سورہ روم: آیت 19 - يخرج الحي من الميت ويخرج... - اردو

آیت 19 کی تفسیر, سورہ روم

يُخْرِجُ ٱلْحَىَّ مِنَ ٱلْمَيِّتِ وَيُخْرِجُ ٱلْمَيِّتَ مِنَ ٱلْحَىِّ وَيُحْىِ ٱلْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا ۚ وَكَذَٰلِكَ تُخْرَجُونَ

اردو ترجمہ

وہ زندہ میں سے مُردے کو نکالتا ہے اور مُردے میں سے زندہ کو نکالتا ہے اور زمین کو اس کی موت کے بعد زندگی بخشتا ہے اسی طرح تم لوگ بھی (حالت موت سے) نکال لیے جاؤ گے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Yukhriju alhayya mina almayyiti wayukhriju almayyita mina alhayyi wayuhyee alarda baAAda mawtiha wakathalika tukhrajoona

آیت 19 کی تفسیر

یخرج الحی ۔۔۔۔۔ وکذلک تخرجون (30: 19)

” ہاں وہ زندہ چیزوں سے مردوں کو نکالتا ہے اور مردہ چیزوں سے زندہ کو نکالتا ہے “۔ اور یہ ایک دائمی عمل ہے۔ نہ رکنے والا عمل ہے۔ ایک لمحے کے لیے بھی اس میں توقف نہیں ہوتا۔ رات اور دن ہر وقت یہ عمل جاری ہے ، ہر زمان و مکان میں جاری ہے۔ زمین کی سطح میں سے چپے چپے پر جاری ہے۔ فضائے کائنات میں جاری ہے ، سمندر کی تہوں میں جاری ہے ، ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں ، یہ عمل کوئی غیر معمولی عمل نہیں ہے ، یہ تو ایک معجزہ ہے ، لیکن رات اور دن اسے دیکھتے دیکھتے ہم اس کے اس قدر عادی ہوگئے ہیں کہ اس کا معجزانہ پہلو نظروں سے اوجھل ہوگیا ہے حالانکہ ہر لحظہ نئ آن اور شان کے ساتھ مردے سے زندہ اور زندہ سے مردہ نکل رہا ہے۔ ایک مردہ اور خشک بین زمین میں ڈالا جاتا ہے اور اس سے خوشنما پودے اور پھول پیدا ہوتے ہیں ، فصلیں اگتی ہیں اور جب یہی پھل پھول خوشے اور پودے خشک ہوکر بھوسہ بن جاتے ہیں تو اس خشک بھوسے کے اندر ہزار ہا مردہ بیج تیار ہوچکے ہوتے ہیں جن کے اندر پوری حیات موجود ہوتی ہے۔ یہ مردہ پھر فضائے کائنات سے گری ، گیس ، پانی اور تپش حاصل کرکے پھر زندہ ہوتا رہتا ہے۔ انسانوں اور حیوانوں کے جنین اور پرندوں کے جنین اور انڈے مختلف اشکال اور مختلف اندازوں سے زندگی کی شکل اختیار کرتے ہیں ، غرض انسان ، حیوانات ، کیڑے اور مکوڑے اور حشرات اور بیج اور انڈے ہر وقت زندگی اختیار کرتے رہتے ہیں اور پھر مردہ بیج پیدا کرتے رہتے ہیں۔

یہ ایک مسلسل سرکل ہے اور زندہ مردہ اور مردہ زندہ ہوتا رہتا ہے۔ کیا کسی زندہ اور جاگنے والے دل کے لیے یہ یقین کرنا مشکل ہے کہ اللہ دوبارہ تخلیق کرسکتا ہے۔ قرآن کی روشنی میں اس بات کو سمجھنا کوئی مشکل نہیں ہے کیونکہ قرآن کی روشنی اللہ کے نور سے نکلی ہوئی ہے۔

وکذلک تخرجون (30: 19) ” بعینہ اسی طرح تم نکالے جاؤ گے “۔ یہ ایک تہمل الفہم مسئلہ ہے۔ ایک عام اور معمولی بات ہے ، یہ تو تمہارا مشاہدہ ہے۔ کائنات میں رات اور دن دیکھا جا رہا ہے۔ رات اور دن اس کا مشاہدہ ہو رہا ہے۔

آیت 19 یُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ ”مثلاً انڈے میں بظاہر زندگی کے کوئی آثار نظر نہیں آتے ‘ لیکن اس میں سے اللہ کی قدرت سے زندہ چوزہ برآمد ہوتا ہے۔وَیُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ ”مثلاً مرغی جاندار ہے اور اس سے انڈا برآمد ہوتا ہے جو بظاہر بےجان ہے۔ اسی طرح زندہ سے مردہ اور مردہ سے زندہ برآمد ہونے کی بہت سی مثالیں ہمارے ارد گرد موجود ہیں۔وَیُحْیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِہَاط وَکَذٰلِکَ تُخْرَجُوْنَ ”جس طرح اللہ تعالیٰ بظاہر مردہ زمین سے فصلیں اور دوسرے نباتات نکالتا ہے اسی طرح وہ تمہیں بھی اس میں سے نکال کر حاضر کرلے گا ‘ چاہے تمہارے اجزاء تحلیل ہو کر کسی بھی شکل میں ہوں اور کہیں بھی ہوں۔

آیت 19 - سورہ روم: (يخرج الحي من الميت ويخرج الميت من الحي ويحيي الأرض بعد موتها ۚ وكذلك تخرجون...) - اردو