اس صفحہ میں سورہ As-Saaffaat کی تمام آیات کے علاوہ فی ظلال القرآن (سید ابراہیم قطب) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ الصافات کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔
مَا لَكُمْ كَيْفَ تَحْكُمُونَ
أَفَلَا تَذَكَّرُونَ
أَمْ لَكُمْ سُلْطَٰنٌ مُّبِينٌ
فَأْتُوا۟ بِكِتَٰبِكُمْ إِن كُنتُمْ صَٰدِقِينَ
وَجَعَلُوا۟ بَيْنَهُۥ وَبَيْنَ ٱلْجِنَّةِ نَسَبًا ۚ وَلَقَدْ عَلِمَتِ ٱلْجِنَّةُ إِنَّهُمْ لَمُحْضَرُونَ
سُبْحَٰنَ ٱللَّهِ عَمَّا يَصِفُونَ
إِلَّا عِبَادَ ٱللَّهِ ٱلْمُخْلَصِينَ
فَإِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ
مَآ أَنتُمْ عَلَيْهِ بِفَٰتِنِينَ
إِلَّا مَنْ هُوَ صَالِ ٱلْجَحِيمِ
وَمَا مِنَّآ إِلَّا لَهُۥ مَقَامٌ مَّعْلُومٌ
وَإِنَّا لَنَحْنُ ٱلصَّآفُّونَ
وَإِنَّا لَنَحْنُ ٱلْمُسَبِّحُونَ
وَإِن كَانُوا۟ لَيَقُولُونَ
لَوْ أَنَّ عِندَنَا ذِكْرًا مِّنَ ٱلْأَوَّلِينَ
لَكُنَّا عِبَادَ ٱللَّهِ ٱلْمُخْلَصِينَ
فَكَفَرُوا۟ بِهِۦ ۖ فَسَوْفَ يَعْلَمُونَ
وَلَقَدْ سَبَقَتْ كَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا ٱلْمُرْسَلِينَ
إِنَّهُمْ لَهُمُ ٱلْمَنصُورُونَ
وَإِنَّ جُندَنَا لَهُمُ ٱلْغَٰلِبُونَ
فَتَوَلَّ عَنْهُمْ حَتَّىٰ حِينٍ
وَأَبْصِرْهُمْ فَسَوْفَ يُبْصِرُونَ
أَفَبِعَذَابِنَا يَسْتَعْجِلُونَ
فَإِذَا نَزَلَ بِسَاحَتِهِمْ فَسَآءَ صَبَاحُ ٱلْمُنذَرِينَ
وَتَوَلَّ عَنْهُمْ حَتَّىٰ حِينٍ
وَأَبْصِرْ فَسَوْفَ يُبْصِرُونَ
سُبْحَٰنَ رَبِّكَ رَبِّ ٱلْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ
وَسَلَٰمٌ عَلَى ٱلْمُرْسَلِينَ
وَٱلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ ٱلْعَٰلَمِينَ
مالکم کیف۔۔۔۔۔ تذکرون (37: 154 – 155) ” تمہیں کیا ہوگیا ہے ، کیسے حکم لگا رہے ہو ، کیا تمہیں ہوش نہیں آتا “۔ یہ استدلال تم کہاں سے نکال لائے ہو ، عجیب ہے یہ ؟
ام لکم ۔۔۔۔۔ صدقین (37: 156 – 157) ” پھر کیا تمہارے پاس اپنی باتوں کے لیے کوئی صاف سند ہے تو لاؤ اپنی وہ کتاب اگر تم سچے ہو “۔ ان کا دوسرا افسانہ یہ تھا کہ اللہ اور جنوں کے درمیان رشتہ داری ہے۔
وجعلوا بینہ۔۔۔۔۔ انھم لمحضرون (158) ” ، “۔ ان کا زعم یہ تھا کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں تھیں اور ان سے جن پیدا ہوئے یوں جنوں اور اللہ کے درمیان قرابت ہوگئی۔ جنوں کو تو یہ اچھی طرح معلوم ہے کہ وہ اللہ کی دوسری مخلوق کی طرح ایک مخلوق ہیں۔ اور وہ قیامت کے دن اللہ کے حکم سے حاضر کیے جائیں گے اور رشتہ داروں کے ساتھ یہ سلوک تو نہیں کیا جاتا کہ وہ بطور مجرم پکڑے جاکر پیش کیے جائیں۔ اس کے ساتھ ساتھ صراحت کے ساتھ اس عقیدے کی تردید بھی کردی جاتی ہے
الا عباد اللہ المخلصین (160)
یہاں جنوں سے اللہ کے نیک بندوں کو مستثنیٰ کیا جاتا ہے جو جنوں سے ہیں اور جو ایمان لانے والے ہیں۔
اس کے بعد فرشتوں کی طرف سے خطاب ہے ، ان مشرکین کو اور ان کے ان معبودوں کو ، جن کی وہ بندگی کرتے تھے۔ یہ خطاب ان کے خود ساختہ عقائد پر ہے جو وہ رکھتے ہیں۔ بظاہر انداز کلام سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ خطاب فرشتوں کا ہے۔
فانکم وما تعبدون۔۔۔۔۔ لنحن المسبحون (161 – 166) “۔ مفہوم یہ ہے کہ تم اور تمہارے معبود مل کر اللہ کے مقابلے میں اس کے بندوں میں سے کسی کو گمراہ نہیں کرسکتے ماسوائے ان لوگوں کے جو جہنم کے حساب میں لکھے جا چکے ہیں اور تقدیر الٰہی نے فیصلہ کردیا ہے کہ وہ جہنمی ہیں۔ تم لوگ اس مومن کو گمراہ نہیں کرسکتے جس کا نیک انجام لکھا ہوا ہے کہ اس نے راہ اطاعت لی ہے۔ کیونکہ جہنم کے ایندھن کا انتظام بھی اللہ نے کرنا ہے ۔ اور سب کو معلوم ہے کہ یہ ایندھن وہ لوگ اور انکے معبود ہیں جو اس فتنے کی راہ خود اختیار کرتے ہیں اور جو فتنہ پردازیوں کی باتیں کان لگا کر سنتے ہیں۔
یہ فرشتے اس افسانوی عقیدے پر صرف یہ تبصرہ کرتے ہیں کہ اللہ نے ہر کسی کے لیے مقام و انجام مقرر کردیا ہے۔ ہر کسی نے اس تک لامحالہ پہنچنا ہے ۔ ہم فرشتے تو سب اللہ کے بندے ہیں ، مخلوق ہیں ، ہمارے لیے اللہ نے اپنی اطاعت کے فرائض مقرر کر رکھے ہیں۔ ہم نماز کے لیے صف بستہ کھڑے ہوتے ہیں۔ ہم اللہ کی حمد و ثنا کرتے ہیں اور ہم میں سے ہر ایک اہنے مقام پر کھڑا ڈیوٹی دے رہا ہے اور اللہ تو اللہ ہے (فرشتوں کی بات یہاں ختم ہوگئی)
اب روئے سخن پھر مشرکین کی طرف پھرجاتا ہے جو ان افسانوی عقیدے کے قائل تھے۔ ان کو ان کے وہ وعدے اور وہ آرزوئیں یاد دلائی جاتی ہیں کہ جب وہ اہل کتاب کے ساتھ حسد کرتے ہوئے یہ کہا کرتے تھے کہ اگر ہمارے پاس بھی کوئی ایسی کتاب آجائے جس میں پہلے لوگوں کا ذکر ہو یعنی حضرت ابراہیم اور آپ کے بعد آنے والوں کا تو ہم اللہ کے مخلص اور اعلیٰ بندے بن جائیں اور اللہ کے ہاں ہمارا بلند مقام ہو۔
وان کانوا ۔۔۔۔۔ بہ فسوف یعلمون (167 – 170) “۔ یہ ہے وہ ذکر جو ان کے پاس آگیا اور یہ اس کرہ ارض پر عظیم ترین نصیحت ہے لیکن ان لوگوں نے اسے نہ پہچانا۔
فکفروا بہ فسوف یعلمون (37: 170) ” مگر جب آگیا تو انہوں نے اس کا انکار کردیا۔ اب عنقریب انہیں معلوم ہوجائے گا “۔ (عنقریب) کے لفظ میں درپردہ دھمکی بھی ہے اور یہ دھمکی ان کے مناسب حال ہے کیونکہ وہ خود تمنائیں کرتے تھے اور اب انکار کرتے ہیں۔ اس تہدید خفی کے بعد اب بتایا جاتا ہے کہ اللہ اپنے رسولوں کو غالب کرے گا اور ان کی نصرت کرے گا۔
ولقد سبقت کلمتنا۔۔۔۔ لھم الغلبون (171 – 173) ” “۔ یہ وعدہ ہمیشہ سچا ہوتا ہے اور اللہ کی بات اپنی جگہ قائم ہے۔ زمین کے اوپر توحیدی نطریہ حیات قائم ہے۔ ایمان کی عمارت مکمل ہوچکی ہے ۔ تمام مشکلات اور رکاوٹوں کے علی الرغم توحید کا کلمہ بلند ہے۔ اگرچہ جھٹلانے والے جھٹلاتے ہیں۔ اگرچہ دنیا میں اسلام کی دعوت اور اسلام کے قیام کا علم بلند کرنے والوں پر طرح طرح کے مظالم ڈھائے جاتے ہیں ۔ آج بھی کفار کے عقائد ، ان کا رعب دنیا سے ختم ہے۔ کفار ، مشرکین کا تمام نظریاتی زور ختم ہے۔ آج دنیا میں وہی عقائد و نظریات زندہ ہیں جو رسولوں نے پیش کیے۔ آج بھی رسولوں کا پیش کردہ عقیدہ توحید لوگوں کے دل و دماغ پر چھایا ہوا ہے۔ لوگوں کے تصورات اور نطریات کو ایک خاص کیف دے رہا ہے اور تمام رکاوٹوں کے باوجود اس کرہ ارض پر انسانوں کے دل و دماغ پر واضح طور پر چھایا ہوا ہے ۔ اور تہ تمام نظریات ناکام ہوچکے ہیں جو رسولوں کے پیش کردہ نطریہ توحید کے مخالف تھے۔ یہ نظریات ان علاقوں میں بھی ختم ہوچکے ہیں جہاں سے وہ اٹھے تھے۔ (سو شلزم روس میں) اور اللہ کے رسولوں کا کلمہ آج بھی بلند ہے اور وہ اللہ کا لشکر نطریاتی اعتبار سے آج بھی غالب ہے۔
یہ تو ہم ایک عمومی بات کرتے ہیں لیکن ایک بات تمام روئے زمین پر بطور حقیقت پائی جاتی ہے اور وہ ہمیشہ ہر زمانے میں پائی گئی ہے اور ہر تحریک اور دعوت پر وہ اصول صادق آیا ہے کہ جب داعی مخلص ہوں ، سچے ہوں اور دعوت کے لیے یکسو ہوں تو وہ ہر حال میں غالب رہتے ہیں۔ اس کے راستے میں مشکلات اور رکاوٹوں کے پہاڑ کیوں نہ کھڑے کر دئیے جائیں۔ اللہ کا لشکر بہرحال غالب رہتا ہے مخلصین کو بیشک ، مختلف جنگیں لڑنی پڑتی ہیں چو مکھی لڑائی سے سابقہ پیش آتا ہے لیکن آخری نتیجہ وہی ہوتا ہے کہ اللہ کا لشکر غالب ہوتا ہے۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے۔ اگر پوری دنیا کی قوتیں اس کے خلاف اٹھ کھڑی ہوں ، یہ وعدہ پورا ہوکر رہے گا۔ مخلصین مومنین کو نصرت ملے گی۔ وہ غالب ہوں گے اور زمین پر ان کا اقتدار قائم ہوگا۔
اللہ کا یہ وعدہ کوئی جزوی واقعہ نہیں ہوگا بلکہ یہ اس کائنات کی سنتوں میں سے ایک سنت الہیہ ہے۔ اور اللہ کی سنت اس طرح حرکت میں رہتی ہے جس طرح یہ ستارے اور سیارے اپنے مدار میں متحرک ہوتے ہیں۔ ان کے مدار پر ان کی رفتار میں ایک لمحے کا فرق نہیں آتا۔ جس طرح رات اور دن کے ظہور میں کوئی خلل نہیں پڑتا۔ صدیوں سے یہ ظہور جاری ہے۔ جس طرح بہار و خزاں کے مظاہر آتے جاتے ہیں اور مردہ زمین کو زندہ کرتے رہتے ہیں اسی طرح سنت الہیہ بھی جاری وساری ہے۔ لیکن وہ اللہ کی تقدیر کی پابند ہے اور اللہ کے ارادے کے مطابق چلتی ہے۔ اور جس طرح اللہ چاہتا ہے ، اس کا ظہور ہوتا ہے۔ کبھی کبھی اس کے ظہور میں دیر نطر آتی ہے اور یہ دیر عجلت پسند انسان کی تمناؤں کی وجہ سے آتی ہے۔ لیکن اس سنت میں تخلف نہیں ہوتا۔ بعض اوقات یہ سنت اس طرح اپنا کام کرتی ہے کہ انسان اسے سمجھ ہی نہیں سکتا۔ وہ ایسی شکل و صورت میں آتی ہے جو انسان کے تصور میں نہیں ہوتی۔ اور جب سنت الہیہ اپنا کام کرکے چلی جاتی ہے تو ایک عرصے کے بعد اہل ایمان کو پتہ چلتا ہے کہ فلاں گوشے سے نصرت الہیہ نے کام کیا تھا۔
اللہ کے رسولوں کا اتباع کرنے والے لشکر خداوندی کا ارادہ یہ ہوتا ہے کہ اس کی امداد اس متعین صورت میں ہو جو اس کے ذہن میں ہے۔ لیکن اللہ کی مشیت یہ ہوتی ہے کہ یہ نصرت نہایت ہی اعلیٰ اور مکمل شکل میں ہو۔ چناچہ ہوتا وہی کچھ ہے جو اللہ چاہتا ہے۔ اگرچہ یہ لشکر اپنے خیال میں بہت زیادہ مشقت اٹھا رہا ہو اور اس کے خیال میں جدوجہد پر بہت عرصہ گزر چکا ہو اور انتظار ان کے تصور سے زیادہ ہوگیا ہو۔ مثلاً مسلمانوں کا ارادہ یہ تھا کہ جنگ بدر کے موقعے پر قافلہ ان کے ہاتھ آجائے لیکن اللہ کا ارادہ یہ تھا کہ یہ دنیاوی نفع ان کے ہاتھ سے جاتا رہے اور ان کی مڈبھیڑ فوج اور لشکر جرار سے ہوجائے اور وہ ایک ایسے گروہ سے ٹکرا جائیں جو زادوعتاد رکھتا ہو۔ اور اللہ نے جو چاہا وہ بہتر تھا۔ اسلام اور مسلمانوں دوں کے لیے بہتر تھا۔ یہ تھی اللہ کی نصرت لشکر الٰہی کے حق میں۔ اللہ پوری انسانی تاریخ میں اپنے لشکروں کے ساتھ ایسا ہی سلوک کرتا ہے۔
بعض اوقات اللہ کے لشکر کسی نہ کسی جنگ میں شکست بھی کھا جاتے ہیں اور جنگ کا رخ ان کے خلاف چلا جاتا ہے۔ انپر ابتلائیں اور مشکلات بھی آجاتی ہیں۔ کیونکہ اللہ کی منشا یہ ہوتی ہے کہ کسی دوسرے بڑے معرکے میں نصرت اور غلبہ دے۔ اور اللہ جانتا ہے کہ اس موقعے پر اس کے لشکر کے لیے فتح مفید نہیں ہے اور اگلے موقعے پر وہ فتح بہت وسیع ، بہت ہمہ گیر اور دور رس اثرات کی حامل ہوگی۔
اللہ نے اپنی بات کردی ہے ، اس کا وعدہ اور ارداہ کام کرچکا ہے اور اللہ کی سنت بارہا ثابت ہوچکی ہے۔
ولقد سبقت۔۔۔۔۔ لھم الغلبون (37: 171 – 173) ” اپنے بھیجے ہوئے بندوں سے ہم پہلے ہی وعدہ کرچکے ہیں کہ یقیناً ان کی مدد کی جائے گی اور ہمارا لشکر ہی غالب ہو کر رہے گا “۔
اس فیصلہ کن وعدے کے بعد اور نہایت ہی دیرینہ دستاویز ہونے کے بعد اور اللہ کی طرف سے ہونے کے بعد اب رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ اب آپ مشرکین مکہ کو چھوڑ دیں۔ اب دیکھیں کہ اللہ کا یہ وعدہ کس طرح سچا ہوتا ہے اور سنت الہیہ کس طرح کام کرتی ہے۔ آپ بھی انتظار کریں اور وہ بھی انتظار کریں اور اللہ کے کاموں اور شانوں کا نظارہ کریں۔
فتول عنھم ۔۔۔۔۔ فسوف یبصرون (174 – 179) ” “۔
ان سے منہ پھیر لیں۔ ان کو پوری طرح نظر انداز کردیں۔ ان کو کوئی اہمیت نہ دیں۔ ان کو اس دن تک اپنے حال پر چھوڑ دیں۔ جب آپ ان کو دیکھیں گے اور وہ آپ کو دیکھ رہے ہوں گے اور اللہ کا وعدہ سچا ہو رہا ہوگا۔ ہاں آگرچہ یہ ہمارے عذاب کے آنے کے لیے بہت جلدی کر رہے ہیں لیکن اے کاش کہ وہ سوچ سکتے کہ اس دن کیا تباہی مچے گی۔ جب یہ عذاب ان کے صحن میں ہوگا جب ہمارے رسول ڈراتے ہیں اور لوگ مان کر نہیں دیتے تو اس وقت سخت عذاب نازل ہوتا ہے۔
دوبارہ حکم دیا جاتا ہے کہ آپ ان سے روگردانی کرلیں اور ان کو نظر اندا کردیں ۔ یہ دراصل ان کو درپیش آنے والے خوفناک انجام کی طرف اشارہ ہے۔
فتول عنھم حتی حین (37: 174) ” ذرا انہیں کچھ مدت کے لیے چھوڑ دیں “۔ اور عذاب کی ہولناکی کی طرف بھی دوبارہ اشارہ کردیا جاتا ہے۔
وابصرھم فسوف یبصرون (37: 175) ” اور دیکھتے رہو عنقریب یہ خود بھی دیکھ لیں گے “۔
سورت کا خاتمہ اللہ کی پاکی کے بیان پر ہوتا ہے اور یہ بتایا جاتا ہے کہ عزت اور غلبہ اسی کا ہے۔ اور رسول اللہ ﷺ پر اللہ کی طرف سے سلامتی ہے جس طرح تمام رسولوں پر ہے۔ تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو بلا شرکت غیرے رب العالمین ہے۔
سبحن ربک رب العزۃ۔۔۔۔۔۔ رب العالمین (180 – 182) ”
یہ ایسا خاتمہ ہے جو اس سورت کے تمام موضوعات پر حاوی ہے اور مضامین سورت اور مسائل زیر بحث کے ساتھ ہم آہنگ بھی ہے۔