اس صفحہ میں سورہ An-Nisaa کی تمام آیات کے علاوہ فی ظلال القرآن (سید ابراہیم قطب) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ النساء کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔
۞ لَّا خَيْرَ فِى كَثِيرٍ مِّن نَّجْوَىٰهُمْ إِلَّا مَنْ أَمَرَ بِصَدَقَةٍ أَوْ مَعْرُوفٍ أَوْ إِصْلَٰحٍۭ بَيْنَ ٱلنَّاسِ ۚ وَمَن يَفْعَلْ ذَٰلِكَ ٱبْتِغَآءَ مَرْضَاتِ ٱللَّهِ فَسَوْفَ نُؤْتِيهِ أَجْرًا عَظِيمًا
وَمَن يُشَاقِقِ ٱلرَّسُولَ مِنۢ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ ٱلْهُدَىٰ وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ ٱلْمُؤْمِنِينَ نُوَلِّهِۦ مَا تَوَلَّىٰ وَنُصْلِهِۦ جَهَنَّمَ ۖ وَسَآءَتْ مَصِيرًا
إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِۦ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن يَشَآءُ ۚ وَمَن يُشْرِكْ بِٱللَّهِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَٰلًۢا بَعِيدًا
إِن يَدْعُونَ مِن دُونِهِۦٓ إِلَّآ إِنَٰثًا وَإِن يَدْعُونَ إِلَّا شَيْطَٰنًا مَّرِيدًا
لَّعَنَهُ ٱللَّهُ ۘ وَقَالَ لَأَتَّخِذَنَّ مِنْ عِبَادِكَ نَصِيبًا مَّفْرُوضًا
وَلَأُضِلَّنَّهُمْ وَلَأُمَنِّيَنَّهُمْ وَلَءَامُرَنَّهُمْ فَلَيُبَتِّكُنَّ ءَاذَانَ ٱلْأَنْعَٰمِ وَلَءَامُرَنَّهُمْ فَلَيُغَيِّرُنَّ خَلْقَ ٱللَّهِ ۚ وَمَن يَتَّخِذِ ٱلشَّيْطَٰنَ وَلِيًّا مِّن دُونِ ٱللَّهِ فَقَدْ خَسِرَ خُسْرَانًا مُّبِينًا
يَعِدُهُمْ وَيُمَنِّيهِمْ ۖ وَمَا يَعِدُهُمُ ٱلشَّيْطَٰنُ إِلَّا غُرُورًا
أُو۟لَٰٓئِكَ مَأْوَىٰهُمْ جَهَنَّمُ وَلَا يَجِدُونَ عَنْهَا مَحِيصًا
درس نمبر 40 ایک نظر میں :
یہ سبق درس سابق کے ساتھ مربوط ہے اور ان دونوں کے درمیان کئی ربط ہیں ۔ اس میں بعض آیات تو درس سابق کے واقعہ کی باز گشت ہیں ۔ اس واقعہ اور وحی الہی کے بعد بشر ابن ابیرق جو چوری میں ملوث تھا ‘ مرتد ہوگیا تھا اور رسول اللہ کی مخالفت پر کمر بستہ ہوگیا تھا ۔ اور اسلام کے بعد دوبارہ جاہلیت میں چلا گیا تھا ۔ چناچہ اس حوالے سے اس سبق میں جاہلیت کی بات کی گئی ہے ۔ جاہلی خیالات ‘ تصورات اور اس نظام میں شیطان کی کارستانیاں وغیرہ ۔ بتایا جاتا ہے کہ اسلام اور جاہلیت کے درمیان سرحد شرکیہ عقاید ہیں ۔ اللہ کے نظام میں شرک کی معافی نہیں ہے ۔
اس کے سوا سب کچھ قابل معافی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس سبق میں راتوں کو خفیہ سازشوں سے بھی منع کیا گیا ہے اور جو کام بھی خفیہ ہوتے ہیں ان میں زیادہ تر اچھے نہیں ہوتے ۔ مثلا درس سابق میں چوری کے واقعہ میں جو نجوی ہوا ۔ نجوی کی ممانعت کے بعد اس میں بھلائی معروف مشورے اور لوگوں کے درمیان اصلاح وغیرہ کی اسکیموں کو اس سے مستثنی کیا گیا ۔ اس لئے کہ یہ تو کارثواب ہے ۔ پھر آخر میں بتایا جاتا ہے کہ اللہ کے ہاں جزا اس کے اپنے اصولوں کے مطابق ہوتی ہے اور اس میں کسی کی ذاتی چاہت کا کوئی دخل نہیں ہوتا ۔ نہ مسلمانوں اور نہ ہی اہل کتاب کی چاہت کا اس میں داخل ہوگا ۔ سب کام اللہ کے بےقید انصاف کے مطابق ہوگی ۔ اور سچائی کے مطابق ہوں گے اور اگر سچائی لوگوں کی چاہتوں کے پیچھے چلے تو زمین و آسمان کا تمام نظام فاسد ہوجائے ۔
غرض یہ سبق اپنے موضوع اور اپنے رخ کے اعتبار سے ۔ سابق کے ساتھ پوری طرح مربوط ہے ۔۔۔۔۔۔۔ اور اس کے علاوہ امت مسلمہ کی تربیت کی ایک نئی کڑی ہے جسے پوری انسانیت کی قیادت کے لئے تیار کرنا پیش نظر تھا ۔ اس طرح کہ وہ تنظیم میں فوقیت رکھتی ہو اور اسکی نظر میں ہو کہ اس کی صفوں میں کہاں کہاں کمزوریاں ہیں اور کہاں کہاں ابھی تک آثار جاہلیت باقی ہیں تاکہ وہ انکی اصلاح کرسکے ۔ یہ وہ مقصد ہے کہ اس پوری سورة میں اس کو پیش نظر رکھا گیا ہے ۔ اس سے متعلق کئی موضوع زیر بحث آئے اور پورے قرآن کریم کے مقاصد میں سے بھی یہ ایک اہم موضوع ہے ۔
درس 40 تشریح آیات :
114۔۔۔۔۔۔۔ تا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 126
(آیت) ” نمبر 114۔
قرآن کریم میں نجوی کی بار بار ممانعت کی گئی ہے ۔ نجوی یہ ہے کہ کوئی گروہ اسلامی جماعت سے علیحدہ اور اسلامی قیادت سے علیحدہ کوئی بات سوچے اور اس کیلئے جمع ہو ۔ اسلامی تربیت کا طریق کار یہ تھا کہ لوگ اپنی تمام مشکلات اور مسائل کو لے کر اسلامی قیادت کے پاس آتے اور اگر بات ذاتی ہوتی تو وہ تنہائی میں پیش کرتے تاکہ عوام الناس میں بات پھیل نہ جائے اور اگر بات کی نوعیت عمومی ہوتی تو اسے علانیہ پوچھتے یعنی اگر بات کا خصوصا پوچھنے والے سے تعلق نہ ہوتا ۔
اس پالیسی میں حکمت یہ تھی کہ اس کی وجہ سے جماعت مسلمہ کے اندر کوئی بلاک یا گروہ نہ بن سکتے تھے اور نہ ہی یہ ہو سکتا تھا کہ جماعت کے کچھ حصے اپنے تصورات اور اپنی مشکلات کو لے کر الگ ہوجائیں یا وہ اپنے رجحانات اور اپنے افکار کے مطابق اپنی راہ لیں ۔ یہ صورت حال بھی نہ ہو کہ جماعت کے کچھ لوگ رات کو مشورہ کرکے ایک بات کا فیصلہ کرلیں اور دن کے وقت جماعت کے اندر بطور ایک فیصلہ شدہ امر پیش کردیں ۔ اگرچہ حضور ﷺ کے دور میں تو کوئی بات مخفی نہ رہ سکتی تھی ‘ وہ جو کچھ مشورہ کرتے اللہ انکے ساتھ ہوتا اور بوقت ضرورت حضور اکرم ﷺ کو اطلاع دے دیتا ۔
مسجد نبوی جماعت مسلمہ کی پارلیمنٹ تھی ۔ وہاں لوگ باہم ملتے تھے ۔ نماز پڑھتے تھے اور زندگی کے تمام معاملات وہاں ہی طے ہوا کرتے تھے ۔ پھر اسلامی معاشرہ ایک کھلا معاشرہ (Open Society) تھا اس میں وہ تمام معاملات پیش ہوتے تھے جو جماعت کے جنگی اسرار و رموز سے متعلق نہ ہوتے یا ایسے مسائل نہ ہوتے جن کا تعلق لوگوں کی ذات اور خاندانوں سے ہو اور وہ پسند نہ کرتے ہوں کہ لوگوں کے علم میں آئیں ۔ اسلامی سوسائٹی چونکہ ایک کھلی سوسائٹی تھی اس لئے وہ آزاد اور پاک وصاف سوسائٹی تھی اور اس سوسائٹی میں علیحدہ جنبہ بنا راتوں کو مشورہ وہی لوگ کرتے تھے جو اس کے خلاف سازش کرتے تھے یا اس کے اصولوں میں سے کسی اصول کے خلاف جمع ہوتے تھے اور یہ لوگ عموما منافقین ہوا کرتے تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی نجوی ہوا ‘ اس میں منافقین شریک رہے ۔
یہ ایک ایسی حقیقت ہے جو ہمارے لئے بہت ہی مفید ہے ۔ اسلامی معاشرہ میں اس سے پاک وصاف ہونا چاہئے اس میں جن لوگوں کو کسی چیز کے بارے میں کوئی بھی خلجان ہو ‘ اسے چاہیے کہ وہ اسے قیادت عامہ کے سامنے پیش کرے ۔ یا اگر کوئی مشکل پیش آئے یا کوئی تجویز انکے سامنے ہو یا کوئی رجحان نظر آئے تو ان معاملات میں اسے قیادت کی طرف رجوع کرنا چاہئے ۔
یہاں قرآن مجید نے نجوی کی ایک قسم کو جائز رکھا ہے ۔ دراصل وہ نجوی ہی نہیں ہے اگرچہ شکل نجوی کی ہے ۔
(آیت) ” الا من ابر بصدقۃ اومعروف او اصلاح بین الناس (4 : 114) (ہاں اگر کوئی پوشیدہ طور پر صدقہ و خیرات کی تلقین کرے یا کسی نیک کام کے لئے یا لوگوں کے معاملات میں اصلاح کرنے کے لئے کسی سے کچھ کہے تو یہ البتہ بھلی بات ہے)
مثلا دو اچھے اور نیک آدمی جمع ہوں اور ایک دوسرے کے ساتھ مشورہ کریں کہ کیا فلاں شخص کی مدد کے لئے یا فلاں کام میں روپیہ خرچ کرنا چاہئے اس لئے کہ اس شخص کو ضرورت ہے اور مجھے اس کی ضرورت کا علم ہے یا یہ کہ فلاں کام میں خرچ کرنے کی ضرورت ہے ‘ آئیے یہ کام کریں ۔ یا یہ کہ فلاں اور فلاں کے درمیان اختلافات پیدا ہوگئے ہیں ‘ آئیے ان کے درمیان مصالحت کرا دیں ۔ ایسے لوگوں کی کوئی انجمن یا سوسائٹی بھی بن سکتی ہے جو مشورہ کرکے کسی نیک کام میں باہم تعاون کرسکتی ہے بشرطیکہ یہ کام نہ نجوی ہوں اور نہ اسلامی نظام کے خلاف کوئی سازش ۔ اگرچہ ظاہری شکل میں یہ نجوی بھی ہوگا لیکن قرآن نے اسے ” امر “ کے لفظ سے تعبیر کیا ہے کیونکہ اس قسم کی محدود ساسائٹی بعض اوقات اپنے امور رات کو تنہائی میں طے کرتی ہے اور ان کا مقصد معروف اور بھلائی کا کام ہوتا ہے ۔
لیکن اس قسم کی سوسائٹی کے لئے بھی ضروری ہے کہ اس کی تشکیل اور سرگرمی کی رضا مندی کے حصول کے لئے ہو۔
(آیت) ” ومن یفعل ذلک ابتغآء مرضات اللہ فسوف نوتیہ اجرا عظیما (4 : 114) (اور جو کوئی اللہ کی رضا جوئی کے لئے ایسا کرے گا تو اسے ہم بڑا اجر عطا کریں گے)
یعنی کسی شخص پر صدقہ کرنے اور فلاں اور فلاں کے درمیان اصلاح حال کرنے کا مقصد یہ نہ ہو کہ یہ کام کرنے والے لوگ اس طرح مشہور ہوجائیں کہ لوگ کہیں کہ خدا کی قسم یہ بہت ہی اچھے لوگ ہیں کہ صدقہ و خیرات کے لئے لوگوں کو آمادہ کرتے ہیں اور لوگوں کے درمیان اصلاح کا کام کرتے ہیں ۔ غرض اس کام میں انکے پیش نظر رضائے الہی کے حصول کے سوا اور کوئی مقصد نہ ہو ۔ یہ ہے وہ فرق و امتیاز جو محض رضائے الہی اور اجر اخروی کے لئے کئے جانے والے کام اور اس کام کے درمیان ہوتا ہے ‘ جو کسی اور غرض کے لئے کیا جاتا ہے ۔ اگرچہ بظاہر دونوں کام ایک جیسے ہوتے ہیں لیکن ایک کا اندراج بھلائی کے رجسٹر میں ہوتا ہے اور دوسرے کا اندراج برائیوں کے رجسٹر میں ہوتا ہے ۔
(آیت) ” 115 تا 116۔
ان آیات کے نزول کے سلسلے میں یہ کہا گیا ہے کہ بشیر ابن ابیرق مرتد ہوگیا اور جاکر مشرکین مکہ کے ساتھ مل گیا حالانکہ اس پر راست واضح ہوچکی تھی ۔ پہلے وہ اسلامی صفوں میں تھا لیکن اس نے اہل ایمان کی راہ کو چھوڑ کر دوسری راہ کو اپنا لیا۔ لیکن یہ آیت مضمون اور اطلاق کے اعتبار سے عام ہے ۔ اس کا اطلاق ہر اس حالت پر ہوگا جس میں رسول اللہ ﷺ کی مخالفت کی جارہی ہو ۔ جس میں آپ کی مخالفت میں کفر ‘ شرک اور ارتداد اختیار کیا گیا ہو اور اس طرح کے قدیم وجدید تمام واقعات پر اس کا اطلاق ہوگا ۔
(المشاقہ) کا مفہوم یہ ہے کہ ایک شخص ایک ٹکڑا لے اور دوسرا اس کے مقابلے میں دوسرا ٹکڑا لے لے ۔ اور جو شخص رسول اللہ کے ساتھ شقاق کرتا ہے وہ رسول کے بالمقابل جنبہ بالمقابل صف ‘ اور بالمقابل پارٹی کو اختیار کرتا ہے اور رسول اللہ ﷺ کے جن بےپارٹی اور محاذ کی مخالفت کرتا ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے نافذ کردہ نظام زندگی کے بالمقابل نظام حیات لے کر آئین تھے جس کے اندر عقیدے اور نظریات بھی شامل تھے ‘ جس کے اندر مراسم عبودیت بھی تھے ۔ جس کے اندر نظام قانون اور نظام حکومت بھی تھا اور یہ نظام زندگی کے تمام شعبوں پر حاوی تھا۔ اور یہ تمام امور اسلامی نظام کے مجموعی جسم کے اعضاء تھے ۔ اور اصول یہ ہے کہ اگر ان اعضاء کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا جائے تو نظام قائم نہیں رہ سکتا ۔ اس کی روح نکل جائے گی ۔ جو شخص رسول کے ساتھ شقاق کرتا ہے یہ وہی شخص ہے جو یا تو اسلامی نظام حیات کو مکمل طور پر رد کرتا ہے اور یا بعض حصوں کو مانتا ہے اور بعض کا انکار کرتا ہے ۔ یعنی ایک حصہ لیتا ہے اور دوسرا چھوڑتا ہے ۔
اللہ کی رحمت کا تقاضا یہ ہوا کہ کہیں ان پر حجت تمام نہ ہوجائے اور وہ برے ٹھکانے جہنم کے مستحق نہ ہوجائیں اس لئے اللہ نے انکی جانب رسول بھیجے ۔ رسولوں نے لوگوں کے سامنے سچائی بیان کی انہوں نے لوگوں پر راہ ہدایت کو بالکل واضح کردیا ۔ پھر اگر وہ انکار کریں گے تو گمراہی کو اختیار کریں گے ۔ یہ اللہ کی وسیع رحمت تھی کہ اللہ نے اس ضعیف مخلوق کے لئے صراط مستقیم پرچلنے کا یہ اہتمام کیا۔ پھر جب کسی پہ راہ حق واضح ہوجائے اور رسول موجود ہو اور پھر بھی وہ رسول کی راہ کے مقابلے میں دوسری راہ اختیار کرے اور آپ پر ایمان نہ لائے اور آپ کی اطاعت نہ کرے اور اسلامی نظام اور نظام مصطفیٰ ﷺ پر راضی نہ ہو ‘ تو اب حجت تمام ہوتی ہے اور اللہ ان کے حق میں گمراہی لکھ دیتے ہیں اور پھر اسی طرف اسے موڑ دیتے ہیں جس طرف وہ مڑ جاتا ہے ۔ پھر اسے اللہ کفار کے حوالے کردیتا ہے۔ وہ مشرکین کا ساتھی ہوجاتا ہے اور اب اس پر وہ عذاب حق بن جاتا ہے جس کا اللہ نے اعلان کیا ۔
(آیت) ”۔ ومن یشاقق الرسول من بعد ماتبین لہ الھدی ویتبع غیر سبیل المؤمنین نولہ ما تولی ونصلہ جھنم وسآءت مصیرا (4 : 115)
ترجمہ :” مگر جو شخص رسول کی مخالفت پر کمر بستہ ہو اور اہل ایمان کی روش کے سوا کسی اور روشن پر چلے ‘ درآنحالیکہ اس پر راہ راست واضح ہوچکی ہو تو اس کو ہم اس طرف چلائیں گے جدھر خود وہ پھر گیا اور اسے جہنم میں جھونکیں گے جو بدترین جائے قرار ہے ۔
اس برے انجام کی دلیل یہ دی جاتی ہے کہ اللہ کی مغفرت ہر گناہ کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے مگر شرک ایسا گناہ ہے جس کے لئے ہر گز معافی نہیں ہے ۔
(آیت) ”۔ ان اللہ لا یغفر ان یشرک بہ ویغفر ما دون ذلک لمن یشآء ومن یشرک باللہ فقد ضل ضلا بعیدا “ (4 : 116)
” اللہ کے ہاں بس شرک کی بخشش نہیں ہے ۔ اس کے سوا اور سب کچھ معاف ہو سکتا ہے جسے وہ معاف کرنا چاہئے جس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا وہ تو گمراہی میں بہت دور نکل گیا ۔ “
جیسا کہ ہم اس سے قبل اسی مضمون کی آیت کی تفسیر میں کہہ آئے ہیں کہ شرک کے معنی یہ ہیں کہ اللہ کے ساتھ دوسرے الہوں کو شریک کیا جائے جس عرب دور جاہلیت میں کیا کرتے تھے اور جس طرح عربوں کے علاوہ دوسری قدیم جاہلیتیں کرتی تھیں ۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کے خصائص الوہیت خصوصا صفت حاکمیت میں بھی کسی اور کو شریک کرنے کے سے شرک کا ارتکاب ہوتا ہے ۔ مثلا کسی انسان کو حکم سمجھا جائے ۔ جس طرح یہود ونصاری کے شرک کے بارے میں قرآن کریم نے کہا ہے کہ انہوں نے اپنے احبار اور رہبان کو اللہ کے سوا الہ بنا رکھا ہے ۔
یہ لوگ احبارو رہبان کی عبادت اس طرح نہ کرتے تھے جس طرح وہ اللہ کی عبادت کرتے تھے بلکہ وہ ان احبار اور رہبان کو حق قانون سازی دیتے تھے ۔ یہ لوگ ان کے لئے حلال و حرام کے حدود بھی متعین کرتے تھے اور یہود ونصاری اس کام میں ان کی اطاعت کرتے تھے ۔ اس طرح وہ ان لوگوں کو خصائص الوہیت میں سے ایک حصہ عطا کردیتے تھے اس لئے وہ مشرک قرار پائے ان کے بارے میں یہ بھی کہا گیا کہ انہوں نے توحید کے سلسلے میں اللہ کی ہدایات کی خلاف ورزی کر ڈالی تھی ‘ حالانکہ اللہ کی طرف سے انہیں حکم صرف یہ تھا کہ وہ صرف الہی واحد کی بندگی کریں ‘ صرف اللہ وحدہ کے مراسم عبودیت ادا کریں اور اوامر ونواہی کے ساتھ ساتھ قانون کا ماخذ حکم الہی کو قرار دیں ۔
اللہ کے صریح احکام واعلانات کے مطاق گناہ شرک کے لئے کوئی معافی نہیں ہے بشرطیکہ کوئی حالت شرک میں مر جائے شرک کے سوا تمام گناہوں کے معافی ہو سکتی ہے اگر اللہ راضی ہوجائے ۔ سوال یہ ہے کہ شرک کو اس قدر عظیم جرم کیوں قرار دیا گیا ہے کہ وہ ناقابل معافی ہے ؟ اصل حقیقت یہ ہے کہ جو شخص شرک کا ارتکاب کرتا ہے وہ خیر اور بھلائی کے دائرے ہی سے خارج ہوجاتا ہے ۔ اور اس کی فطرت ہی بگڑ جاتی ہے اور اس کی اصلاح کی کوئی امید نہیں رہتی ۔
(آیت) ” ومن یشرک باللہ فقد ضل ضلا بعیدا (4 : 116) (جس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا وہ گمراہی میں بہت دور نکل گیا) ۔۔۔۔۔ اگر ایسے شخص کی فطرت کے تار وپود میں سے کوئی ایک دھا کہ بھی باقی ہوتا تو وہ اسے اللہ کے نظریہ وحدانت کے ساتھ جوڑے رکھت الیکن اس نے تمام رشتے توڑ دیئے ۔ اگر شرک سین کوئی تائب ہوجائے اور موت سے چند منٹ پہلے تائب ہوجائے تو بھی نجات پالے گا ہاں اگر حالت نزع طاری ہو اور وہ مشرک ہو تو اب اس کا انجام یہ ہوگا کہ (آیت) ” ونصلہ جھنم وسآءت مصیرا “ (4 : 115) (ہم اسے واصل جہنم کریں گے اور یہ بہت ہی برا انجام ہے) ۔
اس کے بعد اللہ تعالیٰ جاہلیت کے بعض ادہام و خرافات کا تذکرہ کرتا ہے ۔ عربی جاہلیت کے اندر جو شرکیہ خرافات جاری تھیں ان میں سے ایک یہ تھی کہ وہ ملائکہ کو اللہ کی بیٹیاں کہتے تھے ۔ یہ لوگ شیطان کی بھی پوجا کرتے تھے ‘ جس طرح انہوں نے ملائکہ کے بت بنا رکھے تھے ‘ پھر ان کے اندر ایسی رسوم بھی تھیں کہ جو جانور وہ نذر کرتے تھے ان کے کان کاٹ دیتے تھے یا پھاڑ دیتے تھے ۔ یہ ان کے الہوں کی نذر ہوتے تھے اور اس طرح وہ اللہ کی پیدائش اور تخلیق کو متغیر کرتے تھے ۔ اور اس طرح شرک کرتے تھے حالانکہ شرک کرنے کا معنی یہ ہے کہ جس طرح انسان فطرت کو بگاڑ دے ۔
(آیت) ” نمبر 117 تا 120 ،
دور جاہلیت میں عرب یہ سمجھتے تھے کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں ۔ پھر وہ ان فرشتوں کی مورتیاں بنانے اور ان کے نام عورتوں کے ناموں سے رکھتے ۔ لات ‘ عزی اور منات وغیرہ ۔ پھر وہ ان بتوں کو پوجتے تھے اور پوجتے اس لئے تھے کہ یہ اللہ کی بیٹیوں کے بت ہیں ۔ یوں وہ بارگاہ الہی میں ان کو تقرب کا ذریعہ بناتے تھے ۔ ابتداء میں اس طرح انہوں نے شرک کا آغاز کیا تھا ۔ اس کے بعد انہوں نے اس کہانی کیا اصلیت کو بھلا دیا اور ان بتوں کی پوجا بذاتہ کرنے لگے ۔ اس کے بعد جب مزید آگے بڑھے تو مطلق پتھروں کی پوجا شروع کردی۔ پارہ چہارم میں ہم نے اس کی کچھ تفصیلات دی ہیں۔
ان میں سے بعض بذات خود شیطان کے بھی پجاری تھے ۔ یہ آیت اس بارے میں نص ہے ۔ کلبی کہتے ہیں کہ خزاعہ کی شاخ بنو ملیح جنوں کی پوجا کرتے تھے ۔ لیکن اس آیت کا مفہوم بڑا وسیع ہے ‘ اس طرح کہ وہ اپنے شرک میں شیطان کو پکارتے تھے اور اس سے امداد طلب کرتے تھے اور شیطان کا قصہ ان کے دادا آدم کے ساتھ مشہور تھا جسے اللہ نے ملعون قرار دیا تھا ۔ اس لئے کہ اس نے انسان کے ساتھ اپنی دشمنی کا اعلان کردیا تھا ۔ جب اللہ تعالیٰ نے اسے راندہ درگاہ کیا تو اسے انسان پر بہت غصہ آگیا اور وہ اس کا سخت دشمن بن گیا اس نے اللہ سے مہلت مانگی کہ وہ اسے موقعہ دے کہ جو اللہ کے محفوظ قلعے میں پناہ نہیں لیتا وہ اسے گمراہ کرسکے ۔
(آیت) ” ان یدعون من دونہ الا انثا وان یدعون الا شیطان مریدا۔ (117) لعنہ اللہ وقال لاتخذن من عبادک نصیبا مفروضا (118) ولاضلنھم ولا منینھم ولامرنھم فلیبتکن اذان الانعام ولامرنھم بلیغیرن خلق اللہ “۔ (119) (4 : 117 تا 119)
(وہ اللہ کو چھوڑ کر دیویوں کو معبود بناتے ہیں ۔ وہ اس باغی شیطان کو معبود بناتے ہیں جس کو اللہ نے لعنت زدہ کیا ہے ۔ (وہ اس شیطان کی اطاعت کر رہے ہیں) جس نے اللہ سے کہا تھا کہ ” میں تیرے بندوں سے ایک مقرر حصہ لے کر رہوں گا ۔ میں انہیں بہکاؤں گا ‘ میں انہیں آرزوؤں میں الجھاؤں گا ‘ میں انہیں حکم دوں گا اور وہ میرے حکم سے جانوروں کے کان پھاڑیں گے اور میں انہیں حکم دوں گا اور وہ میرے حکم سے خدائی ساخت میں ردوبدل کریں گے ۔
یہ لوگ شیطان کو پکارتے ہیں جو ان کا قدیمی دشمن ہے ۔ وہ ہدایات لیتے ہیں اور اس گمراہی میں اس سے امداد لیتے ہیں ‘ حالانکہ یہ شیطان وہ ذات ہے جس پر اللہ نے لعنت بھیجی ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے تصریح کردی ہے کہ اس کا ارادہ یہ ہے کہ وہ بنی آدم کے ایک بڑے حصے کو گمراہ کر کے رہے گا ۔ انہیں جھوٹی تمناؤں اور جھوٹی خواہشات کا گرویدہ بنا دے گا ۔ وہ جھوٹی لذتوں ‘ موہوم کامیابیوں اور آخرت کی خوش آئندہ امیدوں میں گم رہیں گے ۔ نیز وہ شیطان جس نے اعلانیہ اپنے اس ارادے کا اظہار کیا تھا کہ وہ ان انسانوں سے نہایت ہی قبیح اور احمقانہ حرکات کا صدور کرائے گا ۔ وہ نہایت ہی بودے تصورات کے قائل ہوں گے اور محض قصے کہانیوں پر دین کا فیصلہ کریں گے ۔ مثلا یہ کہ وہ بعض جانوروں کے کان پھاڑ کر کہیں گے کہ اب اس پر سواری حرام ہے یا ان کا گوشت کھانا حرام ہے حالانکہ اللہ نے ایسا کوئی حکم نہیں دیا نیز وہ فطرت انسانی اور خلق الہی میں بےجا تغیرات کریں گے مثلا جسم کے بعض اجزاء کاٹیں گے ۔ انسانوں اور حیوانوں کی شکلیں بدلیں گے مثلا غلاموں کو خصی کریں گے اور ان کے چمڑے پر نشانات بنائیں گے ۔ غرض یہ اور تمام دوسرے غیر فطری افعال وحرکات جس کی اجازت فطرت سلیمہ اور اسلام دونوں نہیں دیتے ۔
انسان کا یہ شعور کہ اس کا قدیم دشمن شیطان ہی شرک اور شرکیہ نظریات کا داعی ہے اور ہی ہے جو بت پرستی کی طرف لوگوں کو آمادہ کرتا ہے ‘ انسان کو کم ازکم ان کی کانا پھوسی سے محتاج کردیتا ہے جو دشمن کی طرف سے ہوتی ہے ۔ اسلام نے زندگی کی اس جنگ کو انسان اور شیطان کے درمیان ایک معرکہ قرار دیا ہے ۔ اور انسان کی پوری قوتوں کو اس طرف متوجہ کیا کہ وہ اس جنگاہ میں شیطان اور اس کرہ ارض پر اس کی پیدا کردہ تمام شرارتوں کے خلاف جدوجہد کریں ۔ وہ اللہ اور حزب اللہ کے جھنڈے کے نیچے جمع ہوں کیونکہ انسان اور شیطان کے درمیان برپا یہ معرکہ ایک دائمی جنگ کا اعلان کیا تو وہ اس جنگ میں تھکتا ہی نہیں ہے ۔ مومن بھی اس سے غافل نہیں ہوتا ‘ نہ مومن اس جنگ سے باہر آسکتا ہے ‘ اس لئے کہ اسے معلوم ہے کہ اس جنگ میں یا تو وہ اللہ کا وہی ہوگا یا وہ شیطان کا دوست ہوگا ۔ اس کے درمیان کوئی تیسرا موقف سرے سے ہے ہی نہیں ۔ شیطان کی ٹیکنیک یہ ہے کہ وہ انسان کے دلوں میں شہوت اور لذت اور عیش وطرب پیدا کرتا ہے ۔ پھر یہ اپنا کام مشرکین اور شرپسندوں اور عیاشوں کے روپ میں کرتا ہے ۔ ایک مسلمان اپنی ذات اور اپنے ہمراہیوں کے ساتھ اس کے مقابلے میں آتا ہے اور پوری زندگی کے اندر یہ طویل اور نہ ختم ہونے والی جنگ جاری رہتی ہے ۔
جو شخص اپنا مددگار اللہ کو بنا لے وہ کامیاب ہوجاتا ہے اور جو شخص شیطان کا ساتھی اور مددگار بن جاتا ہے اور شیطان اس کی امداد کرتا ہے تو وہ ہلاک ہوجاتا ہے ۔
(آیت) ” ومن یتخذ الشیطن ولیا من دون اللہ فقد خسر خسرانا مبینا “۔ (4 : 119) (شیطان کو جس نے اللہ کے بجائے اپنا ولی و سرپرست بنا لیا وہ صریح نقصان میں پڑگیا)
قرآن کریم شیطان کے اس کردار کی بھی تصویر کشی کرتا ہے جو وہ اپنے ساتھیوں کے حوالے سے ادا کرتا ہے ۔ ملاحظہ فرمائیے کہ گمراہ کرنے میں اس کا طریقہ واردات کیا ہے ؟
(آیت) ” یعدھم ویمنیھم وما یعدھم الشیطن الا غرورا (4 : 120) (وہ ان لوگوں سے وعدے کرتا ہے اور انہیں امیدیں دلاتا ہے ‘ مگر شیطان کے سارے وعدے بجز فریب کے اور کچھ نہیں ہیں ۔ )
شیطان کا طریقہ گمراہی یہ ہے کہ وہ انسان کے برے اعمال کو اس کی نظروں میں بہت ہی خوشنما بنا دیتا ہے ۔ یہ کام وہ نہایت ہی فریب کاری سے کرتا ہے ۔ وہ یہ باور کراتا ہے کہ طریق معصیت میں ہی اس کا فائدہ اور دنیوی اور اخروی کامیابی ہے اس طرح انسان شیطان کے ساتھ رفاقت اختیار کرلیتا ہے ۔ وہ اسے باور کراتا ہے کہ ان اعمال کے نتیجے میں اس کو نجات حاصل ہوگی اور یوں انسان خوشی خوشی ہلاکت کی طرف بڑھتا ہے ۔ حالانکہ (آیت) ” ( وما یعدھم الشیطن الا غرورا (4 : 120) (شیطان کا وعدہ محض فریب ہوتا ہے ۔
جب شیطان کا طریقہ واردات کی اس قدر واضح انداز میں تصویر کشی کے باوجود یہ ازلی دشمن اپنے پھندے پھیلاتا ہے اور جال بچھاتا ہے اور شکار کو آہستہ آہستہ اس کی طرف ہانکتا ہے ‘ تو اس کے جال اور پھندے میں وہی لوگ پھنستے ہیں جن کی فطرت بدل چکی ہو اور ان کے نفس سے صلاح کے تمام آثار مٹائے جاچکے ہوں ۔ ایسے ہی لوگ مدہوش اور خفتہ ہوتے ہیں اور یہ بات نہیں سوچتے کہ انہیں کس راہ پر چلایا جارہا ہے اور کس فریب میں ان کو پھنسایا جارہا ہے ۔
اہل ہدایت کو بیدار کرنے کے لئے جو ٹچ دیا جا رہا تھا ‘ وہ کام ہی کر رہا تھا اور را ہوار خیال اس معرکے کی نوعیت کے بارے میں سوچ ہی رہا تھا کہ اچانک ہی ان لوگوں کا انجام سامنے آجاتا ہے جن کو شیطان نے اپنے پھندے میں پھنسا لیا ہوتا ہے اور جن کو اس نے اپنے منصوبے کے بارے میں پختہ یقین دہانی کرائی ہوتی ہے اور جن پر اس کا اعلان کردہ جادو چل چکا ہوتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ان لوگوں کا انجام بھی اسکرین پر آتا ہے جو شیطان کے پھندے سے نکل گئے ‘ اس لئے کہ وہ اللہ تعالیٰ پر صحیح طرح ایمان لا چکے تھے ۔ اور جن لوگوں کا ایمان پختہ ہوتا ہے وہ شیطان کے پھندے سے محفوظ ہوتے ہیں ‘ اس لئے کہ شیطان کو اللہ نے ملعون قرار دیا ہے اور اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے جب اسے لوگوں کے اغوا کرنے اور گمراہ کرنے کا موقعہ دیا تھا تو اس وقت ہی اللہ تعالیٰ نے یہ کہہ دیا تھا کہ میرے مخلص بندوں کا تم کچھ نہ بگاڑ سکو گے ۔ چناچہ وہ ہمیشہ اللہ کے مخلص بندوں کے معاملے میں کمزور رہا ۔ جب تک انہوں نے اللہ کی راسی کو مضبوطی سے پکڑے رکھا ۔ ذرا غور فرمائیے !
(آیت) ” ومن یتخذ الشیطن ولیا من دون اللہ فقد خسر خسرانا مبینا “۔ (119) یعدھم ویمنیھم وما یعدھم الشیطن الا غرورا (4 : 119۔ 120)
( ” جس نے شیطان کو جس نے اللہ کے سوا الہ بنا لیا وہ صریح گھاٹے میں رہا ، وہ ان لوگوں سے وعدے کرتا ہے اور انہیں امیدیں دلاتا ہے ‘ مگر شیطان کے سارے وعدے بجز فریب کے اور کچھ نہیں ہیں ۔ )
(آیت) ” نمبر 121 تا 122۔
اور وہ جہنم جس سے اولیاء الشیطان کو بھی چھٹکارا نہ ہوگا ۔ دوسری جانب جنت ہے جس میں خدا دوست ہمیشہ رہیں گے (۔۔۔۔ ومن اصدق من اللہ قیلا (4 : 122) (اور اللہ سے بڑھ کر سچی بات کس کی ہوگی)
اللہ کی بات مطلقا سچی ہوتی ہے جس کے مقابلے میں شیطان کی بات فریب اور جھوٹ ہوتی ہے اور جو لوگ شیطان کے جھوٹے وعدوں میں آجاتے ہیں اور جو لوگ اللہ کے سچے وعدے پر یقین کرتے ہیں ان دونوں کے موقف میں بہت ہی بڑا فرق ہے ۔
اس کے بعد قرآن کریم عمل اور جزائے عمل کے بارے میں اللہ کے عظیم اور ناقابل تغیر اصول کو بیان کرتا ہے کہ ثواب و عقاب کا دارومدار محض خواہشات نفس اور تمناؤں پر نہیں ہوتا ۔ ثواب و عقاب ایک مستقل سنت اور دائمی اصول پر مبنی ہوتا ہے اور وہ ایک نہایت ہی مثبت قانون ہے ۔ اس قانون کا اطلاق تمام امتوں میں رہا ہے ‘ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کا نہ نسب ملتا ہے اور نہ ہی کسی کے ساتھ اللہ کی رشتہ داری ہے اور دنیا میں کوئی نہیں ہے کہ اس کے لئے اس اصول میں کوئی نرمی کی جائے یا اس کیوجہ سے سنت الہیہ میں کوئی تبدیلی یا تخلف ہوگا ۔ یا اس کے مفاد میں قانون بدل جائے گا ۔ جو برا کرے گا وہ جزائے بد سے دو چار ہوگا اور جو اچھائی کرے گا وہ جزائے خیر پائے گا ‘ غرض جیسا کرو گے ویسا بھرو گے اس میں نہ دوستی ہے اور نہ لحاظ ۔