ثم ان ۔۔۔۔۔ الجحیم (37: 68) ” “۔ یوں اس منفرد منظر کا خاتمہ ہوتا ہے۔ اور اس سورت کا پہلا سبق ختم ہوتا ہے۔ گویا یہ منظر ایک دیکھا ہوا منظر ہے۔
آیت 68{ ثُمَّ اِنَّ مَرْجِعَہُمْ لَا اِلَی الْجَحِیْمِ } ”پھر ان کا لوٹ کر آنا ہے جہنم کی طرف۔“ یعنی زقوم کا کھانا اور کھولتا ہوا مشروب تو ان لوگوں کو ابتدائی ”مہمان نوازی“ کے طور پر دیا جائے گا۔ اس کے بعد انہیں ان کے مستقل ٹھکانے یعنی جہنم کی طرف بھیج دیا جائے گا۔ اعاذنا اللّٰہ من ذٰلک !