اس صفحہ میں سورہ As-Saff کی تمام آیات کے علاوہ تفسیر بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ الصف کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔
وَإِذْ قَالَ عِيسَى ٱبْنُ مَرْيَمَ يَٰبَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ إِنِّى رَسُولُ ٱللَّهِ إِلَيْكُم مُّصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَىَّ مِنَ ٱلتَّوْرَىٰةِ وَمُبَشِّرًۢا بِرَسُولٍ يَأْتِى مِنۢ بَعْدِى ٱسْمُهُۥٓ أَحْمَدُ ۖ فَلَمَّا جَآءَهُم بِٱلْبَيِّنَٰتِ قَالُوا۟ هَٰذَا سِحْرٌ مُّبِينٌ
وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ ٱفْتَرَىٰ عَلَى ٱللَّهِ ٱلْكَذِبَ وَهُوَ يُدْعَىٰٓ إِلَى ٱلْإِسْلَٰمِ ۚ وَٱللَّهُ لَا يَهْدِى ٱلْقَوْمَ ٱلظَّٰلِمِينَ
يُرِيدُونَ لِيُطْفِـُٔوا۟ نُورَ ٱللَّهِ بِأَفْوَٰهِهِمْ وَٱللَّهُ مُتِمُّ نُورِهِۦ وَلَوْ كَرِهَ ٱلْكَٰفِرُونَ
هُوَ ٱلَّذِىٓ أَرْسَلَ رَسُولَهُۥ بِٱلْهُدَىٰ وَدِينِ ٱلْحَقِّ لِيُظْهِرَهُۥ عَلَى ٱلدِّينِ كُلِّهِۦ وَلَوْ كَرِهَ ٱلْمُشْرِكُونَ
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ هَلْ أَدُلُّكُمْ عَلَىٰ تِجَٰرَةٍ تُنجِيكُم مِّنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ
تُؤْمِنُونَ بِٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦ وَتُجَٰهِدُونَ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ بِأَمْوَٰلِكُمْ وَأَنفُسِكُمْ ۚ ذَٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ
يَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَيُدْخِلْكُمْ جَنَّٰتٍ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَٰرُ وَمَسَٰكِنَ طَيِّبَةً فِى جَنَّٰتِ عَدْنٍ ۚ ذَٰلِكَ ٱلْفَوْزُ ٱلْعَظِيمُ
وَأُخْرَىٰ تُحِبُّونَهَا ۖ نَصْرٌ مِّنَ ٱللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ ۗ وَبَشِّرِ ٱلْمُؤْمِنِينَ
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ كُونُوٓا۟ أَنصَارَ ٱللَّهِ كَمَا قَالَ عِيسَى ٱبْنُ مَرْيَمَ لِلْحَوَارِيِّۦنَ مَنْ أَنصَارِىٓ إِلَى ٱللَّهِ ۖ قَالَ ٱلْحَوَارِيُّونَ نَحْنُ أَنصَارُ ٱللَّهِ ۖ فَـَٔامَنَت طَّآئِفَةٌ مِّنۢ بَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ وَكَفَرَت طَّآئِفَةٌ ۖ فَأَيَّدْنَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ عَلَىٰ عَدُوِّهِمْ فَأَصْبَحُوا۟ ظَٰهِرِينَ
آیت 6 { وَاِذْ قَالَ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ یٰــبَنِیْٓ اِسْرَآئِ ‘ یْلَ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ اِلَـیْکُمْ } ”اور یاد کرو جب عیسیٰ علیہ السلام ابن مریم نے کہا کہ اے بنی اسرائیل ! میں اللہ کا رسول ہوں تمہاری طرف“ اس آیت میں بنی اسرائیل کے دوسرے دور کا ذکر ہے جب ان کی طرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام رسول بن کر آئے۔ بحیثیت رسول آپ علیہ السلام کی بعثت کا ذکر سورة آل عمران کی آیت 49 کے الفاظ { وَرَسُوْلًا اِلٰی بَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ } میں آیا ہے۔ { مُّصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوْرٰٹۃِ } ”میں تصدیق کرتے ہوئے آیا ہوں اس کی جو میرے سامنے موجود ہے تورات میں سے“ { وَمُبَشِّرًام بِرَسُوْلٍ یَّاْتِیْ مِنْم بَعْدِی اسْمُہٗٓ اَحْمَدُ } ”اور بشارت دیتا ہوا ایک رسول کی جو میرے بعد آئیں گے ‘ ان کا نام احمد ﷺ ہوگا۔“ { فَلَمَّا جَآئَ ہُمْ بِالْبَـیِّنٰتِ قَالُوْا ہٰذَا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ۔ } ”پھر جب وہ عیسیٰ علیہ السلام آئے ان کے پاس واضح نشانیوں کے ساتھ تو انہوں نے کہہ دیا کہ یہ تو کھلا جادو ہے۔“ اس کے بعد حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی بعثت کے ساتھ بنی اسرائیل کا تیسرا دور شروع ہوا۔ حضور ﷺ کی رسالت کے بعد بنی اسرائیل کو واضح طور پر بتادیا گیا : { عَسٰی رَبُّکُمْ اَنْ یَّرْحَمَکُمْج وَاِنْ عُدْتُّمْ عُدْنَا 7} بنی اسرائیل : 8 ”ہوسکتا ہے کہ اب تمہارا رب تم پر رحم کرے ‘ اور اگر تم نے وہی روش اختیار کی تو ہم بھی وہی کچھ کریں گے“۔ یعنی اے بنی اسرائیل ! تم ہمارے لاڈلے تھے ‘ ہم نے تمہیں خود برگزیدہ کیا تھا : { وَلَقَدِ اخْتَرْنٰـھُمْ عَلَی عِلْمٍ عَلَی الْعٰلَمِیْنَ۔ } الدخان مگر تم نے اپنی بداعمالیوں کی وجہ سے اپنے آپ کو راندئہ درگاہ بنالیا۔ بہرحال ہماری رحمت اور محبت کے دروازے اب بھی تمہارے لیے کھلے ہیں۔ اگر تم لوگ توبہ کر کے اپنی روش درست کرلو تو ہم اب بھی تمہیں اپنی آغوش رحمت میں لینے کے لیے تیار ہیں۔ لیکن اس کے لیے تمہیں خود کو محمد رسول اللہ ﷺ کے قدموں میں ڈالنا ہوگا اور قرآن کو اپنا راہبر ماننا ہوگا : { اِنَّ ہٰذَا الْقُرْاٰنَ یَہْدِیْ لِلَّتِیْ ہِیَ اَقْوَمُ وَیُـبَشِّرُ الْمُؤْمِنِیْنَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَہُمْ اَجْرًا کَبِیْرًا۔ } بنی اسرائیل ”یقینا یہ قرآن راہنمائی کرتا ہے اس راہ کی طرف جو سب سے سیدھی ہے اور بشارت دیتا ہے ان اہل ایمان کو جو نیک عمل بھی کریں کہ ان کے لیے بہت بڑا اجر ہے۔“ تم پر واضح ہونا چاہیے کہ اب ہمارے قصر ِرحمت کا شاہدرہ قرآن ہے۔ اگر تم ہماری رحمت کی پناہ میں آنا چاہتے ہو تو تمہیں اسی شاہدرہ کی راہ سے گزر کر آنا ہوگا۔ لیکن اگر تم نے اپنے طرزعمل کی اصلاح نہ کی ‘ اپنی نافرمانیاں اسی طرح جاری رکھیں تو پھر ہم بھی تمہارے ساتھ ویسا ہی سلوک کریں گے جیسا کہ ماضی میں تمہارے ساتھ ہوتا رہا ہے : { وَاِنْ عُدْتُّمْ عُدْنَا }۔ جیسے ماضی میں ہمارے حکم پر تم لوگ بخت نصر Nebukadnezar ‘ یونانیوں ‘ شامیوں ‘ رومیوں ‘ وغیرہ کے ہاتھوں بار بار نشان عبرت بنتے رہے ہو ویسے ہی ایک مرتبہ پھر ہم تمہیں تمہاری بداعمالیوں کی سزا دلوائیں گے۔ بیسویں صدی میں نازیوں کے ہاتھوں یہود کا جو انجام ہوا وہ بھی عبرت انگیز ہے۔ ان کا اپنا دعویٰ ہے کہ ”ہولوکاسٹ“ میں 60 لاکھ افراد مارے گئے۔
آیت 7{ وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰی عَلَی اللّٰہِ الْکَذِبَ } ”اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹ تراشے“ { وَہُوَ یُدْعٰٓی اِلَی الْاِسْلَامِ } ”درآں حالیکہ اسے بلایا جا رہاہو اسلام کی طرف !“ یعنی اب اللہ کے آخری رسول ﷺ تم لوگوں کو دعوت ایمان و اسلام دے رہے ہیں اور تم لوگ اس دعوت پر لبیک کہنے کے بجائے ان ﷺ کی نبوت و رسالت اور قرآن کے بارے میں اللہ پر جھوٹ باندھ رہے ہو۔ { وَاللّٰہُ لَا یَہْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ۔ } ”اور اللہ ایسے ظالموں کو زبردستی ہدایت نہیں دیتا۔“ اب اگلی آیت میں یہودیوں کی ان کوششوں اور سازشوں کا ذکر ہے جو انہوں نے حضور ﷺ اور قرآن کے خلاف شروع کر رکھی تھیں۔ یہ آیت زیر مطالعہ مضمون کے کلائمکس کا درجہ رکھتی ہے :
یہ آیت الفاظ کے معمولی فرق کے ساتھ سورة التوبہ میں اس طرح آئی ہے :{ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّطْفِئُوْا نُوْرَ اللّٰہِ بِاَفْوَاہِہِمْ وَیَاْبَی اللّٰہُ اِلَّآ اَنْ یُّتِمَّ نُوْرَہٗ وَلَوْ کَرِہَ الْکٰفِرُوْنَ۔ } ”یہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو بجھا دیں اپنے منہ کی پھونکوں سے اور اللہ کو ہر گز منظور نہیں ہے مگر یہ کہ وہ اپنے نور کا اتمام فرما کر رہے ‘ چاہے یہ کافروں کو کتنا ہی ناگوار گزرے۔“ اللہ کے نور کو منہ کی پھونکوں سے بجھانے کے استعارے میں یہود مدینہ کی ان بودی کوششوں کی طرف اشارہ ہے جو وہ حضور ﷺ اور مسلمانوں کے خلاف اس وقت کر رہے تھے۔ یعنی وہ سامنے آکر براہ راست مقابلہ کرنے کے بجائے مسلمانوں کے خلاف بےبنیاد پروپیگنڈا کرتے ‘ افواہیں اڑاتے ‘ درپردہ سازشوں کے جال بنتے رہتے ‘ کبھی قریش کے پاس جاتے کہ تم مدینہ پر حملہ کرو اور کبھی کسی دوسرے قبیلے کو سبز باغ دکھا کر مسلمانوں کے خلاف ابھارتے۔ سورة الحشر میں ان کی بزدلی اور اندرونی کمزوری کا نقشہ ان الفاظ میں کھینچا گیا ہے : { لاَ یُقَاتِلُوْنَکُمْ جَمِیْعًا اِلَّا فِیْ قُرًی مُّحَصَّنَۃٍ اَوْ مِنْ وَّرَآئِ جُدُرٍط } آیت 14 کہ یہ لوگ کھلے میدان میں اکٹھے ہو کر تمہارا مقابلہ کرنے کی جرات نہیں کرسکتے ‘ ہاں چھپ چھپا کر دیواروں کی اوٹ سے وہ تم پر ضرور وار کریں گے۔ مولانا ظفر علی خاں نے اس آیت کے مضمون کی ترجمانی اپنے ایک شعر میں یوں کی ہے : ؎نورِ خدا ہے کفر کی حرکت پہ خندہ زن پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا ! یہاں یہ اصولی نکتہ بھی پیش نظر رہنا چاہیے کہ اس آیت اور اس مضمون کی حامل قرآن کی اور بہت سی دوسری آیات کے مفہوم کا دائرہ صرف حضور ﷺ کے زمانے کے یہودیوں اور ان کی اسلام دشمن سرگرمیوں تک ہی محدود نہیں ‘ بلکہ ان میں تاقیامِ قیامت ہر زمانے کے یہودیوں اور ان کی ان سازشوں کا ذکر ہے جو وہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف مسلسل کرتے رہے ہیں اور کرتے رہیں گے۔ موجودہ دور میں اگرچہ یہ لوگ پوری عیسائی دنیا کو اپنی مٹھی میں لے کر عالم اسلام کے خلاف صف آراء ہوچکے ہیں ‘ مگر قرائن بتاتے ہیں کہ ان کے فیصلے کا وقت اب قریب آ لگا ہے۔ آیت زیر مطالعہ کے الفاظ کے مطابق اللہ کے نور کا اتمام یعنی روئے ارضی پر دین اسلام کا غلبہ تو ایک طے شدہ امر ہے۔ اس کے لیے قیامت سے پہلے دنیا کو ایک انتہائی خوفناک جنگ کا سامنا کرنا ہے۔ اس جنگ میں یہودی اور عیسائی مل کر مسلمانوں کے خلاف لڑیں گے۔ احادیث میں اس جنگ کو الَمْلَحْمَۃُ الْعُظْمٰیکا نام دیا گیا ہے ‘ جبکہ عیسائیوں اور یہودیوں کی اصطلاح میں اسے ”ہرمجدون“ Armageddon کہا جاتا ہے۔ اس جنگ کے نتیجے میں یہودی مکمل طور پر نیست و نابود ہوجائیں گے اور اسلام واحد طاقت کے طور پر پوری دنیا پر غالب آجائے گا۔ یہ ہے آیت کے الفاظ وَاللّٰہُ مُتِمُّ نُوْرِہٖ کے مفہوم کا خلاصہ جس کی تفصیل ہمیں احادیث میں ملتی ہے۔
یہاں سے اس سورت کے تیسرے حصے کا آغاز ہو رہا ہے۔ آیت 9 میں حضور ﷺ کی بعثت کا ذکر ہوا ہے :آیت 9 { ہُوَ الَّذِیْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْہُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ } ”وہی ہے اللہ جس نے بھیجا اپنے رسول ﷺ کو الہدیٰ اور دین حق کے ساتھ تاکہ غالب کر دے اس کو پورے نظام زندگی پر“ حضور ﷺ کے مقصد بعثت کے حوالے سے یہ آیت خصوصی اہمیت کی حامل ہے اور اسی اہمیت کے باعث قرآن مجید میں اسے تین بار اس مقام کے علاوہ سورة التوبہ ‘ آیت 33 اور سورة الفتح ‘ آیت 28 کے طور پر دہرایا گیا ہے۔ تمام انبیاء و رسل - کے لیے قرآن مجید میں بشیر ‘ نذیر ‘ مذکر ‘ شاہد ‘ معلم وغیرہ الفاظ مشترک استعمال ہوئے ہیں ‘ لیکن اس آیت کا مضمون اور اسلوب صرف محمد رسول اللہ ﷺ کے لیے خاص ہے۔ الہدیٰ سے مراد یہاں وہ ہدایت نامہ قرآن ہے جو آپ ﷺ پر کامل ہوگیا ‘ جبکہ آپ سے پہلے تمام انبیاء کو اپنے اپنے دور میں جو میزان شریعت عطا ہوتی رہی تھی حضور ﷺ کی بعثت میں وہ کامل ہو کر ”دین الحق“ یعنی سچے اور عادلانہ نظام زندگی کی شکل اختیار کرگئی۔ چناچہ آپ ﷺ کو الہدیٰ اور دین حق کے ساتھ اس لیے بھیجا گیا تاکہ اللہ تعالیٰ کے نظام عدل و قسط کو دنیا کے تمام نظاموں پر غالب کردیا جائے۔ یہ تھا حضور ﷺ کی بعثت کا مشن جسے تکمیل کے لیے آپ ﷺ ہمارے سپرد فرما گئے تھے۔ لیکن ہم نے تو اس مشن کو کبھی اپنایا ہی نہیں۔ ہمارا مشن تو یہ ہے کہ حلال و حرام طریقے سے جیسے بھی ہو ‘ دولت اکٹھی کرو ‘ پھر اسی دولت سے صدقہ و قربانی دو ‘ حج کرو اور رمضان میں ہر سال عمرے کے لیے چلے جایا کرو۔ ہمارا سارا زور rituals پر ہے اور دین اگر دنیا میں پامال ہے تو ہوتا رہے ‘ ہماری بلا سے ! تصور کریں ‘ اگر آج صرف ایک سال میں حج پر اکٹھے ہونے والے افراد ہی سروں پر کفن باندھ کر غلبہ دین کی جدوجہد کے لیے میدان میں کود پڑیں تو دنیا کو بدل سکتے ہیں۔ مگر افسوس ‘ صد افسوس ! ؎رہ گئی رسم اذاں روح بلالی رض نہ رہی فلسفہ رہ گیا تلقین غزالی نہ رہی ! { وَلَــوْ کَرِہَ الْمُشْرِکُوْنَ۔ } ”اور خواہ مشرکوں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو !“ ظاہر ہے مشرکین کب چاہیں گے کہ دنیا میں اسلام کا غلبہ ہو ‘ نظام توحید کا نفاذ ہو اور اللہ کی حکومت بالفعل قائم ہوجائے۔ یہاں پر مُشْرِکُوْنَ کا لفظ خاص طور پر لائق توجہ ہے۔ اس سے مراد صرف وہ مشرکین ہی نہیں ہیں جو بتوں اور دیوی دیوتائوں کو پوجتے ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ وہ اللہ کے حضور ان کی سفارش کردیں گے ‘ بلکہ سب سے بڑے مشرک تو وہ ہیں جو دنیا میں خدائی کے دعوے دار بنے بیٹھے ہیں ‘ جو نمرود اور فرعون کے نقش قدم پر چل رہے ہیں اور جن کا دعویٰ ہے کہ اقتدارِ اعلیٰ sovereignty کے مالک ہم ہیں۔ فرعون بھی تو یہی کہتا تھا : { اَلَـیْسَ لِیْ مُلْکُ مِصْرَ وَھٰذِہِ الْاَنْھٰرُ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِیْج } الزخرف : 51 کہ دیکھو ! کیا یہ مصر کی حکومت میری نہیں ہے ؟ اور کیا یہ پورا نہری نظام میرے تابع نہیں ہے ؟ تو فرعون کے اس دعوے اور ”عوام کی حاکمیت“ کے نعرے میں کیا فرق رہ گیا ؟ صرف یہی نا کہ وہاں اقتدار کا دعویٰ کرنے والا ایک فرد تھا اور یہاں پوری قوم حاکمیت کی دعوے دار ہے۔ اب ظاہر ہے اگر اس ماحول میں آپ اللہ کی حاکمیت کا نعرہ لگائیں گے اور اللہ کے نظام عدل و قسط کے قیام کے مشن کو لے کر آگے بڑھنا چاہیں گے تو ”اپنی حاکمیت“ کے یہ دعوے دار خم ٹھونک کر آپ کے مقابلے میں آ کھڑے ہوں گے۔ اس کے بعد بھی اگر آپ اپنے موقف پر قائم رہیں گے تو ان سے آپ کا تصادم ناگزیر ہوجائے گا اور آپ کو مال و جان کی قربانی کی صورت میں اپنے اس موقف کی قیمت چکانا پڑے گی۔ چناچہ اب اگلی آیات میں اسی صورت ِحال کا ذکر کیا جا رہا ہے :
آیت 1 1{ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ وَتُجَاہِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ بِاَمْوَالِکُمْ وَاَنْفُسِکُمْ } ”وہ یہ کہ تم ایمان لائو اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر اور جہاد کرو اللہ کے راستے میں اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ۔“ یعنی اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ایسے ایمان لائو جیسا کہ ایمان لانے کا حق ہے۔ سورة النساء کی یہ آیت بھی اسی مفہوم میں اہل ایمان کو ایمان لانے کا حکم دے رہی ہے : { یٰٓــاَیـُّـہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْآ اٰمِنُوْا بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ…} آیت 136 ”اے ایمان والو ! ایمان لائو اللہ پر اور اس کے رسول ﷺ پر…“ گویا یہ ایمان کے دعوے داروں کے لیے ایسا مومن بننے کی دعوت ہے جو سورة الحجرات کی اس آیت کے معیار پر پورے اترتے ہوں : { اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ ثُمَّ لَمْ یَرْتَابُوْا وَجَاہَدُوْا بِاَمْوَالِہِمْ وَاَنْفُسِہِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِط } آیت 15 ”مومن تو بس وہی ہیں جو ایمان لائے اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ‘ پھر شک میں ہر گز نہیں پڑے اور انہوں نے جہاد کیا اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ اللہ کی راہ میں۔“{ ذٰلِکُمْ خَیْرٌ لَّــکُمْ اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۔ } ”یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم سمجھ رکھتے ہو۔“
آیت 12{ یَغْفِرْلَــکُمْ ذُنُوْبَکُمْ وَیُدْخِلْکُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہٰرُ } ”وہ تمہارے لیے تمہارے گناہ بخش دے گا اور تمہیں داخل کرے گا ان باغات میں جن کے دامن میں نہریں بہتی ہوں گی“ { وَمَسٰکِنَ طَیِّبَۃً فِیْ جَنّٰتِ عَدْنٍط ذٰلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ۔ } ”اور بہت پاکیزہ مساکن عطا کرے گا رہنے کے باغات میں۔ یہی سب سے بڑی کامیابی ہے۔“ اصل اور سب سے بڑی فوز و فلاح اور کامیابی تو آخرت کی کامیابی ہے۔ ایک بندئہ مومن کو چاہیے کہ دنیا کی کامیابیوں سے بےنیاز ہو کر اسی کامیابی کو اپنا ہدف بنائے۔ حتیٰ کہ غلبہ دین یا اقامت دین کے لیے جدوجہد کا نصب العین بھی آخرت کی کامیابی ہی ہونا چاہیے۔ اس لیے کہ اگر ہم اس جدوجہد میں دنیوی کامیابی پر نظر رکھیں گے تو اپنی کوششوں کو کامیاب نہ ہوتے دیکھ کر یا تو مایوس ہو کر بیٹھ جائیں گے یا الٹے سیدھے طریقے سے by hook or by crook مثبت نتائج حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔ تاریخ گواہ ہے کہ دنیوی نتائج کو منزل سمجھ لینے کی وجہ سے اس راہ کی بڑی بڑی تحریکیں یا تو مایوسی کے قبرستان میں دفن ہوگئیں یا شارٹ کٹ لگانے کی کوشش میں غلط موڑ مڑ کر اصل راستہ ہی گم کر بیٹھیں۔ چناچہ اقامت دین کی جدوجہد کے دوران ہمیں صرف اللہ کی رضا اور آخرت کی کامیابی پر نظر رکھنی چاہیے اور دنیا کی کامیابی یا ناکامی کی پروا نہیں کرنی چاہیے۔ اس حوالے سے یہ نکتہ بھی پیش نظر رہنا چاہیے کہ ہم صرف کوشش کرنے کے مکلف ہیں ‘ اس کوشش کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے ہم مکلف نہیں۔ ہاں اپنی جدوجہد کے طریق کار پر حالات و ماحول کے مطابق نظر ثانی ضرور کرتے رہنا چاہیے ‘ لیکن بنیادی طور پر ہمارا طریقہ اور راستہ وہی رہنا چاہیے جو منہج نبوی ﷺ سے ماخوذ ہو۔ یہ منہج حضور ﷺ کے توسط سے ہمیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : { لِکُلٍّ جَعَلْنَا مِنْـکُمْ شِرْعَۃً وَّمِنْہَاجًاط } المائدۃ : 48 ”تم میں سے ہر ایک کے لیے ہم نے ایک شریعت اور ایک راہ عمل طے کردی ہے“۔ چناچہ ہم پر لازم ہے کہ ہم اقامت دین کی جدوجہد کی راہیں متعین کرتے ہوئے روشنی اور راہنمائی منہجِ محمدی علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام سے ہی حاصل کریں۔
اب اگلی آیت میں اس ”بونس“ کا ذکر ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو کبھی کبھی اس دنیا میں بھی عطا کردیتا ہے ‘ چناچہ فرمایا :آیت 13{ وَاُخْرٰی تُحِبُّوْنَہَا } ”اور ایک اور چیز جو تمہیں بہت پسند ہے۔“ یعنی اس جہاد میں تمہیں دنیا کی کامیابی بھی مل سکتی ہے۔ اگرچہ تمہاری یہ کامیابی اللہ تعالیٰ کے ہاں اس قدر اہم نہیں جس قدر تم اسے اہم سمجھتے ہو۔ وہ غلبہ دین کے لیے تمہاری کوششوں کا محتاج نہیں۔ وہ چاہے تو آنِ واحد میں دین کو غالب کر دے۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک جو چیز اہم ہے وہ تمہاری جدوجہد اور اس جدوجہد میں تمہارا جذبہ ایثار و خلوص ہے ‘ اور یہی تمہارا اصل امتحان ہے۔ اگر تم اس امتحان میں کامیاب ہوجاتے ہو تو اللہ کے ہاں کامیاب ہو ‘ چاہے دنیوی لحاظ سے تم ناکام ہی رہو۔ لیکن اللہ کو معلوم ہے کہ بربنائے طبع بشری تم لوگ اپنی اس جدوجہد کے مثبت نتائج اس دنیا میں بھی دیکھنا چاہتے ہو اور دنیوی فتح حاصل ہونے پر تم لوگ بہت خوش ہوتے ہو ‘ اس لیے اللہ تعالیٰ تمہاری خوشی کے لیے وہ بھی تمہیں عطا فرمائے گا۔ { نَصْرٌ مِّنَ اللّٰہِ وَفَتْحٌ قَرِیْبٌط } ”اللہ کی طرف سے مدد اور قریبی فتح۔“ بس اب اللہ تعالیٰ کی مدد آیا ہی چاہتی ہے اور دنیوی فتح بھی تمہارے قدم چومنے ہی والی ہے۔ یہ کس مدد اور کونسی فتح کی بشارت ہے ؟ یہ سمجھنے کے لیے غزوئہ احزاب کے حالات و واقعات کو ایک دفعہ پھر سے ذہن میں تازہ کر لیجیے۔ اس اعتبار سے یوں سمجھئے کہ سورة الصف کی حیثیت سورة الاحزاب کے ضمیمے کی سی ہے۔ { وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ۔ } ”اور اے نبی ﷺ آپ مومنین کو خوشخبری سنا دیجیے۔“ غزوئہ احزاب کے بعد حضور ﷺ نے صحابہ رض کو یہ خوشخبری ان الفاظ میں سنائی تھی : لَنْ تَغْزُوْکُمْ قُرَیْشٌ بَعْدَ عَامِھِمْ ھٰذَا وَلٰٰـکِنَّـکُمْ تَغْزُوْنَھُمْ تفسیر ابن کثیر : 6/396 کہ اب اس سال کے بعد قریش تم پر کبھی چڑھائی نہیں کرسکیں گے ‘ بلکہ آئندہ تم لوگ ان پر چڑھائی کرو گے۔ یہ ان کی طرف سے آخری حملہ تھا ‘ کفر کی کمر ٹوٹ چکی اور کفار حوصلہ ہار گئے ‘ اب اقدام تمہاری طرف سے ہوگا۔ چناچہ اس کے بعد اگلے سال 6 ہجری میں حضور ﷺ نے چودہ سو صحابہ کے ساتھ عمرے کی نیت سے مکہ کا سفر اختیار فرمایا ‘ جس کے نتیجے میں مسلمانوں اور قریش کے مابین حدیبیہ کے مقام پر صلح کا معاہدہ طے پایا۔ اللہ تعالیٰ نے اس معاہدے کو فتح مبین قرار دیا : { اِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُّبِیْنًا۔ } الفتح ”یقینا ہم نے آپ ﷺ کو ایک بڑی روشن فتح عطا فرمائی ہے۔“ دوسری طرف اس بشارت کا تعلق آخرت سے بھی ہے کہ اپنے مال و جان کے ساتھ اللہ کی راہ میں جہاد کے نتیجے میں مومنین صادقین کو جنت کی نعمتیں بھی ملیں گی اور اللہ کے ہاں انہیں ایک خاص مقام بھی عطا ہوگا۔ اور وہ ہوگا اللہ کے مددگار ہونے کا مقام ! یہاں یہ بات خصوصی طور پر لائق توجہ ہے کہ ان آیات میں عذاب الیم سے چھٹکارے کو ایمانِ حقیقی اور جہاد فی سبیل اللہ کے ساتھ مشروط کردیا گیا ہے۔ آیت 10 میں یہ بات جس دو ٹوک انداز میں واضح کی گئی ہے اسے فزیالوجی کی زبان میں ”All or none Law“ کہتے ہیں۔ یعنی ایسی صورت حال جس میں کوئی چیز واقع ہوتی ہے تو پوری ہوتی ہے اور اگر نہیں واقع ہوتی تو بالکل نہیں ہوتی۔ اس میں کوئی درمیانی راستہ یا تناسب ممکن نہیں ہوتا۔ ہمارے ارادی عضلات voluntary muscles کے سکڑنے کا معاملہ ایسا ہی ہے ‘ اگر محرک stimulus پورا مل جاتا ہے تو متعلقہ muscle کی پوری contraction ہوتی ہے اور اگر stimulus کم ہوتا ہے تو contraction بالکل نہیں ہوتی۔ اس مفہوم میں آیت 10 تا 13 کے مضمون کا خلاصہ یہ ہے کہ جو لوگ یہ راستہ اختیار کریں گے ان کے سب گناہ بھی معاف ہوجائیں گے بشرطیکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کے ایمان و عمل کو درجہ قبولیت مل جائے ‘ انہیں عذاب الیم سے چھٹکارا بھی ملے گا اور جنت عدن میں ٹھکانہ بھی نصیب ہوگا۔ صرف یہی نہیں ‘ بلکہ دنیا میں انہیں اللہ کی مدد سے فتح بھی ملے گی اور سب سے بڑی بات یہ کہ وہ اللہ تعالیٰ کے مددگار قرار پائیں گے۔۔۔ اس کے برعکس اگر ہم لوگ ایمان کے دعوے تو بہت کریں اور اللہ و رسول ﷺ سے محبت کے نعرے بھی لگائیں ‘ لیکن مذکورہ دو شرائط ایمانِ حقیقی اور جہاد فی سبیل اللہ پوری کرنے میں سنجیدہ نہ ہوں تو ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ ہمارا رویہ اللہ تعالیٰ کی بیزاری کو دعوت دینے کے مترادف ہے : { کَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللّٰہِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا لَا تَفْعَلُوْنَ۔ } الصف ”بڑی شدید بیزاری کی بات ہے اللہ کے نزدیک کہ تم وہ کہو جو کرتے نہیں“۔ چناچہ جو لوگ مذکورہ شرائط کا حق ادا کیے بغیر ہی سمجھتے ہیں کہ وہ آخرت میں نجات پاجائیں گے وہ ایک خود ساختہ خیال کے سہارے زندگی بسر کر رہے ہیں اور اپنی سوچ سے یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ ان آیات کے الفاظ کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ یعنی یہ ‘ معاذ اللہ ‘ کلامِ مہمل ہے۔
اس سورة مبارکہ کی آخری آیت ایک طویل آیت ہے اور منطقی اعتبار سے یہ اس سلسلہ مضمون کا ایک انتہائی اہم اور بلند ترین مقام ہے جو گزشتہ آیات میں چلا آ رہا ہے۔ فرمایا :آیت 14{ یٰٓـــاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُوْنُوْٓا اَنْصَارَ اللّٰہِ } ”اے اہل ایمان ! تم اللہ کے مددگار بن جائو“ اللہ کے مددگار بننے کا طریقہ یہ ہے کہ تم اللہ کے دین کا جھنڈا سربلند کرنے پر کمربستہ ہو جائو۔ اور اگر تم اس مشن کو آگے بڑھانے کے لیے جدوجہد کرو گے تو تم محمد عربی ﷺ کے مددگار بھی بن جائو گے ‘ کیونکہ غلبہ دین کا یہ مشن اصل میں تو اللہ کے رسول ﷺ کا مشن ہے۔ تو اے اہل ایمان ! آئو آگے بڑھو ! اللہ کے دین کا جھنڈا اٹھائو ! جان و مال کا سرمایہ لگائو اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے مددگاروں میں اپنانام لکھوا لو۔ { کَمَا قَالَ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ لِلْحَوَارِیّٖنَ } ”جیسے کہا تھا عیسیٰ علیہ السلام ابن مریم نے اپنے حواریوں سے“ { مَنْ اَنْصَارِیْٓ اِلَی اللّٰہِط } ”کون ہے میرا مددگار اللہ کی طرف ؟“ یعنی کون ہے جو میری مدد کرے اللہ کی راہ میں ؟ مدد مجھے درکار ہے ‘ لیکن مشن اللہ کا ہے۔ اس فقرے میں وہی دو نسبتیں نظر آرہی ہیں جن کا ذکر سورة الفتح کی اس آیت میں حضور ﷺ کی بیعت کے حوالے سے آیا ہے : { اِنَّ الَّذِیْنَ یُبَایِعُوْنَکَ اِنَّمَا یُبَایِعُوْنَ اللّٰہَ ط یَدُ اللّٰہِ فَوْقَ اَیْدِیْھِمْج } آیت 10۔ یعنی بیعت حضور ﷺ کے ہاتھ پر ہو رہی ہے لیکن سودا اللہ تعالیٰ سے ہے۔ گویا عملی طور پر اس بیعت میں دو کے بجائے تین ہاتھ ہیں : بیعت کرنے والے کا ہاتھ ‘ حضور ﷺ کا ہاتھ اور اللہ کا ہاتھ۔ چناچہ اللہ کی مدد کرنے کا طریقہ یہی ہے کہ آپ اس ”بندے“ کی مدد کریں جو اللہ کے مشن کو لے کر اس کے راستے پر نکلا ہو۔ اسی فلسفے کے تحت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حواریوں نے اللہ کی مدد کے لیے آپ علیہ السلام کی آواز پر لبیک کہا تھا اور اسی جذبے کے ساتھ حضور ﷺ کے صحابہ رض نے اپنا سب کچھ آپ ﷺ کے قدموں میں نچھاور کر کے { وَالَّذِیْنَ مَعَہٗٓ} الفتح : 29 کی فہرست میں اپنے نام لکھوائے تھے۔ چناچہ آج بھی اس مشن کو آگے بڑھانے کا یہی طریقہ ہے کہ اللہ کی توفیق سے اللہ کا کوئی بندہ خود کو اس مشن کے لیے وقف کر کے { مَنْ اَنْصَارِیْٓ اِلَی اللّٰہِط } کی صدا بلند کرے کہ اے اللہ کے بندو ! میں نے تو یکسو ہو کر اللہ کی طرف رجوع کرلیا ہے۔ مجھے تو اب اس راستے پر چلنا ہی چلنا ہے۔ کوئی ساتھی ملے گا تب بھی چلوں گا اور اگر کوئی ساتھی نہیں ملے گا تب بھی چلوں گا۔ تو آئو آگے بڑھو اور میرے ہاتھ میں ہاتھ دے کر اللہ کے مددگار بن جائو ! { قَالَ الْحَوَارِیُّوْنَ نَحْنُ اَنْصَارُ اللّٰہِ } ”حواریوں نے کہا کہ ہم ہیں اللہ کے مددگار !“ یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر وہ لوگ اللہ تعالیٰ کے مددگار بن گئے۔ بنیادی طور پر اس آیت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حواریوں کے خلوص و ایثار کا ذکر ہے کہ انہوں نے { مَنْ اَنْصَارِیْٓ اِلَی اللّٰہِ } کی دعوت پر بلاتامل خود کو پیش کردیا۔ { فَاٰمَنَتْ طَّآئِفَۃٌ مِّنْم بَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ وَکَفَرَتْ طَّآئِفَۃٌج } ”تو بنی اسرائیل کا ایک گروہ حضرت مسیح علیہ السلام پر ایمان لے آیا اور دوسرا گروہ کفر پر اڑا رہا۔“ { فَاَیَّدْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا عَلٰی عَدُوِّہِمْ } ”تو ہم نے مدد کی ان کی جو ایمان لائے تھے ان کے دشمنوں کے خلاف“ { فَاَصْبَحُوْا ظٰہِرِیْنَ۔ } ”تو بالآخر وہی غالب ہوئے۔“ اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نام لیوا دنیا میں غالب ہوئے اور اللہ کے رسول علیہ السلام کا انکار کرنے والے یہودی مغلوب ہوئے۔۔۔۔ لیکن حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پیروکاروں کو یہ کامیابی آسانی سے نہیں ملی تھی ‘ اس کے لیے ان لوگوں کو تین سو سال تک جاں گداز جدوجہد کرنی پڑی اور بڑی بڑی آزمائشوں سے گزرنا پڑا۔ اس کے مقابل حضور ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ رض کی ابتلاء و آزمائش کا دورانیہ چند سال کے عرصے میں سمٹ گیا تھا۔ بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ جتنے طویل عرصے تک حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پیروکاروں نے مخالفین کی طرف سے تکلیفیں اور سختیاں برداشت کی ہیں اس کی کوئی مثال کسی اور نبی علیہ السلام یا رسول علیہ السلام کے پیروکاروں میں نہیں ملتی۔ قرآن مجید میں ان کی آزمائشوں اور قربانیوں کا ذکر متعدد مقامات پر آیا ہے۔ مثلاً سورة یٰسین کے آغاز میں جن تین رسولوں کا ذکر آیا ہے ان کے بارے میں زیادہ تر مفسرین کی رائے یہی ہے کہ وہ حضرت مسیح علیہ السلام کے حواریوں میں سے تھے۔ یعنی وہ حضرت مسیح علیہ السلام کے فرستادہ رسول علیہ السلام کے رسول تھے۔ اسی طرح سورة البروج میں جن اہل ایمان کا واقعہ بیان ہوا ہے وہ بھی عیسائی تھے اور انہیں بادشاہِ وقت ’ ابونواس ‘ نے خندقوں میں ڈال کر زندہ جلا دیا تھا۔ پھر اصحاب الکہف جو رومی بادشاہ کے تشدد کے خوف سے غار میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے تھے وہ بھی عیسائی تھے۔ بہرحال حضرت مسیح علیہ السلام کے پیروکاروں کی تین صدیوں پر محیط لازوال قربانیوں کے بعد بالآخر 300 عیسوی میں رومی سلطنت نے عیسائیت قبول کرلی۔ آیت میں اسی غلبے کا ذکر ہے۔ اس کے بعد حضرت مسیح علیہ السلام کے پیروکار جب گمراہ ہونے پر آئے تو انہوں نے شرک بھی بدترین ایجاد کیا۔ یعنی انہوں نے اپنے پیغمبر کو بربنائے عقیدت اللہ کا صلبی بیٹا بنا ڈالا نعوذ باللہ۔ اس ضمن میں آج ہمیں بھی اپنا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ ہمارے ہاں بھی بعض نعت خواں حضرات حضور ﷺ سے عقیدت اور عشق و محبت کے نام پر اتنا غلو کرتے ہیں کہ آپ ﷺ کو اللہ کے برابر بٹھانے سے کم پر ان کی تسلی ہی نہیں ہوتی۔ حتیٰ کہ ایسے لوگوں نے ہندوئوں کی دیکھا دیکھی حضور ﷺ کے لیے ”اوتار“ کا عقیدہ بھی گھڑ لیا ہے۔ عبرت کے لیے ملاحظہ ہوں یہ اشعار : ؎وہی جو مستویٔ عرش تھا خدا ہو کر اُتر پڑا وہ مدینے میں مصطفیٰ ﷺ ہو کر !اور : ؎مدینے کی مسجد میں منبر کے اوپر بغیر عین کا اِک عرب ہم نے دیکھا ! اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : { یٰٓـاَھْلَ الْکِتٰبِ لَا تَغْلُوْا فِیْ دِیْنِکُمْ } النساء : 171 کہ اے اہل کتاب ! اپنے دین میں غلو نہ کرو۔ اللہ تعالیٰ کا یہ حکم صرف یہود و نصاریٰ کے لیے ہی نہیں تھا ‘ ہمارے لیے بھی ہے۔ لیکن افسوس کہ ہم نے اللہ تعالیٰ کے احکام کو بھی درخورِ اعتناء نہیں سمجھا اور ہر اس گناہ اور جرم میں بےدھڑک اپنا حصہ ڈالنے کی کوشش کی جس کا ارتکاب کر کے پچھلی امتیں راندئہ درگاہ ہوئی تھیں۔ سوائے اس کے کہ قرآن کے متن میں ہم تحریف نہیں کرسکے اور وہ بھی اس لیے کہ اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے خصوصی تحفظ حاصل ہے۔ ورنہ اگر ممکن ہوتا تو اس میدان میں بھی ہم کسی سے پیچھے نہ رہتے۔