فانھم لا ۔۔۔۔ البطون (37: 66) ” “۔ اور اس کے کھانے میں اور نکلنے میں ان کو تکلیف ہوگی کیونکہ یہ تو شیاطین کے سروں جیسا ہوگا۔ اور اس سے ان کے پیٹ جل اٹھیں گے۔ اس لئے کہ یہ تو پیدا ہی جہنم میں ہوگا۔ اور یہ خود نہیں جلے گا یہ ہوگا ہی آگ کی نوعیت کا۔ اب یہ پانی کی طرف متوجہ ہوں گے تاکہ پیاس بجھا سکیں۔ چناچہ پینے کے لیے ان کو غیر خالص پانی ملے گا۔
آیت 66{ فَاِنَّہُمْ لَاٰکِلُوْنَ مِنْہَا فَمَالِئُوْنَ مِنْہَا الْبُطُوْنَ } ”پھر وہ اس میں سے کھائیں گے اور اسی سے اپنے پیٹوں کو بھریں گے۔“ ویسے تو وہ درخت ایسا ہوگا کہ کوئی اسے دیکھنا بھی پسند نہیں کرے گا لیکن ‘ اہل جہنم بھوک کی شدت سے مجبور ہو کر اس درخت کو کھائیں گے اور اسی سے اپنے پیٹوں کو بھریں گے۔