سورہ رحمن: آیت 29 - يسأله من في السماوات والأرض... - اردو

آیت 29 کی تفسیر, سورہ رحمن

يَسْـَٔلُهُۥ مَن فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۚ كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِى شَأْنٍ

اردو ترجمہ

زمین اور آسمانوں میں جو بھی ہیں سب اپنی حاجتیں اُسی سے مانگ رہے ہیں ہر آن وہ نئی شان میں ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Yasaluhu man fee alssamawati waalardi kulla yawmin huwa fee shanin

آیت 29 کی تفسیر

زمین اور آسمانوں میں جو مخلوقات ہیں وہ اس بقائے دوام کے سوالی ہیں کیونکہ سوال کی جگہ ہی وہ ہے۔ اس کے سوا دوسری کوئی درگاہ نہیں ہے اور اس کے سوا کسی سے کوئی سوال اس لئے عبث ہے کہ غیر خود محتاج ہے محتاج محتاج کی کیا مدد کرسکتا ہے۔

اللہ تعالیٰ کی ہر آن کئی شان ہے۔ یہ وجود جو لاحدود ہے۔ سب کا سب اس کی مشیت ، اس کی تصویر اور اس کی تدبیر سے چل رہا ہے۔ یہ تدبیر پوری کائنات میں رواں دواں ہے اور ہر فرد علیحدہ علیحدہ بھی اس تقدیر اور مشیت میں پرویا ہوا ہے۔ پھر انسانی فرد کے اندر اس کا ایک ایک رواں بھی اس تقدیر کے دائرہ میں مقدر ہے۔ ہر چیز کو اللہ تخلیق عطا کرتا ہے۔ اسے اس کا مقصد تخلیق دیتا ہے اور پھر وہ دیکھتا ہے کہ وہ اپنا فریضہ ادا کررہی ہے یا نہیں۔

یہ تقدیر ہر آنے والے پودے اور گرنے والے پتے کا پیچھا کرتی ہے۔ زمین کی تاریکیوں میں دور کہیں کوئی دانہ پڑا ہے تو وہ بھی مقدر ہے۔ خشک ویا بس ، سمندر اور ان کی مچھلیاں ، کیڑے اور ان کے سوراخ ، حشرات اور ان کے ٹھکانے یہ تمام جانور ان کے مقامات رہائش غاروں میں ، گھونسلوں میں ، ہر انڈا اور ہر بچہ اور ہر پر اور ہر پر کا ایک ایک ریشہ اور ہر جسم کا ہر خلیہ مقدر ہے۔

اور صاحب تدبیر کسی ایک ہی کے اندر مصروف نہیں ہوتا اور نہ ایک کی تدبیر دوسرے سے غافل کرلیتی ہے۔ وہ بیک وقت سب کا مدبر ہے اور ان ہی حالات میں زمین کے معاملات جس میں جن وانس بھی ہیں کہ ہر وقت اس کی تم پر نظر ہے اور یہ بھی بڑی نعمت ہے۔ تقدیر بھی ایک نعمت ہے۔

آیت 29{ یَسْئَلُہٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ط } ”اسی سے مانگتا ہے جو کوئی بھی آسمانوں اور زمین میں ہے۔“ اللہ تعالیٰ کی تمام مخلوق اپنی ضرورتوں اور حاجتوں کے لیے اللہ ہی کے در کی سوالی ہے۔ ہر کسی کو وجود بھی اللہ تعالیٰ نے عطا کیا ہے۔ ہر زندہ وجود کی زندگی بھی اسی کی دین ہے ‘ کسی مخلوق میں اگر کوئی صلاحیت ہے تو وہ بھی اسی کی بخشی ہوئی ہے اور تمام مخلوقات کے ایک ایک فرد کی ضرورتوں کا خبرگیر ونگہبان بھی وہی ہے۔ اس حوالے سے سورة محمد کی آیت 38 کے یہ الفاظ بہت واضح ہیں : { وَاللّٰہُ الْغَنِیُّ وَاَنْتُمُ الْفُقَرَآئُج } کہ اللہ غنی اور بےنیاز ہے اور تم سب اس کے محتاج ہو۔ یعنی تمہارا وجود ‘ تمہاری زندگی ‘ تمہاری صلاحیتیں ‘ غرض تمہارا سب کچھ اسی کا عطا کردہ ہے۔ تم اپنے تمام تر وسائل سے بس وہی کچھ کرسکتے ہو جس کی وہ اجازت دیتا ہے اور صرف اسی قدر جان سکتے ہو جس قدر وہ چاہتا ہے۔ اس کی مخلوق کے تمام افراد پر یہ حقیقت واضح ہونی چاہیے : { وَلَا یُحِیْطُوْنَ بِشَیْئٍ مِّنْ عِلْمِہٖٓ اِلاَّ بِمَا شَآئَج } البقرۃ : 255 کہ وہ سب کے سب اس کے احاطہ علم میں مقید و محصور ہیں اور وہ اس کی معلومات میں سے کسی چیز تک رسائی حاصل نہیں کرسکتے ‘ مگر اسی قدر جس قدر وہ چاہتا ہے۔ { کُلَّ یَوْمٍ ہُوَ فِیْ شَاْنٍ۔ } ”ہر دن وہ ایک نئی شان میں ہے۔“ ہر دن اس کی ایک نئی شان کا ظہور ہوتا ہے۔ میرے نزدیک اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی تدبیر امر کی طرف اشارہ ہے جس کا ذکر سورة السجدۃ میں بایں الفاظ آیا ہے : { یُدَبِّرُ الْاَمْرَ مِنَ السَّمَآئِ اِلَی الْاَرْضِ ثُمَّ یَعْرُجُ اِلَـیْہِ فِیْ یَوْمٍ کَانَ مِقْدَارُہٓٗ اَلْفَ سَنَۃٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ۔ } ”وہ تدبیر کرتا ہے اپنے امر کی آسمان سے زمین کی طرف ‘ پھر وہ امر چڑھتا ہے اس کی طرف ‘ یہ سارا معاملہ طے پاتا ہے ایک دن میں جس کی مقدار تمہارے شمار کے مطابق ایک ہزار برس ہے“۔ یعنی کائنات اور مخلوق کو پیدا کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ فارغ ہو کر نہیں بیٹھ گیا ‘ بلکہ اس کائنات کے نظام اور ارض و سماء میں پھیلی ہوئی مخلوقات سے متعلق تمام امور کو وہ لمحہ بہ لمحہ اپنی تدبیر سے چلا رہا ہے۔ اس تدبیر کی منصوبہ بندی کے لیے اس کا ایک دن ہمارے ایک ہزار سال کے برابر ہے۔ چناچہ اس کے ہاں ایک ایک دن کی منصوبہ بندی ہوتی ہے ‘ اہم فیصلے کیے جاتے ہیں ‘ احکام جاری ہوتے ہیں ‘ ان احکام کی تعمیل و تنفیذ عمل میں لائی جاتی ہے اور پھر جائزہ رپورٹیں اسے پیش کی جاتی ہیں۔ اس طرح ہر دن کے لیے اس کی نئی شان ہے اور نئی مصروفیات !

آیت 29 - سورہ رحمن: (يسأله من في السماوات والأرض ۚ كل يوم هو في شأن...) - اردو