فلولا انہ کان ۔۔۔۔۔ یوم یبعثون (37: 143 – 144) ” اب اگر وہ تسبیح کرنے والوں میں سے نہ ہوتا تو روز قیامت تک اس مچھلی کے پیٹ میں رہتا “۔ جب آپ مچھلی کے پیٹ سے نکلے تو بہت ہی کمزور ہوچکے تھے اور آپ کے پاس اوڑھنے کے لیے بھی کچھ نہ تھا اور آپ ساحل کی گرمی میں پڑے تھے۔
آیت 143{ فَلَوْلَآ اَنَّہٗ کَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِیْنَ } ”تو اگر وہ تسبیح کرنے والوں میں سے نہ ہوتا۔“ سورة الانبیاء کی آیت 87 میں ہم پڑھ چکے ہیں کہ حضرت یونس علیہ السلام اللہ تعالیٰ کی مشیت سے مچھلی کے پیٹ میں نہ صرف زندہ رہے بلکہ ان الفاظ سے تسبیح بھی کرتے رہے کہ : { لَآ اِلٰــہَ اِلَّآ اَنْتَ سُبْحٰنَکَق اِنِّیْ کُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ } ”تیرے سوا کوئی معبود نہیں ‘ تو پاک ہے ‘ اور یقینا میں ہی ظالموں میں سے ہوں۔“