوئے پائے گا تو ضریب کی انتہائی حد پر ضریب احمر کے پاس ٹھہر جائے گا، پھر مدینے میں تین بھونچال آئیں گے، اس وجہ سے جتنے منافق مرد اور جس قدر منافقہ عورتیں ہوں گی، سب مدینہ سے نکل کر اس کے لشکر میں مل جائیں گے اور مدینہ ان گندے لوگوں کو اس طرح اپنے میں سے دور پھینک دے گا جس طرح بھٹی لوہے کے میل کچیل کو لاگ کردیتی ہے، اس دن کا نام یوم الخلاص ہوگا۔ " ام شریک ؓ نے حضور ﷺ سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ اس دن عرب کہاں ہوں گے ؟ فرمایا اولاً تو ہوں گے ہی بہت کم اور اکثریت ان کی بیت المقدس میں ہوگی، ان کا امام پچھلے پیروں پیچھے ہٹے گا تاکہ آپ آگے بڑھ کر امامت کرائیں لیکن آپ اس کی کمر پر ہاتھ رکھ کر فرمائیں گے کہ آگے بڑھو اور نماز پڑھاؤ، اقامت تمہارے لئے کی گی ہے پس ان کا امام ہی نماز پڑھائے گا، فارغ ہو کر آپ فرمائیں گے، دروازہ کھول دو ، پس کھول دیا جائے گا، ادھر دجال ستر ہزار یہودیوں کا لشکر لئے ہوئے موجود ہوگا، جن کے سر پر تاج اور جن کی تلواروں پر سونا ہوگا، دجال آپ کو دیکھ کر اس طرح گھلنے لگے گا جس طرح نمک پانی میں گھلتا ہے اور ایک دم پیٹھ پھیر کر بھاگنا شروع کر دے گا لیکن آپ فرمائیں گے اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ کردیا ہے کہ تو میرے ہاتھ سے ایک ضرب کھائے تو اسے ٹال نہیں سکتا۔ چناچہ آپ اسے مشرقی باب لد کے پاس پکڑ لیں گے اور وہیں اسے قتل کریں گے، اب یہودی بد حواسی سے منتشر ہو کر بھاگیں گے لیکن انہیں کہیں سر چھپانے کو جگہ نہ ملے گی، ہر پتھر ہر درخت ہر دیوار اور ہر جانور بولتا ہوگا کہ اے مسلمان یہاں یہودی ہے، آ اسے مار ڈال، ہاں ببول کا درخت یہودیوں کا درخت ہے یہ نہیں بولے گا۔ " حضور ﷺ فرماتے ہیں اس کا رہنا چالیس سال تک ہوگا، سال آدھے سال کے برابر اور سال مہینہ بھر جیسا اور مہینہ جمعہ جیسا اور باقی دن مثل شرارہ کے۔
صبح ہی ایک شخص شہر کے ایک دروازے سے چلے گا، ابھی دوسرے دروازے تک نہیں پہنچا تو شام ہوجائے گی۔ لوگوں نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ پھر ان چھوٹے دنوں میں ہم نماز کیسے پڑھیں گے ؟ آپ نے فرمایا اندازہ کرلیا کرو جیسے ان لمبے دنوں میں اندازہ سے پڑھا کرتے تھے۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں پس عیسیٰ بن مریم میری امت میں حاکم ہوں گے، عادل ہوں گے، امام ہوں گے، با انصاف ہوں گے، صلیب کو توڑیں گے، خنزیر کو قتل کریں گے، جزیہ کو ہٹا دیں گے صدقہ چھوڑ دیا جائے گا پس بکری اور اونٹ پر کوشش نہ کی جائے گی، حسد اور بغض بالکل جاتا رہے گا، ہر زہریلے جانور کا زہر ہٹا دیا جائے گا، بچے اپنی انگلی سانپ کے منہ میں ڈالیں گے لیکن وہ انہیں کوئی ضرر نہیں پہنچائے گا، شیروں سے لڑکے کھیلیں گے نقصان کچھ نہ ہوگا، بھیڑئے بکریوں کے گلے میں اس طرح پھریں گے جیسے رکھوالا کتا ہو تمام زمین اسلام اور اصلاح سے اس طرح بھر جائے گی جیسے کوئی برتن پانی سے لبالب بھرا ہوا ہو، سب کا کلمہ ایک ہوجائے گا، اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ ہوگی، لڑائی اور جنگ بالکل موقف ہوجائے گی، قریش اپنا ملک سلب کرلیں گے، زمین مثل سفید چاندی کے منور ہوجائے گی اور جیسی برکتیں زمانہ آدم میں تھیں لوٹ آئیں گی، ایک جماعت کو ایک انگور کا خوشہ پیٹ بھرنے کے لئے کافی ہوگا، ایک انار اتنا ہوگا کہ ایک جماعت کھائی اور سیر ہوجائے بیل اتنی اتنی قیمت پر ملے گا اور گھوڑا چند درہموں پر ملے گا۔ لوگوں نے پوچھا اس کی قیمت گر جانے کی کیا وجہ ؟ فرمایا اس لئے کہ لڑائیوں میں اس کی سواری بالکل نہ لی جائے گی۔ دریافت کیا گیا بیل کی قیمت بڑھ جانے کی کیا وجہ ہے ؟ فرمایا اس لئے کہ تمام زمین پر کھیتیاں ہونی شروع ہوجائیں گی۔ دجال کے آنے سے تین سال پیشتر سے سخت قحط سالی ہوگی، پہلے سال بارش کا تیسرا حصہ بحکم الٰہی روک لیا جائے گا اور زمین کی پیداوار کا بھی تیسرا حصہ کم ہوجائے گا، پھر دوسرے سال اللہ آسمان کو حکم دے گا کہ بارش کی دو تہائیاں روک لے اور یہی حکم زمین کو اپنی پیداوار کی دو تہائیاں کم کر دے، تیسرے سال آسمان بارش کا ایک قطرہ نہ برسے گا، نہ زمین سے کوئی روئیدگی پیدا ہوگی، تمام جانور اس قحط سے ہلاک ہوجائیں گے مگر جسے اللہ چاہے۔ آپ سے پوچھا گیا کہ پھر اس وقت لوگ زندہ کیسے رہ جائیں گے، آپ نے فرمایا " ان کی غذا کے قائم مقام اس وقت ان کا لا الہ الا اللہ کہنا اور اللہ اکبر کہنا اور سبحان اللہ کہنا اور الحمد اللہ کہنا ہوگا۔ " امام ابن ماجہ ؒ فرماتے ہیں میرے استاد نے اپنے استاد سے سنا وہ فرماتے تھے یہ حدیث اس قابل ہے کہ بچوں کے استاد اسے بچوں کو بھی سکھا دیں بلکہ لکھوائیں تاکہ انہیں بھی یاد رہے یہ حدیث اس سند سے ہے تو غریب لیکن اس کے بعض حصوں کی شواہد دوسری حدیثیں ہیں۔ اسی حدیث جیسی ایک حدیث نواس بن سمعان عنہ سے مروی ہے اسے بھی ہم یہاں ذکر کرتے ہیں " صحیح مسلم شریف میں ہے ایک دن صبح کو آنحضرت ﷺ نے دجال کا ذکر کیا اور اس طرح اسے واضح بیان فرمایا کیا کہ ہم سمجھے، کہیں مدینہ کے نخلستان میں وہ موجود نہ ہو پھر جب ہم لوٹ کر آپ کی طرف آئے تو ہمارے چہروں سے آپ نے جان لیا اور دریافت فرمایا کہ کیا بات ہے ؟ ہم نے دل کی بات کہہ دی تو آپ نے فرمایا ! دجال کے علاوہ مجھے تو تم سے اس سے بھی بڑا خوف ہے، اگر وہ میری موجودگی میں نکلا تو میں آپ اس سے سمجھ لوں گا اور اگر وہ میرے بعد آیا تو ہر مسلمان اس سے آپ بھگت لے گا، اگر وہ میری موجودگی میں نکلا تو میں آپ اس سے سمجھ لوں گا اور اگر وہ میرے بعد آیا تو ہر مسلمان اس سے آپ بھگت لے گا، میں اپنا خلیفہ ہر مسلمان پر اللہ کو بناتا ہوں، وہ جوان ہوگا، آنکھ اس کی ابھری ہوئی ہوگی، بس یوں سمجھ لو کہ عبدالعزیٰ بن قطن جیسا ہوگا، تم میں جو اسے دیکھے اسے چاہئے کہ سورة کہف کی شروع کی آیتیں پڑھے وہ شام و عراق کے درمیانی گوشے سے نکلے گا اور دائیں بائیں گشت کرے گا، اے اللہ کے بندو ! خوب ثابت قدم رہنا، ہم نے پوچھا حضور ﷺ وہ رہے گا کتنی مدت ؟ آپ نے فرمایا چالیس دن، ایک دن سال کے برابر، ایک دن ایک مہینے کے برابر، ایک دن جمعہ کے برابر اور باقی دن تمہارے معمولی دنوں جیسے، پھر ہم نے دریافت کیا کہ جو دن سال بھر کے برابر ہوگا، کیا اس میں ایک ہی دن کی نماز کافی ہوں گی ؟ آپ نے فرمایا نہیں بلکہ اندازہ کرلو اور نماز ادا کرلو، ہم نے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ ! اس کی رفتار کی سرعت کیسی ہوگی ؟ فرمایا ایسی جیسے بادل ہواؤں سے بھاگتے ہیں۔ ایک قوم کو پانی طرف بلائے گا وہ مان لیں گے تو آسمان سے ان پر بارش برسے گی، زمین سے کھیتی اور پھل اگیں گے، ان کے جانور ترو تازہ اور زیادہ دودھ والے ہوجائیں گے، ایک قوم کے پاس جائے گا جو اسے جھٹلائے گی اور اس کا انکار کر دے گی، یہ وہاں سے لوٹے گا تو ان کے ہاتھ میں کچھ نہ رہے گا وہ بنجر زمین پر کھڑے ہو کر حکم دے گا کہ اے زمین کے خزانو نکل آؤ تو وہ سب نکل آئیں گے اور شہد کی مکھیوں کی طرح اس کے پیچھے پیچھے پھریں گے۔ یہ ایک نوجوان کو بلائے گا اور اسے قتل کرے گا اس کے ٹھیک دو ٹکڑے کر کے اتنی اتنی دور ڈال دے گا جو کسی تیر کی کمان سے نکلے ہوئے دوری ہو، پھر اسے آواز دے گا تو وہ زندہ ہو کر ہنستا ہوا اس کے پاس آجائے گا۔ اب اللہ تعالیٰ مسیح بن مریم ؑ کو بھیجے گا اور وہ دمشق کے سفید شرقی مینارے کے پاس دو چادریں اوڑھے دو فرشتوں کے پروں پر بازو رکھے ہوئے اتریں گے، جب سر جھکائیں گے تو قطرے ٹپکیں گے اور جب اٹھائیں گے تو مثل موتیوں کے وہ قطرے لڑھکیں گے، جس کافر تک ان کا سانس پہنچ جائے وہ مرجائے گا اور آپ کا سانس وہاں تک پہنچے گا جہاں تک نگاہ پہنچے، آپ دجال کا پیچھا کریں گے اور باب لد کے پاس اسے پا کر قتل کریں گے، پھر ان لوگوں کے پاس آئیں گے، جنہیں اللہ نے اسے فتنے سے بچایا ہوگا، ان کے چہروں پر ہاتھ پھیریں گے اور جنت کے درجنوں کی انہیں خبر دیں گے، اب اللہ کی طرف سے حضرت عیسیٰ کے پاس وحی آئے گی کہ میں اپنے ایسے بندوں کو بھیجتا ہوں جن کا مقابلہ کوئی نہیں کرسکتا تم میرے ان خاص بندوں کو طور کی طرف لے جاؤ، پھر یاجوج، ماجوج نکلیں گے اور وہ ہر طرف سے کودتے پھاندتے آجائیں گے، بحیرہ طبریہ پر ان کا پہلا گروہ آئے گا اور اس کا سارا پانی پی جائے گا، جب ان کے بعد ہی دوسرا گروہ آئے گا تو وہ اسے ایسا سوکھا ہوا پائے گا کہ وہ کہیں گے شاید یہاں کبھی پانی نہیں ہوگا ؟ حضرت عیسیٰ اور آپ کے ساتھی مومن وہاں اس قدر محصور رہیں گے کہ ایک بیل کا سرا نہیں اس سے بھی اچھا لگے جیسے تمہیں آج ایک سو دینار محبوب ہیں، اب آپ اور مومن اللہ سے دعائیں اور التجائیں کریں گے، اللہ ان پر گردن کی گلٹی کی بیماری بھیج دے گا، جس میں سارے کے سارے ایک ساتھ ایک دم میں فنا ہوجائیں گے، پھر حضرت عیسیٰ اور آپ کے ساتھی زمین پر اتریں گے مگر زمین پر بالشت بھر بھی ایسی نہ پائیں گے جو ان کی لاشوں سے اور بدبو سے خالی ہو، پھر اللہ تعالیٰ سے دعائیں اور التجائیں کریں گے تو بختی اونٹوں کی گردنوں کے برابر ایک قسم کے پرند اللہ تعالیٰ بھیجے گا جو ان کی لاشوں کو اٹھا کر جہاں اللہ چاہے ڈال آئیں گے، پھر بارش ہوگی، جس سے تمام زمین دھل دھلا کر ہتھیلی جیسی صاف ہوجائے گی، پھر زمین کو حکم ہوگا کہ اپنے پھل نکال اور اپنی برکتیں لوٹا، اس دن ایک انار ایک جماعت کو کافی ہوگا اور وہ سب اس کے چھلکے تلے آرام حاصل کرسکیں گے، ایک اونٹنی کا دودھ ایک پورے قبیلے سے نہیں پیا جائے گا، پھر پروردگار عالم ایک لطیف اور پاکیزہ ہوا چلائے گا جو تمام ایماندار مردوں عورتوں کی بغل تلے سے نکل جائے گی اور ساتھ ہی ان کی روح بھی پرواز کر جائے گی اور بدترین لوگ باقی رہ جائیں گے جو آپس میں گدھوں کی طرح دھینگا مشتی میں مشغول ہوجائیں گے ان پر قیامت قائم ہوگی۔ مسند احمد میں بھی ایک ایسی ہی حدیث ہے اسے ہم سورة انبیاء کی آیت (حَتّٰٓي اِذَا فُتِحَتْ يَاْجُوْجُ وَمَاْجُوْجُ وَهُمْ مِّنْ كُلِّ حَدَبٍ يَّنْسِلُوْنَ) 21۔ الانبیآء :96) کی تفسیر میں بیان کریں گے انشاء اللہ تعالیٰ۔
صحیح مسلم میں ہے کہ ایک شخص حضرت عبداللہ بن عمرو کے پاس آیا اور کہا کہ یہ کیا بات ہے جو مجھے پہنچی ہے کہ آپ فرماتے ہیں قیامت یہاں یہاں تک آجائے گی آپ نے سبحان اللہ یا لا الہ الا اللہ کہہ کر فرمایا میرا تو اب جی چاہتا ہے کہ تمہیں اب کوئی حدیث ہی نہ سناؤں، میں نے تو یہ کہا تھا کہ کچھ زمانے کے بعد تم بڑے بڑے امر دیکھو گے، بیت اللہ جلا دیا جائے گا اور یہ ہوگا وہ ہوگا وغیرہ۔ پھر فرمایا رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے کہ دجال نکلے گا اور میری امت میں چالیس تک ٹھہرے گا، مجھے نہیں معلوم کہ چالیس دن یا چالیس مہینے یا چالیس سال۔ پھر اللہ تعالیٰ عیسیٰ بن مریم کو بھیجے گا، آپ کی صورت مثل حضرت عروہ بن مسعود کے ہے۔ آپ اسے تلاش کر کے قتل کریں گے پھر سات سال تک لوگ اسی طرح رہیں گے کہ وہ بھی کچھ عداوت ہوگی، پھر ٹھنڈی ہوا شام کی طرف سے چلے گی اور سب ایمان والوں کو فوت کر دے گی، جس کے دل میں ایک ذرے برابر بھی بھلائی یا ایمان ہوگا اگرچہ وہ کسی پہاڑ کے غار میں ہو وہ بھی فوت ہوجائے گا، پھر بدترین لوگ باقی رہ جائیں گے جو پرندوں جیسے ہلکے اور درندوں جیسے دماغوں والے ہوں گے، اچھائی برائی کی کی کوئی تمیز ان میں نہ ہوگی، شیطان ان کے پاس انسانی صورت میں آ کر انہیں بت پرستی کی طرف مائل کرے گا لیکن ان کی اس حالت میں بھی ان کی روزی کے دوازے ان پر کھلے ہوں گے اور زندگی بہ آرام گذر رہی ہوگی، پھر صور پھونکا جائے گا، جس سے لوگ گرنے مرنے لگیں گے، ایک شخص جو اپنے اونٹوں کو پانی پلانے کے لئے ان کا حوض ٹھیک کر رہا ہوگا، سب سے پہلے صور کی آواز اس کے کان میں پڑے گی، جس سے یہ اور تمام اور لوگ بیہوش ہوجائیں گے۔ غرض سب کچھ فنا ہو چکنے کے بعد اللہ تعالیٰ مینہ برسائے گا، جو مثل شبنم کے یا مثل سائے کے ہوگا، اس سے دوبارہ جسم پیدا ہوں گے پھر دوسرا صور پھونکا جائے گا، سب کے سب جی اٹھیں گے، پھر کہا جائے گا لوگو اپنے رب کی طرف چلو، انہیں ٹھہرا کر ان سے سوال کیا جائے گا پھر فرمایا جائے گا جہنم کا حصہ نکالو، پوچھا جائے گا کتنوں سے کتنے ؟ جواب ملے گا ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے، یہ دن ہے جو بچوں کو بوڑھا بنا دے گا اور یہی دن ہے جس میں پنڈلی کھولی جائے گی۔ مسند احمد میں ہے ابن مریم باب لد کے پاس یا لد کی جانب مسیح دجال کو قتل کریں گے۔ ترمذی میں باب لد ہے اور یہ حدیث صحیح ہے۔ اس کے بعد امام ترمذی نے چند اور صحابہ کے نام بھی لئے ہیں کہ ان سے بھی اس باب کی حدیثیں مروی ہیں تو اس سے مراد وہ حدیثیں ہیں جن میں دجال کا مسیح علیہا لسلام کے ہاتھ سے قتل ہونا مذکور ہے۔ صرف دجال کے ذکر کی حدیثیں تو بیشمار ہیں، جنہیں جمع کرنا سخت دشوار ہے۔ مسند میں ہے کہ عرفے سے آتے ہوئے حضور ﷺ اپنے صحابہ کے ایک مجمع کے پاس سے گذرے اس وقت وہاں قیامت کے ذکر افکار ہو رہے تھے تو آپ نے فرمایا جب تک دس باتیں نہ ہولیں، قیامت قائم نہ ہوگی، آفتاب کا مغرب کی جانب سے نکلنا، دھوئیں کا آنا، دابتہ الارض کا نکلنا، یاجوج ماجوج کا آنا، عیسیٰ بن مریم کا نازل ہونا، دجال کا آنا، تین جگہ زمین کا دھنس جانا، شرق میں، غرب میں اور جزیرہ عرب میں اور عدن سے ایک آگ کا نکلنا جو لوگوں کو ہنکا کر ایک جگہ کر دے گی وہ شب باشی بھی انہی کے ساتھ کریں گے اور جب دوپہر کو وہ آرام کریں گے یہ آگ ان کے ساتھ ٹھہری رہے گی۔ یہ حدیث مسلم اور سنن میں بھی ہے اور حضرت حذیفہ بن اسید غفاری سے موقوفاً یہی مروی ہے واللہ اعلم۔ پس آنحضرت ﷺ کی یہ متواتر حدیثیں جو حضرت ابوہریرہ حضرت ابن مسعود حضرت عثمان بن ابو العاص، حضرت ابو امامہ، حضرت نواس بن سمعان، حضرت عبداللہ بن عمرو حضرت عیسیٰ ؑ نازل ہوں گے، ساتھ ہی ان میں یہ بھی بیان ہے کہ کس طرح اتریں گے اور کہاں اتریں گے اور کس وقت اتریں گے ؟ یعنی صبح کی نماز کی اقامت کے وقت شام کے شہر دمشق کے شرقی مینارہ پر آپ اتریں گے۔ اس زمانہ میں یعنی سن سات سو اکتالیس میں جامع اموی کا مینارہ سفید پتھر سے بہت مضبوط بنایا گیا ہے، اس لئے کہ آگ کے شعلہ سے یہ جل گیا ہے آگ لگانے والے غالباً ملعون عیسائی تھے کیا عجب کہ یہی وہ مینارہ ہو جس پر مسیح بن مریم ؑ نازل ہوں گے اور خنزیروں کو قتل کریں گے، صلیبوں کو توڑ دیں گے، جزیئے کو ہٹا دیں گے اور سوائے دین اسلام کے اور کوئی دین قبول نہ فرمائیں گے۔ جیسے کہ بخاری و مسلم کی حدیثیں گذر چکیں، جن میں پیغمبر صادق و مصدق ؑ نے یہ خبر دی ہے اور اسے ثابت بتایا ہے۔ یہ وہ وقت ہوگا جبکہ تمام شک شبے ہٹ جائیں گے، اور لوگ حضرت عیسیٰ کی پیروی کے ماتحت اسلام قبول کرلیں گے۔ جیسے اس آیت میں ہے اور جیسے فرمان ہے آیت (وانہ لعلم للساعتہ) اور ایک قرأت میں (لعلم) ہے۔ یعنی جناب مسیح قیامت کا ایک زبردست نشان ہے، یعنی قرب قیامت کا اس لئے کہ آپ دجال کے آچکنے کے بعد تشریف لائیں گے اور اسے قتل کریں گے۔ جیسے کہ صحیح حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کوئی بیماری ایسی نہیں پیدا کی جس کا علاج نہ مہیا کیا ہو، آپ ہی کے وقت میں یاجوج ماجوج نکلیں گے، جنہیں اللہ تعالیٰ آپ کی دعا کی برکت سے ہلاک کرے گا۔ قرآن کریم ان کے نکلنے کی خبر بھی دیتا ہے، فرمان ہے آیت (حَتّٰٓي اِذَا فُتِحَتْ يَاْجُوْجُ وَمَاْجُوْجُ وَهُمْ مِّنْ كُلِّ حَدَبٍ يَّنْسِلُوْنَ) 21۔ الانبیآء :96) یعنی ان کا نکلنا بھی قرب قیامت کی دلیل ہے۔اب حضرت عیسیٰ کی صفتیں ملاحظہ ہوں۔ پہلے کی دو احادیث میں بھی آپ کی صفت گذر چکی ہے، بخاری مسلم میں ہے کہ لیلتہ المعراج میں میں نے حضرت موسیٰ سے ملاقات کی وہ درمیانہ قد صاف بالوں والے ہیں، جیسی شنوہ قبیلے کے لوگ ہوتے ہیں اور حضرت عیسیٰ سے بھی ملاقات کی، وہ سرخ رنگ میانہ قد ہیں ایسا معلوم ہوتا ہے گویا ابھی حمام سے نکلے ہیں، حضرت ابراہیم کو بھی میں نے دیکھا بس وہ بالکل مجھ جیسے تھے۔ بخاری کی اور روایت میں ہے " حضرت عیسیٰ سرخ رنگ، گھنگریالے بالوں والے، چوڑے چکلے سینے والے تھے، حضرت موسیٰ گندمی رنگ کے جسم اور سیدھے بالوں والے تھے، جیسے زط کے لوگ ہوتے ہیں، اسی طرح آپ نے دجال کی شکل و صورت بھی بیان فرما دی ہے کہ اس کی داہنی آنکھ کافی ہوگی، جیسے پھولا ہوا انگور، آپ فرماتے ہیں مجھے کعبہ کے پاس خواب میں دکھلایا گیا کہ ایک بہت گندمی رنگ والے آدمی جن کے سر کے پٹھے دونوں کندھوں تک تھے، صاف بالوں والے جن کے سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے، دو شخصوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھے طواف کر رہے ہیں، میں نے پوچھا یہ کون ہیں ؟ تو مجھے بتلایا گیا کہ یہ مسیح بن مریم ہیں، میں نے ان کے پیچھے ہی ایک شخص کو دیکھا جس کی داہنی آنکھ کافی تھی، ابن قطن سے بہت ملتا جلتا تھا، سخت الجھے ہوئے بال تھے، وہ بھی دو شخصوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھے بیت اللہ کا طواف کر رہا ہے، میں نے کہا یہ کون یہ ؟ کہا گیا یہ مسیح دجال ہے۔ بخاری کی اور روایت میں حضرت عبداللہ سے مروی ہے کہ اللہ کی قسم حضور ﷺ نے حضرت عیسیٰ کو سرخ رنگ نہیں بتایا بلکہ آپ نے گندمی رنگ بتایا ہے، پھر اوپر والی پوری حدیث ہے۔ حضرت زہری فرماتے ہیں ابن قطن قبیلہ خزاعہ کا ایک شخص تھا، جو جاہلیت میں مرچکا تھا۔ وہ حدیث بھی گذر چکی جس میں یہ بیان ہے کہ جناب مسیح ؑ اپنے نزول کے بعد چالیس سال یہاں رہیں گے پھر فوت ہوں گے اور مسلمان آپ کے جنازے کی نماز ادا کریں گے۔ ہاں مسلم کی ایک حدیث میں ہے کہ آپ یہاں سال ہا سال رہیں گے، تو ممکن ہے کہ چالیس سال کا فرمان اس مدت سمیت کا ہو جو آپ نے دنیا میں اپنے آسمانوں پر اٹھائے جانے پہلے گذاری ہے۔ جس وقت آپ اٹھائے گئے اس وقت آپ کی عمر تینتیس سال کی تھی اور سات سال اب آخر زمانے کے تو پورے چالیس سال ہوگئے۔ واللہ اعلم (ابن عساکر) بعض کا قول ہے کہ جب آپ آسمانوں پر چڑھائے گئے اس وقت آپ کی عمر ڈیڑھ سال کی تھی، یہ بالکل فضول سا قول ہے، ہاں حافظ ابو القاسم ؒ نے اپنی تاریخ میں بعض سلف سے یہ بھی لکھا ہے کہ آنحضور ﷺ کے حجرے میں آپ کے ساتھ دفن کئے جائیں گے واللہ اعلم۔ پھر ارشاد ہے کہ یہ قیامت کے دن ان پر گواہ ہوں گے یعنی اس بات کے کہ اللہ کی رسالت آپ نے انہیں پہنچا دی تھی اور خود آپ نے اللہ کی عبودیت کا اقرار کیا تھا، جیسے سورة مائدہ کے آخر میں آیت (واذ قال اللہ) سے (الحکیم) تک ہے یعنی آپ کی گواہی کا وہاں ذکر ہے اور اللہ کے سوال کا۔
یہودیوں کے خود ساختہ حلال و حرام اس آیت کے دو مطلب ہوسکتے ہیں ایک تو یہ کہ حرام کام ان کا مقدر تھا یعنی اللہ کی طرف سے لکھا جا چکا تھا کہ یہ لوگ اپنی کتاب کو بدل دیں، اس میں تحریف کرلیں اور حلال چیزوں کو اپنے اوپر حرام ٹھہرا لیں، صرف اپنے تشدد اور اپنی سخت گیری کی وجہ سے، دوسرا یہ کہ یہ حرمت شرعی ہے یعنی نزول تورات سے پہلے جو بعض چیزیں ان پر حلال تھیں، توراۃ کے اترنے کے وقت ان کی بعض بدکاریوں کی وجہ سے وہ حرام قرار دے دی گئیں جیسے فرمان ہے آیت (كُلُّ الطَّعَامِ كَانَ حِلًّا لِّبَنِىْٓ اِ سْرَاۗءِيْلَ اِلَّا مَا حَرَّمَ اِسْرَاۗءِيْلُ عَلٰي نَفْسِھٖ مِنْ قَبْلِ اَنْ تُنَزَّلَ التَّوْرٰىةُ ۭ قُلْ فَاْتُوْا بالتَّوْرٰىةِ فَاتْلُوْھَآ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ) 3۔ آل عمران :93) یعنی اونٹ کا گوشت اور دودھ جو حضرت اسرائیل نے اپنے اوپر حرام کرلیا تھا، اس کے سوا تمام طعام بنی اسرائیل کے لئے حلال تھے پھر توراۃ میں ان پر بعض چیزیں حرام کی گئیں، جیسے سورة انعام میں فرمایا آیت (وَعَلَي الَّذِيْنَ هَادُوْا حَرَّمْنَا مَا قَصَصْنَا عَلَيْكَ مِنْ قَبْلُ ۚ وَمَا ظَلَمْنٰهُمْ وَلٰكِنْ كَانُوْٓا اَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُوْنَ) 16۔ النحل :118) یہودیوں پر ہم نے ہر ناخن دار جانور حرام کردیا اور گائے بکری کی چربی بھی جو الگ تھلگ ہو، ہم نے ان پر حرام قرار دے دی، یہ اس لئے کہ یہ باغی، طاغی، مخالف رسول اور اختلاف کرنے والے لوگ تھے پہلے یہاں بھی یہی بیان ہو رہا ہے کہ ان کے ظلم و زیادتی کے سبب وہ خود اللہ کے راستہ سے الگ ہو کر اور دوسروں کو بھی بہکانے کے باعث (جو ان کی پرانی عادت تھی) رسولوں کے دشمن بن جاتے تھے۔ انہیں قتل کر ڈالتے تھے، انہیں جھٹلاتے تھے، ان کا مقابلہ کرتے تھے اور طرح طرح کے حیلے کر کے سود خوری کرتے تھے جو محض حرام تھی اور بھی جس طرح بن پڑتا لوگوں کے مال غصب کرنے کی تاک میں لگے رہتے اور اس بات کو جانتے ہوئے کہ اللہ نے یہ کام حرام کئے ہیں جرات سے انہیں کر گذرے تھے، اس وجہ سے ان پر بعض حلال چیزیں بھی ہم نے حرام کردیں، ان کفار کے لئے درد ناک عذاب تیار ہیں۔ ان میں جو سچے دین والے اور پختہ علم والے ہیں، اس جملے کی تفسیر سورة آل عمران میں گذر چکی ہے اور جو باایمان ہیں وہ تو قرآن کو اور تمام پہلی کتابوں کو مانتے ہیں، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں اس سے مراد حضرت عبداللہ بن سلام، حضرت ثعلبہ بن سعید، زید بن سعید، حضرت اسید بن عبید ؓ ہیں، جو اسلام قبول کرچکے تھے اور حضور ﷺ کی نبوت کو مان چکے تھے آگے کا جملہ آیت (والمقیمین الصلوۃ) تمام ائمہ کے قرآن میں اور ابی بن کعب کے مصحف میں اسی طرح ہے لیکن بقول علامہ ابن جریر ابن مسعود کے صحیفہ میں آیت (والمقیمون الصلوۃ) ہے۔ صحیح قرأت اگلی ہے جن بعض لوگوں نے اسے کتابت کی غلطی بتایا ہے ان کا قول غلط ہے۔ بعض تو کہتے ہیں اس کی نصبی حالت مدح کی وجہ سے ہے، جیسے آیت (وَالْمُوْفُوْنَ بِعَهْدِهِمْ اِذَا عٰھَدُوْا) 2۔ البقرۃ :177) میں ہے اور کلام عرب میں اور شعروں میں برابر یہ قاعدہ موجود پایا جاتا ہے۔ بعض کہتے ہیں یہ عطف ہے اگلے جملے پر یعنی آیت (بِمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ وَمَآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ) 2۔ البقرۃ :4) پر یعنی وہ اس پر بھی ایمان لاتے ہیں اور نماز قائم کرنے پر بھی ان کا ایمان ہے یعنی اسے واجب و برحق مانتے ہیں، یا یہ مطلب ہے کہ اس سے مراد فرشتے ہیں یعنی ان کا قرآن پر اور الہامی کتابوں پر اور فرشتوں پر ایمان ہے۔ امام ابن جریر اسی کو پسند فرماتے ہیں لیکن اس میں تامل کی ضرورت ہے واللہ اعلم، اور زکوٰۃ ادا کرنے والے ہیں یعنی مال کی یا جان کی اور دونوں بھی مراد ہوسکتے ہیں واللہ اعلم اور صرف اللہ ہی کو لائق عبادت جانتے ہیں اور موت کے بعد کی زندگانی پر بھی یقین کامل رکھتے ہیں کہ ہر بھلے برے عمل کی جزا سزا اس دن ملے گی، یہی لوگ ہیں جنہیں ہم اجر عظیم یعنی جنت دیں گے۔