سورہ الصافات: آیت 123 - وإن إلياس لمن المرسلين... - اردو

آیت 123 کی تفسیر, سورہ الصافات

وَإِنَّ إِلْيَاسَ لَمِنَ ٱلْمُرْسَلِينَ

اردو ترجمہ

اور الیاسؑ بھی یقیناً مرسلین میں سے تھا

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wainna ilyasa lamina almursaleena

آیت 123 کی تفسیر

اس کے بعد ایک جھلک حضرت الیاس (علیہ السلام) کی۔ یہ کون تھے ؟ راجح بات یہ ہے کہ عہد نامہ قدیم میں جو پیغمبر ابلیا کے نام سے مذکور ہیں ، وہی الیاس ہیں۔ یہ شام کے لوگوں کی طرف بھیجے گئے تھے۔ یہ لوگ ایک بغل نامی بت کے پرستار تھے۔ بعلبک آج تک اسی بت کے آثار میں سے ہے۔ بعل کے پرستار یہاں رہتے ہوں گے۔

وان الیاس لمن ۔۔۔۔۔۔ عبادنا المؤمنین (123 – 132)

حضرت الیاس نے اپنی قوم کو توحید کی دعوت دی اور اس بات پر تنقید کی کہ تم بعل کی عبادت کرتے ہو اور اس ذات کو چھوڑتے ہو جو احسن الخالقین ہے۔ تمہارا بھی رب ہے ، اور تمہارے آباء اجداد کا بھی رب ہے ، بعینہ اسی طرح جس طرح حضرت ابراہیم نے اپنی قوم اور باپ کی بت پرستی پر تنقید کی تھی۔ جس طرح پر رسول اپنی اپنی قوم کی بت پرستی پر احتساب کرتا آیا تھا۔

نتیجہ یہ تھا کہ قوم کی تکذیب کی۔ اللہ تعالیٰ مافیہ فرماتا ہے کہ ان کو گرفتار کرکے حاضر کیا جائے گا۔ اور ان کو وہی سزا ملے گی جو ہمیشہ مکذبین کو ملتی ہے۔ ہاں ان میں سے اہل ایمان اور اللہ کے خالص بندے مستثنیٰ ہوں گے۔

حضرت الیاس (علیہ السلام) کے ساتھ یہ محفل بھی اس بات پر ختم ہوتی ہے کہ اللہ کی طرف سے ان پر سلام آتا ہے ان کی بھی تکریم ہوتی ہے ۔ اور اہل ایمان اور اہل احسان کو اللہ ایسی ہی جزا دیتے ہیں۔ حضرت الیاس (علیہ السلام) کی سیرت یہاں پہلی مرتبہ

آتی ہے مگر نہایت اختصار کے ساتھ۔ ہم بھی اختصار کے ساتھ اسی پر اکتفاء کرتے ہیں ۔ البتہ یہاں ایک فنی نکتہ بیان کرنا ضروری ہے

سلم علی ال یاسین (37: 130) ” سلام ہے الیاس پر “۔ یہاں الیاس (علیہ السلام) کے نام کے ساتھ ” ین “ کا فاصلہ لگا دیا گیا تاکہ عبادت کا صوتی حسن دوبالا ہوجائے ۔ اور یہ قرآن کا مخصوص انداز بیان ہے کہ سورت کی آیات کا خاتمہ تقریبا صوتی ہم آہنگی کے ساتھ ہوتا ہے اور اس انداز تعبیر کا سامع پر بہت اثر ہوتا ہے۔

آیت 123{ وَاِنَّ اِلْیَاسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ } ”اور یقینا الیاس علیہ السلام بھی رسولوں میں سے تھا۔“ حضرت الیاس علیہ السلام حضرت ہارون علیہ السلام کی نسل میں سے تھے۔ آپ علیہ السلام بنی اسرائیل کے مشہور شہر ”بَعْلَبَک“ میں مبعوث ہوئے تھے۔ اس شہر میں سانڈھ کی شکل کا ایک بہت بڑا بت بنایا گیا تھا جس کا نام آگے آیت 125 میں ”بعل“ بتایا گیا ہے۔ اسی ُ بت کے نام پر اس شہر کا نام ”بعلبک“ بعل کا بک رکھا گیا تھا یعنی بعل کا شہر۔ پرانی عبرانی زبان میں شہر کو بک یا بکہ کہا جاتا تھا۔ چنانچہ مکہ کا پرانا نام بھی بَکّہ تھا ‘ جس کا حوالہ سورة آل عمران کی آیت 96 میں آیا ہے۔ بہر حال اس قوم کے لوگوں نے اس شہر کو اپنے معبود کے نام سے منسوب کر رکھا تھا۔

حضرت الیاس ؑ۔ بعض کہتے ہیں الیاس نام تھا حضرت ادریس ؑ کا۔ وہب کہتے ہیں ان کا سلسلہ نسب یوں ہے الیاس بن نسی بن فحاص بن عبراز بن ہارون بن عمران علیہ السلام۔ خرقیل ؑ کے بعد یہ نبی اسرائیل میں بھیجے گئے تھے وہ لوگ بعل نامی بت کے پجاری بن گئے تھے۔ انہوں نے دعوت اسلام دی ان کے بادشاہ نے ان سے قبول بھی کرلی لیکن پھر مرتد ہوگیا اور لوگ بھی سرکشی پر تلے رہے اور ایمان سے انکار کردیا آپ نے ان پر بددعا کی تین سال تک بارش نہ برسی۔ اب تو یہ سب تنگ آگئے اور قسمیں کھا کھا کر اقرار کیا کہ آپ دعا کیجئے بارش برستے ہی ہم سب آپ کی نبوت پر ایمان لائیں گے۔ چناچہ آپ کی دعا سے مینہ برسا۔ لیکن یہ کفار اپنے وعدے سے ٹل گئے اور اپنے کفر پر اڑ گئے۔ آپ نے یہ حالت دیکھ کر اللہ سے دعا کی کہ اللہ انہیں اپنی طرف لے لے۔ ان کے ہاتھوں تلے حضرت یسع بن اخطوب پلے تھے۔ حضرت الیاس کی اس دعا کے بعد انہیں حکم ملا کہ وہ ایک جگہ جائیں اور وہاں انہیں جو سواری ملے اس پر سوار ہوجائیں وہاں آپ گئے ایک نوری گھوڑا دکھائی دیا جس پر سوار ہوگئے اللہ نے انہیں بھی نورانی کردیا اور اپنے پروں سے فرشتوں کے ساتھ اڑنے لگے اور ایک انسانی فرشتہ زمینی اور آسمانی بن گئے۔ اس کی صحت کا علم اللہ ہی کو ہے۔ ہے یہ بات اہل کتاب کی روایت سے حضرت الیاس نے اپنی قوم سے فرمایا کہ کیا تم اللہ سے ڈرتے نہیں ہو ؟ کہ اس کے سوا دوسروں کی عبادت کرتے ہو ؟ اہل یمن اور قبیلہ ازوشنوہ رب کو بعل کہتے تھے۔ بعل نامی جس بت کی یہ پوجا کرتے تھے وہ ایک عورت تھی۔ ان کے شہر کا نام بعلبک تھا تو اللہ کے نبی حضرت الیاس ؑ فرماتے ہیں کہ تعجب ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر جو خالق کل ہے اور بہترین خلاق ہے ایک بت کو پوج رہے ہو ؟ اور اس کو پکارتے رہتے ہو ؟ اللہ تعالیٰ تم سب کا اور تم سے اگلے تمہارے باپ دادوں کا رب ہے وہی مستحق عبادت ہے اس کے سوا کسی قسم کی عبادت کسی کے لائق نہیں۔ لیکن ان لوگوں نے اللہ کے پیارے نبی ﷺ کی اس صاف اور خیر خواہانہ نصیحت کو نہ مانا تو اللہ نے بھی انہیں عذاب پر حاضر کردیا، کہ قیامت کے دن ان سے زبردست باز پرس اور ان پر سخت عذاب ہوں گے۔ ہاں ان میں سے جو توحید پر قائم تھے وہ بچ رہیں گے۔ ہم نے حضرت الیاس ؑ کی ثناء جمیل اور ذکر خیر پچھلے لوگوں میں بھی باقی ہی رکھا کہ ہر مسلم کی زبان سے ان پر درود وسلام بھیجا جاتا ہے۔ الیاس میں دوسری لغت الیاسین ہے جیسے اسماعیل میں اسماعین بنو اسد میں اسی طرح یہ لغت ہے۔ ایک تمیمی کے شعر میں یہ لغت اس طرح لایا گیا ہے۔ میکائیل کو میکال اور میکائین بھی کہا جاتا ہے۔ ابراہیم کو ابراہام، اسرائیل کو سزائیں، طور سینا کو طور سے سینین۔ غرض یہ لغت عرب میں مشہور و رائج ہے۔ ابن مسعود کی قرأت میں سلام علی ال یاسین ہے۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد آنحضرت ﷺ ہیں۔ ہم اسی طرح نیک کاروں کو نیک بدلہ دیتے ہیں۔ یقیناً وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھے۔ اس جملہ کی تفسیر گذر چکی ہے واللہ تعالیٰ اعلم۔

آیت 123 - سورہ الصافات: (وإن إلياس لمن المرسلين...) - اردو