وترکنا علیہ فی الاخرین (108) ” “۔ صدیوں سے اس واقعہ کا ذکر ہو رہا ہے۔ ابراہیم (علیہ السلام) امہ قرار پائے۔ انبیاء کے باپ قرار پائے۔ اس امت کے باپ قرار پائے۔ یہ امت ان کی ملت کی وارث ہوئی۔ اور اللہ نے اسی لیے ان کے ذمہ پوری بشریت کی راہنمائی اور قیادت کا فیضہ عائد کیا۔ چناچہ اس امت کو ابراہیم کا جانشین قرار دیا گیا۔ قیامت تک کے لئے۔
آیت 108{ وَتَرَکْنَا عَلَیْہِ فِی الْاٰخِرِیْنَ } ”اور اسی کے طریقے پر ہم نے باقی رکھا بعد میں آنے والوں میں سے بھی کچھ لوگوں کو۔“ اس سے پوری ملت ابراہیم علیہ السلام بھی مراد ہوسکتی ہے۔ جیسے قبل ازیں آیت 78 میں حضرت نوح علیہ السلام کے بارے میں بھی فرمایا گیا کہ ان کی ملت پر بعد میں ہم نے کچھ لوگوں کو قائم رکھا ‘ جن میں خود ابراہیم علیہ السلام بھی شامل تھے۔ اس کے علاوہ آیت کا مفہوم یہ بھی ہوسکتا ہے کہ قربانی کی اس سنت کو اللہ تعالیٰ نے بعد میں آنے والے لوگوں میں زندہ اور قائم رکھا۔ اس کا ایک مفہوم یہ بھی لیا گیا ہے کہ ہم نے بعد میں آنے والوں میں اس کا ذکر ِخیر باقی رکھا۔