سورہ نساء: آیت 161 - وأخذهم الربا وقد نهوا عنه... - اردو

آیت 161 کی تفسیر, سورہ نساء

وَأَخْذِهِمُ ٱلرِّبَوٰا۟ وَقَدْ نُهُوا۟ عَنْهُ وَأَكْلِهِمْ أَمْوَٰلَ ٱلنَّاسِ بِٱلْبَٰطِلِ ۚ وَأَعْتَدْنَا لِلْكَٰفِرِينَ مِنْهُمْ عَذَابًا أَلِيمًا

اردو ترجمہ

اور سود لیتے ہیں جس سے انہیں منع کیا گیا تھا، اور لوگوں کے مال ناجائز طریقوں سے کھاتے ہیں، ہم نے بہت سی وہ پاک چیزیں ان پر حرام کر دیں جو پہلے ان کے لیے حلال تھیں، اور جو لوگ اِن میں سے کافر ہیں ان کے لیے ہم نے درد ناک عذاب تیار کر رکھا ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Waakhthihimu alrriba waqad nuhoo AAanhu waaklihim amwala alnnasi bialbatili waaAAtadna lilkafireena minhum AAathaban aleeman

آیت 161 کی تفسیر

آیت 161 وَّاَخْذِہِمُ الرِّبٰوا وَقَدْ نُہُوْا عَنْہُ شریعت موسوی میں سود حرام تھا ‘ آج بھی حرام ہے ‘ لیکن انہوں نے اس حکم کا اپنا ایک من پسند مفہوم نکال لیا ‘ جس کے مطابق یہودیوں کا آپس میں سود کا لین دین تو حرام ہے ‘ کوئی یہودی دوسرے یہودی سے سودی لین دین نہیں کرسکتا ‘ لیکن غیر یہودی سے سود لینا جائز ہے ‘ کیونکہ وہ ان کے نزدیک Gentiles اور Goyems ہیں ‘ انسان نما حیوان ہیں ‘ جن سے فائدہ اٹھانا اور ان کا استحاصل کرنا ان کا حق ہے۔ ہم سورة آل عمران آیت 75 میں یہود کا یہ قول پڑھ چکے ہیں : لَیسَ عَلَیْنَا فِیْ الْاُمِّیّٖنَ سَبِیْلٌ کہ ان امیینّ کے بارے میں ہم پر کوئی گرفت ہے ہی نہیں ‘ کوئی ذمہ داری ہے ہی نہیں۔ ہم جیسے چاہیں لوٹ مار کریں ‘ جس طرح چاہیں انہیں دھوکہ دیں ‘ ہم پر کوئی مواخذہ نہیں۔ لہٰذا سو دکھانے میں ان کے ہاں عمومی طور پر کوئی قباحت نہیں ہے۔

آیت 161 - سورہ نساء: (وأخذهم الربا وقد نهوا عنه وأكلهم أموال الناس بالباطل ۚ وأعتدنا للكافرين منهم عذابا أليما...) - اردو