قال تاللہ ۔۔۔۔۔ من المحضرین (56-57) ” “۔
یعنی میں بھی ان لوگوں میں سے ہوتا جنہیں پکڑکر کچہری میں لایا جاتا ہے اور وہ دراصل پیشی نہیں چاہتے ۔
اس دوست کو دیکھو وہ اپنی خوشحالی اور نیک انجامی کو بیان کرکے اپنی خوشی میں اضافہ کرتا ہے ۔ جب کہ اس کا دوست جہنم کے بچ میں پڑا ہے اور یہ اور اس کے دوست انعاماتا البیہ میں ڈوبے ہوئے ہیں ۔ یہ تحدیث نعمت ہے ، دوام نعمت پر خوشی کا اظہار ہے اور یوں لذت میں نفسیاتی اضافہ ۔
آیت 56{ قَالَ تَاللّٰہِ اِنْ کِدْتَّ لَتُرْدِیْنِ } ”وہ پکار اٹھے گا : اللہ کی قسم ‘ تم تو قریب تھے کہ مجھے بھی برباد کردیتے !“ یہ تو اللہ کا مجھ پر بڑا فضل ہوا کہ میں نے تمہاری باتوں پر زیادہ دھیان دینے کے بجائے اس آواز کی طرف توجہ دی جو میرے دل کی گہرائیوں سے نکلی تھی اور میں نے اسی بات کو قبول کیا جس کو میرے دل نے حق جانا۔ ورنہ اگر خدانخواستہ میں نے کہیں تمہاری بات مان لی ہوتی تو آج میں بھی تمہارے ساتھ جہنم کے اس گڑھے میں پڑا ہوتا۔