سورہ روم: آیت 58 - ولقد ضربنا للناس في هذا... - اردو

آیت 58 کی تفسیر, سورہ روم

وَلَقَدْ ضَرَبْنَا لِلنَّاسِ فِى هَٰذَا ٱلْقُرْءَانِ مِن كُلِّ مَثَلٍ ۚ وَلَئِن جِئْتَهُم بِـَٔايَةٍ لَّيَقُولَنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓا۟ إِنْ أَنتُمْ إِلَّا مُبْطِلُونَ

اردو ترجمہ

ہم نے اِس قرآن میں لوگوں کو طرح طرح سے سمجھایا ہے تم خواہ کوئی نشانی لے آؤ، جن لوگوں نے ماننے سے انکار کر دیا ہے وہ یہی کہیں گے کہ تم باطل پر ہو

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Walaqad darabna lilnnasi fee hatha alqurani min kulli mathalin walain jitahum biayatin layaqoolanna allatheena kafaroo in antum illa mubtiloona

آیت 58 کی تفسیر

ولقد ضربنا للناس ۔۔۔۔۔۔ لا یعلمون (58 – 59)

سیاق کلام میں اور مخاطبین کے زمان و مکان میں یکایک تبدیلی آگئی۔ یہ بہت ہی دور رس تبدیلی ہے لیکن یہاں دوریوں کے فاصلے سمیٹ لیے جاتے ہیں اور جس مقام پر اب ہم کھڑے ہیں وہ بہت ہی قریب نظر آتا ہے۔ دوبارہ ہم قرآن کے سامنے ہیں اور اس کی اعلیٰ مثالیں سن رہے ہیں۔ قرآن کے مختلف اور متنوع اسالیب کلام ہمارے سامنے ہیں جہاں ہر رنگ اور ہر اسلوب اور ہر طریقے سے دلوں میں بات اتارنے کی سعی کی گئی ہے اور جس کے اندر بیشمار ایسے لمحات آتے ہیں جو انسان پر گہرے اثرات چھوڑتے ہیں۔ قرآن ہر دل سے ہم کلام ہے ، ہر درجے کی عقل سے مخاطب ہے۔ ہر معاشرے اور ہر تہذیب سے اس کے مکالمات بقدر الناس ہیں۔ وہ نفس انسانی کو اس کے مختلف حالات میں خطاب کرتا ہے۔ انسان کے حالات واطوار میں سے ہر حال اور ہر طور کو زیر بحث لاتا ہے۔ لیکن ان ہمہ گیر اور ہمہ جہت مساعی کے بعد بھی لوگ تکذیب پر تلے ہوئے ہیں۔ اور یہ اللہ کی نشانیوں اور آیات کی تکذیب پر ہی اکتفاء نہیں کرتے بلکہ یہ لوگ صحیح علم رکھنے والوں پر دست درازیاں بھی کرتے ہیں اور الٹا ان پر الزام لگاتے ہیں کہ یہ لوگ باطل پرست ہیں۔

لئن جئتھم بایۃ ۔۔۔۔۔ الا مبطلون (30: 58) ” تم خواہ کوئی نشانی لے کر آجاؤ ، جن لوگوں نے ماننے سے انکار کردیا ہے ، وہ یہی کہیں گے کہ تم باطل پر ہو “۔ پھر زبانوں پر یہ تبصرہ آتا ہے :

کذلک یطبع اللہ علی قلوب الذین لا یعلمون (30: 58) ” اس طرح مہر لگا دیتا ہے اللہ ان لوگوں کے دلوں پر جو بےعلم ہیں “۔ یوں ، یعنی اس طریقے کے مطابق اور ان وجوہات سے۔ یہ لوگ جو نہیں جانتے ان کے دلوں پر مہریں لگ گئی ہیں۔ ان کی چشم بصیرت اللہ کی آیات اور اس کے نشانات کو دیکھنے کے لیے کھلتی ہی نہیں ہے۔ یہ لوگ اہل علم اور اہل ہدایت پر دست درازی کرتے ہیں۔ یہی وہ ہے کہ وہ اس بات کے مستحق بن گئے ہیں کہ اللہ ان کی بصیرت کو مسخ کر دے۔ ان کے دلوں پر ٹھپہ لگا دے کیونکہ اللہ سبحانہ ان دلوں کے بارے میں خون جانتا ہے اور ان کی بصیرتوں کو بھی وہ اچھی طرح دیکھتا ہے۔ اس سورة میں مشرکین کے ساتھ مکالمے ، اس کائنات کی سیر ، انسانی تاریخ کے مطالعے ، اور انسانی شخصیت ، انسانی زندگی اور اس کی نشوونما کی سیر کے بعد اور تمام شواہد اور نشانیوں کے دیکھ لینے کے بعد بھی بعض ایسے لوگوں کے مشاہدے کے بعد جو بالکل نہیں مانتے ، اب یہ آخری ضرب ہے عقل و خرد کے تاروں پر۔ اس کے ذریعہ اہل ایمان اور رسول اللہ ﷺ کو ہدایت کی جاتی ہے کہ

فاصبر ان وعد ۔۔۔۔۔ لا یوقنون (60)

” پس (اے نبی ﷺ صبر کرو ، یقیناً اللہ کا وعدہ سچا ہے ، اور ہرگز ہلکا نہ پائیں تم کو وہ لوگ جو یقین ، نہیں لاتے “۔ اس طویل جدوجہد اور اسلامی انقلاب کے دشوا گزار سفر میں صبر وسیلہ مومنین ہے۔ یہ سفر اس قدر طویل ہے ، اس قدر مشکل ہے کہ بعض اوقات انسان کو لا انتہا نظر آتا ہے۔ لیکن اللہ کے وعدے پر یقین کرنا چاہئے۔ بغیر کسی بےچینی ، کسی تزلزل ، بغیر کسی حیرانی و پریشانی کے اپنے مقصد پر جم جانا ہی اس راہ کا توشہ ہے۔ اس وقت صبر اور ثابت قدمی کا مظاہرہ جبکہ دوسرے لوگ ڈگمگا جائیں ، جبکہ بعض لوگ تکذیب کردیں اور اللہ کے وعدے میں شک کرنے لگیں۔ اس لیے کہ شک کرنے والے اسباب یقین سے محروم ہوتے ہیں۔ رہے وہ لوگ جو اللہ تک پہنچ چکے ہیں جنہوں نے اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام رکھا ہے ، ان کا منہاج صبر و ثبات کا منہاج ہے۔ اگرچہ راہ طویل ہوجائے۔ اگرچہ اس کا انجام نظرون سے اوجھل ہو۔ اگرچہ وہ غبار اور بادلوں کے پیچھی محجوب ہو۔

یہ سورة یوں ختم ہوتی ہے جبکہ اس کا آغاز اس مضمون سے ہوا تھا کہ شکست یافتہ رومیوں کو اللہ کے وعدے کے مطابق چند سالوں کے بعد فتح نصیب ہوگی اور اسی وقت مومنین کو بھی فتح نصیب ہوگی اور اس کا خاتمہ اس مضمون پر ہوتا ہے کہ اگر تم صبر و ثبات سے کام لو تو اللہ کا وعدہ پورا ہو کر رہے گا کہ اللہ اہل ایمان کی مدد کرتا ہے۔ نیز جب لوگ اس تحریک کو بےوقار کرنے کی سعی کر رہے ہوں اور ان کی صفوف کے اندر وسوسہ اندازی کر رہے ہوں اور یہ لوگ وہی ہوتے جو تحریک اسلامی کے دشمن ہوتے ہیں اور ان کا اس جدید دعوت پر ایمان نہیں ہوتا تو ایسے حالات میں صبر ہی اہل ایمان کا ہتھیار ہوتا ہے۔ یوں سورة کا آغاز اور انجام ہم آہنگ ہوجاتے ہیں ۔ یوں یہ سورة ختم ہوتی ہے اور ایک سچے قاری کے ذہن میں ایک قوی امید چھوڑ جاتی ہے کہ اگر صبر وثبات سے کام لیا جائے تو اللہ کا وعدہ پورا ہو کر رہے گا۔ اللہ کا وعدہ سچا ہوتا ہے اور وہ اہل یقین سے بےوفائی نہیں کرتا۔

آیت 58 وَلَقَدْ ضَرَبْنَا للنَّاسِ فِیْ ہٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ کُلِّ مَثَلٍ ط ”ع ”اِک پھول کا مضموں ہو تو سو رنگ سے باندھوں !“ کے مصداق قرآن میں اللہ کا پیغام ہر پہلو سے لوگوں کو سمجھا دیا گیا ہے اور ہر انداز سے حقیقت ان پر واضح کردی گئی ہے۔وَلَءِنْ جِءْتَہُمْ بِاٰیَۃٍ لَّیَقُوْلَنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا مُبْطِلُوْنَ۔ ”اگر آپ ﷺ ان لوگوں کو کوئی معجزہ دکھا بھی دیں تو یہ اسے بھی جادو قرار دے کر الٹا آپ ﷺ پر جھوٹ کا بہتان لگادیں گے۔

نماز میں مقتدی اور امام کا تعلق حق کو ہم نے اس کلام پاک میں پوری طرح واضح کردیا ہے اور مثالیں دے دے کر سمجھا دیا ہے کہ لوگوں پر حق کھل جائے اور اس کی تابعداری میں لگ جائیں۔ انکے پاس تو کوئی بھی معجزہ آجائے کیساہی نشان حق دیکھ لیں لیکن یہ جھٹ سے بلاغور علی الفور کہیں گے کہ یہ جادو ہے باطل ہے جھوٹ ہے۔ دیکھئے چاند کو دو ٹکڑے ہوتے دیکھتے ہیں اور ایمان نہیں لاتے۔ خود قرآن کریم کی آیت (اِنَّ الَّذِيْنَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ 96 ۙ) 10۔ یونس :96) میں ہے کہ جن پر تیرے رب کی بات ثابت ہوچکی ہے وہ ایمان نہیں لائیں گے گو ان کے پاس تمام نشانیاں آجائیں یہاں تک کہ وہ دردناک عذاب کا معائنہ کرلیں۔ پس یہاں بھی فرماتا ہے کہ بےعلم لوگوں کے دلوں پر اسی طرح اللہ کی مہر لگ جاتی ہے۔ اے نبی ﷺ آپ صبر کیجئے ان کی مخالفت اور دشمنی پر درگزر کئے چلے جائیے۔ اللہ کا وعدہ سچا ہے وہ ضرور تمہیں ایک دن ان پر غالب کرے گا اور تمہاری امداد فرمائے گا۔ اور دنیا اور آخرت میں تجھے اور تیرے تابعداروں کو مخالفین پر غلبہ دے گا۔ تہیں چاہیے کہ اپنے کام پر لگے رہو حق پر جم جاؤ اس سے ایک انچ ادھر ادھر نہ ہٹو اسی میں ساری ہدایت ہے باقی سب باطل کے ڈھیر ہیں۔ حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی ؓ ایک مرتبہ صبح کی نماز میں تھے کہ ایک خارجی نے آپ کا نام لے کر زور سے اس آیت کی تلاوت کی۔ (وَلَقَدْ اُوْحِيَ اِلَيْكَ وَاِلَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكَ ۚ لَىِٕنْ اَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ 65؀) 39۔ الزمر :65) آپ نے خاموشی سے اس آیت کو سنا سمجھا اور نماز ہی میں اس کے جواب میں آیت (فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّلَا يَسْتَخِفَّنَّكَ الَّذِيْنَ لَا يُوْقِنُوْنَ 60؀) 30۔ الروم :60) تلاوت فرمائی۔ (ابن جریر ابن ابی حاتم) وہ حدیث جس سے اس مبارک سورة کی فضیلت اور اس کی قرأت کا صبح کی نماز میں مستحب ہونا ثابت ہوتا ہے) ایک صحابی عنہ فرماتے ہیں حضور ﷺ نے ایک دن صبح کی نماز پڑھاتے ہوئے اسی سورت کی قرأت کی۔ اثناء قرأت میں آپ کو وہم ساہو گیا فارغ ہو کر فرمانے لگے تم میں بعض ایسے لوگ بھی ہیں جو ہمارے ساتھ نماز میں شامل ہوتے ہیں لیکن باقاعدہ ٹھیک ٹھاک وضو نہیں کرتے۔ تم میں سے جو بھی ہمارے ساتھ نماز میں شامل ہو اسے اچھی طرح وضو کرنا چائیے (مسند احمد) اس کی اسناد حسن ہے متن بھی حسن ہے اور اسمیں ایک عجیب بھید ہے اور بہت بڑی خیر ہے اور وہ یہ کہ آپ کے مقتدیوں کے وضو بالکل درست نہ ہونے کا اثر آپ پر بھی پڑا۔ پس ثابت ہوا کہ مقتدیوں کی نماز امام کی نماز کے ساتھ معلق ہے۔

آیت 58 - سورہ روم: (ولقد ضربنا للناس في هذا القرآن من كل مثل ۚ ولئن جئتهم بآية ليقولن الذين كفروا إن أنتم إلا مبطلون...) - اردو