سورہ الصافات: آیت 180 - سبحان ربك رب العزة عما... - اردو

آیت 180 کی تفسیر, سورہ الصافات

سُبْحَٰنَ رَبِّكَ رَبِّ ٱلْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ

اردو ترجمہ

پاک ہے تیرا رب، عزت کا مالک، اُن تمام باتوں سے جو یہ لوگ بنا رہے ہیں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Subhana rabbika rabbi alAAizzati AAamma yasifoona

آیت 180 کی تفسیر

سورت کا خاتمہ اللہ کی پاکی کے بیان پر ہوتا ہے اور یہ بتایا جاتا ہے کہ عزت اور غلبہ اسی کا ہے۔ اور رسول اللہ ﷺ پر اللہ کی طرف سے سلامتی ہے جس طرح تمام رسولوں پر ہے۔ تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو بلا شرکت غیرے رب العالمین ہے۔

سبحن ربک رب العزۃ۔۔۔۔۔۔ رب العالمین (180 – 182) ”

یہ ایسا خاتمہ ہے جو اس سورت کے تمام موضوعات پر حاوی ہے اور مضامین سورت اور مسائل زیر بحث کے ساتھ ہم آہنگ بھی ہے۔

آیت 180{ سُبْحٰنَ رَبِّکَ رَبِّ الْعِزَّۃِ عَمَّا یَصِفُوْنَ } ”پاک ہے آپ ﷺ کا ربّ ‘ عزت اور اقتدار کا مالک ‘ ان تمام باتوں سے جو یہ لوگ بنا رہے ہیں۔“ یَصِفُوْنَ کا مادہ وصف ہے اور اسی مادہ سے لفظ ”صفت“ مشتق ہے۔ اس لفظی مادہ کے حوالے سے یہ بات نوٹ کر لیجیے کہ اس سے مشتق مختلف الفاظ اللہ تعالیٰ کی قدرت اور خوبی بیان کرنے کے لیے احادیث میں تو آئے ہیں لیکن قرآن میں ایجابی اور مثبت طور پر اللہ تعالیٰ کے لیے اس مادہ سے کوئی لفظ استعمال نہیں ہوا۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ کے بہت سے صفاتی نام آئے ہیں اور اس حوالے سے یہ بھی فرمایا گیا : { لَہُ الْاَسْمَآئُ الْحُسْنٰیط } الحشر : 24 ‘ لیکن لفظ ”صفت“ یا وصف کے مادہ سے مشتق کسی لفظ کے استعمال سے صراحتاً اللہ تعالیٰ کی کوئی صفت قرآن میں بیان نہیں ہوئی۔ اس مادہ سے قرآن میں جو بھی الفاظ یصفون وغیرہ استعمال ہوئے ہیں وہ لوگوں کے حوالے سے ہیں کہ یہ لوگ اللہ کے جو اوصاف بیان کر رہے ہیں اور اللہ کے بارے میں جو باتیں بنا رہے ہیں اللہ اس سے پاک اور بلندو برتر ہے۔

اللہ تعالیٰ مشرکین کے بہتانات سے مبرا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان تمام چیزوں سے اپنی برات بیان فرماتا ہے جو مشرکین اس کی طرف منسوب کرتے تھے۔ جیسے اولاد شریک وغیرہ۔ وہ بہت بڑی اور لازوال عزت والا ہے۔ ان جھوٹے اور مفتری لوگوں کے بہتان سے وہ پاک اور منزہ ہے۔ اللہ کے رسولوں پر سلام ہے اس لئے کہ ان کی تمام باتیں ان عیوب سے مبرا ہیں جو مشرکوں کی باتوں میں موجود ہیں بلکہ نبیوں کی باتیں اور اوصاف جو اللہ تعالیٰ کے بارے میں بیان کرتے ہیں سب صحیح اور برحق ہیں۔ اسی کی ذات کے لئے تمام حمد وثناء ہے دنیا اور آخرت میں ابتدا اور انتہاء کا وہی سزا وار تعریف ہے۔ ہر حال میں قابل حمد وہی ہے۔ تسبیح سے ہر طرح کے نقصان سے اس کی ذات پاک سے دوری ثابت ہوتی ہے، تو ثابت ہوتا ہے کہ ہر طرح کے کمالات کی مالک اس کی ذات واحد ہے۔ اسی کو صاف لفظوں میں حمد ثابت کیا۔ تاکہ نقصانات کی نفی اور کمالات کا اثبات ہوجائے۔ ایسے ہی قرآن کریم کی بہت سی آیتوں میں تسبیح اور حمد کو ایک ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ حضرت قتادہ ؓ سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا تم جب مجھ پر سلام بھیجو اور نبیوں پر بھی سلام بھیجو کیونکہ میں بھی منجملہ اور نبیوں میں سے ایک نبی ہی ہوں (ابن ابی حاتم) یہ حدیث مسند میں بھی مروی ہے۔ ابو یعلی کی ایک ضعیف حدیث میں ہے جب حضور سلام کا ارادہ کرتے تو ان تینوں آیتوں کو پڑھ کر سلام کرتے۔ ابن ابی حاتم میں ہے جو شخص یہ چاہے کہ بھرپور پیمانے سے ناپ کر اجر پائے تو وہ جس کسی مجلس میں ہو وہاں سے اٹھتے ہوئے یہ تینوں آیتیں پڑھ لے اور سند سے یہ روایت حضرت علی سے موقوفاً مروی ہے۔ طبرانی کی حدیث میں ہے جو شخص ہر فرض نماز کے بعد تین مرتبہ ان تینوں آیتوں کی تلاوت کرے اسے بھرپور اجر پورے پیمانے سے ناپ کر ملے گا۔ مجلس کے کفارے کے بارے میں بہت سی احادیث میں آیا ہے کہ یہ پڑھے۔ سبحانک اللہھم وبحمدک لا الہ الاانت استغفرک واتوب الیک۔ میں نے اس مسئلہ پر ایک مستقل کتاب لکھی ہے۔

آیت 180 - سورہ الصافات: (سبحان ربك رب العزة عما يصفون...) - اردو