اس صفحہ میں سورہ An-Noor کی تمام آیات کے علاوہ فی ظلال القرآن (سید ابراہیم قطب) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ النور کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔
إِنَّمَا ٱلْمُؤْمِنُونَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ بِٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦ وَإِذَا كَانُوا۟ مَعَهُۥ عَلَىٰٓ أَمْرٍ جَامِعٍ لَّمْ يَذْهَبُوا۟ حَتَّىٰ يَسْتَـْٔذِنُوهُ ۚ إِنَّ ٱلَّذِينَ يَسْتَـْٔذِنُونَكَ أُو۟لَٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦ ۚ فَإِذَا ٱسْتَـْٔذَنُوكَ لِبَعْضِ شَأْنِهِمْ فَأْذَن لِّمَن شِئْتَ مِنْهُمْ وَٱسْتَغْفِرْ لَهُمُ ٱللَّهَ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ
لَّا تَجْعَلُوا۟ دُعَآءَ ٱلرَّسُولِ بَيْنَكُمْ كَدُعَآءِ بَعْضِكُم بَعْضًا ۚ قَدْ يَعْلَمُ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ يَتَسَلَّلُونَ مِنكُمْ لِوَاذًا ۚ فَلْيَحْذَرِ ٱلَّذِينَ يُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِهِۦٓ أَن تُصِيبَهُمْ فِتْنَةٌ أَوْ يُصِيبَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ
أَلَآ إِنَّ لِلَّهِ مَا فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۖ قَدْ يَعْلَمُ مَآ أَنتُمْ عَلَيْهِ وَيَوْمَ يُرْجَعُونَ إِلَيْهِ فَيُنَبِّئُهُم بِمَا عَمِلُوا۟ ۗ وَٱللَّهُ بِكُلِّ شَىْءٍ عَلِيمٌۢ
(انما المئو منون الذین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ غفور رحیم لاتجعلوا دعآ ئ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ واللہ بکل شیء علیم ) (62 : 64
ابن اسحاق نے اس آیت کی شان نزول میں یہ روایت نقل کی ہے کہ جنگ احزاب کے موقع پر جب قریش تمام اقوام کو جمع کر کے مدینہ پر چڑھا لائے تو حضور اکرم ﷺ نے اس کے دفاع میں مدینہ کے گرد خندق کھودنے کا حکم دیا۔ خندق کھودنے میں خود رسول اللہ ﷺ نے بھی کام شروع کیا تاکہ اہل ایمان جوش و خروش سے کام کریں۔ خندق کھودنے کے کام میں مسلمانوں نے خوب جوش و خروش سے کام کیا۔ آپ نے بھی ایک نمونہ اور مثال قائم کی اور انہوں نے بھی مثال قائم کردی۔ بعض منافقین نے اس کام میں رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں سے پیچھے رہنے اور سست روی اختیار کرنے کا مظاہرہ کیا۔ وہ چھوٹے بڑے کاموں کا بہانہ بنا کر نکل جاتے اور بعض رسول اللہ ﷺ سے اجازت لیے بغیر کھسک جاتے تھے جبکہ مسلمانوں کا عمل یہ تھا کہ جب ان کو کوئی ضروری کام پیش آتا تو وہ رسول اللہ ﷺ سے ذکر کرتے۔ آپ ﷺ اجازت دیتے اور وہ شخص کام کر کے جلدی واپس کام پر آجاتا۔ اور یہ رویہ مسلمان زیادہ ثواب کمانے کی غرض سے اختیار کرتے۔ اس موقع پر اللہ نے یہ آیات نازل کیں۔
انما الئو منون سے آخر تک سبب نزول جو بھی ہو ‘ بہر حال ان آیات کے اندر جماعت مسلمہ کے تنظیمی قواعد و آداب کا ذکر کیا گیا ہے اور مسلمانوں کے قائد کے احکام کے سلسلے میں آداب بتائے گئے ہیں۔ اور جب تک کوئی جماعت اپنے امیر کے ساتھ ایسے ہی اصولوں کی گہرے جذبات اور ضمیر کی گہرائیوں سے پابندی نہ کرے گی اس وقت تک جماعت کا نظم و نسق درست نہیں ہو سکتا۔ ان آداب کو جماعت مسلمہ کے اندر ایک پختہ روایت ‘ ایک معمول بہا عادت اور سخت قانون کی طرح جاری ہونا چاہیے۔ اگر ایسا نہ ہوگا تو وہ جماعت نہ ہوگی بلکہ منتشر افراد کا ایک انبوہ ہوگا۔
(واذا۔۔۔۔۔۔۔۔ یستأ ذنوہ) (24 : 62) ” اور جب کسی اجتماعی کام کے موقع پر رسول ﷺ کے ساتھ ہوں تو اس کی اجازت کے بغیر نہ جائیں “۔ امر جامع سے مراد وہ امر ہے ‘ جس میں تمام جماعت مسلمہ کا اشتراک ضروری ہو۔ کسی مشاورت کا موقع ہو یا جنگ کا موقع ہو۔ یا عام اجتماعی کاموں کا موقع ہو۔ ایسے مواقع پر اہل ایمان کا فرض ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے اجازت لے کر جائیں۔ آپ کے بعد اپنے امام اور اپنے انچارج سے اجازت لے کر جائیں تاکہ مسلمانوں کی زندگی اور ان کے ادارے منظم طریقے سے چل سکیں اور ان میں طوائف الملوکی نہہو اور کوئی بھی کام پورے نظم اور وقار کے ساتھ ہو۔
یہ لوگ جو اس قسم کا ایمان لاتے ہیں ‘ پھر اس قسم کے آداب پر عمل کرتے ہیں اور تحریک کی ڈیوتی سے صرف اس وقت رخصت مانگتے ہیں جب وہ مجبور ہوں۔ اپنے ایمان اور اپنی تربیت کی وجہ سے وہ ڈیوٹی چھوڑ کر نہیں بھاگتے جبکہ امت اور جماعت کو اجتماعی جدوجہد کی سخت ضرورت ہو لیکن قرآن مجید اجازت دینے اور نہ دینے کے فیصلے کا اختیار نبی ﷺ کو دیتا ہے۔ آپ ﷺ کے بعد یہ اختیار اب جماعت کے سربراہ کو حاصل ہے کہ وہ اجتماعی کاموں سے کسی کو مستثنیٰ کرتا ہے یا نہیں۔
(فاذا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ منھم) (24 : 62) ” پس جب وہ اپنے کسی کام سے اجازت مانگیں تو جسے تم چاہو اجازت دے دیا کرو “۔ اس سے قبل اللہ نے نبی ﷺ کو یہ تنبیہ فرمائی تھی کہ کیوں آپ نے ان منافقین کو اجازت دی۔
عفی اللہ عنک لم اذنت لھم حتی یتبین لک الخبیث من الطیب ” اللہ نے تمہیں معاف کردیا کہ کیوں تم نے ان کو اجازت دی تاکہ تم پر یہ امر واضح ہوجاتا کہ خبیث کون ہے ‘ اور پاک کون ہے “۔ یہاں یہ بات نبی ﷺ کے اختیار تمیزی پر چھوڑ دی گئی ہے کہ آپ کسی کو اختیار دیں یا نہ دیں۔ اس طرح مسلمانوں کے لیے ایک اور آسانی پیدا کردی گئی کیونکہ بعض اوقات نہایت ہی اہم ضروریات لاحق ہوجاتی ہیں اس لیے جماعت کی قیادت کو یہ اختیار دیا گیا کہ وہ موازنہ کرے کہ کسی کیلیے درپیش مہم میں جانا ضروری ہے یا کسی خصوصی ضرورت کے لئے پیچھے رہنا ضروری ہے۔ آخری اختیار قائد کو دے دیا گیا تاکہ وہ حالات کو پیش نظر رکھ کر فیصلہ کرے۔
یہاں بہر حال اس طرف اشارہ کردیا جاتا ہے کہ انفرادی ضرورتوں پر قابو پایا جائے ‘ مسائل کا حل نکالا جائے اور اجتماعی مہم کو ترجیح دی جائے۔ تاہم اگر کوئی شخص اپنی کسی جائز ضرورت کے لیے بھی پیچھے رہتا ہے تو یہ امر جائز ہونے کے باوجود بھی ایک قصور ہے اور اس پر اللہ سے مغفرت طلب کرنا ضروری ہے۔
واستغفر لھم اللہ ان اللہ غفوررحیم (24 : 62) ” اور ایسے لوگوں کے حق میں ‘ اللہ سے دعائے مغفرت کیا کرو ‘ اللہ یقیناً غفورورحیم ہے “۔ یوں ایک مومن کے ضمیر پر پابندی لگائی جاتی ہے کہ وہ اجازت طلب نہ کرے ‘ اگر کوئی بھی صورت نکلے تو وہ اپنے آپ کو عذر طلب کرنے سے بچانے کی کوشش کرے۔
نیز یہاں یہ بھی بتایدا گیا کہ جو لوگ اجازت طلب کرتے ہیں وہ درخواست استیذان نہایت ہی مئو دبانہ الفاظ میں پیش کریں اور عوام الناس کی طرح (یامحمد) یا (ابو القاسم) یا اور عوامی طریقے سے خطاب نہ کریں بلکہ مودبانہ الفاظ یارسول اللہ ‘ یانبی اللہ کے الفاظ سے مخاطب کریں۔
لاتجعلوا دعآ الرسول بینکم کدعآء بعضکم بعضا (24 : 63) ” مسلمانو ‘ اپنے درمیان رسول کے بلانے کو آپس میں ایک دوسرے کا بلانا نہ سمجھ بیٹھو “۔ چاہیے کہ تمہارے دل رسول اللہ ﷺ کی محبت سے بھرے ہوئے ہوں۔ لہٰذا رسول اللہ ﷺ کے احترام میں مناسب ترین الفاظ کا انتخاب کرو۔ یہ قیادت کے لیے ایک نہایت ہی ضروری اصول ہے اس لیے کہ کسی مربی ‘ کسی استاد ‘ کسی قائد کا مناسب احترام لازم ہے اور کارکنوں کے شعور اور سلوک میں فائدہ کے احترام اور محبت ہو۔ ایک کارکن اپنے قائد کے ساتھ ضرورت سے زیادہ بےتکلف نہ ہو۔ اس کے بعد منافقین کو متنبہ کیا جاتا ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی اجازت کے بغیر کھسک جاتے ہیں اور ایک دوسرے کی اوٹ لے کر بھاگ جاتے ہیں۔ اگر وہ مسلمانوں اور رسول اللہ ﷺ کی نظروں سے اپنے آپ کو چھپاتے ہیں تو اللہ کی نظروں سے تو وہ چھپ نہیں سکتے۔
قد یعلم اللہ الذین یتسللون منکم لواذا (24 : 63) ” اللہ ان لوگوں کو خوب جانتا ہے جو تم میں سے ایسے ہیں کہ ایک دوسرے کی آڑ لیے ہوئے چپکے سے کھسک جاتے ہیں “۔ یہ اس شخص کی عجیب تصویر کشی ہے جو مجلس کی نظروں سے چھپ چھپا کر کھسک جاتا ہے۔ اس سے یہ ظاہر کرنا مطلوب ہے کہ یہ شخص سامنے آکر اجازت لے کر نہیں جاتا بلکہ چور کی طرح چھپ کر نکلتا ہے اور اس کی یہ حرکت شعور کے اندر اس شخص کے لیے حقارت پیدا کردیتی ہے۔
(فلیحذر الذین۔۔۔۔۔۔۔ عذاب الیم) (24 : 63) ” رسول کے حکم کی خلاف ورزی کرنے والوں کو ڈرنا چاہیے کہ وہ کسی فتنے میں گرفتار نہ ہوجائیں یا جو امر رسول ﷺ کی مخالفت کرتے ہیں ‘ جور سول اللہ ﷺ کے طریقوں سے مخالف طریقوں پر چلتے ہیں اور ذاتی کاموں اور ذاتی مفادات کے لیے اجتماعی ٹیموں کی صف سے چپکے سے نکل جاتے ہیں۔ ان کو اس بات سے ڈرنا چاہیے کہ ان کے اندر اختلافات پیدا ہو کر وہ فتنہ عظیم میں مبتلا نہ ہوجائیں۔ ان کی اقدار ہی نہ بدل جائیں ‘ حق و باطل میں تمیز نہ رہے اور ان کا نظام متزلزل نہ ہوجائے۔ ان کے اندر پاک لوگوں اور خبیث لوگوں کا متزاج ہوجائے ‘ جماعتی معاملات میں فتور پڑجائے اور جماعتی زندگی کی چولیں ڈھیلی ہو ئیں۔ اس طرح کہ کوئی شخص اپنے نفس کے بارے میں مطمئن نہ ہو۔ کوئی کسی حد پر نہ رکتا ہو۔ اور جماعت کے اندر سے خیر و شر کا معیار مٹ جائے۔ ایسے حالات تمام افراد جماعت کے لیے نقصان دہ ہوتے ہیں۔
او یصیبھم عذاب الیم (24 : 63) ” یا ان پر درد ناک عزاب آجائے “۔ چاہے یہ عذاب دنیا میں آجائے یا آخرت میں آئے۔ یہ عذاب اس لیے آئے گا کہ ان لوگوں نے حکم الہی کی مخالفت کی اور اس نظام کو ترک کردیا جسے اللہ نے ان کے لیے پسند فرمایا تھا۔
یہ تنبیہ اور شدید ڈر اوا یہاں ختم ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ سورة نور بھی ختم ہوتی ہے اور خاتمہ کلام پر لوگوں کو خبردار کیا جاتا ہے کہ اللہ تمہارے تمام کرتوتوں سے واقف ہے۔ جو اچھے کام کرتے ہیں ان کو بھی جانتا ہے اور جو انحراف کی راہوں پر چل نکلے ہیں ان کو بھی جانتا ہے اور ایک دن وہ تمہارے سامنے تمہارا مکمل نامہ اعمال پیش کردے گا۔
(الآ ان للہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بکل شیء علیم) (24 : 63) ” “۔
یوں اس سورة کا خاتمہ اس مضمون پر ہوتا ہے کہ اہل ایمان کی نظریں اللہ سے متعلق ہوجاتی ہیں اور ان کو اللہ کے خوف اور خثیت سے ڈرایا جاتا ہے کیونکہ صرف خدا اور خشیت الٰہی اور تقویٰ انسان کو درست رکھنے کی آخری گارنٹی ہے۔ اللہ نے جو احکام اور نواہی دیئے ہیں ان پر عمل کرانے کا یہ آخری نگران ہے جو ہر مومن کے دل میں بیٹھا ہوتا ہے۔ اس سورة میں جو اخلاق ‘ جو آداب اور جو قوانین وضع کیے گیے ہیں اور سب کو اسلامی نظام کا برابر حصہ بنایا گیا ہے ان کا محافظ تقویٰ اور خدا خوفی کو قرار دیا گیا ہے۔