الا عباد اللہ المخلصین (160)
یہاں جنوں سے اللہ کے نیک بندوں کو مستثنیٰ کیا جاتا ہے جو جنوں سے ہیں اور جو ایمان لانے والے ہیں۔
اس کے بعد فرشتوں کی طرف سے خطاب ہے ، ان مشرکین کو اور ان کے ان معبودوں کو ، جن کی وہ بندگی کرتے تھے۔ یہ خطاب ان کے خود ساختہ عقائد پر ہے جو وہ رکھتے ہیں۔ بظاہر انداز کلام سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ خطاب فرشتوں کا ہے۔
آیت 160{ اِلَّا عِبَادَ اللّٰہِ الْمُخْلَصِیْنَ } ”سوائے اللہ کے ان بندوں کے جو خالص کرلیے گئے ہیں۔“ اللہ کے وہ بندے جنہیں اللہ نے ُ چن لیا ہے ‘ چاہے وہ جنات میں سے ہوں یا انسانوں میں سے ‘ وہ قیامت کے دن کی پکڑ سے محفوظ و مامون رہیں گے۔