ما لکم لاتناصرون (25) ” “۔ اب کیا وجہ ہے کہ تم یہاں کوئی اجتماعی بچاؤ کی تدابیر نہیں کرتے۔ یہاں تو تم سب کھڑے ہو اور اب تمہیں ایک دوسرے کی امداد کی بہت ضرورت بھی ہے ۔ اور وہ دیکھو تمہارے وہ معبود بھی کھڑے ہیں ، جن کی دنیا میں تم بندگی کرتے تھے۔ ظاہر ہے کہ ان کے پاس نہ کوئی جواب ہے اور نہ وہ بات کرسکتے ہیں۔ یہ سوال تو کیا ہی اس لیے گیا ہے کہ اس پر ایک تبصرہ ہو۔
آیت 25{ مَالَـکُمْ لَا تَنَاصَرُوْنَ } ”یہ تمہیں کیا ہوگیا ہے ‘ تم ایک دوسرے کی مدد کیوں نہیں کر رہے ہو ؟“ دُنیا میں تو تمہارے جتھے ّبہت طاقتور تھے ‘ وہاں تو تمہیں اپنی محفلوں اور ان کے شرکاء پر بڑا غرور تھا ‘ وہاں تو یہ ابو جہل بہت فخر سے کہا کرتا تھا کہ دیکھو میری مجلس کس قدر آباد ہے مریم : 73 اور دیکھو میرے ہاں کیسے کیسے لوگ آکر بیٹھتے ہیں۔ تو آج وہ تمہارے جتھے دار اور حمایتی سب کے سب بےبس کیوں ہوگئے ہیں ؟ اب تم ایک ہی حکم پر جہنم کی طرف کیوں چل پڑے ہو ؟ اب تم آپس میں ایک دوسرے کی مدد کیوں نہیں کر رہے ہو ؟