اس صفحہ میں سورہ As-Saaffaat کی تمام آیات کے علاوہ تفسیر ابن کثیر (حافظ ابن کثیر) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ الصافات کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔
فَلَمَّآ أَسْلَمَا وَتَلَّهُۥ لِلْجَبِينِ
وَنَٰدَيْنَٰهُ أَن يَٰٓإِبْرَٰهِيمُ
قَدْ صَدَّقْتَ ٱلرُّءْيَآ ۚ إِنَّا كَذَٰلِكَ نَجْزِى ٱلْمُحْسِنِينَ
إِنَّ هَٰذَا لَهُوَ ٱلْبَلَٰٓؤُا۟ ٱلْمُبِينُ
وَفَدَيْنَٰهُ بِذِبْحٍ عَظِيمٍ
وَتَرَكْنَا عَلَيْهِ فِى ٱلْءَاخِرِينَ
سَلَٰمٌ عَلَىٰٓ إِبْرَٰهِيمَ
كَذَٰلِكَ نَجْزِى ٱلْمُحْسِنِينَ
إِنَّهُۥ مِنْ عِبَادِنَا ٱلْمُؤْمِنِينَ
وَبَشَّرْنَٰهُ بِإِسْحَٰقَ نَبِيًّا مِّنَ ٱلصَّٰلِحِينَ
وَبَٰرَكْنَا عَلَيْهِ وَعَلَىٰٓ إِسْحَٰقَ ۚ وَمِن ذُرِّيَّتِهِمَا مُحْسِنٌ وَظَالِمٌ لِّنَفْسِهِۦ مُبِينٌ
وَلَقَدْ مَنَنَّا عَلَىٰ مُوسَىٰ وَهَٰرُونَ
وَنَجَّيْنَٰهُمَا وَقَوْمَهُمَا مِنَ ٱلْكَرْبِ ٱلْعَظِيمِ
وَنَصَرْنَٰهُمْ فَكَانُوا۟ هُمُ ٱلْغَٰلِبِينَ
وَءَاتَيْنَٰهُمَا ٱلْكِتَٰبَ ٱلْمُسْتَبِينَ
وَهَدَيْنَٰهُمَا ٱلصِّرَٰطَ ٱلْمُسْتَقِيمَ
وَتَرَكْنَا عَلَيْهِمَا فِى ٱلْءَاخِرِينَ
سَلَٰمٌ عَلَىٰ مُوسَىٰ وَهَٰرُونَ
إِنَّا كَذَٰلِكَ نَجْزِى ٱلْمُحْسِنِينَ
إِنَّهُمَا مِنْ عِبَادِنَا ٱلْمُؤْمِنِينَ
وَإِنَّ إِلْيَاسَ لَمِنَ ٱلْمُرْسَلِينَ
إِذْ قَالَ لِقَوْمِهِۦٓ أَلَا تَتَّقُونَ
أَتَدْعُونَ بَعْلًا وَتَذَرُونَ أَحْسَنَ ٱلْخَٰلِقِينَ
ٱللَّهَ رَبَّكُمْ وَرَبَّ ءَابَآئِكُمُ ٱلْأَوَّلِينَ
حضرت موسیٰ پر انعامات الٰہی۔ اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ اور ہارون پر اپنی نعمتیں جتا رہا ہے کہ انہیں نبوت دی انہیں مع ان کی قوم کے فرعون جیسے طاقتور دشمن سے نجات دی جس نے انہیں بےطرح پست و ذلیل کر رکھا تھا ان کے بچوں کو کاٹ دیتا تھا ان کی لڑکیوں کو رہنے دیتا تھا ان سے ذلیل مزدوریاں کراتا تھا اور بےحیثیت بنا رکھا تھا۔ ایسے بدترین دشمن کو ان کے دیکھتے ہلاک کیا، انہیں اس پر غالب کردیا ان کی زمین و زر کے یہ مالک بن گئے۔ پھر حضرت موسیٰ کو واضح جلی روشن اور بین کتاب عنایت فرمائی جو حق و باطل میں فرق و فیصلہ کرنے والی اور نور و ہدایت والی تھی، ان کے اقوال و افعال میں انہیں استقامت عطا فرمائی اور ان کے بعد والوں میں بھی ان کا ذکر خیر اور ثناء و صفت باقی رکھی کہ ہر زبان ان پر سلام ہی پڑھتی ہے۔ ہم نیک کاروں کو یہی اور ایسے ہی بدلے دیتے ہیں۔ وہ ہمارے مومن بندے تھے۔
حضرت الیاس ؑ۔ بعض کہتے ہیں الیاس نام تھا حضرت ادریس ؑ کا۔ وہب کہتے ہیں ان کا سلسلہ نسب یوں ہے الیاس بن نسی بن فحاص بن عبراز بن ہارون بن عمران علیہ السلام۔ خرقیل ؑ کے بعد یہ نبی اسرائیل میں بھیجے گئے تھے وہ لوگ بعل نامی بت کے پجاری بن گئے تھے۔ انہوں نے دعوت اسلام دی ان کے بادشاہ نے ان سے قبول بھی کرلی لیکن پھر مرتد ہوگیا اور لوگ بھی سرکشی پر تلے رہے اور ایمان سے انکار کردیا آپ نے ان پر بددعا کی تین سال تک بارش نہ برسی۔ اب تو یہ سب تنگ آگئے اور قسمیں کھا کھا کر اقرار کیا کہ آپ دعا کیجئے بارش برستے ہی ہم سب آپ کی نبوت پر ایمان لائیں گے۔ چناچہ آپ کی دعا سے مینہ برسا۔ لیکن یہ کفار اپنے وعدے سے ٹل گئے اور اپنے کفر پر اڑ گئے۔ آپ نے یہ حالت دیکھ کر اللہ سے دعا کی کہ اللہ انہیں اپنی طرف لے لے۔ ان کے ہاتھوں تلے حضرت یسع بن اخطوب پلے تھے۔ حضرت الیاس کی اس دعا کے بعد انہیں حکم ملا کہ وہ ایک جگہ جائیں اور وہاں انہیں جو سواری ملے اس پر سوار ہوجائیں وہاں آپ گئے ایک نوری گھوڑا دکھائی دیا جس پر سوار ہوگئے اللہ نے انہیں بھی نورانی کردیا اور اپنے پروں سے فرشتوں کے ساتھ اڑنے لگے اور ایک انسانی فرشتہ زمینی اور آسمانی بن گئے۔ اس کی صحت کا علم اللہ ہی کو ہے۔ ہے یہ بات اہل کتاب کی روایت سے حضرت الیاس نے اپنی قوم سے فرمایا کہ کیا تم اللہ سے ڈرتے نہیں ہو ؟ کہ اس کے سوا دوسروں کی عبادت کرتے ہو ؟ اہل یمن اور قبیلہ ازوشنوہ رب کو بعل کہتے تھے۔ بعل نامی جس بت کی یہ پوجا کرتے تھے وہ ایک عورت تھی۔ ان کے شہر کا نام بعلبک تھا تو اللہ کے نبی حضرت الیاس ؑ فرماتے ہیں کہ تعجب ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر جو خالق کل ہے اور بہترین خلاق ہے ایک بت کو پوج رہے ہو ؟ اور اس کو پکارتے رہتے ہو ؟ اللہ تعالیٰ تم سب کا اور تم سے اگلے تمہارے باپ دادوں کا رب ہے وہی مستحق عبادت ہے اس کے سوا کسی قسم کی عبادت کسی کے لائق نہیں۔ لیکن ان لوگوں نے اللہ کے پیارے نبی ﷺ کی اس صاف اور خیر خواہانہ نصیحت کو نہ مانا تو اللہ نے بھی انہیں عذاب پر حاضر کردیا، کہ قیامت کے دن ان سے زبردست باز پرس اور ان پر سخت عذاب ہوں گے۔ ہاں ان میں سے جو توحید پر قائم تھے وہ بچ رہیں گے۔ ہم نے حضرت الیاس ؑ کی ثناء جمیل اور ذکر خیر پچھلے لوگوں میں بھی باقی ہی رکھا کہ ہر مسلم کی زبان سے ان پر درود وسلام بھیجا جاتا ہے۔ الیاس میں دوسری لغت الیاسین ہے جیسے اسماعیل میں اسماعین بنو اسد میں اسی طرح یہ لغت ہے۔ ایک تمیمی کے شعر میں یہ لغت اس طرح لایا گیا ہے۔ میکائیل کو میکال اور میکائین بھی کہا جاتا ہے۔ ابراہیم کو ابراہام، اسرائیل کو سزائیں، طور سینا کو طور سے سینین۔ غرض یہ لغت عرب میں مشہور و رائج ہے۔ ابن مسعود کی قرأت میں سلام علی ال یاسین ہے۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد آنحضرت ﷺ ہیں۔ ہم اسی طرح نیک کاروں کو نیک بدلہ دیتے ہیں۔ یقیناً وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھے۔ اس جملہ کی تفسیر گذر چکی ہے واللہ تعالیٰ اعلم۔