اس صفحہ میں سورہ Ar-Room کی تمام آیات کے علاوہ فی ظلال القرآن (سید ابراہیم قطب) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ الروم کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔
وَلَئِنْ أَرْسَلْنَا رِيحًا فَرَأَوْهُ مُصْفَرًّا لَّظَلُّوا۟ مِنۢ بَعْدِهِۦ يَكْفُرُونَ
فَإِنَّكَ لَا تُسْمِعُ ٱلْمَوْتَىٰ وَلَا تُسْمِعُ ٱلصُّمَّ ٱلدُّعَآءَ إِذَا وَلَّوْا۟ مُدْبِرِينَ
وَمَآ أَنتَ بِهَٰدِ ٱلْعُمْىِ عَن ضَلَٰلَتِهِمْ ۖ إِن تُسْمِعُ إِلَّا مَن يُؤْمِنُ بِـَٔايَٰتِنَا فَهُم مُّسْلِمُونَ
۞ ٱللَّهُ ٱلَّذِى خَلَقَكُم مِّن ضَعْفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنۢ بَعْدِ ضَعْفٍ قُوَّةً ثُمَّ جَعَلَ مِنۢ بَعْدِ قُوَّةٍ ضَعْفًا وَشَيْبَةً ۚ يَخْلُقُ مَا يَشَآءُ ۖ وَهُوَ ٱلْعَلِيمُ ٱلْقَدِيرُ
وَيَوْمَ تَقُومُ ٱلسَّاعَةُ يُقْسِمُ ٱلْمُجْرِمُونَ مَا لَبِثُوا۟ غَيْرَ سَاعَةٍ ۚ كَذَٰلِكَ كَانُوا۟ يُؤْفَكُونَ
وَقَالَ ٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ ٱلْعِلْمَ وَٱلْإِيمَٰنَ لَقَدْ لَبِثْتُمْ فِى كِتَٰبِ ٱللَّهِ إِلَىٰ يَوْمِ ٱلْبَعْثِ ۖ فَهَٰذَا يَوْمُ ٱلْبَعْثِ وَلَٰكِنَّكُمْ كُنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ
فَيَوْمَئِذٍ لَّا يَنفَعُ ٱلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ مَعْذِرَتُهُمْ وَلَا هُمْ يُسْتَعْتَبُونَ
وَلَقَدْ ضَرَبْنَا لِلنَّاسِ فِى هَٰذَا ٱلْقُرْءَانِ مِن كُلِّ مَثَلٍ ۚ وَلَئِن جِئْتَهُم بِـَٔايَةٍ لَّيَقُولَنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓا۟ إِنْ أَنتُمْ إِلَّا مُبْطِلُونَ
كَذَٰلِكَ يَطْبَعُ ٱللَّهُ عَلَىٰ قُلُوبِ ٱلَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ
فَٱصْبِرْ إِنَّ وَعْدَ ٱللَّهِ حَقٌّ ۖ وَلَا يَسْتَخِفَّنَّكَ ٱلَّذِينَ لَا يُوقِنُونَ
فانک لا تسمع الموتی ۔۔۔۔۔۔۔ فھم مسلمون (52 – 53) ، “۔
یہ لوگ مردے ہیں ، ان میں زندگی کی رمق نہیں ، یہ بہرے ہیں ، کوئی آواز نہیں سن سکتے۔ یہ اندھے ہیں ان کو کچھ بھی نظر نہیں آتا۔ جو شخص اپنے احساس کے دروازے اس کائنات ثوامیس فطرت کے لیے بند کردیتا ہے اور اسے فطرت کے یہ نشانات نظر نہیں آتے وہ مر چکا ہے۔ اس میں حیات نہیں ہے۔ اگر کوئی زندگی ہے تو پھر یہ حیوانی زندگی ہے بلکہ وہ حیوانوں سے بھی زیادہ گمراہ ہے۔ حیوانوں میں ایک فطری شعور ہوتا ہے اور وہ شعور کبھی بھی غلطی نہیں کرتا۔ جو شخص اللہ کی ان نشانیوں کی پکار نہیں سنتا وہ بالکل بہرہ ہے۔ اگرچہ اس کے کان ہوں اور ان کے ساتھ آواز ٹکراتی ہو۔ جو شخص اس کائنات میں بکھری ہوئی اللہ کی نشانیوں کو نہیں دیکھتا ، وہ اندھا ہے اگرچہ حیوان کی طرح اس کے بڑے بڑے موٹے موٹے دیدے ہوں۔
ان تسمع الا من یومن بایتنا فھم مسلمون (30: 53) ” تم صرف انہی کو سنا سکتے ہو جو ہماری آیات پر ایمان لاتے اور سر تسلیم خم کردیتے ہیں “۔ ایسے ہی لوگ دعوت کو سنتے ہیں کیونکہ ان کے دل زندہ ہوتے ہیں اور زندہ دراصل دل کی زندگی ہوتی ہے۔ ان کی آنکھیں بینا ہوتی ہیں۔ ان کی قوائے مدر کہ صحیح و سلامت ہوتی ہیں ، لہٰذا وہ سنتے ہیں۔ سر تسلیم خم کرتے ہیں۔ دعوت کی پکار ان کی فطرت سے ٹکراتے ہی ان کے اندر انابت پیدا کرتی ہے۔ اب ذرا انسان کو خود اس کی ذات اور اس کے جسم کی دنیا میں گھمایا جاتا ہے ۔ اپنے ماحول سے لاکر خود اپنے نفس کی وادیوں میں پھرایا جاتا ہے کہ تم پیدا کیسے ہوئے ؟ اس زمین پر تمہاری پیدائش کیسی ہے ؟ زندگی کیسی ہے اور تم مر کس طرح جاتے ہو ؟ اور پھر قیامت کا منظر کیا ہوگا ؟
اللہ الذی خلقکم ۔۔۔۔۔۔۔۔ معذرتھم ولا ھم یستعتبون (54 – 57 یہ ایک بہت ہی طویل مطالعاتی سفر ہے۔ اس کا آغاز تو انسانی زندگی کے آغاز سے ہوتا ہے اور یہ ہمارے سامنے ہے اور آئے دن کا مشاہدہ ہے۔ اس کا آخری حصہ نہایت ہی اگرچہ مشہور نہیں ہے لیکن قرآن کی تصویر کشی ایسے الفاظ میں کرتا ہے کہ گویا وہ ہماری نظروں کے سامنے ہے۔ یہ ایک ایسا مطالعاتی سفر ہے کہ چشم بینا رکھنے والوں کے لیے اور کھلے کان رکھنے والوں کے لئے اور کان لگا کر سننے والوں کے لیے اس میں سامان عبرت ہے۔
اللہ الذی خلقکم من ضعف (30: 54) ” اللہ ہی تو ہے جس نے ضعف کی حالت سے تمہاری پیدائش کی “۔ یہ کہا کہ تمہیں ضعف سے پیدا کیا۔ یہ نہ کہا کہ تمہیں ضعیف پیدا کیا۔ گویا ان کی حیات کے آغاز کا عنصر ہی ضعیفی ہے اور یہاں جس ضعف کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اس کے کئی مفہوم اور مظاہر ہیں اور یہ مظاہر انسان کے اندر قابل مشاہدہ ہیں اور مزید مشاہدات ہوتے جاتے ہیں۔ وہ چھوٹا سا خلیہ جس سے جنین بنتا ہے جو بہت ہی خوردبینی اور چھوٹا سا ہے اور ضعیف ہے۔ پھر جنین اور اس کے تمام مدارج حالت ضعف ہیں۔ پھر زمانہ طفولیت سب کا سب حالت ضعف ہے ، اس وقت تک جب انسان مکمل نوجوان ہوجاتا ہے۔ پھر وہ مادہ جس سے انسان بنتا ہے ، ضعیف ہے مٹی۔ اگر اس میں نفخ زبانی نہ ہوتی تو یہ مٹی ہی ہوتی یا نباتات ہوتے یا حیوانات ہوتے۔ جو انسان کے مقابلے میں سب حالات ضعف ہیں۔ پھر انسان اپنی خواہشات کے سامنے کمزور ہے۔ امتحانات ، میلانات سے اسے مجبور کردیتے ہیں ، اگر اللہ کی جانب سے نفخ روح نہ ہوتا تو انسان اس احسن تقدیم میں نہ ہوتا۔ اس کے اندر یہ صلاحیتیں نہ ہوتیں اور یہ بھی دوسرے حیوانات کی طرح ایک ضعیف اور لاچار حیوان ہوتا۔
ثم جعل من بعد ضعف قوۃ (30: 54) ” پھر اس ضعف کے بعد تمہیں قوت بخشی “۔ ایسی قوت اور ان معنوں میں قوت جن معنوں میں ضعف بیان ہوا۔ جسمانی قوت ، انسانی ساخت میں قوت ، انسان کی نفسیاتی اور روحانی قوت اور انسان کی فکری اور عقلی قوت۔
ثم جعل من بعد ضعف قوۃ ضعفا وشیبۃ (30: 54) ” پھر اس قوت کے بعد تمہیں ضعیف اور بوڑھا کردیا “۔ انسانی جسم ڈھیلا پڑگیا ، بڑھاپا دراصل انسان کی تمام قوتوں کے اندر طفولیت کی طرف رجوع ہوتا ہے۔ کبھی کبھی اس کے اندر نفسیاتی گراوٹ بھی آجاتی ہے اور انسان ضعیف الارادہ ہوجاتا ہے۔ بعض اوقات ایک بوڑھا اس طرح لایعنی باتیں کرتا ہے جس طرح ایک بچہ ہوتا ہے۔ اس کے ارادے کے اندر کوئی قوت نہیں ہوتی۔ بڑھاپے کے ساتھ بالوں کی سفیدی دراصل بڑھاپے کو مجسم کردیتی ہے اور بالوں کی سفیدی کے ساتھ قوائے انسانی کا ضعف سامنے نظر آتا ہے۔ یہ ادوار ، جس سے کوئی فانی چیز نہیں بچ سکتی اور جس شخص کو طویل عمر نصیب ہو ، ان کے اندر کبھی کوئی دور غائب نہیں ہوتا ، کبھی یوں نہیں ہوتا کہ ان میں سے کوئی دور اپنے وقت پر نہ آئے۔ ان ادوار کا اسی ترتیب کے ساتھ ہر شخص پر آنا اس بات کا مظہر ہے کہ یہ انسان کسی مدبر ہستی کے کنڑول میں ہے۔ وہ ہستی جو چاہتی ہے ، تخلیق کرتی ہے ، جو چاہتی ہے ، مقدر بناتی ہے اور جس طرح چاہتی ہے ، ہر مخلوق کے لیے اس کے حالات اور طور طریقوں کا منصوبہ بناتی ہے۔ یہ سب کام اللہ کے پختہ علم ، اس کی تقدیر اور گہری ٹیکنالوجی کے مطابق انجام پاتے ہیں۔
یخلق ما یشآء وھو العلیم القدیر (30: 54) ” وہ جو کچھ چاہتا ہے ، پیدا کرتا ہے ، جو سب کچھ جانتا ہے اور ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ لہٰذا اس محکم اور ٹیکنیکل اور نقشے کے مطابق بنی ہوئی اس مخلوق کا کچھ با معنی انجام بھی ہے۔ ہاں اس کا ایک نہایت ہی با معنی انجام اور فلسفہ ہے اور دیکھو اسے ایک منظر میں جو قیامت کے مناظر میں سے ایک پر تاثیر منظر ہے اور حرکت اور مکالموں سے ہر منظر میں پیش کیا جاتا ہے۔
ویوم تقوم الساعۃ ۔۔۔۔۔ غیر ساعۃ (30: 55) ” اور جب وہ ساعت برپا ہوگی تو مجرم قسمیں کھا کھا کر کہیں گے کہ ہم ایک گھڑی بھر سے زیادہ نہیں ٹھہرے ہیں “۔ ان کے احساس میں دنیا میں گزرا ہوا پورا زمانہ سکڑ جائے گا۔ اس لیے وہ اپنے احساس کے مطابق قسم کھائیں گے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ قبروں میں گزرے ہوئے زمانہ کے بارے میں یہ کہہ رہے ہوں کہ
یہ زمانہ اس قدر مختصر تھا ۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اس سے مراد پورا زمانہ ہو۔ یعنی زمین کی زندگی کا اور پھر قبروں میں رہنے کا۔
کذلک ۔۔۔۔ یوفکون (30: 55) ” اسی طرح وہ دنیا کی زندگی میں دھوکہ کھایا کرتے تھے “۔ اور حق سے منہ پھیرتے تھے اور دنیا میں بھی انہوں نے واقعات کا صحیح اندازہ نہ لگایا تھا۔ چناچہ اہل علم اور اہل ایمان ان کے اس خیال کی تصحیح کردیں گے۔
وقال الذین ۔۔۔۔۔ کنتم لا تعلمون (30: 56) ” مگر جو اہل علم اور ایمان سے بہرہ مند کیے گئے تھے ، وہ کہیں گے کہ خدا کے نوشتے میں تو تم روز حشر تک پڑے رہے ہو ، سو یہ وہی روز حشر ہے ، لیکن تم جانتے نہ تھے “۔ یہ صاحبان علم و بصیرت وہی تھے جو اہل ایمان تھے۔ جنہوں نے حشر پہ یقین کیا ہوا تھا۔ اور انہوں نے وہ حقائق بھی جان لیے تھے جو اس ظاہری دنیا کے پیچھے تھے۔ یہ لوگ بھی معاملے کو اللہ کے علم کے سپرد کردیتے ہیں۔
لقد لبثتم ۔۔۔۔۔ یوم البعث (30: 56) ” درحقیقت اللہ کی کتاب میں تم یوم حشر تک رہے ہو “۔ یہ ہے وہ میعاد مقرر۔ اور اس بات کی کوئی اہمیت نہیں ہے کہ حشر تک پہنچتے پہنچتے تمہیں کتنی دیر لگی۔ یہ تھا مقررہ دن اور یہ آگیا دیکھ لو۔
اب یہ منظر ایک اجمالی کلیہ کی شکل میں ختم ہوتا ہے اور اس میں بتایا جاتا ہے کہ اب ظالموں کو کیا حالات پیش آنے والے ہیں جو حشر اور قیامت کی تکذیب کرتے تھے۔
فیومئذ لا ینفع ۔۔۔۔۔ یستعتبون (30: 57) ” پس یہ وہ دن ہوگا جس میں ظالموں کو ان کی معذرت کوئی نفع نہ دے گی اور نہ ان سے معافی مانگنے کے لیے کہا جائے گا “۔ نہ ان کی کوئی معذرت قبول ہوگی اور نہ کوئی ان پر عتاب کرے گا کہ تم نے ایسا ایسا کیوں کیا ہے۔ مانگو معافی ، توبہ کرو ، کیونکہ آج تو سزا ہوگی ، یہاں کسی کو کوئی سرزنش نہ ہوگی ، یہ یوم عقاب ہوگا ، یوم عتاب نہ ہوگا۔ اب اس برے اور مایوس کن منظر سے واپس لاکر انہیں ان کے اس حال میں لایا جاتا ہے جس میں وہ اپنے عناد اور تکذیب میں ڈرے ہوئے تھے۔ یہ تھا عناد کا انجام اور یہ تھا تکذیب کا خاتمہ۔
ولقد ضربنا للناس ۔۔۔۔۔۔ لا یعلمون (58 – 59)
سیاق کلام میں اور مخاطبین کے زمان و مکان میں یکایک تبدیلی آگئی۔ یہ بہت ہی دور رس تبدیلی ہے لیکن یہاں دوریوں کے فاصلے سمیٹ لیے جاتے ہیں اور جس مقام پر اب ہم کھڑے ہیں وہ بہت ہی قریب نظر آتا ہے۔ دوبارہ ہم قرآن کے سامنے ہیں اور اس کی اعلیٰ مثالیں سن رہے ہیں۔ قرآن کے مختلف اور متنوع اسالیب کلام ہمارے سامنے ہیں جہاں ہر رنگ اور ہر اسلوب اور ہر طریقے سے دلوں میں بات اتارنے کی سعی کی گئی ہے اور جس کے اندر بیشمار ایسے لمحات آتے ہیں جو انسان پر گہرے اثرات چھوڑتے ہیں۔ قرآن ہر دل سے ہم کلام ہے ، ہر درجے کی عقل سے مخاطب ہے۔ ہر معاشرے اور ہر تہذیب سے اس کے مکالمات بقدر الناس ہیں۔ وہ نفس انسانی کو اس کے مختلف حالات میں خطاب کرتا ہے۔ انسان کے حالات واطوار میں سے ہر حال اور ہر طور کو زیر بحث لاتا ہے۔ لیکن ان ہمہ گیر اور ہمہ جہت مساعی کے بعد بھی لوگ تکذیب پر تلے ہوئے ہیں۔ اور یہ اللہ کی نشانیوں اور آیات کی تکذیب پر ہی اکتفاء نہیں کرتے بلکہ یہ لوگ صحیح علم رکھنے والوں پر دست درازیاں بھی کرتے ہیں اور الٹا ان پر الزام لگاتے ہیں کہ یہ لوگ باطل پرست ہیں۔
لئن جئتھم بایۃ ۔۔۔۔۔ الا مبطلون (30: 58) ” تم خواہ کوئی نشانی لے کر آجاؤ ، جن لوگوں نے ماننے سے انکار کردیا ہے ، وہ یہی کہیں گے کہ تم باطل پر ہو “۔ پھر زبانوں پر یہ تبصرہ آتا ہے :
کذلک یطبع اللہ علی قلوب الذین لا یعلمون (30: 58) ” اس طرح مہر لگا دیتا ہے اللہ ان لوگوں کے دلوں پر جو بےعلم ہیں “۔ یوں ، یعنی اس طریقے کے مطابق اور ان وجوہات سے۔ یہ لوگ جو نہیں جانتے ان کے دلوں پر مہریں لگ گئی ہیں۔ ان کی چشم بصیرت اللہ کی آیات اور اس کے نشانات کو دیکھنے کے لیے کھلتی ہی نہیں ہے۔ یہ لوگ اہل علم اور اہل ہدایت پر دست درازی کرتے ہیں۔ یہی وہ ہے کہ وہ اس بات کے مستحق بن گئے ہیں کہ اللہ ان کی بصیرت کو مسخ کر دے۔ ان کے دلوں پر ٹھپہ لگا دے کیونکہ اللہ سبحانہ ان دلوں کے بارے میں خون جانتا ہے اور ان کی بصیرتوں کو بھی وہ اچھی طرح دیکھتا ہے۔ اس سورة میں مشرکین کے ساتھ مکالمے ، اس کائنات کی سیر ، انسانی تاریخ کے مطالعے ، اور انسانی شخصیت ، انسانی زندگی اور اس کی نشوونما کی سیر کے بعد اور تمام شواہد اور نشانیوں کے دیکھ لینے کے بعد بھی بعض ایسے لوگوں کے مشاہدے کے بعد جو بالکل نہیں مانتے ، اب یہ آخری ضرب ہے عقل و خرد کے تاروں پر۔ اس کے ذریعہ اہل ایمان اور رسول اللہ ﷺ کو ہدایت کی جاتی ہے کہ
فاصبر ان وعد ۔۔۔۔۔ لا یوقنون (60)
” پس (اے نبی ﷺ صبر کرو ، یقیناً اللہ کا وعدہ سچا ہے ، اور ہرگز ہلکا نہ پائیں تم کو وہ لوگ جو یقین ، نہیں لاتے “۔ اس طویل جدوجہد اور اسلامی انقلاب کے دشوا گزار سفر میں صبر وسیلہ مومنین ہے۔ یہ سفر اس قدر طویل ہے ، اس قدر مشکل ہے کہ بعض اوقات انسان کو لا انتہا نظر آتا ہے۔ لیکن اللہ کے وعدے پر یقین کرنا چاہئے۔ بغیر کسی بےچینی ، کسی تزلزل ، بغیر کسی حیرانی و پریشانی کے اپنے مقصد پر جم جانا ہی اس راہ کا توشہ ہے۔ اس وقت صبر اور ثابت قدمی کا مظاہرہ جبکہ دوسرے لوگ ڈگمگا جائیں ، جبکہ بعض لوگ تکذیب کردیں اور اللہ کے وعدے میں شک کرنے لگیں۔ اس لیے کہ شک کرنے والے اسباب یقین سے محروم ہوتے ہیں۔ رہے وہ لوگ جو اللہ تک پہنچ چکے ہیں جنہوں نے اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام رکھا ہے ، ان کا منہاج صبر و ثبات کا منہاج ہے۔ اگرچہ راہ طویل ہوجائے۔ اگرچہ اس کا انجام نظرون سے اوجھل ہو۔ اگرچہ وہ غبار اور بادلوں کے پیچھی محجوب ہو۔
یہ سورة یوں ختم ہوتی ہے جبکہ اس کا آغاز اس مضمون سے ہوا تھا کہ شکست یافتہ رومیوں کو اللہ کے وعدے کے مطابق چند سالوں کے بعد فتح نصیب ہوگی اور اسی وقت مومنین کو بھی فتح نصیب ہوگی اور اس کا خاتمہ اس مضمون پر ہوتا ہے کہ اگر تم صبر و ثبات سے کام لو تو اللہ کا وعدہ پورا ہو کر رہے گا کہ اللہ اہل ایمان کی مدد کرتا ہے۔ نیز جب لوگ اس تحریک کو بےوقار کرنے کی سعی کر رہے ہوں اور ان کی صفوف کے اندر وسوسہ اندازی کر رہے ہوں اور یہ لوگ وہی ہوتے جو تحریک اسلامی کے دشمن ہوتے ہیں اور ان کا اس جدید دعوت پر ایمان نہیں ہوتا تو ایسے حالات میں صبر ہی اہل ایمان کا ہتھیار ہوتا ہے۔ یوں سورة کا آغاز اور انجام ہم آہنگ ہوجاتے ہیں ۔ یوں یہ سورة ختم ہوتی ہے اور ایک سچے قاری کے ذہن میں ایک قوی امید چھوڑ جاتی ہے کہ اگر صبر وثبات سے کام لیا جائے تو اللہ کا وعدہ پورا ہو کر رہے گا۔ اللہ کا وعدہ سچا ہوتا ہے اور وہ اہل یقین سے بےوفائی نہیں کرتا۔