اس صفحہ میں سورہ As-Saaffaat کی تمام آیات کے علاوہ فی ظلال القرآن (سید ابراہیم قطب) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ الصافات کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔
فَكَذَّبُوهُ فَإِنَّهُمْ لَمُحْضَرُونَ
إِلَّا عِبَادَ ٱللَّهِ ٱلْمُخْلَصِينَ
وَتَرَكْنَا عَلَيْهِ فِى ٱلْءَاخِرِينَ
سَلَٰمٌ عَلَىٰٓ إِلْ يَاسِينَ
إِنَّا كَذَٰلِكَ نَجْزِى ٱلْمُحْسِنِينَ
إِنَّهُۥ مِنْ عِبَادِنَا ٱلْمُؤْمِنِينَ
وَإِنَّ لُوطًا لَّمِنَ ٱلْمُرْسَلِينَ
إِذْ نَجَّيْنَٰهُ وَأَهْلَهُۥٓ أَجْمَعِينَ
إِلَّا عَجُوزًا فِى ٱلْغَٰبِرِينَ
ثُمَّ دَمَّرْنَا ٱلْءَاخَرِينَ
وَإِنَّكُمْ لَتَمُرُّونَ عَلَيْهِم مُّصْبِحِينَ
وَبِٱلَّيْلِ ۗ أَفَلَا تَعْقِلُونَ
وَإِنَّ يُونُسَ لَمِنَ ٱلْمُرْسَلِينَ
إِذْ أَبَقَ إِلَى ٱلْفُلْكِ ٱلْمَشْحُونِ
فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ ٱلْمُدْحَضِينَ
فَٱلْتَقَمَهُ ٱلْحُوتُ وَهُوَ مُلِيمٌ
فَلَوْلَآ أَنَّهُۥ كَانَ مِنَ ٱلْمُسَبِّحِينَ
لَلَبِثَ فِى بَطْنِهِۦٓ إِلَىٰ يَوْمِ يُبْعَثُونَ
۞ فَنَبَذْنَٰهُ بِٱلْعَرَآءِ وَهُوَ سَقِيمٌ
وَأَنۢبَتْنَا عَلَيْهِ شَجَرَةً مِّن يَقْطِينٍ
وَأَرْسَلْنَٰهُ إِلَىٰ مِا۟ئَةِ أَلْفٍ أَوْ يَزِيدُونَ
فَـَٔامَنُوا۟ فَمَتَّعْنَٰهُمْ إِلَىٰ حِينٍ
فَٱسْتَفْتِهِمْ أَلِرَبِّكَ ٱلْبَنَاتُ وَلَهُمُ ٱلْبَنُونَ
أَمْ خَلَقْنَا ٱلْمَلَٰٓئِكَةَ إِنَٰثًا وَهُمْ شَٰهِدُونَ
أَلَآ إِنَّهُم مِّنْ إِفْكِهِمْ لَيَقُولُونَ
وَلَدَ ٱللَّهُ وَإِنَّهُمْ لَكَٰذِبُونَ
أَصْطَفَى ٱلْبَنَاتِ عَلَى ٱلْبَنِينَ
اب قصہ لوط کی ایک جھلک۔ دوسرے مقامات پر یہ قصہ حضرت ابراہیم کے قصے کے ساتھ آتا ہے۔
وان لوطا لمن ۔۔۔۔ افلا تعقلون (133 – 138) ”
یہ جھلک نوح (علیہ السلام) کے قصے کی جھلک کے ساتھ مناسبت رکھتی ہے۔ اس میں اس بات کا ذکر ہے کہ لوط (علیہ السلام) رسول تھے۔ ان کو اپنے اہل و عیال کے ساتھ نجات دی گئی۔ ماسوائے ان کی بیوی کے۔ اور گمراہ جھٹلانے والوں کو ہلاک کردیا گیا۔ عربوں کو اس طرف متوجہ کیا جاتا ہے کہ تم تو روزوشب علاقہ لوط پر سے گزرتے ہو۔ کیا تمہارے دل بیدار نہیں ہوتے اور تم عقل سے کام نہیں لیتے۔ کیا یہ کھنڈرات جو کہانی سناتے ہیں۔ تم اس کی طرف کان نہیں لگاتے اور کیا تمہارے دل میں ایسے انجام کا ڈر پیدا نہیں ہوتا۔ قصص انبیاء کی یہ جھلکیاں قصہ یونس پر ختم ہوتی ہیں۔
وان یونس لمن المرسلین۔۔۔۔ فمتعنھم الی حین (139 – 148)
قرآن کریم اس بات کا تذکرہ نہیں کرتا کہ قوم یونس کہاں تھی۔ یہ بات قرآن سے صاف صاف معلوم ہوتی ہے کہ یہ لوگ کسی ساحلی بستی میں آباد تھے۔ روایات میں آتا ہے کہ حضرت یونس کی قوم کی جانب سے مسلسل تکذیب کی وجہ سے ان کا دل بھر آیا تھا۔ اس لیے انہوں نے اپنی قوم کو یہ وارننگ دے دی کہ جلد ہی تم پر عذاب آنے والا ہے۔ آپ نے اپنی قوم سے سخت غصہ ہوکر نکل کھڑے ہوئے۔ چناچہ آپ سمندر کے ساحل پر چلے گئے۔ اور وہاں ایک ایسی کشتی میں سوار ہوگئے جو سواریوں سے بھری ہوئی تھی۔ سمندر کے درمیان میں کشتی کو طوفان نے آلیا اور وہ موجوں کی لپیٹ میں آگئی۔ لوگوں کی طرف سے اعلان ہوا ، کشتی کے سواروں میں کوئی شخص ایسا ہے جس نے غلطی کا ارتکاب کیا ہے اور وہ مغضوب علیہ ہے اور یہ بات لازمی ہے کہ ایسے شخص کو سمندر میں پھینک دیا جائے تاکہ کشتی نجات پاجائے۔ اس لیے ان لوگوں نے قرعہ اندازی کی کہ جس کا قرعہ نکلا اسے سمندر میں پھینک دیا جائے۔ یونس (علیہ السلام) کا قرعہ نکل آیا۔ ان لوگوں کے اندر یونس (علیہ السلام) نیکی اور تقویٰ میں معروف تھے۔ لیکن جب ان کے نام بار بار قرعہ نکلا تو انہوں نے انہیں سمندر میں پھینک دیا یا خود وہ سمندر میں کود گئے۔ چناچہ ان کو مچھلی نے نگل لیا۔ اس وقت سب لوگ ان کو ملامت کر رہے تھے یعنی وہ ملامت کے بظاہر مستحق تھے کیونکہ انہوں نے اس مہم کو چھوڑ دیا تھا جس کے لیے ان کو بھیجا گیا تھا اور اپنی قوم سے ناراض ہوکر ان کو چھوڑ دیا حالانکہ ابھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایت نہ آئی تھی۔ جب مچھلی کے پیٹ میں انہوں نے احساس کرلیا اس ظلم سے استغفار کرنا شروع کردیا۔ اور یہ اعتراف کرلیا کہ میں نے ظلم کیا ہے۔
لا الہ الا ۔۔۔۔ من الظالمین ” نہیں ہے کوئی حاکم مگر تو ، تو پاک ہے ، بیشک میں ظالموں میں سے تھا “۔ اللہ نے ان کی دعا کو سنا اور قبول کرلیا۔ چناچہ مچھلی نے ان کو ساحل پر اگل دیا۔
فلولا انہ کان ۔۔۔۔۔ یوم یبعثون (37: 143 – 144) ” اب اگر وہ تسبیح کرنے والوں میں سے نہ ہوتا تو روز قیامت تک اس مچھلی کے پیٹ میں رہتا “۔ جب آپ مچھلی کے پیٹ سے نکلے تو بہت ہی کمزور ہوچکے تھے اور آپ کے پاس اوڑھنے کے لیے بھی کچھ نہ تھا اور آپ ساحل کی گرمی میں پڑے تھے۔
وانبتنا علیہ شجرۃ من یقطین (37: 146) ” اور ہم نے اس پر ایک بیلدار درخت اگا دیا “۔ اور یہ کدو کی بیل تھی۔ یہ اپنے پھیلے ہوئے بتوں کے ذریعہ انہیں دھوپ سے بچاتی اور یہ ان سے مکھیوں کو بھی دور رکھتی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ مکھیاں اس درخت کے قریب نہیں جاتیں۔ یہ اللہ کا لطف و کرم تھا اور معجزانہ تدابیر تھیں۔ جب ان کی صحت لوٹ آئی تو اللہ نے ان کو اپنی اس قوم کھے پاس واپس بھیجا جن سے ناراض ہوکر وہ آگئے تھے۔ حضرت یونس کے بعد یہ لوگ ڈرگئے تھے ، ایمان لے آئے تھے۔ اللہ سے استغفار کیا اور اجتماعی طور پر معافی مانگی اور اللہ نے ان کی دعا قبول کرلی اور ان پر وہ عذاب سنت الہیہ کے مطابق نہ آیا جو مکذبین پر آتا رہتا ہے۔
فامنوا فمتعنھم الی حین (37: 148) ” وہ ایمان لے آئے اور ہم نے ایک مقررہ وقت تک ان کو متاع حیات دیا “۔ ان کی تعداد ایک لاکھ یا اس سے زیادہ تھی۔ اور یہ سب کے سب ایمان لے آئے تھے۔ یہ قصہ یہاں یہ بتاتا ہے کہ ان لوگوں کا انجام کیا ہوتا ہے جو ایمان لاتے ہیں جبکہ سابقہ قصص کا مدعا یہ بتانا تھا کہ جو ایمان نہیں لاتے ان کا انجام کیا ہوتا ہے۔ لہٰذا اے قوم محمد ، تم ان دو انجاموں میں سے اپنے لیے جو انجام چاہتے ہو ، اختیار کرلو۔ یہاں آکر اس سورت کا یہ سبق ختم ہوتا ہے اور اس پر وہ تاریخی جائزہ بھی ختم ہوتا ہے جو نوح (علیہ السلام) کے بعد تمام ڈرانے والوں کی اقوام کے انجام کے بارے میں تھا ، خواہ وہ مومنین تھے یا مکذبین تھے۔
درس نمبر 210 ایک نظر میں
اس سورت کے سبق 2 میں لائے جانے والے قصص نے جن امور پر روشنی ڈالی اور اللہ اور اس کے بندوں کے تعلق کی جو وضاحت کی اور اللہ کی جانب سے اپنے رسولوں کے مکذبین کو جس طرح پکڑا گیا جو غیر اللہ کی بندگی کرتے تھے اور اللہ کے ساتھ خود اس کی پیدا کی ہوئی مخلوق کو شریک کرتے تھے اور اس حقیقت کی روشنی میں جو درس اول کا موضوع تھی ، اب اس آخری سبق میں رسول اللہ ﷺ کو ہدایت دی جاتی ہے کہ ان لوگوں کے ساتھ اس موضوع پر مکالمہ کریں کہ ان تمام حقائق کے مقابلے میں ان کے اس افسانوی عقیدے کی کیا حقیقت ہے کہ ملائکہ اللہ کی بیٹیاں ہیں نیز ان کے اس افسانوی عقیدے کی کیا حیثیت ہے جس کے مطابق وہ خیال کرتے ہیں کہ اللہ اور جنوں کے درمیان کوئی رشتہ داری ہے اور ان کو یاد دلائیں کہ تم تو تمنائیں کرتے تھے کہ ہم میں بھی کوئی رسول آجائے اور تم یہ کہا کرتے تھے کہ اگر کوئی رسول آجائے تو ہم اس کی ہدایات کو بسر و چشم قبول کریں گے لیکن ان تمہارا حال یہ ہے کہ جب رسول آگیا تو تم نے کفر کا رویہ اختیار کرلیا۔ سورت کا خاتمہ اس ریکارڈ پر ہوتا ہے کہ اللہ نے رسولوں کے ساتھ وعدہ کرلیا ہے کہ وہی غالب رہیں گے اور یہ کہ یہ مشرکین اللہ کی طرف جو نسبتیں کرتے ہیں وہ ان سے پاک ہے اور تمام تعریفیں اللہ رب العالمین کے لیے ہیں۔ چناچہ آغاز ہوتا ہے۔
درس نمبر 210 تشریح آیات
149 ۔۔۔ تا۔۔۔ 182
فاستفتھم الربک البنات۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ان کنتم صدقین (149 – 157)
ان کے اس غلط عقیدے کا ہر طرف سے گھیراؤ کیا جاتا ہے ۔ ان کے خلاف ان کی زبان میں بات کی جاتی ہے اور ان کے سماج میں جو سوچ تھی اسی کو ان کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے۔ عربوں کے سماج میں لڑکوں کو لڑکیوں کے مقابلے میں زیادہ اہمیت حاصل تھی۔ اور وہ بچیوں کی پیدائش کو مصیبت سمجھتے تھے۔ لڑکیوں کو لڑکوں کے مقابلے میں کم تر مخلوق سمجھا جاتا تھا۔ اور اس کے باوجود وہ یہ دعویٰ کرتے تھے کہ فرشتے دیویاں ہیں اور یہ اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ چناچہ اس عقیدے کو ان کی منطق اور سوچ کے مطابق رد کردیا گیا تاکہ وہ دیکھ لیں کہ حقیقت تو دور کی بات ہے خود ان کے تسلیم شدہ معیار کے مطابق بھی ان کا عقیدہ غلط ہے۔
فاستفتھم الربک البنات ولھم النبون (37: 149) ” پھر ذرا ان سے پوچھو کہ تمہارے رب کیلئے تو ہوں بیٹاں اور ان کے لیے ہوں بیٹے “۔ کیا تمہارے دل کو یہ بات لگتی ہے۔ جبکہ تمہارے سماج میں لڑکیاں لڑکوں سے کم تر رتبہ رکھتی ہیں۔ کیا خوب تقسیم ہے تمہاری ، کہ تمہارے لیے ہوں بیٹے اور خالق کے لیے ہوں بیٹیاں یا یہ کہ خود اللہ نے اپنے لیے بیٹیاں چن لیں اور بیٹے تمہارے لیے چھوڑ دئیے۔ یہ دونوں باتیں درست نہیں ہیں۔ تمہارے یہ مزعومات کس قدر پوچ ہیں۔ آج تمہارے اندر یہ افسانوی سوچ کیسے پیدا ہوگئی۔ کہاں سے یہ عقیدہ پھیل گیا کہ فرشتے مونث ہیں۔ کیا انہوں نے ان کی پیدائش کو دیکھا ہے ، اس وقت یہ موجود تھے اور انہوں نے ان کی جنس کو معلوم کرلیا ؟ ام خلقنا الملئکۃ اناثا وھم شھدون (37: 150) “ کیا ہم نے ملائکہ کی تخلیق مونث کے طور پر کی اور یہ اس وقت دیکھ رہے تھے “۔ یہاں اللہ تعالیٰ ان کے اس مقولے اور عقیدے کو ان کے منصوص الفاظ میں نقل کرکے رد کرتا ہے۔
الا انھم من۔۔۔۔۔ لکذبون (37: 151 – 152) ” دراصل یہ لوگ اپنی من گھڑت سے یہ بات کہتے ہیں کہ ” اللہ اولاد رکھتا ہے “ اور فی الواقع یہ جھوٹے ہیں “۔ یہ اپنے سماج کے مسلمہ رواج اور اپنی ثابت شدہ روایات کے خلاف یہ بات کرتے ہیں۔ یہ خود تو بیٹے چاہتے ہیں اور اللہ کی طرف بیٹیوں کی نسبت کرتے ہیں۔
اصطفی البنات علی البنین (37: 153) ” کیا اللہ نے بیٹوں کے بجائے بیٹیاں اپنے لیے پسند کیں “۔ تمہاری یہ منطق خود تمہارے غلط یا صحیح مسلمات کی رو سے ہی غلط ہے۔