قال ھل ۔۔۔۔۔ الجحیم (54-55) ” “۔
اب یہ جتنی اپنے دوزخی دوست سے ہم کلام ہوتا ہے جسے اس نے جہنم میں دیکھ لیا۔ یہ اس سے یوں مخاطب ہوتا ہے ۔ اے فلاں ، قریب تھا کہ اپنی وسوسہ اندازیوں کی وجہ سے تو مجھے ہلاک کردیتا۔ یہ تو مجھ پر اللہ کا انعام تھا کہ اس نے مجھے بچالیا اور میں نے تیری باتوں پر توجہ نہ دی ۔
آیت 54{ قَالَ ہَلْ اَنْتُمْ مُّطَّلِعُوْنَ } ” کوئی کہنے والا کہے گا کہ کیا اب تم اسے جھانک کر دیکھنا چاہو گے ؟“ یعنی جو شخص تمہیں اس طرح گمراہ کرنے کی کوشش کیا کرتا تھا اس وقت تم اسے دیکھنا چاہو گے کہ اب وہ کس حال میں ہے ؟ گویا اہل جنت کے لیے وہاں یہ بھی اہتمام ہوگا کہ وہ جس سے ملنا چاہیں مل لیں اور جو دیکھنا چاہیں دیکھ لیں۔