لاتجعلوا دعآ الرسول بینکم کدعآء بعضکم بعضا (24 : 63) ” مسلمانو ‘ اپنے درمیان رسول کے بلانے کو آپس میں ایک دوسرے کا بلانا نہ سمجھ بیٹھو “۔ چاہیے کہ تمہارے دل رسول اللہ ﷺ کی محبت سے بھرے ہوئے ہوں۔ لہٰذا رسول اللہ ﷺ کے احترام میں مناسب ترین الفاظ کا انتخاب کرو۔ یہ قیادت کے لیے ایک نہایت ہی ضروری اصول ہے اس لیے کہ کسی مربی ‘ کسی استاد ‘ کسی قائد کا مناسب احترام لازم ہے اور کارکنوں کے شعور اور سلوک میں فائدہ کے احترام اور محبت ہو۔ ایک کارکن اپنے قائد کے ساتھ ضرورت سے زیادہ بےتکلف نہ ہو۔ اس کے بعد منافقین کو متنبہ کیا جاتا ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی اجازت کے بغیر کھسک جاتے ہیں اور ایک دوسرے کی اوٹ لے کر بھاگ جاتے ہیں۔ اگر وہ مسلمانوں اور رسول اللہ ﷺ کی نظروں سے اپنے آپ کو چھپاتے ہیں تو اللہ کی نظروں سے تو وہ چھپ نہیں سکتے۔
قد یعلم اللہ الذین یتسللون منکم لواذا (24 : 63) ” اللہ ان لوگوں کو خوب جانتا ہے جو تم میں سے ایسے ہیں کہ ایک دوسرے کی آڑ لیے ہوئے چپکے سے کھسک جاتے ہیں “۔ یہ اس شخص کی عجیب تصویر کشی ہے جو مجلس کی نظروں سے چھپ چھپا کر کھسک جاتا ہے۔ اس سے یہ ظاہر کرنا مطلوب ہے کہ یہ شخص سامنے آکر اجازت لے کر نہیں جاتا بلکہ چور کی طرح چھپ کر نکلتا ہے اور اس کی یہ حرکت شعور کے اندر اس شخص کے لیے حقارت پیدا کردیتی ہے۔
(فلیحذر الذین۔۔۔۔۔۔۔ عذاب الیم) (24 : 63) ” رسول کے حکم کی خلاف ورزی کرنے والوں کو ڈرنا چاہیے کہ وہ کسی فتنے میں گرفتار نہ ہوجائیں یا جو امر رسول ﷺ کی مخالفت کرتے ہیں ‘ جور سول اللہ ﷺ کے طریقوں سے مخالف طریقوں پر چلتے ہیں اور ذاتی کاموں اور ذاتی مفادات کے لیے اجتماعی ٹیموں کی صف سے چپکے سے نکل جاتے ہیں۔ ان کو اس بات سے ڈرنا چاہیے کہ ان کے اندر اختلافات پیدا ہو کر وہ فتنہ عظیم میں مبتلا نہ ہوجائیں۔ ان کی اقدار ہی نہ بدل جائیں ‘ حق و باطل میں تمیز نہ رہے اور ان کا نظام متزلزل نہ ہوجائے۔ ان کے اندر پاک لوگوں اور خبیث لوگوں کا متزاج ہوجائے ‘ جماعتی معاملات میں فتور پڑجائے اور جماعتی زندگی کی چولیں ڈھیلی ہو ئیں۔ اس طرح کہ کوئی شخص اپنے نفس کے بارے میں مطمئن نہ ہو۔ کوئی کسی حد پر نہ رکتا ہو۔ اور جماعت کے اندر سے خیر و شر کا معیار مٹ جائے۔ ایسے حالات تمام افراد جماعت کے لیے نقصان دہ ہوتے ہیں۔
او یصیبھم عذاب الیم (24 : 63) ” یا ان پر درد ناک عزاب آجائے “۔ چاہے یہ عذاب دنیا میں آجائے یا آخرت میں آئے۔ یہ عذاب اس لیے آئے گا کہ ان لوگوں نے حکم الہی کی مخالفت کی اور اس نظام کو ترک کردیا جسے اللہ نے ان کے لیے پسند فرمایا تھا۔
یہ تنبیہ اور شدید ڈر اوا یہاں ختم ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ سورة نور بھی ختم ہوتی ہے اور خاتمہ کلام پر لوگوں کو خبردار کیا جاتا ہے کہ اللہ تمہارے تمام کرتوتوں سے واقف ہے۔ جو اچھے کام کرتے ہیں ان کو بھی جانتا ہے اور جو انحراف کی راہوں پر چل نکلے ہیں ان کو بھی جانتا ہے اور ایک دن وہ تمہارے سامنے تمہارا مکمل نامہ اعمال پیش کردے گا۔
آیت 63 لَا تَجْعَلُوْا دُعَآء الرَّسُوْلِ بَیْنَکُمْ کَدُعَآءِ بَعْضِکُمْ بَعْضًا ط ”یعنی رسول اللہ ﷺ کا بلاوا غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ کسی دوسرے شخص کے بلانے پر تم نہ جاؤ تو کوئی بڑی بات نہیں ‘ لیکن رسول ﷺ کے بلانے پر تم لبیک نہ کہو تو اپنے ایمان کی خیر مناؤ۔ اب ایک بلانا یہ بھی ہے کہ کسی شخص کو اس کے کسی دوست نے اپنے گھر کھانے کی دعوت دی اور دوسری طرف رسول اللہ ﷺ نے بھی کسی کو اپنے ہاں کھانے کی دعوت دی۔ ایسی صورت میں رسول اللہ ﷺ کی دعوت کجا اور ایک عام آدمی کی دعوت کجا !۔۔ لیکن ایک بلانا اللہ کے رستے میں جہاد کے لیے بلانا ہے کہ ایک طرف رسول اللہ ﷺ لوگوں کو بلا رہے ہیں کہ آؤ اللہ کی راہ میں میرے ساتھ چلو اور دوسری طرف کوئی عام شخص کسی دوسرے شخص کو اپنی مدد کے لیے بلا رہا ہے تو رسول اللہ ﷺ کے بلانے اور ایک عام آدمی کے بلانے میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔”دُعَآء الرَّسُوْلِ“ کا ایک مفہوم ”رسول ﷺ کو پکارنا“ بھی ہے۔ یعنی جیسے تم لوگ آپس میں ایک دوسرے کو مخاطب کرتے ہو ‘ رسول اللہ ﷺ کو تم ایسے مخاطب نہیں کرسکتے۔ آپ ﷺ کے ادب اور احترام کے بارے میں سورة الحجرات میں بہت واضح ہدایات دی گئی ہیں : یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْٓا اَصْوَاتَکُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَلَا تَجْہَرُوْا لَہٗ بالْقَوْلِ کَجَہْرِ بَعْضِکُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُکُمْ وَاَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ ”اے ایمان والو ! اپنی آوازیں نبی ﷺ کی آواز پر بلند نہ کرو اور نہ آپ ﷺ سے اونچی آواز میں بات کرو جیسے تم ایک دوسرے سے اونچی آواز میں بات کرتے ہو ‘ کہیں تمہارے سارے اعمال برباد نہ ہوجائیں اور تمہیں پتا بھی نہ چلے“۔ سورة الحجرات کے مطالعہ کے دوران اس بارے میں مزید تفصیل سے بات ہوگی۔قَدْ یَعْلَمُ اللّٰہُ الَّذِیْنَ یَتَسَلَّلُوْنَ مِنْکُمْ لِوَاذًا ج ”یہ ایسے لوگوں کا ذکر ہے جن کی نیت میں پہلے سے ہی فتور ہوتا ہے۔ ایسے لوگوں کا معاملہ یوں ہوتا ہے کہ جب لوگ کسی مہم کے لیے نکلے تو یہ بھی نکل پڑے۔ پھر جب دیکھا کہ ان کا نام جانے والوں میں شامل ہوچکا ہے تو اس کے بعد آنکھ بچا کر چپکے سے ایک دوسرے کی آڑ لیتے ہوئے کھسک گئے۔ یا اس کی ایک صورت یہ بھی ہوسکتی ہے کہ کسی اجتماع میں شریک ہوئے ‘ وہاں اچانک کسی مہم کے لیے کچھ رضا کاروں کی ضرورت پڑگئی تو اب اس سے پہلے کہ رضا کاروں کے نام پوچھنے کا مرحلہ آتا ‘ یہ آنکھ بچا کر وہاں سے کھسک گئے۔
آپ ﷺ کو پکارنے کے آداب لوگ حضور ﷺ کو جب بلاتے تو آپ کے نام یا کنیت سے معمولی طور پر جیسے آپس میں ایک دوسرے کو پکارا کرتے ہیں آپ کو بھی پکار لیا کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے اس گستاخی سے منع فرمایا کہ نام نہ لو بلکہ یا نبی اللہ یارسول اللہ کہہ کر پکارو۔ تاکہ آپ کی بزرگی اور عزت وادب کا پاس رہے۔ اسی کے مثل آیت (يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقُوْلُوْا رَاعِنَا وَقُوْلُوا انْظُرْنَا وَاسْمَعُوْا ۭ وَلِلْكٰفِرِيْنَ عَذَابٌ اَلِــيْمٌ01004) 2۔ البقرة :104) ہے اور اسی جیسی آیت (يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْٓا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ وَلَا تَجْـهَرُوْا لَهٗ بالْقَوْلِ كَجَــهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَــطَ اَعْمَالُكُمْ وَاَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ) 49۔ الحجرات :2) ہے یعنی ایمان والو ! اپنی آوازیں نبی کی آواز پر بلند نہ کرو۔ آپ کے سامنے اونچی اونچی آوازوں سے نہ بولو جیسے کہ بےتکلفی سے آپس میں ایک دوسرے کے سامنے چلاتے ہو اگر ایسا کیا تو سب اعمال غارت ہوجائیں گے اور پتہ بھی نہ چلے۔ یہاں تک کہ فرمایا جو لوگ تجھے حجروں کے پیچھے سے پکارتے ہیں ان میں سے اکثر بےعقل ہیں اگر وہ صبر کرتے یہاں تک کہ تم خود ان کے پاس آجاتے تو یہ ان کے لئے بہتر تھا۔ پس یہ سب آداب سکھائے گئے کہ آپ سے خطاب کس طرح کریں، آپ سے بات چیت کس طرح کریں، آپ کے سامنے کس طرح بولیں چالیں بلکہ پہلے تو آپ سے سرگوشیاں کرنے کے لئے صدقہ کرنے کا بھی حکم تھا۔ ایک مطلب تو اس آیت کا یہ ہوا۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی دعا کو تم اپنی دعاؤں کی طرح سمجھو، آپ کی دعا مقبول ومستجاب ہے۔ خبردار کبھی ہمارے نبی کو تکلیف نہ دینا کہیں ایسانہ ہو کہ ان کے منہ سے کوئی کلمہ نکل جائے تو تہس نہس ہوجاؤ۔ اس سے اگلے جملے کی تفسیر میں مقاتل بن حیان ؒ فرماتے ہیں جمعہ کے دن خطبے میں بیٹھا رہنا منافقوں پر بہت بھاری پڑتا تھا جب کسی کو کوئی ایسی ضرورت ہوتی تو اشارے سے آپ سے اجازت چاہتا اور آپ اجازت دے دیتے اس لئے کہ خطبے کی حالت میں بولنے سے جمعہ باطل ہوجاتا ہے تو یہ منافق آڑ ہی آڑ میں نظریں بچا کر سرک جاتے تھے سدی ؒ فرماتے جماعت میں جب منافق ہوتے تو ایک دوسرے کی آڑ لے کر بھاگ جاتے۔ اللہ کے پیغمبر سے اور اللہ کی کتاب سے ہٹ جاتے، صف سے نکل جاتے، مخالفت پر آمادہ ہوجاتے۔ جو لوگ امر رسول، سنت رسول، فرمان رسول، طریقہ رسول اور شرع رسول کے خلاف کریں وہ سزا یاب ہونگے۔ انسان کو اپنے اقوال و افعال رسول اللہ ﷺ کی سنتوں اور احادیث سے ملانے چاہئیں جو موافق ہوں اچھے ہیں جو موافق نہ ہوں مردود ہے۔ ظاہر یا باطن میں جو بھی ہے شریعت محمدیہ ﷺ کے خلاف کرے اس کے دل میں کفر ونفاق، بدعت و برائی کا بیج بودیا جاتا ہے یا اسے سخت عذاب ہوتا ہے۔ یا تو دنیا میں ہی قتل قید حد وغیر جیسی سزائیں ملتی ہیں یا آخرت میں عذاب اخروی ملے گا۔ مسند احمد میں حدیث ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں میری اور تمہاری مثال ایسی ہے جیسے کسی شخص نے آگ جلائی جب وہ روشن ہوئی تو پتنگوں اور پروانوں کا اجتماع ہوگیا اور وہ دھڑا دھڑ اس میں گرنے لگے۔ اب یہ انہیں ہرچند روک رہا ہے لیکن وہ ہیں شوق سے اس میں گرے جاتے ہیں اور اس شخص کے روکنے سے نہیں روکتے۔ یہی حالت میری اور تمہاری ہے کہ تم آگ میں گرنا چاہتے ہو اور میں تمہیں اپنی با ہوں میں لپیٹ لپیٹ کر اس سے روک رہا ہوں کہ آگ میں نہ گھسو، آگ سے بچو لیکن تم میری مانتے اور اس آگ میں گھسے چلے جا رہے ہو۔ یہ حدیث بخاری مسلم میں بھی ہے۔