اس صفحہ میں سورہ As-Saaffaat کی تمام آیات کے علاوہ تفسیر بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ الصافات کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔
مَا لَكُمْ لَا تَنَاصَرُونَ
بَلْ هُمُ ٱلْيَوْمَ مُسْتَسْلِمُونَ
وَأَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ يَتَسَآءَلُونَ
قَالُوٓا۟ إِنَّكُمْ كُنتُمْ تَأْتُونَنَا عَنِ ٱلْيَمِينِ
قَالُوا۟ بَل لَّمْ تَكُونُوا۟ مُؤْمِنِينَ
وَمَا كَانَ لَنَا عَلَيْكُم مِّن سُلْطَٰنٍۭ ۖ بَلْ كُنتُمْ قَوْمًا طَٰغِينَ
فَحَقَّ عَلَيْنَا قَوْلُ رَبِّنَآ ۖ إِنَّا لَذَآئِقُونَ
فَأَغْوَيْنَٰكُمْ إِنَّا كُنَّا غَٰوِينَ
فَإِنَّهُمْ يَوْمَئِذٍ فِى ٱلْعَذَابِ مُشْتَرِكُونَ
إِنَّا كَذَٰلِكَ نَفْعَلُ بِٱلْمُجْرِمِينَ
إِنَّهُمْ كَانُوٓا۟ إِذَا قِيلَ لَهُمْ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا ٱللَّهُ يَسْتَكْبِرُونَ
وَيَقُولُونَ أَئِنَّا لَتَارِكُوٓا۟ ءَالِهَتِنَا لِشَاعِرٍ مَّجْنُونٍۭ
بَلْ جَآءَ بِٱلْحَقِّ وَصَدَّقَ ٱلْمُرْسَلِينَ
إِنَّكُمْ لَذَآئِقُوا۟ ٱلْعَذَابِ ٱلْأَلِيمِ
وَمَا تُجْزَوْنَ إِلَّا مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ
إِلَّا عِبَادَ ٱللَّهِ ٱلْمُخْلَصِينَ
أُو۟لَٰٓئِكَ لَهُمْ رِزْقٌ مَّعْلُومٌ
فَوَٰكِهُ ۖ وَهُم مُّكْرَمُونَ
فِى جَنَّٰتِ ٱلنَّعِيمِ
عَلَىٰ سُرُرٍ مُّتَقَٰبِلِينَ
يُطَافُ عَلَيْهِم بِكَأْسٍ مِّن مَّعِينٍۭ
بَيْضَآءَ لَذَّةٍ لِّلشَّٰرِبِينَ
لَا فِيهَا غَوْلٌ وَلَا هُمْ عَنْهَا يُنزَفُونَ
وَعِندَهُمْ قَٰصِرَٰتُ ٱلطَّرْفِ عِينٌ
كَأَنَّهُنَّ بَيْضٌ مَّكْنُونٌ
فَأَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ يَتَسَآءَلُونَ
قَالَ قَآئِلٌ مِّنْهُمْ إِنِّى كَانَ لِى قَرِينٌ
آیت 25{ مَالَـکُمْ لَا تَنَاصَرُوْنَ } ”یہ تمہیں کیا ہوگیا ہے ‘ تم ایک دوسرے کی مدد کیوں نہیں کر رہے ہو ؟“ دُنیا میں تو تمہارے جتھے ّبہت طاقتور تھے ‘ وہاں تو تمہیں اپنی محفلوں اور ان کے شرکاء پر بڑا غرور تھا ‘ وہاں تو یہ ابو جہل بہت فخر سے کہا کرتا تھا کہ دیکھو میری مجلس کس قدر آباد ہے مریم : 73 اور دیکھو میرے ہاں کیسے کیسے لوگ آکر بیٹھتے ہیں۔ تو آج وہ تمہارے جتھے دار اور حمایتی سب کے سب بےبس کیوں ہوگئے ہیں ؟ اب تم ایک ہی حکم پر جہنم کی طرف کیوں چل پڑے ہو ؟ اب تم آپس میں ایک دوسرے کی مدد کیوں نہیں کر رہے ہو ؟
آیت 26{ بَلْ ہُمُ الْیَوْمَ مُسْتَسْلِمُوْنَ ”بلکہ آج تو یہ بہت فرمانبردار بنے ہوئے ہیں !“ آج تو یہ بغیر کسی مزاحمت کے اپنے آپ کو حوالے کر کے بلا چون و چراسزا کے لیے پیش کر رہے ہیں۔
آیت 27{ وَاَقْبَلَ بَعْضُہُمْ عَلٰی بَعْضٍ یَّتَسَآئَ لُوْنَ } ”اور پھر وہ ایک دوسرے کی طرف رخ کرکے پوچھنے لگیں گے۔“
آیت 28{ قَالُوْٓا اِنَّکُمْ کُنْتُمْ تَاْتُوْنَنَا عَنِ الْیَمِیْنِ } ”کہیں گے کہ تم ہی تو آیا کرتے تھے ہمارے پاس بڑے دبدبے کے ساتھ !“ یعنی تم ہمارے سردار تھے اور اپنی اس حیثیت کا رعب جما کر ہمیں اپنی پیروی پر مجبور کیا کرتے تھے۔ تم ہمارے پاس بہت رعب ‘ دبدبے ‘ طاقت اور زور کے ساتھ آیا کرتے تھے۔ لفظ ”یمین“ کے معنی طاقت کے بھی ہیں اور داہنی طرف کے بھی۔ چناچہ آیت کا ترجمہ یوں بھی کیا گیا ہے کہ ”تم آیا کرتے تھے ہمارے پاس دائیں طرف سے۔“
آیت 29{ قَالُوْا بَلْ لَّمْ تَـکُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ } ”وہ کہیں گے کہ نہیں ! بلکہ تم لوگ خود ہی ایمان لانے والے نہیں تھے۔“
آیت 30{ وَمَا کَانَ لَنَا عَلَیْکُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍج بَلْ کُنْتُمْ قَوْمًا طٰغِیْنَ } ”اور ہمیں تم پر کوئی اختیار تو تھا نہیں ‘ بلکہ تم خود ہی حد سے بڑھ جانے والے لوگ تھے۔“
آیت 31{ فَحَقَّ عَلَیْنَا قَوْلُ رَبِّنَآق اِنَّا لَذَآئِقُوْنَ } ”تو اب ثابت ہوگیا ہے ہم پر ہمارے رب کا قول ‘ اب تو ہمیں عذاب کا مزہ چکھنا ہی ہوگا۔“ اللہ تعالیٰ نے تو واضح طور پر فرما دیا تھا : { لَاَمْلَئَنَّ جَہَنَّمَ مِنَ الْجِنَّۃِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنَ } السجدۃ ”میں بھر کر رہوں گا جہنم کو تمام نافرمان جنوں اور انسانوں سے“۔ تو اللہ تعالیٰ کا وہ قول اب ہم پر واقع ہوچکا ہے اور ہم جہنم کے مستحق ہوچکے ہیں۔
آیت 32{ فَاَغْوَیْنٰـکُمْ اِنَّا کُنَّا غٰوِیْنَ } ”تو ہم نے تم لوگوں کو گمراہ کیا ‘ ہم خود بھی تو گمراہ تھے۔“ تم لوگ درست کہتے ہو کہ ہم نے تمہیں گمراہ کیا تھا ‘ لیکن ایسا تو نہیں تھا کہ ہم خود ہدایت پر تھے اور تمہاری گمراہی کا باعث بنے۔ بلکہ حقیقت تو یہ تھی کہ ہم خود بھی گمراہ تھے اس لیے تم لوگوں کو بھی ہم اسی تباہی کے راستے پرلے آئے۔
آیت 33{ فَاِنَّہُمْ یَوْمَئِذٍ فِی الْْعَذَابِ مُشْتَرِکُوْنَ } ”تو اس دن وہ سب کے سب عذاب میں شریک ہوں گے۔“
آیت 34{ اِنَّا کَذٰلِکَ نَفْعَلُ بِالْمُجْرِمِیْنَ } ”یقینا ہم مجرموں کے ساتھ ایسے ہی کیا کرتے ہیں۔“
آیت 35{ اِنَّہُمْ کَانُوْٓا اِذَا قِیْلََ لَہُمْ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ یَسْتَکْبِرُوْنَ } ”ان کا معاملہ یہ تھا کہ جب ان سے کہا جاتا تھا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں تو وہ استکبار کرتے تھے۔“ جب بھی ان کے سامنے کلمہ توحید لَا اِلٰـہَ اِلاَّ اللّٰہُ کا ذکر کیا جاتا تو وہ اپنے گھمنڈ میں اس کا مذاق اڑایا کرتے تھے۔
آیت 36{ وَیَقُوْلُوْنَ اَئِنَّا لَتَارِکُوْٓا اٰلِہَتِنَا لِشَاعِرٍ مَّجْنُوْنٍ } ”اور کہا کرتے تھے کہ کیا ہم اپنے معبودوں کو ایک مجنون شاعر کی خاطر چھوڑ دیں !“ حضور ﷺ کی شان میں یہ لوگ ایسے گستاخانہ الفاظ استعمال کرتے تھے اور کہتے تھے کہ کیا ہم ان کے کہنے پر اپنے ان معبودوں کو چھوڑ دیں جن کی ہم کئی نسلوں سے پرستش کرتے آئے ہیں !
آیت 37{ بَلْ جَآئَ بِالْحَقِّ وَصَدَّقَ الْمُرْسَلِیْنَ } ”بلکہ وہ تو حق لے کر آئے اور انہوں ﷺ نے تصدیق کی تمام رسولوں علیہ السلام کی !“
آیت 38{ اِنَّکُمْ لَذَآئِقُوا الْعَذَابِ الْاَلِیْمِ } ”اب تمہیں یقینا دردناک عذاب کا مزہ چکھنا ہوگا۔“
آیت 39{ وَمَا تُجْزَوْنَ اِلَّا مَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ } ”اور تمہیں بدلہ نہیں مل رہا مگر اسی کا جو کچھ تم کرتے رہے تھے۔“
آیت 40{ اِلَّا عِبَادَ اللّٰہِ الْمُخْلَصِیْنَ } ”سوائے اللہ کے مخلص بندوں کے۔“ آج اللہ کے چیدہ بندے ہی اس انجامِ بد سے محفوظ رہیں گے۔ مُخلَص لام کی زبر کے ساتھ کے معنی ہیں ”خالص کیا گیا“۔ یہاں وہ بندے مراد ہیں جنہیں اللہ نے خاص کرلیا ہو ‘ جنہیں اپنے لیے ُ چن کر الگ کرلیا ہو۔
آیت 41{ اُولٰٓئِکَ لَہُمْ رِزْقٌ مَّعْلُوْمٌ} ”یہی وہ لوگ ہیں جن کے لیے طے شدہ رزق ہے۔“
آیت 42{ فَوَاکِہُج وَہُمْ مُّکْرَمُوْنَ } ”یعنی میوے ‘ اور ان کا اکرام کیا جائے گا۔“
آیت 43{ فِیْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ } ”نعمتوں والے باغات میں۔“
آیت 44{ عَلٰی سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِیْنَ } ”وہ تختوں کے اوپر بیٹھے ہوں گے آمنے سامنے۔
آیت 45{ یُطَافُ عَلَیْہِمْ بِکَاْسٍ مِّنْ مَّعِیْنٍ۔ } ”گردش کر رہے ہوں گے ان پر ُ خدام ّنفیس شراب کے پیالوں کے ساتھ۔“ وہ شراب صاف شفاف اور بغیر کسی نشے کے ہوگی۔
آیت 46{ بَیْضَآئَ لَذَّۃٍ لِّلشّٰرِبِیْنَ } ”بالکل سفید ‘ انتہائی لذیذ پینے والوں کے لیے۔“
آیت 47{ لَا فِیْہَا غَوْلٌ وَّلَا ہُمْ عَنْہَا یُنْزَفُوْنَ } ”اس میں نہ تو سرگرانی کی کیفیت ہوگی اور نہ ہی وہ اس سے بہکیں گے۔“ اس مشروب کو پی کر ایک سرور کی کیفیت تو ہوگی مگر نہ تو اس سے سر بھاری ہوگا اور نہ ہی وہ مدہوشی لائے گا اور فتورِ عقل کا باعث ہوگا۔
آیت 48{ وَعِنْدَہُمْ قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ عِیْنٌ} ”اور ان کے پاس ہوں گی نیچی نگاہوں والی بڑی بڑی آنکھوں والی بیویاں۔“
آیت 49{ کَاَنَّہُنَّ بَیْضٌ مَّکْنُوْنٌ} ”گویا وہ انڈے ہوں چھپا کر رکھے گئے۔“
آیت 50{ فَاَقْبَلَ بَعْضُہُمْ عَلٰی بَعْضٍ یَّتَسَآئَ لُوْنَ } ”پھر وہ ایک دوسرے کی طرف رخ کر کے سوال کریں گے۔“
آیت 51{ قَالَ قَآئِلٌ مِّنْہُمْ اِنِّیْ کَانَ لِیْ قَرِیْنٌ} ”ان میں سے ایک کہنے والا کہے گا کہ میرا ایک ساتھی ہوا کرتا تھا۔“