سورہ صف: آیت 10 - يا أيها الذين آمنوا هل... - اردو

آیت 10 کی تفسیر, سورہ صف

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ هَلْ أَدُلُّكُمْ عَلَىٰ تِجَٰرَةٍ تُنجِيكُم مِّنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ

اردو ترجمہ

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، میں بتاؤں تم کو وہ تجارت جو تمہیں عذاب الیم سے بچا دے؟

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Ya ayyuha allatheena amanoo hal adullukum AAala tijaratin tunjeekum min AAathabin aleemin

آیت 10 کی تفسیر

یا یھا الذین ................................ المﺅمنین (31) (61 : 01 تا 31)

” اے لوگوں جو ایمان لائے ہو ، میں بتاﺅں تم کو وہ تجارت جو تمہیں عذاب الیم سے بچادے ؟ ایمان لاﺅ اللہ اور اس کے رسول پر ، اور جہاد کرو اللہ کی راہ میں اپنے مالوں سے اور اپنی جانوں سے۔ یہی تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم جانو۔ اللہ تمہارے گناہ معاف کردے گا ، اور تم کو ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی ، اور ابدی قیام کی جنتوں میں بہترین گھر تمہیں عطا فرمائے گا۔ یہ ہے بڑی کامیابی۔ اور وہ دوسری چیز جو تم چاہتے ہو ، وہ بھی تمہیں دے گا ، اللہ کی طرف سے نصرت اور قریب ہی میں حاصل ہوجانے والی فتح۔ اے نبی اہل ایمان کو اس کی بشارت دے دو “۔

ذرا انداز تعبیر پر غور فرمائیں۔ بعض چیزوں کو باہم ملایا گیا ، بعض کو اپنی جگہ سے دور رکھا گیا ہے ۔ استفہام اور جواب استفہام کے درمیان ایک فاصلہ رکھا گیا ہے۔ بعض چیزوں کو مقدم کیا گیا ہے اور بعض کو موخر کردیا گیا ہے ، ان سب امور کا مقصد صرف یہ ہے کہ یہ پکار اور یہ آواز اچھی طرح لوگوں کے دلوں کے اندر اتر جائے اور اسالیب تعبیر کے تمام ذرائع استعمال کرکے بات کو دلوں تک بلکہ دلوں کی تہوں تک اتارا جائے۔

دیکھئے پکار کا آغاز۔

یایھا الذین امنوا (16 : 01) سے ہے ، اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، اور اس کے بعد اللہ ان سے پوچھتا ہے کہبتاﺅں تمہیں ایسی تجارت ؟ اس سے سامعین کے دلوں میں بھر پور شوق پیدا کیا جاتا ہے۔

ھل ادلکم ........................ عذاب الیم (16 : 01) ” میں بتاﺅں تم کو وہ تجارت جو تمہیں عذاب الیم سے بچادے ؟ “

اب کون ہے جو اس قسم کی تجارت کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لئے بےتاب نہ ہوگا۔ لیکن یہاں آیت ختم ہوجاتی ہے اور درمیان میں فصل آجاتی ہے۔ استفہام اور جواب استفہام کے درمیان آیت ختم ہوکر وقف آجاتا ہے اور سامع کے دل میں اگلی آیت سننے کے لئے بےتابی پیدا ہوجاتی ہے۔ اس کے بعد جواب آتا ہے جبکہ سامعین بےتاب تھے۔

سو فیصد نفع بخش تجارت حضرت عبداللہ بن سلام ؓ والی حدیث پہلے گذر چکی ہے کہ صحابہ نے حضور ﷺ سے یہ پوچھنا چاہا کہ سب سے زیادہ محبوب عمل اللہ تعالیٰ کو کونسا ہے ؟ اس پر اللہ عزوجل نے یہ سورت نازل فرمائی، جس میں فرما رہا ہے کہ آؤ میں تمہیں ایک سراسر نفع والی تجارت بتاؤں جس میں گھاٹے کی کوئی صورت ہی نہیں جس سے مقصود حاصل اور ڈر زائل ہوجائے گا وہ یہ ہے کہ تم اللہ کی وحدانیت اور اس کے رسول ﷺ کی رسالت پر ایمان لاؤ اپنا جان مال اس کی راہ میں قربان کرنے پر تل جاؤ، جان لو کہ یہ دنیا کی تجارت اور اس کے لئے کدو کاوش کرنے سے بہت ہی بہتر ہے، اگر میری اس بتائی ہوئی تجارت کے تاجر تم بن گئے تو تمہاری ہر لغزش سے ہر گناہ سے میں درگزر کرلوں گا اور جنتوں کے پاکیزہ محلات میں اور بلند وبالا درجوں میں تمہیں پہنچاؤں گا، تمہارے بالا خانوں اور ان ہمیشگی والے باغات کے درختوں تلے سے صاف شفاف نہریں پوری روانی سے جاری ہوں گی، یقین مانو کہ زبردست کامیابی اور اعلیٰ مقصد وری یہی ہے، اچھا اس سے بھی زیادہ سنو تم جو ہمیشہ دشمنوں کے مقابلہ پر میری مدد طلب کرتے رہتے ہو اور اپنی فتح چاہتے ہو میرا وعدہ ہے کہ یہ بھی تمہیں دوں گا ادھر مقابلہ ہوا ادھر فتح ہوئی ادھر سامنے آئے ادھر فتح و نصرت نے رکاب بوسی کی اور جگہ ارشاد ہوتا ہے۔ (ترجمہ) ایمان والو اگر تم اللہ کے دین کی مدد کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہاری مدد کرے گا اور تمہیں ثابت قدمی عنایت فرمائے گا، اور فرمان ہے (ترجمہ) یعنی یقیناً اللہ تعالیٰ اس کی مدد کرے گا جو اللہ کے دین کی مدد کرے بیشک اللہ تعالیٰ بڑی قوت والا اور غیر فانی عزت والا ہے، یہ مدد اور یہ فتح دنیا میں اور وہ جنت اور نعمت آخرت میں ان لوگوں کے حصہ میں ہے جو اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول کی اطاعت میں لگے رہیں اور دین اللہ کی خدمت میں جان و مال سے دریغ نہ کریں اسی لئے فرما دیا کہ اے نبی ان ایمان والوں کو میری طرف سے یہ خوش خبری پہنچا دو۔

آیت 10 - سورہ صف: (يا أيها الذين آمنوا هل أدلكم على تجارة تنجيكم من عذاب أليم...) - اردو