اللہ یبدوا الخلق ۔۔۔۔ ترجعون (11)
یہ بہت ہی واضح اور سادہ حقیقت ہے اور اس کے دونوں اجزاء اور دونوں کڑیوں کے درمیان ربط مکمل واضح ہے کیونکہ کسی چیز کا پہلی بار بنانا اور اس کا دوبارہ بناناقابل فہم بات ہے ۔ اس میں اچنبھے کی کوئی بات نہیں ہے۔ تخلیق میں یہی دو حلقے ہوتے ہیں ، ان کے درمیان یہی تعلق ہوتا ہے اور انسان کی تخلیق کے بعد اس کے خالق کے سامنے دوبارہ پیش ہونا ایک لازمی اور معقول امر ہے۔ وہی پہلی بار تخلیق کرنے والا ہے اور وہی دوسری بار تخلیق کرنے والا ہے۔ اور یہ اس لیے کہ اچھا اور برا کام کرنے والوں کو وہ پوری پوری جزاء اور سزا دے۔
بعث بعد الموت پر یہ دلیل دینے کے بعد اب یہاں بعث بعد الموت کا ایک منظر پیش کیا جاتا ہے۔ اس میں اہل ایمان اور
اہل کفر کے انجام کی ایک جھلک دکھائی جاتی ہے ، جسکے اندر شریکوں اور عقیدہ شرک کے بودے پن کو اچھی طرح ظاہر کیا گیا ہے۔
آیت 11 اَللّٰہُ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُہٗ ”یہ الفاظ قرآن حکیم میں بار بار آئے ہیں۔ یُعِیْدُہٗ فعل مضارع ہے اور اس لحاظ سے اس میں حال اور مستقبل دونوں زمانوں کے معنی پائے جاتے ہیں۔ اگر اس کا ترجمہ فعل حال میں کیا جائے تو دنیا میں مخلوقات کی بار بار پیدائش reproduction مراد ہوگی ‘ جیسے ایک فصل بار بار کٹتی ہے اور بار بار پیدا ہوتی ہے ‘ جبکہ فعل مستقبل کے ترجمے کی صورت میں اس کا مفہوم عالم آخرت میں انسانوں کے دوبارہ جی اٹھنے تک وسیع ہوجائے گا۔
اعمال کے مطابق فیصلے فرمان باری ہے کہ سب سے پہلے مخلوقات کو اسی اللہ نے بنایا اور جس طرح وہ اس کے پیدا کرنے پر اس وقت قادر تھا اب فناکر کے دوبارہ پیدا کرنے پر بھی وہ اتنا ہی بلکہ اس سے بھی زیادہ قادر ہے تم سب قیامت کے دن اسی کے سامنے حاضر کئے جانے والے ہو۔ وہاں وہ ہر ایک کو اسکے اعمال کا بدلہ دے گا۔ قیامت کے دن گنہگار ناامید رسوا اور خاموش ہوجائیں گے۔ اللہ کے سوا جن جن کی دنیا میں عبادت کرتے رہے ان میں سے ایک بھی ان کی سفارش کے لئے کھڑا نہ ہوگا۔ اور یہ انکے پوری طرح محتاج ہونگے لیکن وہ ان سے بالکل آنکھیں پھیر لیں گے اور خود ان کے معبودان باطلہ بھی ان سے کنارہ کش ہوجائیں گے اور صاف کہہ دیں گے کہ ہم میں انمیں کوئی دوستی نہیں۔ قیامت قائم ہوتے ہی اس طرح الگ الگ ہوجائیں گے جس کے بعد ملاپ ہی نہیں۔ نیک لوگ تو علیین میں پہنچا دئے جائیں گے اور برے لوگ سجین میں پہنچا دئیے جائیں گے وہ سب سے اعلیٰ بلندی پر ہونگے یہ سب سے زیادہ پستی میں ہونگے پھر اس آیت کی تفصیل ہوتی ہے کہ نیک نفس تو جنتوں میں ہنسی خوشی سے ہونگے اور کفار جہنم میں جل بھن رہے ہونگے۔