سورہ الصافات: آیت 37 - بل جاء بالحق وصدق المرسلين... - اردو

آیت 37 کی تفسیر, سورہ الصافات

بَلْ جَآءَ بِٱلْحَقِّ وَصَدَّقَ ٱلْمُرْسَلِينَ

اردو ترجمہ

حالانکہ وہ حق لے کر آیا تھا اور اس نے رسولوں کی تصدیق کی تھی

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Bal jaa bialhaqqi wasaddaqa almursaleena

آیت 37 کی تفسیر

بل جآء بالحق ۔۔۔۔۔ عباد اللہ المخلصین (37 – 40) ”

مجرموں کے خلاف فیصلہ سناتے ہوئے اوپر اللہ کی مخلص بندوں کو مستثنیٰ کردیا گیا تھا کہ وہ عذاب الیم سے بچ گئے تھے۔ اس مناسبت سے قیامت میں ان کے انجام کی ایک جھلک بھی دکھا دی جاتی ہے۔ ان مجرموں کے عذاب الیم کے بالمقابل وہ انعامات بھی رکھ دئیے جاتے ہیں ۔ جن میں وہ مزے لے رہے ہوں گے۔ انداز یوں ہے کہ ایک منظر کے بالمقابل دوسرا منظر۔

آیت 37{ بَلْ جَآئَ بِالْحَقِّ وَصَدَّقَ الْمُرْسَلِیْنَ } ”بلکہ وہ تو حق لے کر آئے اور انہوں ﷺ نے تصدیق کی تمام رسولوں علیہ السلام کی !“

آیت 37 - سورہ الصافات: (بل جاء بالحق وصدق المرسلين...) - اردو