سورہ روم: آیت 55 - ويوم تقوم الساعة يقسم المجرمون... - اردو

آیت 55 کی تفسیر, سورہ روم

وَيَوْمَ تَقُومُ ٱلسَّاعَةُ يُقْسِمُ ٱلْمُجْرِمُونَ مَا لَبِثُوا۟ غَيْرَ سَاعَةٍ ۚ كَذَٰلِكَ كَانُوا۟ يُؤْفَكُونَ

اردو ترجمہ

اور جب وہ ساعت برپا ہو گی تو مجرم قسمیں کھا کھا کر کہیں گے کہ ہم ایک گھڑی بھر سے زیادہ نہیں ٹھیرے ہیں، اِسی طرح وہ دنیا کی زندگی میں دھوکا کھایا کرتے تھے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wayawma taqoomu alssaAAatu yuqsimu almujrimoona ma labithoo ghayra saAAatin kathalika kanoo yufakoona

آیت 55 کی تفسیر

آیت 55 وَیَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَۃُ یُقْسِمُ الْمُجْرِمُوْنَلا مَا لَبِثُوْا غَیْرَ سَاعَۃٍ ط ”کہ وہ دنیا میں یا عالم برزخ میں گھڑی بھر سے زیادہ نہیں رہے۔ کَذٰلِکَ کَانُوْا یُؤْفَکُوْنَ ”جس طرح وہ لوگ روز قیامت اپنی زندگی کے دورانیے کے بارے میں انتہائی غیر معقول بات کریں گے بالکل ایسے ہی دنیا میں بھی ان کی سوچ اور فکر حقیقت سے بہت دور تھی۔

واپسی ناممکن ہوگی اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ کفار دنیا اور آخرت کے کاموں سے بالکل جاہل ہیں۔ دنیا میں ان کی جہالت تو یہ ہے کہ اللہ کیساتھ اوروں کو شریک کرتے رہے اور اخرت میں یہ جہالت کریں گے کہ قسمیں کھاکر کہیں گے کہ ہم دنیا میں صرف ایک ساعت ہی رہے۔ اس سے ان کا مقصد یہ ہوگا کہ اتنے تھوڑے سے وقت میں ہم پر کوئی حجت قائم نہیں ہوئی۔ ہمیں معذور سمجھا جائے۔ اسی لیے فرمایا کہ یہ جیسے یہاں بہکی بہکی باتیں کر رے ہیں دنیا میں یہ بہکے ہوئے ہی رہے۔ فرماتا ہے کہ علماء کرام جس طرح ان کے اس کہنے پر دنیا میں انہیں دلائل دے کر قائل معقول کرتے رہے آخرت میں بھی ان سے کہیں گے کہ تم جھوٹی قسمیں کھا رہے ہو۔ تم کتاب اللہ یعنی کتاب اعمال میں اپنی پیدائش سے لے کر جی اٹھنے تک ٹھہرے رہے لیکن تم بےعلم اور نرے جاہل لوگ ہو۔ پس قیامت کے دن ظالموں کو اپنے کرتوت سے معذرت کرنا محض بےسود رہے گا۔ اور دنیا کی طرف لوٹائے نہ جائیں گے۔ جیسے فرمان ہے آیت (وَاِنْ يَّسْـتَعْتِبُوْا فَمَا هُمْ مِّنَ الْمُعْتَـبِيْنَ 24؀) 41۔ فصلت :24) یعنی اگر وہ دنیا کی طرف لوٹنا چاہیں تو لوٹ نہیں سکتے۔

آیت 55 - سورہ روم: (ويوم تقوم الساعة يقسم المجرمون ما لبثوا غير ساعة ۚ كذلك كانوا يؤفكون...) - اردو