اس صفحہ میں سورہ Ar-Room کی تمام آیات کے علاوہ تفسیر بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ الروم کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔
وَأَمَّا ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ وَكَذَّبُوا۟ بِـَٔايَٰتِنَا وَلِقَآئِ ٱلْءَاخِرَةِ فَأُو۟لَٰٓئِكَ فِى ٱلْعَذَابِ مُحْضَرُونَ
فَسُبْحَٰنَ ٱللَّهِ حِينَ تُمْسُونَ وَحِينَ تُصْبِحُونَ
وَلَهُ ٱلْحَمْدُ فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ وَعَشِيًّا وَحِينَ تُظْهِرُونَ
يُخْرِجُ ٱلْحَىَّ مِنَ ٱلْمَيِّتِ وَيُخْرِجُ ٱلْمَيِّتَ مِنَ ٱلْحَىِّ وَيُحْىِ ٱلْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا ۚ وَكَذَٰلِكَ تُخْرَجُونَ
وَمِنْ ءَايَٰتِهِۦٓ أَنْ خَلَقَكُم مِّن تُرَابٍ ثُمَّ إِذَآ أَنتُم بَشَرٌ تَنتَشِرُونَ
وَمِنْ ءَايَٰتِهِۦٓ أَنْ خَلَقَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَٰجًا لِّتَسْكُنُوٓا۟ إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً ۚ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَءَايَٰتٍ لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ
وَمِنْ ءَايَٰتِهِۦ خَلْقُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ وَٱخْتِلَٰفُ أَلْسِنَتِكُمْ وَأَلْوَٰنِكُمْ ۚ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَءَايَٰتٍ لِّلْعَٰلِمِينَ
وَمِنْ ءَايَٰتِهِۦ مَنَامُكُم بِٱلَّيْلِ وَٱلنَّهَارِ وَٱبْتِغَآؤُكُم مِّن فَضْلِهِۦٓ ۚ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَءَايَٰتٍ لِّقَوْمٍ يَسْمَعُونَ
وَمِنْ ءَايَٰتِهِۦ يُرِيكُمُ ٱلْبَرْقَ خَوْفًا وَطَمَعًا وَيُنَزِّلُ مِنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءً فَيُحْىِۦ بِهِ ٱلْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَآ ۚ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَءَايَٰتٍ لِّقَوْمٍ يَعْقِلُونَ
آیت 18 وَلَہُ الْحَمْدُ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَعَشِیًّا وَّحِیْنَ تُظْہِرُوْنَ ”ان دونوں آیات میں صبح ‘ شام ‘ رات اور دن ڈھلنے کے اوقات کا ذکر کر کے پانچوں نمازوں کے اوقات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔
آیت 19 یُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ ”مثلاً انڈے میں بظاہر زندگی کے کوئی آثار نظر نہیں آتے ‘ لیکن اس میں سے اللہ کی قدرت سے زندہ چوزہ برآمد ہوتا ہے۔وَیُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ ”مثلاً مرغی جاندار ہے اور اس سے انڈا برآمد ہوتا ہے جو بظاہر بےجان ہے۔ اسی طرح زندہ سے مردہ اور مردہ سے زندہ برآمد ہونے کی بہت سی مثالیں ہمارے ارد گرد موجود ہیں۔وَیُحْیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِہَاط وَکَذٰلِکَ تُخْرَجُوْنَ ”جس طرح اللہ تعالیٰ بظاہر مردہ زمین سے فصلیں اور دوسرے نباتات نکالتا ہے اسی طرح وہ تمہیں بھی اس میں سے نکال کر حاضر کرلے گا ‘ چاہے تمہارے اجزاء تحلیل ہو کر کسی بھی شکل میں ہوں اور کہیں بھی ہوں۔
آئندہ آیات کا اسلوب اور انداز بہت منفرد ہے۔ ان میں اللہ کی خلاقیّ کی علامات اور اس کی رحمت کے مظاہر کا ذکر تکرار کے ساتھ اس طرح ہوا ہے کہ ہر آیت کے آغاز میں وَمِنْ اٰیٰتِہٖٓ اور آخر میں اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ کے الفاظ دہرائے گئے ہیں۔ قبل ازیں اس سے ملتا جلتا ا انداز ہم سورة النمل اور سورة الشعراء میں بھی دیکھ آئے ہیں۔ سورة النمل کے پانچویں رکوع میں بھی آفاقی و انفسی آیات الٰہیہ کا ذکر اسی طرح تکرار کے ساتھ کیا گیا ہے اور ہر آیت کے آخر میں ءَاِلٰہٌ مَّعَ اللّٰہِکے الفاظ آئے ہیں۔ جبکہ سورة الشعراء میں ایک تسلسل کے ساتھ عبرت انگیز تاریخی حقائق و بصائر کا ذکر ہوا ہے اور ہر واقعہ کے آخر میں اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ کے الفاظ کی تکرار ہے۔
وَاخْتِلَافُ اَلْسِنَتِکُمْ وَاَلْوَانِکُمْ ط ”پوری دنیا کے انسانوں کے درمیان بولی جانے والی طرح طرح کی زبانوں کے اندر پایاجانے والا تنوّع بھی اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہے۔ اسی طرح مختلف خطوں میں بسنے والے انسانوں کے مختلف رنگ بھی اس کی صناعی اور خلاقی کے مظاہر کی مثالیں ہیں کہ کس طرح ایک ہی نسل سے تعلق کے باوجود کوئی زرد رو ہے تو کوئی سرخ رو ‘ کوئی سفید فام ہے تو کوئی سیاہ فام۔
آیت 23 وَمِنْ اٰیٰتِہٖ مَنَامُکُمْ بالَّیْلِ وَالنَّہَارِ وَابْتِغَآؤُکُمْ مِّنْ فَضْلِہٖ ط ”تمہارا رات کے وقت سونا ‘ دوپہر کے وقت قیلولہ کرنا ‘ اور پھر آرام کے ان اوقات کے علاوہ معاشی دوڑ دھوپ میں سرگرم عمل رہنا بھی اللہ تعالیٰ کی حکمت اور قدرت کی نشانیوں میں سے ہے۔اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّسْمَعُوْنَ ”یہ سب نشانیاں یقیناً ان لوگوں کے لیے ہیں جو انسانی کانوں یعنی دل کے کانوں سے سنتے ہیں ‘ نہ کہ محض حیوانی کانوں سے۔
آیت 24 وَمِنْ اٰیٰتِہٖ یُرِیْکُمُ الْبَرْقَ خَوْفًا وَّطَمَعًا ”آسمانوں میں بادلوں کا چھانا اور بجلی کا چمکنا بھی اللہ کی قدرت کی نشانیوں میں سے ہے جس میں لوگوں کو بجلی کے گرنے اور طوفان وغیرہ کا خوف بھی ہوتا ہے جبکہ باران رحمت کے برسنے کی امید بھی۔