اس صفحہ میں سورہ Ar-Rahmaan کی تمام آیات کے علاوہ فی ظلال القرآن (سید ابراہیم قطب) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ الرحمن کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔
يُعْرَفُ ٱلْمُجْرِمُونَ بِسِيمَٰهُمْ فَيُؤْخَذُ بِٱلنَّوَٰصِى وَٱلْأَقْدَامِ
فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
هَٰذِهِۦ جَهَنَّمُ ٱلَّتِى يُكَذِّبُ بِهَا ٱلْمُجْرِمُونَ
يَطُوفُونَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ حَمِيمٍ ءَانٍ
فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِۦ جَنَّتَانِ
فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
ذَوَاتَآ أَفْنَانٍ
فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
فِيهِمَا عَيْنَانِ تَجْرِيَانِ
فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
فِيهِمَا مِن كُلِّ فَٰكِهَةٍ زَوْجَانِ
فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
مُتَّكِـِٔينَ عَلَىٰ فُرُشٍۭ بَطَآئِنُهَا مِنْ إِسْتَبْرَقٍ ۚ وَجَنَى ٱلْجَنَّتَيْنِ دَانٍ
فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
فِيهِنَّ قَٰصِرَٰتُ ٱلطَّرْفِ لَمْ يَطْمِثْهُنَّ إِنسٌ قَبْلَهُمْ وَلَا جَآنٌّ
فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
كَأَنَّهُنَّ ٱلْيَاقُوتُ وَٱلْمَرْجَانُ
فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
هَلْ جَزَآءُ ٱلْإِحْسَٰنِ إِلَّا ٱلْإِحْسَٰنُ
فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
وَمِن دُونِهِمَا جَنَّتَانِ
فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
مُدْهَآمَّتَانِ
فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
فِيهِمَا عَيْنَانِ نَضَّاخَتَانِ
فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
یعرف ................ تکذبن (3 4) (55: 1 4 ۔ 2 4) ” مجرم وہاں اپنے چہروں سے پہچان لئے جائیں گے اور انہیں پیشانی کے بال اور پاؤں پکڑ پکڑ کر گھسیٹا جائے گا۔ اس وقت تم اپنے رب کی کن کن قدرتوں کو جھٹلاؤ گے۔ “
یہ ایک سخت منظر ہے اور توہین آمیز بھی کہ جب ماتھوں اور پیشانی کے بالوں سے اور پاؤں سے پکڑکر کھینچے جائیں گے یعنی ماتھے اور پاؤں اکٹھے ہوں گے اور اس حالت میں جہنم رسید۔ کیا ایسے حالات میں تکذیب ہوگی۔
یہ منظر پیش نظر ہے۔ لوگوں کو پاؤں اور سر کے بالوں سے پکڑ پکڑ کر جہنم میں پھینکا جارہا ہے اور جو لوگ اس منظر کو دیکھ رہے ہیں وہ بھی گویا جہنم کے کنارے اس منظر کو دیکھ رہے ہیں۔ ان سے بھی کہا جاتا ہے۔
ھذہ جہنم ................ المجرمون (55: 2 4) ” اس وقت کہا جائے گا یہ وہی جہنم ہے جس کو مجرمین جھوٹ قرار دیا کرتے تھے۔ “ یہ ہے تمہاری نظروں کے سامنے ، تم دیکھ رہے ہو۔
یطوفون ................ حمیم ان (55:44) ” اسی جہنم اور کھولتے ہوئے پانی کے درمیان وہ گردش کرتے رہیں گے۔ “ اب یہ مجرم جہنم اور انتہائی کھولتے گرم پانی کے درمیان گردش کررہے ہیں دیکھ لو ان کو۔
فبای ................ تکذبن (55:54) ” پھر اپنے رب کے کن کن قدرتوں کو تم جھٹلاؤ گے ؟ “ یہ تو تھی صورت عذاب جہنم کی اور اب ذرا جنتیوں کا ذکر بھی ہوجائے۔
قرآن کی جس قدر سورتیں اب تک گزری ہیں ان میں پہلی بار دو باغوں کا ذکر ہے اور یہ دو باغ بھی جنت کے اندر ہی ہوں گے جو بہت ہی وسیع اور بڑی جگہ ہوگی لیکن یہاں دو باغوں کا خصوصی ذکر محض ان کے عالیشان ہونے کے ناطے سے ہے۔ سورة واقعہ میں یہ بات آنے والی ہے کہ اہل جنت کے دو فریق ہوں گے۔ پہلے السابقون المقربون ہوں گے اور اصحاب الیمین ہوں گے۔ دونوں فریقوں کے لئے نعمتیں ہوں گی۔ یہ دو باغ یوں معلوم ہوتا ہے کہ یہ دو اعلیٰ مرتبے کے لوگوں کے لئے ہوں گے اور یہ وہی لوگ ہیں جن کو السابقون الاولون کہا گیا ہے اور ان دو باغات سے کم درجے کے بھی دو اور باغ ہوں گے اور یہ باغ شاید السابقون اولون کے بعد کے لوگوں کے لئے ہوں گے اور یہ شاید اصحاب الیمین میں سے ہوں گے۔ بہرحال ہمیں ان دو باغوں کی طرف دیکھنا چاہئے اور ان میں کچھ دیر کے لئے رہنا چاہئے۔
ذواتا ............ الجنتین دان فبای الاء ربکما تکذبن (55) (55: 8 4 تا 55)
” ہری بھری ڈالیوں سے بھر پور ، اپنے رب کے کن کن انعامات کو جھٹلاؤ گے ؟ دونوں باغوں میں دو چشمے رواں ، اپنے رب کے کن کن انعامات کو جھٹلاؤ گے ؟ دونوں باغوں میں ہر پھل کی دو قسمیں ، اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے ؟ جنتی لوگ ایسے فرشوں پر تکئے لگا کے بیٹھیں گے جن کے استر دبیزریشم کے ہوں گے اور باغوں کی ڈالیں پھلوں سے جھکی پڑرہی ہوں گی۔ اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے ؟ “
ذواتا افنان (55: 8 4) (ہری بھری ڈالیوں سے بھرپور) افنان ، اغصان ، چھوٹی ڈالیاں ، تازہ ، نرم اور سرسبز وشادات ، عینان تجربان (دو باغوں میں دو چشمے رواں) پانی بہت زیادہ اور بڑی سہولت سے لیا جاسکتا ہے۔
فیھما من کل فاکھة زوجن (55: 2 5) (دونوں باغوں میں ہر پھل کی دو قسمیں) یعنی متنوع اور ڈبل اقسام کے پھل ، وافر مقدار میں۔ اہل جنت کس حال میں ہوں گے۔
متکئین ............ استبرق (55:45) ” جنتی لوگ ایسے فرشوں پر تکئے لگائے بیٹھے ہوں گے جن کے استردبیزریشم کے ہوں گے “ استبرق ریشمی مخمل جو دبیز ہوگا۔ اگر ان کے استرای سے ہوں گے تو ان کے ظاہری غلاف تو نہایت ہی خوبصورت ہوں گے۔ وجنا الجنتین دان (55:45) ” اور باغوں کی ڈالیں پھلوں سے جھکی پڑرہی ہوں گی “ یعنی اگر کوئی پھل توڑنا چاہے تو اسے کسی مشقت کا سامنا کرنا نہ ہوگا۔
لیکن انہی باتوں پر جنت کی نعمتیں ختم نہیں ہوتیں بلکہ اس سے بھی لطیف تر انعامات ہوں گے۔
فیھن ................ والمرجان فبای الاء ربکما تکذبن (9 5) (55: 6 5 تا 9 5)
” ان نعمتوں کے درمیان شرمیلی نگاہوں والیاں ہوں گی جنہیں ان جنتیوں سے پہلے کبھی کسی انسان یا جن نے نہ چھوا ہوگا۔ اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے ؟ ایسی خوبصورت جیسے ہیرے اور موتی ، اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے ؟ “
قصرت الطرف (55: 6 5) ” شرمیلی نگاہوں والیاں “ پاکیزہ شعور رکھنے والیاں ہوں گی۔ ان کی نظریں جھکی ہوں گی اور وہ اپنے مالکوں کے سوا کسی اور کی طرف دیکھنے والیاں نہ ہوگی۔
لم یطمثھن (55: 6 5) ” ان کو چھوا نہ ہوگا “ نہ انسان نے نہ جن نے۔
کانھن ............ والمرجان (55: 8 5) ” ہیرے اور موتی کی طرح خوبصورت “ چمکدار اور نرم ونازک۔
یہ ہے جزاء ان لوگوں کے لئے جو اپنے رب کے مقام اور مرتبے سے ڈرتے تھے اور جنہوں نے اس کی عبادت اس طرح کی جیسا کہ گویا رب کو دیکھ رہے ہوں اور اس شعور کے ساتھ کہ وہ انہیں دیکھ رہا ہے۔ یوں وہ مرتبہ احسان تک پہنچ گئے جس طرح رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اسی طرح وہ اپنی جزا از جانب رحمان پاگئے۔
ھل جزائ ................ الاحسان (55: 06) ” نیکی کا بدلہ نیکی کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے “ انعام اور احسان کی اس نمائش گاہ کے ہر فقرے کے بعد یہ تعقیب آتی تھی “ اے جن وانس اللہ کے کن کن احسانات کا تم انکار کرو گے “ یہ احسان کا بدلہ احسان سے تھا۔
اب دوسرا فریق جس کو دو باغ ملیں گے۔
ومن دونھما جنتن (55: 26) ” اور ان دو باغوں کے علاوہ وہ دو باغ اور ہوں گے “ اور ان کے اوصاف سابقہ باغوں سے ذرا کم ہوں گے۔ یہ دو باغ۔
مدھامتن (55:4 6) ” گھنے ، سرسبز اور شاداب باغ “ یعنی ایسے سبز جو سیاہی مائل ہوں گے کیونکہ وہ گھنے ہوں گے۔
فیھما عینن نضاختن (55: 66) ” ان میں دو چشمے فواروں کی طرح ابلتے ہوں گے “ یعنی پانی کو اوپر کی طرف پھینک رہے ہوں گے۔ چشمے سے پانی ابلنا جاری پانی سے ذرا کم درجے کا ہوتا ہے۔