سورہ رحمن: آیت 31 - سنفرغ لكم أيه الثقلان... - اردو

آیت 31 کی تفسیر, سورہ رحمن

سَنَفْرُغُ لَكُمْ أَيُّهَ ٱلثَّقَلَانِ

اردو ترجمہ

اے زمین کے بوجھو، عنقریب ہم تم سے باز پرس کرنے کے لیے فارغ ہوئے جاتے ہیں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Sanafrughu lakum ayyuha alththaqalani

آیت 31 کی تفسیر

سنفرغ ............ تنتصران (5 3) فبای الاء ربکما تکذبن (55: 63 (55: 13 تا 63) ” اے زمین کے بوجھو ، عنقریب ہم تم سے باز پرس کرنے کے لئے فارغ ہوئے جاتے ہیں۔ (پھر دیکھ لیں گے کہ) تم اپنے رب کے کن کن احسانات کو جھٹلاتے ہو۔ اے گروہ جن وانس اگر تم زمین اور آسمانوں کی سرحدوں سے نکل کر بھاگ سکتے ہو تو بھاگ دیکھو۔ نہیں بھاگ سکتے۔ اس کے لئے بڑا زور چاہئے۔ اپنے رب کی کن کن قدرتوں کو تم جھٹلاؤ گے ؟ (بھاگنے کی کوشش کرو گے تو) تم پر آگ کا شعلہ اور دھواں چھوڑ دیا جائے گا جس کا تم مقابلہ نہ کرسکو گے۔ اے جن وانس ، تم اپنے رب کی کن کن قدرتوں کا انکار کرو گے ؟ “

سنفرغ ............ الثقلن (55: 13) (اے زمین کے بوجھو ، عنقریب ہم تم سے باز پرس کرنے کے لئے فارغ ہوجائیں گے) یہ کس قدر ہولناک دھمکی ہے ! کوئی انس اور جن اس کے مقابلے میں کیا ٹھہرے گا۔ اس دھمکی کے مقابلے میں تو پہاڑ اور چٹانیں بھی نہیں ٹھہر سکتیں۔ نہ ستارے اور افلاک ٹھہر سکتے ہیں !

اللہ جل جلالہ ، القوی القادر ، القہار والجبار ، بزرگ و برتر ، دھمکی دے رہا ہے کہ میں تم سے حساب و کتاب لینے والا ہوں اور یہ کس کو انسان اور جن جیسی ضعیف وناتواں مخلوق کو اور دھمکی نہایت ہی غضب اور انتقام کے انداز میں ہے۔

یہ ایک بہت بڑا معاملہ ہے۔ اس دھمکی کو اس طرح مزید خوفناک بنا دیا گیا ہے۔ صرف تصور ہی سے وجود نابود ہوجاتا ہے کیونکہ انسانی وجود تو اس ہی کلمہ سے پردہ عدم سے وجود میں آیا کن فیکون ہوگیا اور ہلاک و بربادی اور نیست ونابود کرنا تو پلک جھپکنے سے بھی کم وقت لگتا ہے۔ اگر احساس ہو تو جن وانس کی حالت کیا ہوگی۔ جب ذوالجلال والاکرام ان کو یہ دھمکی دے رہا ہے غضب وانتقام کی دھمکی !

آیت 31{ سَنَفْرُغُ لَـکُمْ اَیُّـہَ الثَّقَلٰنِ۔ } ”ہم جلد ہی فارغ ہوجائیں گے تمہارے لیے ‘ اے دو بھاری قافلو !“ اس آیت میں اشارۃً اور آگے آیت 33 میں باقاعدہ نام لے کر تثنیہ تُکَذِّبٰن کے صیغے کی وضاحت کردی گئی کہ اے جن وانس کے قافلوں کے افراد ! ہم تم سے مخاطب ہیں۔ یاد رکھو ! تم دونوں گروہ اپنے اعمال کے لیے ہمارے سامنے جواب دہ ہو۔ یاد رکھو ! ہم اس کائنات کو ”مہلت“ کے اصول پر چلا رہے ہیں۔ اس کے لیے ہم نے کائنات کی ایک عمر { اِلٰی اَجَلٍ مُّسَمًّی } مقرر کر رکھی ہے ‘ اسی اصول کے تحت ہر قوم کو بھی ہم ایک وقت معین تک مہلت دیتے ہیں : { لِکُلِّ اُمَّۃٍ اَجَلٌج } الاعراف : 34 اور ہر فرد کو بھی۔ چناچہ ہماری عطا کردہ مہلت سے تم یہ مت سمجھو کہ تمہارا احتساب نہیں ہوگا ‘ بلکہ ہم عنقریب تم سب لوگوں کو اپنے حضور حاضر کرنے والے ہیں ‘ جہاں تمہیں اپنے ایک ایک عمل کا حساب دینا ہوگا۔

فارغ ہونے کے یہ معنی نہیں کہ اب وہ کسی مشغولیت میں ہے بلکہ یہ بہ طور تنبیہہ کے فرمایا گیا ہے کہ صرف تمہاری طرف پوری توجہ فرمانے کا زمانہ قریب آگیا ہے اب کھرے کھرے فیصلے ہوجائیں گے اسے کوئی اور چیز مشغول نہ کرے گی بلکہ صرف تمہارا حساب ہی ہوگا، محاورہ عرب کے مطابق یہ کلام کیا گیا ہے جیسے غصہ کے وقت کوئی کسی سے کہتا ہے اچھا فرصت میں تجھ سے نپٹ لوں گا، تو یہ معنی نہیں کہ اس وقت مشغول ہوں بلکہ یہ مطلب ہے کہ ایک خاص وقت تجھ سے نمٹنے کا نکالوں گا اور تیری غفلت میں تجھے پکڑ لوں گا۔ (ثقلین) سے مراد انسان اور جن ہیں جیسے ایک حدیث میں ہے اسے سوائے ثقلین کے ہر چیز سنتی ہے اور دوسری حدیث میں ہے سوائے انسانوں اور جنوں کے اور حدیث صور میں صاف ہے کہ ثقلین یعنی جن و انس پھر تم اپنے رب کی نعمتوں میں سے کس کس نعمت کا انکار کرسکتے ہو ؟ اے جنو اور انسانو ! تم اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی مقرر کردہ تقدیر سے بھاگ کر بچ نہیں سکتے بلکہ وہ تم سب کو گھیرے میں لئے ہوئے ہے اس کا ہر ہر حکم تم پر بےروک جاری ہے جہاں جاؤ اسی کی سلطنت ہے حقیقتاً یہ میدان محشر میں واقع ہوگا کہ مخلوقات کو ہر طرف سے فرشتے احاطہ کئے ہوئے ہوں گے چاروں جانب ان کی سات سات صفیں ہوں گی کوئی شخص بغیر دلیل کے ادھر سے ادھر نہ ہو سکے گا اور دلیل سوائے امر الہٰی یعنی حکم اللہ کے اور کچھ نہیں انسان اس دن کہے گا کہ بھاگنے کی جگہ کدھر ہے ؟ لیکن جواب ملے گا کہ آج تو رب کے سامنے ہی کھڑا ہونے کی جگہ ہے اور آیت میں ہے (وَالَّذِيْنَ كَسَبُوا السَّيِّاٰتِ جَزَاۗءُ سَـيِّئَةٍۢ بِمِثْلِهَا ۙ وَتَرْهَقُھُمْ ذِلَّةٌ 27؀) 10۔ یونس :27) ، یعنی بدیاں کرنے والوں کو ان کی برائیوں کے مانند سزا ملے گی ان پر ذلت سوار ہوگی اور اللہ کی پکڑ سے پناہ دینے والا کوئی نہ ہوگا ان کے منہ مثل اندھیری رات کے ٹکڑوں کے ہوں گے یہ جہنمی گروہ ہے جو ہمیشہ جہنم میں ہی رہے گا۔ (شواظ) کے معنی آگ کے شعلے جو دھواں ملے ہوئے سبز رنگ کے جھلسا دینے والے ہوں۔ بعض کہتے ہیں بےدھویں کا آگ کا اوپر کا شعلہ جو اس طرح لپکتا ہے کہ گویا پانی کی موج ہے (نحاس) کہتے ہیں دھویں کو، یہ لفظ نون کے زبر سے بھی آتا ہے لیکن یہاں قرأت نون کے پیش سے ہی ہے۔ نابغہ کے شعر میں بھی یہ لفظ اسی معنی میں ہے ہاں حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ شواظ سے مراد وہ شعلہ ہے جس میں دھواں نہ ہو اور آپ ﷺ نے اس کی سند میں امیہ بن صلت کا شعر پڑھ کر سنایا۔ اور نحاس کے معنی آپ نے کئے ہیں محض دھواں جس میں شعلہ نہ ہو اور اس کی شہادت میں بھی ایک عربی شعر نابغہ کا پڑھ کر سنایا۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں نحاس سے مراد پیتل ہے جو پگھلایا جائے گا اور ان کے سروں پر بہایا جائے گا۔ بہر صورت مطلب یہ ہے کہ اگر تم قیامت کے دن میدان محشر سے بھاگنا چاہو تو میرے فرشتے اور جہنم کے داروغے تم پر آگ برسا کر دھواں چھوڑ کر تمہارے سر پر پگھلا ہوا پیتل بہا کر تمہیں واپس لوٹا لائیں گے تم نہ ان کا مقابلہ کرسکتے ہو نہ انہیں دفع کرسکتے ہو نہ ان سے انتقام لے سکتے ہو۔ پس تم اپنے رب کی کس کس نعمت سے انکار کرو گے۔

آیت 31 - سورہ رحمن: (سنفرغ لكم أيه الثقلان...) - اردو