اس صفحہ میں سورہ Ar-Rahmaan کی تمام آیات کے علاوہ فی ظلال القرآن (سید ابراہیم قطب) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ الرحمن کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔
رَبُّ ٱلْمَشْرِقَيْنِ وَرَبُّ ٱلْمَغْرِبَيْنِ
فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
مَرَجَ ٱلْبَحْرَيْنِ يَلْتَقِيَانِ
بَيْنَهُمَا بَرْزَخٌ لَّا يَبْغِيَانِ
فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
يَخْرُجُ مِنْهُمَا ٱللُّؤْلُؤُ وَٱلْمَرْجَانُ
فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
وَلَهُ ٱلْجَوَارِ ٱلْمُنشَـَٔاتُ فِى ٱلْبَحْرِ كَٱلْأَعْلَٰمِ
فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ
وَيَبْقَىٰ وَجْهُ رَبِّكَ ذُو ٱلْجَلَٰلِ وَٱلْإِكْرَامِ
فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
يَسْـَٔلُهُۥ مَن فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۚ كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِى شَأْنٍ
فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
سَنَفْرُغُ لَكُمْ أَيُّهَ ٱلثَّقَلَانِ
فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
يَٰمَعْشَرَ ٱلْجِنِّ وَٱلْإِنسِ إِنِ ٱسْتَطَعْتُمْ أَن تَنفُذُوا۟ مِنْ أَقْطَارِ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ فَٱنفُذُوا۟ ۚ لَا تَنفُذُونَ إِلَّا بِسُلْطَٰنٍ
فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
يُرْسَلُ عَلَيْكُمَا شُوَاظٌ مِّن نَّارٍ وَنُحَاسٌ فَلَا تَنتَصِرَانِ
فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
فَإِذَا ٱنشَقَّتِ ٱلسَّمَآءُ فَكَانَتْ وَرْدَةً كَٱلدِّهَانِ
فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
فَيَوْمَئِذٍ لَّا يُسْـَٔلُ عَن ذَنۢبِهِۦٓ إِنسٌ وَلَا جَآنٌّ
فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
یہ اشارہ انسان کو اللہ کے شعور کے فیض میں غرق کردیتا ہے جس طرف بھی کوئی توجہ کرے جس طرف بھی التفات کرے اور جس قدر بھی ہمارا مشاہدہ اس کائنات میں دور تک جاتا ہے جہاں بھی نام جائیں وہاں مشرق ہیں اور مغرب ہیں۔ اللہ کی ربوبیت ہے۔ اس کی مشیت ہے اور اس کا اقتدار اعلیٰ ہے۔ جدھر دیکھتا ہوں ادھر تو ہی تو ہے۔ تیرا نور ہے۔ تیری ہدایت ہے۔
مشرکین اور مغربین یعنی ” مشرق اور مغرب “ ان سے مراد سورج کے طلوع اور غرورب ہونے کے مقامات بھی ہوسکتے ہیں کیونکہ شمس وقمر کی حیثیت انعام الٰہی پہلے آچکی ہے اور اس سے مراد سورج کے مختلف مقامات طلوع اور غروب بھی ہوسکتے ہیں یعنی جو گرمیوں اور سردیوں میں چلتے رہتے ہیں۔
یہ اشارہ قلب ونظر پر جس طرح سایہ فگن ہے وہ قابل التفات ہے۔ مشرق ومغرب کی طرف متوجہ ہونا ، ان مظاہر طلوع اور غروب سے اللہ کی شان پانا ، یہ سوچنا کہ دست قدرت ان افلاک کو کس طرح گھما رہا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ نور ربی ان آفاق میں جگہ جگہ موجود ہے۔ مشرق ومغرب کے اس تدبر اور تامل کے بعد قلب ونظر جو سبق ، جو عبرت لے کر لوٹیں گے جو شعور لے کر آئیں گے اس کے فیوض سے ہمارے جسم وروح بھر جائیں گے۔
مشرقین کی ربوبیت اور مغربین کی ربوبیت ، اللہ کے احسانات میں سے ایک اہم احسان ہے۔ مشرقین اور مغربین اللہ کی نشانیاں بھی ہیں اور نعمتیں بھی ہیں کیونکہ طلوع و غروب ہی سے زمین پر انسانوں اور جنوں کی زندگی ممکن ہے۔ اگر طلوع و غروب نہ ہوں اور یہ نظام خلل پذیر ہوجائے تو انسان اور جنات کا زندہ رہنا محال ہوجائے۔ اس لئے کہا گیا ۔
فبای ............ تکذبن (55: 81) (تم اپنے رب کے کن کن عجائبات قدرت کو جھٹلاؤ گے)
بالائی کائنات کی وسعتوں سے اب زمین اور اس کے اندر کی انعامات اور احسانات کی طرف ، زمین کے اندر اللہ تعالیٰ نے خشکی اور تری کو ایک اندازے کے مطابق بنایا ہے اور خشکی اور تری میں اللہ نے انسان کے لئے بہت کچھ پیدا کیا ہے ۔ ایک مقدار کے مطابق۔
مرج البحرین ............ کالاعلام (4 2) فبای الاء ربکما تکذبن (55:5 2)
” دو سمندروں کو اس نے چھوڑ دیا کہ بہم مل جائیں پھر بھی ان کے درمیان ایک پردہ حائل ہے جس سے وہ تجاوز نہیں کرتے۔ پس اے جن وانس ، تم اپنے رب کی قدرت کے کن کن کرشموں کو جھٹلاؤ گے ؟ ان سمندروں سے موتی اور مونگے نکلتے ہیں۔ پس اے جن وانس ، تم اپنے رب کی قدرت کے کن کن کمالات کو جھٹلاؤ گے ؟ اور یہ جہاز اسی کے ہیں جو سمندر میں پہاڑوں کی طرح اونچے اٹھے ہوئے ہیں ، پس اے جن وانس ، تم اپنے رب کے کن کن احسانات کو جھٹلاؤ گے ؟ “
یہاں جن دو دریاؤں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے وہ میٹھا سمندر اور کھارا سمندر ہیں۔ کھارے دریا سے مراد سمندر اور بڑے اور گہرے پانی ہیں اور میٹھے سے مراد چھوٹے دریا ہے۔ یہ باہم ملتے ہیں لیکن ان میں سے کوئی بھی اپنے حدود مقررہ سے آگے نہیں بڑھتا۔ ہر ایک اپنے حدود سے تجاوز نہیں کرتا اور ان کے درمیان ایک پردہ حائل ہے۔
زمین کے اس کرہ پر پانیوں کی یہ تقسیم اتفاقاً نہیں ہوگئی۔ یہ اللہ تعالیٰ کی تدبیر نے گہرے اور باریک اندازے سے ایسی رکھی ہے۔ کڑوا پانی سطح زمین کے 4 3 حصہ پر پھیلا ہوا ہے۔ صرف 4 1 خشکی ہے اور یہ خطے ایک دوسرے کے ساتھ متصل ہیں۔ اس قدر وسیع نمکین پانی سطح زمین کے لئے بہت ہی ضروری ہے تاکہ وہ زمین کو صاف رکھے اور زندگی کے نشوونما کے لئے وہ قابل رہے۔
” زمین سے مسلسل گیسیں نکل رہی ہیں۔ زمانوں سے نکل رہی ہیں اور ان میں سے اکثر زہریلی ہیں لیکن ہوا ان گیسوں سے ملوث نہیں ہوتی۔ نیز ہوا کے اندر پانے جانے والی وہ نسبت بھی نہیں بدلتی جو انسان کے وجود کے لئے ضروری ہے ۔ اس توازن کو برقرار رکھنے کا ضامن پانی کا وہ عظیم ذخیرہ ہے یعنی سمندر “ (1)
اس عظیم ذخیرہ آب پر جب سورج چمکتا ہے تو اس سے بخارات اٹھتے ہیں اور انہی بخارات سے بادل اور بارشیں بن کر خشکی پر میٹھے پانی کے دریا بہتے ہیں۔ سمندر ، حرارت شمسی اور اعلیٰ فضا کی سردی اور دوسرے فلکیاتی عوامل مل کر بارش بناتے ہیں اور ان سے میٹھا سمندر بنتا ہے۔
اس میٹھے پانی ہی پر انسانوں ، حیوانوں اور نباتات کی زندگی موقوف ہے۔ تمام دریا جاکر سمندروں میں گرتے ہیں اور زمین کا نمک بہا کر یہ سمندر میں لے جاتے ہیں لیکن یہ سمندر کے پانیوں کو خراب نہیں کرسکتے۔ جتنے بھی دریا ہیں ان کی سطح سمندر کی سطح سے بلند ہوتی ہے۔ اس لئے سمندر بھی ان دریاؤں پر کوئی دست درازی نہیں کرسکتا کیونکہ یہ دریا سمندر ہی میں گرتے ہیں۔ ان دریاؤں کے چلنے کے جو راستے ہیں ان پر نمکین پانی دست درازی نہیں کرتا نہ نمکین پانی ان صاف پانیوں کو اپنے کام سے روک سکتا ہے۔ دونوں کے درمیان ایک پردہ حائل ہے لہٰذا دو سمندروں کا ذکر اور ان کے درمیان پردے کا ذکر کوئی قابل تعجب بات نہیں ہے۔” پس اے جن وانس تم اپنے رب کی قدرت کے کن کن کمالات کو جھٹلاؤ گے۔ “
اس کے بعد سمندروں میں موجود اللہ کے احسانات کا ذکر ، خصوصاً وہ چیزیں جو ان کی عملی زندگی کے قریب تھیں۔
یخرج ............ والمرجان (55: 22) (ان سمندروں سے موتی اور مونگے نکلتے ہیں)
موتی (لولو) دراصل حیوان ہے۔ ” سمندر کے اندر جو موتی ہیں وہ سمندروں کی عجیب ترین چیزوں میں سے ہیں۔ یہ حیوان سیپی میں ہوتا ہے اور یہ سیپی چونے کے مواد سے بنی ہوتی ہے اور یہ سمندروں کی گہری تہوں میں اترجاتی ہے۔ یہ سیپی اسے خطرات سے بچاتی ہے۔ یہ حیوان دوسرے زندہ حیوانوں سے اپنی ساخت اور طریقہ حیات کے لحاظ سے بالکل مختلف ہے۔ اس کے پاس ایک باریک جال ہوتا ہے جس طرح شکاری کا جال ہوتا ہے۔ یہ جال نہایت ہی عجیب انداز سے
(1) ” انسان اکیلا نہیں ہے “ از اے گریسی مورسون ، صدر سائنس اکیڈمی ، نیویارک
بنا ہوا ہوتا ہے۔ یہ دراصل ایک فلٹر کا کام کرتا ہے جو پانی ، ہوا اور غذا کو تو اندر جانے دیتا ہے لیکن ریت ، کنکریوں وغیرہ کو صاف کرتا جاتا ہے۔ اس جال کے نیچے اس حیوان کے منہ ہوتے ہیں۔ ہر منہ کے چار ہونٹ ہوتے ہیں۔ جب کبھی ریت کا کوئی ذرہ یا کوئی کنکر اس کے منہ میں داخل ہوجائے یا کوئی مضر حیوان اس سیپی میں داخل ہوجائے تو یہ حیوان فوراً اس پر ایک مادہ پھینکتا ہے جس سے یہ ریت کنکری یا حیوان ڈھانپ لیا جاتا ہے۔ اس طرح یہ چیز ایک موتی بن جاتی ہے۔ ریت کا ذرہ یا کنکر کی مقدار جس قدر بڑی ہوگی اس قدر موتی بڑا ہوگا۔ (” اللہ اور جدید سائنس “ ص 5 01)
” مرجان (مونگا) بھی اللہ کی مخلوقات میں سے ایک عجیب مخلوق ہے۔ یہ سمندروں کے اندر تقریباً 5 ئ 3 میٹر کی گہرائی تک میں رہتا ہے۔ اس کا نچلا حصہ کسی پتھر یا لکڑی سے چسپاں ہوتا ہے اور اس کا منہ اس کے جسم کے بالائی حصے میں ہوتا ہے۔ اس کے جسم کے ساتھ کچھ زائد حصے بھی ہوتے ہیں جن کو وہ اپنے شکار اور خوراک میں استعمال کرتا ہے۔ جب یہ زوائد کسی شکار کو پکڑتے ہیں (یہ شکار اکثر باریک حیوانات پر مشتمل ہوتا ہے۔ مثلاً پانی کے مچھر) تو شکار فوراً شل ہوجاتا ہے اور یہ مرجان کے ساتھ چمٹ جاتا ہے۔ یہ زوائد یعنی ہاتھ پاؤں سکڑتے ہیں اور اس شکار کو منہ کی طرف قریب کرتے ہیں اور یہاں سے یہ شکار مرجان کے منہ میں داخل ہوتا ہے۔ ایک باریک نالی کے ذریعے جس طرح انسان کی خوراک کی نالی کی طرح ہوتی ہے۔ “
” یہ حیوان نسل کشی کے ذریعے بڑھتا ہے۔ یہ انڈے دیتا ہے۔ ان انڈوں سے جنین پیدا ہوتے ہیں اور یہ جنین پر پتروں اور جھاڑیوں سے چپک کر مستقبل حیوان کے طور پر بڑھتے ہیں اور یہ گویا ایک مستقل حیوان بن جاتے ہیں۔ “
” خالق کائنات کی قدرتوں کے نشانات میں سے ایک یہ ہے کہ مرجان کا حیوان ایک دوسرے طریقے سے بھی پھیلتا ہیں۔ یوں مرجان کا درخت بن جاتا ہے جس کی لمبی لمبی شاخیں ہوتی ہیں اور جوں جوں یہ شاخوں کی شکل اختیار کرتے ہیں یہ شاخیں باریک ہوجاتی ہیں۔ مرجان جب درخت کی شکل اختیار کرتے ہیں تو اس کی لمبائی 03 سینٹی میٹر تک ہوتی ہے۔ زندہ مرجانی جانور کئی رنگوں کے ہوتے ہیں۔ سمندر میں زرد ، نارنگی ، سرخ ، ازرق ، بھورے ، لونگ کے رنگ کے۔ “
” سرخ مرجان وہ گول اور مضبوط حصہ ہوتا ہے جو جانور کے مرجانے کے بعد رہتا ہے اور بڑی بڑی چٹانیں ان کی نوآبادیات ہوتی ہیں۔ “
” ان نو آبادیات میں سے مشہور ترین مرجانی پتھروں کا وہ سلسلہ ہے جو عظیم مرجانی پردے کے نام سے مشہور ہے جو شمالی مشرقی آسٹریلیاں میں واقع ہے اور اس چٹانی سلسلے کی لمبائی ایک ہزار تین سو پچاس میل ہے اور اس کی چوڑائی پچاس میل ہے اور یہ پردہ انہی باریک مرجانی جانوروں کا مرکب ہے۔ (2) ” اللہ اور جدید سائنس “ ص 5 01)
ان موتیوں اور مونگوں سے وہ زیورات بنائے جاتے ہیں جو نہایت شاندر اور قیمتی ہوتے ہیں۔ اس لئے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر احسان رکھتا ہے کہ تم پر میرے یہ یہ احسانات ہیں اور ان کے ذکر کے بعد پھر یاد دہانی کا فقرہ دہرایا جاتا ہے۔
فبای ............ تکذبن (55: 32) (اے گروہ جن وانس ، تم اللہ کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے)
اس کے بعد بات کشتی کی طرف آتی ہے جو سمندروں میں چلتی ہے۔ یہ کشتی بعض اوقات اتنی بڑی ہوتی ہے جیسے سمندر میں کوئی پہاڑ ہو۔
ولہ ............ کالاعلام (55:4 2) (اور یہ جہاز اسی کے ہیں جو سمندروں میں پہاڑوں کے طرح اونچے اٹھے ہوئے ہیں)
اور یہ اونچے اٹھے ہوئے جہاز اللہ سبحانہ تعالیٰ کی قدرت کے نمونے ہیں کیونکہ سمندروں میں یہ اللہ کی قدرت سے چلتے ہیں۔ گہرے سمندروں اور امواج کے تھپیڑوں میں انہیں صرف اللہ ہی حفاظت دیتا ہے۔ یہ اللہ ہی کی نگرانی اور نگہبانی ہے کہ یہ پانیوں کے اوپر تیرتے رہتے ہیں۔ یہ جہاز اس وقت بھی اور آج بھی اللہ کی عظیم نعمتوں میں سے تھے اور ہیں۔ ان جہازوں نے لوگوں کی ضروریات نقل وحمل میں ، سفر میں ، سہولیات کی منتقلی میں اور تجارت اور کمائی میں اس قدر اہم کردار ادا کیا ہے کہ اس کا کوئی بھی انکار نہیں کرسکتا۔
فبای ............ تکذبن (55:5 2) ع (پس اے جن وانس تم اپنے رب کے کن کن احسانات کی تکذیب کرو گے)
اب یہاں اس دکھائی دینے والی کائنات کے صفحات کو لپیٹ دیا جاتا ہے او یہ بتایا جاتا ہے تمام فنا ہونے والی مخلوقات کے صفحات لپیٹ لئے جائیں گے۔ یہ تمام انسان اور ان کی شکلیں ختم کردی جائیں گی۔ صفحہ ہستی کو تمام زندہ مخلوق سے صاف کردیا جائے گا اور صرف اللہ ذوالجلال وذوالاکرام کی ذات رہ جائے گی۔
کل من ........ والاکرام (72) فبای الاء ربکما تکذبن (55: 82)
” ہر چیز جو اس زمین پر ہے فنا ہوجانے والی ہے اور صرف تیرے رب کی جلیل وکریم ذات ہی باقی رہنے والی ہے۔ پس اے جن وانس ، تم اپنے رب کے کن کن کمالات کو جھٹلاؤ گے ؟ “
اس آیت کے سایہ میں انسان کی سانس رج جاتی ہے۔ آواز دھیمی ہوجاتی ہے اور انسان کے اعضا رک جاتے ہیں۔ پوری کائنات کی ہر زندہ چیز پر سایہ چھا جاتا ہے۔ ہر قسم کی حرکت بند ہوجاتی ہے۔ زمین و آسمان کی وسعتوں پر نور ربی چھا جاتا ہے۔ انسانی نفوس اور انسانی اعضاء پر جلال ربی کا انعکاس ہوجاتا ہے۔ زمان ومکان میں اللہ کے سوا کوئی اور نہیں ہوتا اور پوری کائنات پر اللہ کا جلال ووقار چھا جاتا ہے۔
انسانی تعبیر اس صورت حال کے بیان سے عاجز ہے۔ قرآن نے جو کچھ کہہ دیا اس پر اضافہ ممکن نہیں ہے۔ یہ بات فضا پر ایسی خاموشی طاری کردیتی ہے جس میں خشوع اور ذات باری تعالیٰ کا خوف ہو ، اللہ کی جلالت کا سایہ ہو اور پوری فضا سہمی سہمی ہو۔ ایسی فضا جس پر فنا طاری ہو۔ موت کا سکوت ہو۔ کسی طرف کوئی حرکت نہ ہو۔ کوئی شور وشعب نہ ہو۔ حالانکہ ابھی ابھی یہ کائنات زندہ اور متحرک تھی۔ یہ آیت دائمی بقا کی تصویر کشی بھی کرتی ہے۔ یہ دائمی بقا کی ایک تصویر انسان کو دیتی ہے حالانکہ انسان دائمی بقا کے تجربے سے واقف نہیں ہے لیکن اس آیت میں اسے نہایت ہی گہری بقا بتائی جاتی ہے۔ یعنی بقائے ذوالجلال والاکرام۔
بقاودوام اور فنا و سکون کی اس تصویر کشی کے بعد وہی تبصرہ۔
فبای ............ تکذبن (55: 82) ” پس اے جن وانس تم اپنے رب کے کن کن صفات حمیدہ کو جھٹلاؤ گے “
یہ بھی ایک نعمت ہے بلکہ نعمتوں کے اساس ہے کیونکہ تمام نعمتوں کا سرچشمہ ذات باری ہے۔ تمام مخلوقات اس سے اپنا وجود اور اسباب حیات پاتی ہیں اور یہ اسباب ، ناموس کائنات اور خصائص کائنات کی فراہم کردہ ہیں اور اس طرح انسانی زندگی کے مشن اور قدریں بھی اسی ذات باری کی وضع کردہ ہیں۔ وہ جی ہے اور باقی ہے اور تمام مخلوقات کا خالق ہے۔ وہ محافظ ہے لہٰذا وجود اور نغمات زندگی سب کی سب اس سرچشمہ سے ماخوذ ہیں۔ اس دنیا کا نظام درست نہیں ہوسکتا جب فنائے دنیا اور بقائے ذوالجلال کی حقیقت کو تسلیم نہ کرلیا جائے۔
اللہ کے بقائے دوام اور مخلوق کے فنائے لازم کے تصور سے یہ حقیقت بھی سامنے آتی ہے کہ تمام مخلوق اللہ کے در پر سوالی ہے اور وہ ذوالجلال دائم اور باقی کسی کا محتاد نہیں ہے۔ وہ صمد ہے۔
زمین اور آسمانوں میں جو مخلوقات ہیں وہ اس بقائے دوام کے سوالی ہیں کیونکہ سوال کی جگہ ہی وہ ہے۔ اس کے سوا دوسری کوئی درگاہ نہیں ہے اور اس کے سوا کسی سے کوئی سوال اس لئے عبث ہے کہ غیر خود محتاج ہے محتاج محتاج کی کیا مدد کرسکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کی ہر آن کئی شان ہے۔ یہ وجود جو لاحدود ہے۔ سب کا سب اس کی مشیت ، اس کی تصویر اور اس کی تدبیر سے چل رہا ہے۔ یہ تدبیر پوری کائنات میں رواں دواں ہے اور ہر فرد علیحدہ علیحدہ بھی اس تقدیر اور مشیت میں پرویا ہوا ہے۔ پھر انسانی فرد کے اندر اس کا ایک ایک رواں بھی اس تقدیر کے دائرہ میں مقدر ہے۔ ہر چیز کو اللہ تخلیق عطا کرتا ہے۔ اسے اس کا مقصد تخلیق دیتا ہے اور پھر وہ دیکھتا ہے کہ وہ اپنا فریضہ ادا کررہی ہے یا نہیں۔
یہ تقدیر ہر آنے والے پودے اور گرنے والے پتے کا پیچھا کرتی ہے۔ زمین کی تاریکیوں میں دور کہیں کوئی دانہ پڑا ہے تو وہ بھی مقدر ہے۔ خشک ویا بس ، سمندر اور ان کی مچھلیاں ، کیڑے اور ان کے سوراخ ، حشرات اور ان کے ٹھکانے یہ تمام جانور ان کے مقامات رہائش غاروں میں ، گھونسلوں میں ، ہر انڈا اور ہر بچہ اور ہر پر اور ہر پر کا ایک ایک ریشہ اور ہر جسم کا ہر خلیہ مقدر ہے۔
اور صاحب تدبیر کسی ایک ہی کے اندر مصروف نہیں ہوتا اور نہ ایک کی تدبیر دوسرے سے غافل کرلیتی ہے۔ وہ بیک وقت سب کا مدبر ہے اور ان ہی حالات میں زمین کے معاملات جس میں جن وانس بھی ہیں کہ ہر وقت اس کی تم پر نظر ہے اور یہ بھی بڑی نعمت ہے۔ تقدیر بھی ایک نعمت ہے۔
فبای ............ تکذبن (55: 23) ” پس اے جن وانس تم اپنے رب کے کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے “
فنا کے بعد بقا اور تمام مخلوقات کا واحد باقی کی طرف رخ کرنا ، تمام انسانوں کے معاملات کا اس کے نظام قضا وقدر کے اندر منضبط ہونے کے مسائل طے کرنے کے ساتھ ہی اس کائنات کی نعمتوں کا بیان ختم ہوتا ہے اور جن وانس کے سامنے اللہ کے انعامات و احسانات رکھنے اور گنوانے اور ثابت کرنے کے بعد اب ان کو ایک شدید دھمکی دی جاتی ہے۔ یہ نہایت ہی ہولناک اور خوفناک دھمکی اور ڈراوا ہے۔ یہ خوفناک دھمکی بطور تمہید دی گئی ۔ اس کے بعد قیامت کے جو مناظر آرہے ہیں وہ بہت زیادہ ہولناک ہیں۔
سنفرغ ............ تنتصران (5 3) فبای الاء ربکما تکذبن (55: 63 (55: 13 تا 63) ” اے زمین کے بوجھو ، عنقریب ہم تم سے باز پرس کرنے کے لئے فارغ ہوئے جاتے ہیں۔ (پھر دیکھ لیں گے کہ) تم اپنے رب کے کن کن احسانات کو جھٹلاتے ہو۔ اے گروہ جن وانس اگر تم زمین اور آسمانوں کی سرحدوں سے نکل کر بھاگ سکتے ہو تو بھاگ دیکھو۔ نہیں بھاگ سکتے۔ اس کے لئے بڑا زور چاہئے۔ اپنے رب کی کن کن قدرتوں کو تم جھٹلاؤ گے ؟ (بھاگنے کی کوشش کرو گے تو) تم پر آگ کا شعلہ اور دھواں چھوڑ دیا جائے گا جس کا تم مقابلہ نہ کرسکو گے۔ اے جن وانس ، تم اپنے رب کی کن کن قدرتوں کا انکار کرو گے ؟ “
سنفرغ ............ الثقلن (55: 13) (اے زمین کے بوجھو ، عنقریب ہم تم سے باز پرس کرنے کے لئے فارغ ہوجائیں گے) یہ کس قدر ہولناک دھمکی ہے ! کوئی انس اور جن اس کے مقابلے میں کیا ٹھہرے گا۔ اس دھمکی کے مقابلے میں تو پہاڑ اور چٹانیں بھی نہیں ٹھہر سکتیں۔ نہ ستارے اور افلاک ٹھہر سکتے ہیں !
اللہ جل جلالہ ، القوی القادر ، القہار والجبار ، بزرگ و برتر ، دھمکی دے رہا ہے کہ میں تم سے حساب و کتاب لینے والا ہوں اور یہ کس کو انسان اور جن جیسی ضعیف وناتواں مخلوق کو اور دھمکی نہایت ہی غضب اور انتقام کے انداز میں ہے۔
یہ ایک بہت بڑا معاملہ ہے۔ اس دھمکی کو اس طرح مزید خوفناک بنا دیا گیا ہے۔ صرف تصور ہی سے وجود نابود ہوجاتا ہے کیونکہ انسانی وجود تو اس ہی کلمہ سے پردہ عدم سے وجود میں آیا کن فیکون ہوگیا اور ہلاک و بربادی اور نیست ونابود کرنا تو پلک جھپکنے سے بھی کم وقت لگتا ہے۔ اگر احساس ہو تو جن وانس کی حالت کیا ہوگی۔ جب ذوالجلال والاکرام ان کو یہ دھمکی دے رہا ہے غضب وانتقام کی دھمکی !
فبای ................ تکذبن (55: 23) (پس اے جن وانس تم اپنے رب کے کن کن احسانات کا انکار کرو گے ؟ )
یمعشر ............ بسلطن (55: 33) (اے گروہ جن وانس ، اگر تم زمین اور آسمان کی سرحدوں سے نکل کر بھاگ سکتے ہو تو بھاگ دیکھو ، نہیں بھاگ سکتے۔ اس لئے کہ اس کے لئے بڑا زور چاہئے) کس طرح تم نکل سکتے ہو ؟ کہاں سے تم بھاگ سکتے ہو ؟ اس کے لئے تو بڑی قوت چاہئے اور قوت اللہ کے پاس ہے اور پھر وہی سوال۔
فبای ................ تکذبن (55:4 3) ” پس اے جن وانس تم اپنے رب کے کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے “
آخر ان کے پاس کیا چیز رہ گئی ہے کہ وہ جھٹلائیں ! محض زبانی کلامی بات سے کیا بنتا ہے ؟
لیکن تباہ کن حملہ جاری ہے۔ مزید دھمکی آرہی ہے اور تباہی والا انجام ان کے سامنے ہے۔
یرسل ............ فلا تنتصران (55:5 3) ” تم پر آگ کا شعلہ اور دھواں چھوڑ دیا جائے گا جس کا تم مقابلہ نہ کرسکوں گے “ اگر تم نے نکلنے کی کوشش کی بھی تو تمہاری کوشش ناکام ہوگی۔
فبای ................ تکذبن (55: 63) ” پس اے جن وانس تم اپنے رب کے کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔ “ یہ خوف وہراس کا وہ منظر ہے جس کا تصور انسان کر ہی نہیں سکتا۔ ہر مخلوق کے لئے یہ ناقابل برداشت ہے۔ خوف وہراس کی ایسی چند ہی مثالیں ہیں جو صرف قرآن نے دی ہیں۔ یہ انسانی تصور سے بالا ہیں۔ اے برتر از خیال و قیاس و گمان ووہم۔
قرآن نے ایک جگہ کہا۔ فذرنی ............ النعمة (چھوڑدو مجھے اور ان کھاتے پیتے جھٹلانے والوں کو) دوسری جگہ ذرنی ............ وحیدا ” چھوڑ دو مجھے اور جسے میں نے اکیلا پیدا کیا تھا “ اور یہ آیت۔
سنفرغ ............ الثقلن (55: 13) اے جن وانس ، تم زمین کا بوجھ بن چکے ہو ، ذرا مجھے فارغ ہو لینے دو “ اس قسم کی خوفناک دھمکیاں انسانی تصور سے بالا ہیں۔
اب یہاں سورة کے آخر تک قیامت کے مناظر ہیں کہ قیامت سے پہلے اس کائناتی نظام میں کیا کیا انقلاب آجائے گا۔ پھر حساب و کتاب کس طرح ہوگا اور پھر جزاء وسزا کیسی ہوگی۔
ان مناظر کو اس طرح پیش کیا جاتا ہے کہ اس سورة کے آغاز کے ساتھ ہم آہنگ ہوجاتی ہیں اور ان باتوں سے جو کائنات کے بارے میں اس سورة میں کہی گئی ہیں۔
فاذا انشقت ............ حمیم ان فبای الاء ربکما تکذبن
وردة یعنی سرخ تیل کی طرح یعنی بہہ جائے گا۔ قیامت کے دن سے قبل کائنات میں ہونے والے تغیر کے بارے میں جس قدر آیات آئی ہیں ان سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ افلاک کے موجودہ نظام میں مکمل ابتری آجائے گی اور نظام سماوات پر تمام کرے موجودہ نظام کی گرفت سے چھوٹ جائیں گے جیسا کہ اس آیت میں ہے اور مثلاً ۔
اذرجت ............ منبسا (6) (6 5:4 تا 6) (زمین اس وقت یکبارگی ہلا ڈالی جائے گی اور پہاڑ ریزہ ریزہ کردیئے جائیں گے کہ پراگندہ غبارہ جائیں گے) اور انہی آیات میں سے یہ بھی ہے۔
فاذابرق ................ والقمر (9) 5 7 : 7 تا 9) (پھر جب دیدے پتھرا جائیں گے اور چاند بےنور ہوجائے گا اور چاند اور سورج ملا کر ایک کردیئے جائیں گے) اور انہی میں سے۔
اذالشمس .................... سئلت (8) (18 : 1 تا 8) ” جب سورج لپیٹ لیا جائے گا ، جب تارے بکھر جائیں گے اور جب پہاڑ چلائے جائیں گے اور جب دس مہینے کی حاملہ اونٹنیاں اپنے حال پر چھوڑ دی جائیں گی اور جب جنگلی جانور سمیٹ کر اکٹھے کردیئے جائیں اور جب سمندر بھڑکا دیئے جائیں گے اور جب جانیں جوڑ دی جائیں گی اور جب زندہ گاڑی ہوئی لڑکی سے پوچھا جائے گا “ اور اسی طرح۔
اذا السمائ ................ فجرت (3) (28 : 1 تا 3) ” جب آسمان پھٹ جائے گا اور جب تارے بکھر جائیں گے اور جب سمندر پھاڑ دیئے جائیں گے۔ “
اذا السمائ .................................... وحقت (5) (4 8 : 1 تا 5) (جب آسمان پھٹ جائے گا اور اپنے رب کے فرمان کی تعمیل کرے گا اور اس کے لئے حق یہی ہے اور جب زمین پھیلادی جائے گی اور جو کچھ اس کے اندر ہے اسے باہر پھینک کر خالی ہوجائے گی اور اپنے رب کے حکم کی تعمیل کرے گی) یہ اور دوسری سب آیات اس عظیم حادثے کی طرف اشارہ کررہی ہیں جو اس کائنات میں واقع ہوگا اور اس کی حقیقت صرف اللہ ہی جانتا ہے یہ اور اس آیت کی مراد بھی یہی ہے۔
فاذانشقت .................... کالدھان (55: 73) فبای الاء ربکما تکذبن (55: 83) ” پھر جب آسمان پھٹے گا اور سرخ ہوگا اور تیل کس طرح بہہ نکلے گا تو اے جن وانس تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔ “
فیومئذ ................ ولاجان فبای الا ربکما تکذبن (0 4) (44: 93۔ 0 4)
” اسی روز کسی انسان اور کسی جن سے اس کا گناہ پوچھنے کی ضرورت نہ ہوگی ، پھر (دیکھ لیا جائے گا کہ) تم دونوں گروہ اپنے رب کے کن کن احسانات کا انکار کرتے ہو۔ “
قیامت کے مقامات میں سے یہ بھی ایک مقام ہوگا اور اس میں مختلف مقامات ہوں گے۔ بعض جگہ بندوں سے ان کے کام کے بارے میں پوچھ گچھ ہوگی۔ بعض مقامات میں کسی سے کوئی پوچھ گچھ نہ ہوگی۔ بعض جگہ مجرم اپنے بارے میں جھگڑ رہے ہوں گے اور اپنے کرتوتوں کی ذمہ داری شرکاء پر ڈالیں گے۔ بعض مقامات ایسے ہوں گے کہ وہاں بولنے کی کوئی اجازت نہ ہوگی۔ نہ جھگڑنے کی اجازت ہوگی۔ قیامت کا دن طویل ہوگا اور اس میں طرح طرح کے موقف ہوں گے۔
ایک موقف یہ ہوگا کہ اس میں کسی سے کچھ بات نہ پوچھی جائے گی جبکہ لوگوں کی صفات اور اعمال بالکل واضح ہوں گے اور ان کے چہرے سیاہ ہوں گے اور طے ہوگا کہ جہنمی ہے اور بعض کے چہرے سفید ہوں گے اور طے ہوگا کہ گرین چینل والا ہے اور یہ صفات ان کے چہروں اور حالات سے عیاں ہوں گی۔ کیا اس وقف کا کوئی انکار کرسکتا ہے۔