فبای ................ تکذبن (55:54) ” پھر اپنے رب کے کن کن قدرتوں کو تم جھٹلاؤ گے ؟ “ یہ تو تھی صورت عذاب جہنم کی اور اب ذرا جنتیوں کا ذکر بھی ہوجائے۔
آیت 45{ فَبِاَیِّ اٰلَآئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ۔ } ”تو تم دونوں اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں اور قدرتوں کا انکار کرو گے ؟“ یہ اہل جہنم کا تذکرہ تھا ‘ اب اس کے بعد آئندہ آیات میں اہل جنت کا بیان ہوگا۔ البتہ سورة الواقعہ میں پہلے اہل جنت کا ذکر ہے اور اس کے بعد اہل جہنم کا۔ یعنی جیسا کہ قبل ازیں بھی وضاحت کی جا چکی ہے کہ ان دونوں سورتوں کے مضامین باہم عکسی ترتیب میں ہیں۔