اس صفحہ میں سورہ As-Saaffaat کی تمام آیات کے علاوہ تفسیر بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ الصافات کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔
يَقُولُ أَءِنَّكَ لَمِنَ ٱلْمُصَدِّقِينَ
أَءِذَا مِتْنَا وَكُنَّا تُرَابًا وَعِظَٰمًا أَءِنَّا لَمَدِينُونَ
قَالَ هَلْ أَنتُم مُّطَّلِعُونَ
فَٱطَّلَعَ فَرَءَاهُ فِى سَوَآءِ ٱلْجَحِيمِ
قَالَ تَٱللَّهِ إِن كِدتَّ لَتُرْدِينِ
وَلَوْلَا نِعْمَةُ رَبِّى لَكُنتُ مِنَ ٱلْمُحْضَرِينَ
أَفَمَا نَحْنُ بِمَيِّتِينَ
إِلَّا مَوْتَتَنَا ٱلْأُولَىٰ وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِينَ
إِنَّ هَٰذَا لَهُوَ ٱلْفَوْزُ ٱلْعَظِيمُ
لِمِثْلِ هَٰذَا فَلْيَعْمَلِ ٱلْعَٰمِلُونَ
أَذَٰلِكَ خَيْرٌ نُّزُلًا أَمْ شَجَرَةُ ٱلزَّقُّومِ
إِنَّا جَعَلْنَٰهَا فِتْنَةً لِّلظَّٰلِمِينَ
إِنَّهَا شَجَرَةٌ تَخْرُجُ فِىٓ أَصْلِ ٱلْجَحِيمِ
طَلْعُهَا كَأَنَّهُۥ رُءُوسُ ٱلشَّيَٰطِينِ
فَإِنَّهُمْ لَءَاكِلُونَ مِنْهَا فَمَالِـُٔونَ مِنْهَا ٱلْبُطُونَ
ثُمَّ إِنَّ لَهُمْ عَلَيْهَا لَشَوْبًا مِّنْ حَمِيمٍ
ثُمَّ إِنَّ مَرْجِعَهُمْ لَإِلَى ٱلْجَحِيمِ
إِنَّهُمْ أَلْفَوْا۟ ءَابَآءَهُمْ ضَآلِّينَ
فَهُمْ عَلَىٰٓ ءَاثَٰرِهِمْ يُهْرَعُونَ
وَلَقَدْ ضَلَّ قَبْلَهُمْ أَكْثَرُ ٱلْأَوَّلِينَ
وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا فِيهِم مُّنذِرِينَ
فَٱنظُرْ كَيْفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلْمُنذَرِينَ
إِلَّا عِبَادَ ٱللَّهِ ٱلْمُخْلَصِينَ
وَلَقَدْ نَادَىٰنَا نُوحٌ فَلَنِعْمَ ٱلْمُجِيبُونَ
وَنَجَّيْنَٰهُ وَأَهْلَهُۥ مِنَ ٱلْكَرْبِ ٱلْعَظِيمِ
آیت 52{ یَّـقُوْلُ ئَ اِنَّکَ لَمِنَ الْمُصَدِّقِیْنَ } ”وہ کہا کرتا تھا کہ کیا تم بھی تصدیق کرنے والوں میں سے ہو ؟“
آیت 53{ ئَ اِذَا مِتْنَا وَکُنَّا تُرَابًا وَّعِظَامًا ئَ اِنَّا لَمَدِیْنُوْنَ } ”کیا جب ہم مرجائیں گے اور مٹی اور ہڈیاں بن کر رہ جائیں گے تو کیا ہمیں زندہ کر کے بدلہ دیا جائے گا ؟“ یعنی میرا وہ ساتھی دنیا میں حیرت سے مجھے پوچھا کرتا تھا کہ کیا تم بھی محمد ﷺ کی ان باتوں پر یقین رکھتے ہو کہ ہمارے مر کھپ جانے اور مٹی میں مل جانے کے بعد ہمیں پھر سے زندہ کیا جائے گا اور ہمارے اچھے برے اعمال کی ہمیں سزا و جزا دی جائے گی ؟
آیت 54{ قَالَ ہَلْ اَنْتُمْ مُّطَّلِعُوْنَ } ” کوئی کہنے والا کہے گا کہ کیا اب تم اسے جھانک کر دیکھنا چاہو گے ؟“ یعنی جو شخص تمہیں اس طرح گمراہ کرنے کی کوشش کیا کرتا تھا اس وقت تم اسے دیکھنا چاہو گے کہ اب وہ کس حال میں ہے ؟ گویا اہل جنت کے لیے وہاں یہ بھی اہتمام ہوگا کہ وہ جس سے ملنا چاہیں مل لیں اور جو دیکھنا چاہیں دیکھ لیں۔
آیت 55{ فَاطَّلَعَ فَرَاٰہُ فِیْ سَوَآئِ الْجَحِیْمِ } ”تو وہ جھانکے گا اور اسے دیکھے گا دوزخ کے عین درمیان میں۔“
آیت 56{ قَالَ تَاللّٰہِ اِنْ کِدْتَّ لَتُرْدِیْنِ } ”وہ پکار اٹھے گا : اللہ کی قسم ‘ تم تو قریب تھے کہ مجھے بھی برباد کردیتے !“ یہ تو اللہ کا مجھ پر بڑا فضل ہوا کہ میں نے تمہاری باتوں پر زیادہ دھیان دینے کے بجائے اس آواز کی طرف توجہ دی جو میرے دل کی گہرائیوں سے نکلی تھی اور میں نے اسی بات کو قبول کیا جس کو میرے دل نے حق جانا۔ ورنہ اگر خدانخواستہ میں نے کہیں تمہاری بات مان لی ہوتی تو آج میں بھی تمہارے ساتھ جہنم کے اس گڑھے میں پڑا ہوتا۔
آیت 57{ وَلَوْلَا نِعْمَۃُ رَبِّیْ لَکُنْتُ مِنَ الْمُحْضَرِیْنَ } ”اور اگر میرے رب کی نعمت مجھ پر نہ ہوتی تو میں بھی لازماً پکڑے گئے لوگوں میں سے ہوتا۔“
آیت 58{ اَفَمَا نَحْنُ بِمَیِّتِیْنَ } ”تو کیا اب ہمیں مرنا تو نہیں !“
آیت 59{ اِلَّا مَوْتَتَنَا الْاُوْلٰی وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِیْنَ } ”سوائے ہماری اس پہلی موت کے ‘ اور اب ہمیں کوئی عذاب بھی نہیں دیا جائے گا۔“ یہ اہل جنت کی آپس کی گفتگو کا حوالہ ہے۔ وہ ایک دوسرے سے پوچھ رہے ہوں گے کہ کیا اس کے بعد ہماری کوئی پکڑ تو نہیں ہوگی ؟ کیا اب مزید کسی چھانٹی کے لیے کوئی چھلنی تو نہیں لگے گی ؟ اور کیا اب ہم مطمئن ہوجائیں کہ آئندہ ہمیں کسی قسم کے عذاب کا کوئی کھٹکا نہیں ہوگا ؟ اہل جنت کی ان باتوں سے ان کی سادہ لوحی ‘ تواضع اور انکساری کا اظہار ہوتا ہے۔ جنت میں ٹھکانہ ملنے پر وہ لوگ فخر و تعلی ّکا اظہار نہیں کریں گے اور یوں نہیں سمجھیں گے کہ ہم نے اپنی محنت کا پھل پایا ہے اور اب ہم یہاں ہمیشہ ہمیش دھڑلے سے رہیں گے ‘ بلکہ اپنی اس کامیابی کو اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کا نتیجہ قرار دیں گے اور اس حوالے سے بار بار اس کے حضور شکر کا اظہار کریں گے۔
آیت 60{ اِنَّ ہٰذَا لَہُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ } ”یقینا یہی بہت بڑی کامیابی ہے !“
آیت 61{ لِمِثْلِ ہٰذَا فَلْیَعْمَلِ الْعٰمِلُوْنَ ”ایسی ہی چیز کے لیے عمل کرنا چاہیے عمل کرنے والوں کو !“ ایسی ہی کامیابی کو ہدف بنا کر ہر کسی کو دنیا میں محنت اور بھاگ دوڑ کرنی چاہیے۔ بھاگ دوڑ تو سب ہی کرتے ہیں مگر اکثر و بیشتر سب کے پیش نظر دنیا اور اس کا مال و متاع ہے۔ ہر کوئی اسی کے حصول کے لیے رات دن سرگرداں ہے اور اپنا خون پسینہ ایک کر رہا ہے الا ما شاء اللہ۔ لیکن غور کیا جائے تو چار دن کا یہ عیش و آرام حاصل کرلینا کوئی بہت بڑی کامیابی تو نہیں ‘ اور اس قسم کا عارضی ہدف کوئی قابل ذکر ہدف بھی نہیں۔ بہر حال انسان کا وقت اور خون پسینہ اتنی ارزاں چیز نہیں کہ اسے عارضی اور وقتی کامیابی کے لیے ضائع کردیا جائے۔ ایسی قیمتی پونجی کو تو کسی بڑے ہدف کے حصول کے لیے کام میں لانا چاہیے ‘ اور وہ بڑا ہدف ہے جنت اور اس کی نعمتوں کا حصول ! چناچہ تمام بھاگ دوڑ کرنے والوں کو چاہیے کہ وہ اس ہدف کے حصول کے لیے بھاگ دوڑ کریں۔
آیت 62{ اَذٰلِکَ خَیْرٌ نُّزُلًا اَمْ شَجَرَۃُ الزَّقُّوْمِ۔ ”بھلا مہمانی کے طور پر یہ بہتر ہے یا زقوم کا درخت ؟“ جنت کی مذکورہ نعمتوں کے مقابلے میں اہل جہنم کی ابتدائی مہمان نوازی زقوم تھوہر کے درخت سے کی جائے گی۔ اس ابتدائی مہمان نوازی کی نوعیت سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اس کے بعد اہل جہنم کو کن حالات کا سامنا کرنا ہوگا۔ اب اختیار انسان کے اپنے ہاتھ میں ہے۔ وہ چاہے تو جنت کی دائمی نعمتوں کے حصول کو اپنا ہدف بنا لے یا جہنم اور اس کے خوفناک عذابوں کے ساتھ اپنی عاقبت کو وابستہ کرلے۔
آیت 63{ اِنَّا جَعَلْنٰہَا فِتْنَۃً لِّلظّٰلِمِیْنَ } ”ہم نے اس درخت کو فتنہ بنا دیا ہے ظالموں کے لیے۔“
آیت 64{ اِنَّہَا شَجَرَۃٌ تَخْرُجُ فِیْٓ اَصْلِ الْجَحِیْمِ } ”وہ ایک درخت ہے جو جہنم کی تہہ میں سے نکلے گا۔“ یہی بات کافروں کے لیے ایک بہت بڑی آزمائش بن گئی ‘ جس کا ذکر سورة بنی اسرائیل کی آیت 60 میں بھی آچکا ہے۔ اس میں ان کے لیے آزمائش کی وجہ دراصل ان کی یہ سوچ تھی کہ جہنم کی آگ کے اندر آخر درخت کیسے اگیں گے ؟ ایسی سوچ دراصل ان لوگوں کو پریشان کرتی ہے جو آخرت کے معاملات کو بھی اس دنیا کے قوانین و ضوابط پر قیاس کرنے لگتے ہیں۔ اس حوالے سے اس حقیقت کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ قیامت کے بعد ایک ایسے عالم کا ظہور ہوگا جس کے قوانین کا اس دنیا کے قوانین سے کوئی تعلق نہیں ہوگا۔ اس دنیا میں تو انسان آگ میں جل کر مرجاتا ہے ‘ مگر جہنم کی آگ جلائے گی بھی اور مرنے بھی نہیں دے گی الاعلیٰ : 13۔ اس دنیا میں انسان کی جلد اگر ایک دفعہ آگ سے جھلس جائے تو پھر درست نہیں ہوسکتی ‘ مگر وہاں جہنمیوں کی ِجلدیں جل جانے کے بعد کپڑوں کی طرح تبدیل کردی جائیں گی النساء : 56۔
آیت 65{ طَلْعُہَا کَاَنَّہٗ رُئُ وْسُ الشَّیٰطِیْنِ } ”اس کے خوشے ایسے ہوں گے جیسے شیاطین کے سر۔“ یعنی جسامت میں غیر معمولی طور پر بڑے ‘ جبکہ دیکھنے میں بہت ہی بھدے ّاور بد نما۔
آیت 66{ فَاِنَّہُمْ لَاٰکِلُوْنَ مِنْہَا فَمَالِئُوْنَ مِنْہَا الْبُطُوْنَ } ”پھر وہ اس میں سے کھائیں گے اور اسی سے اپنے پیٹوں کو بھریں گے۔“ ویسے تو وہ درخت ایسا ہوگا کہ کوئی اسے دیکھنا بھی پسند نہیں کرے گا لیکن ‘ اہل جہنم بھوک کی شدت سے مجبور ہو کر اس درخت کو کھائیں گے اور اسی سے اپنے پیٹوں کو بھریں گے۔
آیت 67{ ثُمَّ اِنَّ لَہُمْ عَلَیْہَا لَشَوْبًا مِّنْ حَمِیْمٍ } ”پھر اس کے اوپر ان کے لیے گرم پانی کا آمیزہ ہوگا۔“ زقوم کے برگ و بار کھانے کے بعد جب پیاس بھڑکے گی تو پیپ ملا کھولتا ہوا پانی انہیں پلایا جائے گا۔
آیت 68{ ثُمَّ اِنَّ مَرْجِعَہُمْ لَا اِلَی الْجَحِیْمِ } ”پھر ان کا لوٹ کر آنا ہے جہنم کی طرف۔“ یعنی زقوم کا کھانا اور کھولتا ہوا مشروب تو ان لوگوں کو ابتدائی ”مہمان نوازی“ کے طور پر دیا جائے گا۔ اس کے بعد انہیں ان کے مستقل ٹھکانے یعنی جہنم کی طرف بھیج دیا جائے گا۔ اعاذنا اللّٰہ من ذٰلک !
آیت 69{ اِنَّہُمْ اَلْفَوْا اٰبَآئَ ہُمْ ضَآلِّیْنَ } ”یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے آباء و اَجداد کو گمراہ پایا۔“
آیت 70{ فَہُمْ عَلٰٓی اٰثٰرِہِمْ یُہْرَعُوْنَ } ”تو وہ ان ہی کے نقوش قدم پر دوڑے چلے جا رہے ہیں۔“ بیشک ان کے باپ دادا گمراہ تھے ‘ لیکن انہوں نے اپنی عقل سے کام نہ لیا اور بغیر سوچے سمجھے اپنے گمراہ آباء و اَجداد کے اختیار کردہ راستوں پر گامزن ہوگئے۔
آیت 71{ وَلَقَدْ ضَلَّ قَبْلَہُمْ اَکْثَرُ الْاَوَّلِیْنَ } ”اور ان سے پہلے لوگوں کی بھی اکثریت گمراہ تھی۔“ یعنی ماضی میں بھی لوگوں کی اکثریت گمراہ ہی تھی۔ اس حوالے سے ہم سورة الانعام کی آیت 116 میں اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان بھی پڑھ چکے ہیں : { وَاِنْ تُطِعْ اَکْثَرَ مَنْ فِی الْاَرْضِ یُضِلُّوْکَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِط } ”اور اگر تم پیروی کرو گے زمین میں بسنے والوں کی اکثریت کی تو وہ تمہیں اللہ کے راستے سے لازماً گمراہ کردیں گے“۔ یہی مضمون سورة یوسف میں اس طرح بیان ہوا ہے : { وَمَا یُؤْمِنُ اَکْثَرُہُمْ بِاللّٰہِ اِلاَّ وَہُمْ مُّشْرِکُوْنَ } ”اور ان میں اکثر لوگ اللہ پر ایمان نہیں رکھتے مگر کسی نہ کسی نوع کا شرک بھی کرتے ہیں۔“ گویا ہر زمانے کی اکثریت کسی نہ کسی قسم کے شرک میں ملوث رہی ہے۔ اور توحید کے ساتھ شرک کی ملاوٹ کی ابتدا ہمیشہ یوں ہوتی رہی کہ اللہ کو ایک بڑے معبود کے طور پر مان لیا جاتا ‘ لیکن اس کے ساتھ چھوٹے چھوٹے معبود بھی بنا لیے جاتے۔ پھر آہستہ آہستہ بڑا معبود اس لیے پس منظر میں چلا جاتا کہ وہ انسانی سوچ سے وراء الوراء ‘ ثم وراء الوراء ہے اور پردہ غیب میں بھی ہے ‘ جبکہ چھوٹے اور خود ساختہ معبود ”پیکر محسوس“ کے طور پر ہر وقت اپنے پجاریوں کے سامنے حاضر و موجود ہوتے۔ اس طرح رفتہ رفتہ یہ خود ساختہ معبود ہی ُ کلی ّطور پر ان کے اعصاب پر سوار ہوجاتے۔ پھر اللہ کے بارے میں یہ لوگ یہی گمان کرتے کہ وہ تو بس اپنی ذات میں مگن ہے اور اسے کائنات کی اب کوئی فکر نہیں۔ جیسے ”مشائین“ اللہ تعالیٰ کے بارے میں اسی طرح کے گمراہ کن نظریات رکھتے ہیں۔ مشائین کے لغوی معنی ہیں چلنے پھرنے والے۔ ابتدائی طور پر اس گروہ کے لوگ چلتے پھرتے ہوئے اپنے استاد سے سیکھتے اور معلومات اخذ کرتے رہتے تھے ‘ اس لیے وہ اس نام سے موسوم ہوگئے۔ اس گروہ کا ”امام“ ارسطو ہے اور ہمارے ہاں کے اکثر متکلمین علمائے فلسفہ بھی اسی مکتبہ فکر سے تعلق رکھتے ہیں۔ چناچہ ارسطو کا فلسفہ اس حوالے سے یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ صرف کلیات کا عالم ہے ‘ جزئیات کا نہیں۔ یعنی اللہ نے اس کائنات کو پیدا کردیا ہے ‘ اس کے لیے کچھ قوانین بنا دیے ہیں اور اب یہ سارا نظام ان قوانین کے مطابق خود بخود چل رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو اس کائنات کی اب نہ تو کوئی فکر ہے اور نہ ہی اب یہ اس کے کنٹرول میں ہے۔ جیسے کسی کھلاڑی نے فٹ بال کو ِکک لگائی تو فٹ بال تیزی سے لڑھکنے لگا۔ اب فٹ بال کی حرکت اس ِکک لگانے والے کے کنٹرول میں نہیں رہی۔ وہ اسے روکنا بھی چاہے تو روک نہیں سکتا۔ اب تو اس کی رفتارزمین کی رگڑ friction سے کم ہوگی یا راستے میں کوئی رکاوٹ اس کو روک لے گی ‘ ورنہ اس کا اپنا زور حرکت momentum ختم ہوگا تو کہیں جا کر رکے گا۔ اللہ تعالیٰ کے بارے میں دنیا کے بڑے بڑے حکماء اور فلاسفہ کے ایسے گمراہ کن نظریات رہے ہیں۔ بہرحال انسان جب اپنے بنائے ہوئے پیمانوں پر اللہ کو ناپنا اور تولنا چاہتا ہے تو اسے ایسے ہی حماقت آمیز خیالات و نظریات سوجھتے ہیں۔
آیت 72{ وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا فِیْہِمْ مُّنْذِرِیْنَ } ”اور ہم نے ان میں اپنے خبردار کرنے والے بھیجے تھے۔“
آیت 73{ فَانْظُرْ کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الْمُنْذَرِیْنَ } ”تو دیکھ لو ! کیسا انجام ہوا ان لوگوں کا جنہیں خبردار کردیا گیا تھا۔“ اس حوالے سے قوم نوح علیہ السلام ‘ قوم ہود علیہ السلام ‘ قوم صالح علیہ السلام ‘ قوم شعیب علیہ السلام ‘ قوم لوط علیہ السلام اور آلِ فرعون کے عبرتناک انجام کی تفصیلات قرآن میں جا بجا بیان فرمائی گئی ہیں۔
آیت 74{ اِلَّا عِبَادَ اللّٰہِ الْمُخْلَصِیْنَ } ”سوائے اللہ کے خاص بندوں کے۔“ اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص بندوں کی ہر زمانے میں ہر جگہ پر مدد کی اور انہیں اس انجامِ بد سے بچالیا جس سے اللہ کے نافرمان لوگ دو چار ہوئے۔
آیت 75{ وَلَقَدْ نَادٰٹنَا نُوْحٌ فَلَنِعْمَ الْمُجِیْبُوْنَ } ”اور ہمیں پکارا تھا نوح علیہ السلام نے ‘ تو ہم کیا ہی اچھے دعا قبول کرنے والے ہیں !“ حضرت نوح کی اس دعا کا ذکر سورة القمر میں ان الفاظ میں ہوا ہے : { فَدَعَا رَبَّہٗٓ اَنِّیْ مَغْلُوْبٌ فَانْتَصِرْ } یعنی اس نے ربّ سے فریاد کی کہ میں مغلوب ہوگیا ہوں ‘ انہوں نے مجھے دبا لیا ہے ‘ اب ُ تو ہی میری مدد فرما اور تو ہی ان سے میرا بدلہ لے ! چناچہ اللہ کی مدد آگئی۔
آیت 76{ وَنَجَّیْنٰہُ وَاَہْلَہٗ مِنَ الْکَرْبِ الْعَظِیْمِ } ”اور ہم نے نجات دی اس کو اور اس کے گھر والوں کو کرب عظیم سے۔“ یہ ”کربِ عظیم“ کیا تھا ؟ اس کو سمجھنے کے لیے حضرت نوح کی قوم اور معاشرے کے حالات کی تصویر ذہن میں لائیے۔ چشم تصور سے دیکھئے کہ کس طرح اللہ کا ایک بندہ لوگوں تک اللہ کا پیغام پہنچا رہا ہے۔ اس کے لیے وہ دن دیکھتا ہے نہ رات۔ اجتماعی دعوت بھی دے رہا ہے ‘ انفرادی ملاقاتیں بھی کر رہا ہے ‘ ہر موقع آزما رہا ہے ‘ ہر ذریعہ اور ہر طریقہ بروئے کار لا رہا ہے ‘ جبکہ جواب میں اس کی اپنی قوم کے لوگ مسلسل اس سے استہزاء کر رہے ہیں ‘ اس کا تمسخر اڑا رہے ہیں اور اس پر پھبتیاں کس رہے ہیں۔ اس جان لیوا جدوجہد میں دس بیس یا پچاس برس تک نہیں ‘ پورے ساڑھے نو سو سال تک اپنی جان کو گھلاتے چلے جانا اور اس کے جواب میں قوم کے مخالفانہ رویے کا سامنا کرنا اور پھر اس مخالفت پر صبر کرنا کوئی معمولی کرب اور ضیق نہیں تھا۔ اسی طرح کے کرب اور ضیق کا سامنا محمد رسول اللہ ﷺ کو مکی دور میں اس وقت کرنا پڑا تھا جب مشرکین بار بار کسی معجزے کا مطالبہ کر کے آپ ﷺ پر گویا اتمامِ حجت کر رہے تھے۔ ان کا اصرار تھا کہ اگر آپ اللہ کے رسول ہیں تو ہمیں ایسے معجزات دکھائیں جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام ٰ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام ٰ نے اپنی قوموں کو دکھائے تھے۔ اس حوالے سے آپ ﷺ پر عوام کا دبائو مسلسل بڑھتا جا رہا تھا ‘ جبکہ اللہ کا فیصلہ اس حوالے سے یہ تھا کہ اس طرح کا کوئی حسی ّمعجزہ نہیں دکھایا جائے گا۔ اس صورت حال میں آپ ﷺ گویا چکی ّکے دو پاٹوں کے درمیان آ چکے تھے۔ سورة الانعام کے مطالعے کے دوران حضور ﷺ کے اس کرب عظیم کی کیفیت کے بارے میں ہم پڑھ چکے ہیں۔ سورة الانعام کی متعلقہ آیات اس موضوع پر گویا ذروہ سنام climax کا درجہ رکھتی ہیں۔ چناچہ آیت زیر مطالعہ میں اہل ایمان کو گویا اشارۃً بتایا جا رہا ہے کہ تم لوگوں کو تو ابھی راہ حق میں سختیاں جھیلتے ہوئے صرف دس بارہ سال ہی ہوئے ہیں۔ اپنی تکلیفوں کے بارے میں سوچتے ہوئے ذرا ہمارے بندے نوح علیہ السلام کے صبر و استقامت کو بھی مد ِنظر رکھو جو ساڑھے نو سو سال تک اس طرح کے ”کرب“ کا سامنا کرتے رہے۔ اس میں اس امر کی طرف بھی اشارہ ہے کہ جس طرح نوح اور ان کے اہل ایمان ساتھیوں کو اس کرب عظیم سے بچایا گیا ‘ اسی طرح آخر کار محمد رسول اللہ ﷺ اور ان کے ساتھیوں کو بھی ہم اس کرب عظیم سے نجات دلائیں گے جس میں اہل ِمکہ ّنے ان کو مبتلا کر رکھا ہے۔ پھر پانی کا عذاب بذات خود ایک ”کربِ عظیم“ تھا جو حضرت نوح کی قوم پر مسلط ہوا تھا۔ یعنی یوں تو نہیں ہوا ہوگا کہ سیلاب آیا اور حق کے مخالفین سب کے سب آنِ واحد میں غرق ہوگئے۔ آج بھی اگر ہم اس خوفناک صورت حال کی تصویر اپنے ذہنوں میں لا کر غور کریں تو ہم اندازہ کرسکتے ہیں کہ اس سیلابِ بلا کی انتہائی غیر معمولی صورت حال کو دیکھ کر وہ لوگ تشویش و تفکر ّکے کون کون سے مراحل سے گزرے ہوں گے ‘ کیسی کیسی حفاظتی تدابیر لڑائی گئی ہوں گی ‘ جانیں بچانے کے لیے کیا کیا بھگڈر اور ہلچل مچی ہوگی۔ گویا سیلاب کی وجہ سے اس قوم کے لیے قیامت صغریٰ کا منظر ہوگا۔ اور کسی نہ کسی درجے میں { اِنَّ زَلْزَلَۃَ السَّاعَۃِ شَیْئٌ عَظِیْمٌ} الح ج کی سی کیفیت پیدا ہوگئی ہوگی۔ یہ سب کچھ بذات خود ایک ”کربِ عظیم“ تھا ‘ جس کا سامنا حضرت نوح علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کے ساتھیوں کو بھی تھا ‘ لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل خاص سے انہیں اس ”کربِ عظیم“ سے محفوظ رکھا۔