سورہ روم: آیت 8 - أولم يتفكروا في أنفسهم ۗ... - اردو

آیت 8 کی تفسیر, سورہ روم

أَوَلَمْ يَتَفَكَّرُوا۟ فِىٓ أَنفُسِهِم ۗ مَّا خَلَقَ ٱللَّهُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَآ إِلَّا بِٱلْحَقِّ وَأَجَلٍ مُّسَمًّى ۗ وَإِنَّ كَثِيرًا مِّنَ ٱلنَّاسِ بِلِقَآئِ رَبِّهِمْ لَكَٰفِرُونَ

اردو ترجمہ

کیا انہوں نے کبھی اپنے آپ میں غور و فکر نہیں کیا؟ اللہ نے زمین اور آسمانوں کو اور اُن ساری چیزوں کو جو اُن کے درمیان ہیں برحق اور ایک مقرّر مدت ہی کے لیے پیدا کیا ہے مگر بہت سے لوگ اپنے رب کی ملاقات کے منکر ہیں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Awalam yatafakkaroo fee anfusihim ma khalaqa Allahu alssamawati waalarda wama baynahuma illa bialhaqqi waajalin musamman wainna katheeran mina alnnasi biliqai rabbihim lakafiroona

آیت 8 کی تفسیر

اولم یتفکروا ۔۔۔۔۔ ربھم لکفرون (8) ” “۔ کیا یہ لوگ سوچتے نہیں کہ خود ان کی ساخت اور ان کی تخلیق اور ان کے اردگرد موجود یہ وسیع کائنات اس بات پر گواہ ہیں کہ یہ وجود ایک سچائی پر قائم ہے۔ ایک ایسے اٹل ناموس فطرت کے مطابق رواں دواں ہے جس کے اندر کوئی اضطراب نہیں ہے۔ یہ نہیں ہوتا ہے کہ یہ کائنات کبھی ادھر ڈھلک گئی اور کبھی ادھر۔ نہ اس کی گردش میں فرق آتا ہے ، نہ اجرام فلکی میں تصادم ہوتا ہے اور نہ اس کی حرکت کوئی غیر مرتب اندھی حرکت ہے۔ نہ یہ حرکت بدلتی ہوئی خواہشات کے مطابق بدلتی ہے۔ بلکہ یہ حرکت نہایت ہی گہری ، دقیق اور حکیمانہ نظام کے مطابق چل رہی ہے۔ یہ سچائی جس کے مطابق انسانی زندگی اور یہ وسیع کائنات چل رہی ہے اس کا تقاضا یہ ہے کہ اس جہان کا کوئی انجام ہو ، جہاں جزاء و سزا پوری ہو سکے۔ جہاں خیر اور شر دونوں کو ان کا بدلہ مل سکے۔ یہ سچائی نظر آتی ہے کہ یہاں ہر چیز ایک مقررہ انجام تک پہنچتی ہے یہ حکمت مدبرہ کے مطابق ہے اور اس کائنات کا ہر واقعہ اپنے وقت پر ظہور پذیر ہوتا ہے۔ اس میں کوئی تقدیم پایا خیر نہیں ہوتی۔ اگر انسان یہ اندازہ نہیں لگا سکا کہ آخرت کب وقوع پذیر ہوگی تو اس کے معنی یہ نہیں کہ آخرت نہیں آئے گی۔ آخرت کا عدم علم یا اس کی تاخیر سے صرف وہ لوگ غلط نتائج اخذ کرتے ہیں جو معاملات کا صرف ظاہری پہلو دیکھ سکتے ہیں اس طرح ان کو دھوکہ لگ جاتا ہے اس وجہ سے

ان کثیر من الناس ۔۔۔۔ لکفرون (30: 8) ” بیشک بہت سے لوگ اپنے رب کی ملاقات کے منکر ہیں “۔

ضمیر کائنات اور زمین و آسمان کے درمیان پائے جانے والی مخلوقات کی سیر جو نہایت ہی وسیع سیر ہے جس کے آفاق بہت ہی طویل و عریض ہیں اور ناقابل تصور وسعتیں رکھتے ہیں اور ان آفاق کے اندر متنوع مخلوق ہے۔ جو زندہ اور غیر زندہ ، قسم قسم کی اشیاء پر مشتمل ہے جس میں اجرام سماوی ، افلاک ، نجوم و کواکب ، بڑے اور چھوٹے تارے اور سیارے ، ظاہر اور چھپے ہوئے ، قریب و بعید اور معلوم و نامعلوم ہیں۔ اس وسیع سیر کے بعد اب قرآن کریم ہمیں خود اپنی تاریخ کی سیر کی دعوت دیتا ہے کہ آغاز انسانیت کے بعد ذرا خود انسانی تاریخ کا بھی مطالعہ کرو ، خود اس تاریخ میں بھی یہ عظیم سچائی سنت جاریہ کی صورت میں اپنا کام کرتی ہے اور انسانی تاریخ کے واقعات بھی ایسے ہی اٹل اسباب کی وجہ سے ظاہر ہوتے ہیں جس طرح اس کائنات کے حوادث۔

مَا خَلَقَ اللّٰہُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَمَا بَیْنَہُمَآ اِلَّا بالْحَقِّ وَاَجَلٍ مُّسَمًّی ط ”اللہ تعالیٰ نے یہ کائنات ایک مقصد کے تحت پیدا کی ہے۔ یہ وہ حقیقت ہے جس کا اقرار ہر وہ شخص کرتا ہے جو چشم بصیرت سے کائنات کا نظام دیکھتا ہے۔ چناچہ سورة آل عمران کی آیت 191 میں اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں کی ایک خصوصیت یہ بھی بتائی گئی ہے کہ جب وہ کائنات کی تخلیق کے بارے میں غور و فکر کرتے ہیں تو بےاختیار پکار اٹھتے ہیں : رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ ہٰذَا بَاطِلاً ج ”اے ہمارے پروردگار ! ہم سمجھ گئے ہیں کہ تو نے یہ سب کچھ عبث پیدا نہیں فرمایا۔“

کائنات کا ہر ذرہ دعوت فکر دیتا ہے چونکہ کائنات کا ذرہ ذرہ حق جل وعلا کی قدرت کا نشان ہے اور اس کی توحید اور ربوبیت پر دلالت کرنے والا ہے اس لئے ارشاد ہوتا ہے کہ موجودات میں غور و فکر کیا کرو اور قدرت اللہ کی نشانیوں سے اس مالک کو پہچانو اور اس کی قدر و تعظیم کرو۔ کبھی عالم علوی کو دیکھو کبھی عالم سفلی پر نظر ڈالو کبھی اور مخلوقات کی پیدائش کو سوچو اور سمجھو کہ یہ چیزیں عبث اور بیکار پیدا نہیں کی گئیں۔ بلکہ رب نے انہیں کارآمد اور نشان قدرت بنایا ہے۔ ہر ایک کا ایک وقت مقرر ہے یعنی قیامت کا دن۔ جسے اکثر لوگ مانتے ہی نہیں۔ اس کے بعد نبیوں کی صداقت کو اس طرح ظاہر فرماتا ہے کہ دیکھ لو ان کے مخالفین کا کس قدر عبرتناک انجام ہوا ؟ اور ان کے ماننے والوں کو کس طرح دونوں جہاں کی عزت ملی ؟ تم چل پھر کر اگلے واقعات معلوم کرو کہ گذشتہ امتیں جو تم سے زیادہ زور آور تھیں تم سے زیادہ مال و زر والی تھیں تم سے زیادہ آبادیاں انہوں نے کیں تم سے زیادہ کھیتیاں اور باغات ان کے تھے اس کے باوجود جب ان کے پاس اس زمانے کے رسول آئے انہوں نے دلیلیں اور معجزے دکھائے اور پھر بھی اس زمانے کے ان بدنصیبوں نے ان کی نہ مانی اور اپنے خیالات میں مستغرق رہے اور سیاہ کاریوں میں مشغول رہے تو بالآخر عذاب اللہ ان پر برس پڑے۔ اس وقت کوئی نہ تھا جو انہیں بچاسکے یا کسی عذاب کو ان پر سے ہٹاسکے۔ اللہ کی ذات اس سے پاک ہے کہ وہ اپنے بندوں پر ظلم کرے۔ یہ عذاب تو انکے اپنے کرتوتوں کا وبال تھا۔ یہ اللہ کی آیتوں کو جھٹلاتے تھے رب کی باتوں کا مذاق اڑاتے تھے۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ ان کی بےایمانی کی وجہ سے ہم نے ان کے دلوں کو انکی نگاہوں کو پھیر دیا اور انہیں ان کی سرکشی میں حیران چھوڑ دیا ہے۔ اور آیت میں ہے ان کی کجی کی وجہ سے اللہ نے ان کے دل ٹیڑھے کردئیے اور اس آیت میں ہے کہ اگر اب بھی منہ موڑیں تو سمجھ لے کہ اللہ تعالیٰ ان کے بعض گناہوں پر ان کی پکڑ کرنے کا ارادہ کرچکا ہے۔ اس بنا پر السوای منصوب ہوگا اساوا کا مفعول ہو کر۔ اور یہ بھی قول ہے کہ سوای یہاں پر اس طرح واقع ہے کہ برائی ان کا انجام ہوئی۔ اس لئے کہ وہ آیات اللہ کے جھٹلانے والے اور ان کا مذاق اڑانے والے تھے۔ تو اس معنی کی رو سے یہ لفظ منصوب ہوگا کان کی خبر ہو کر۔ امام ابن جریر نے یہی توجیہہ بیان کی ہے اور ابن عباس اور قتادۃ سے نقل بھی کی ہے۔ ضحاک بھی یہی فرماتے ہیں اور ظاہر بھی یہی ہے کیونکہ اس کے بعد آیت (وَكَانُوْا بِهَا يَسْتَهْزِءُوْنَ 10ۧ) 30۔ الروم :10) ہے۔

آیت 8 - سورہ روم: (أولم يتفكروا في أنفسهم ۗ ما خلق الله السماوات والأرض وما بينهما إلا بالحق وأجل مسمى ۗ وإن كثيرا من...) - اردو