آیت 15 وَلِلّٰهِ يَسْجُدُ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ طَوْعًا وَّكَرْهًا وَّظِلٰلُهُمْ بالْغُدُوِّ وَالْاٰصَالِ صبح کے وقت جب سورج نکلتا ہے اور سائے زمین پر لمبے ہو کر پڑے ہوتے ہیں وہ اس حالت میں اللہ کو سجدہ کر رہے ہوتے ہیں اور اسی طرح شام کو غروب آفتاب کے وقت بھی یہ سائے حالت سجدہ میں ہوتے ہیں۔
عظمت وسطوت الہٰی اللہ تعالیٰ اپنی عظمت و سلطنت کو بیان فرما رہا ہے کہ ہر چیز اس کے سامنے پست ہے اور ہر ایک اس کی سرکار میں اپنی عاجزی کا اظہار کرتی ہے۔ مومن خوشی سے اور کافر بزور اس کے سامنے سجدہ میں ہے۔ ان کی پرچھائیں صبح شام اس کے سامنے جھکتی رہتی ہے۔ اصال جمع ہے اصیل کی۔ اور آیت میں بھی اس کا بیان ہوا ہے۔ فرمان ہے آیت (اَوَلَمْ يَرَوْا اِلٰى مَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنْ شَيْءٍ يَّتَفَيَّؤُا ظِلٰلُهٗ عَنِ الْيَمِيْنِ وَالشَّمَاۗىِٕلِ سُجَّدًا لِّلّٰهِ وَهُمْ دٰخِرُوْنَ 48) 16۔ النحل :48) یعنی کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ تمام مخلوق اللہ کے سامنے دائیں بائیں جھک کر اللہ کو سجدہ کرتے ہیں اور اپنی عاجزی کا اظہار کرتے ہیں۔