تومنون ................ ورسولہ (16 : 11) ” ایمان لاﺅ اللہ اور اس کے رسول پر “۔ وہ تو اللہ اور رسول پر ایمان لاچکے تھے۔ اور وہ جب جواب سنتے ہیں تو ان کے دل روشن ہوجاتے ہیں کیونکہ یہ جواب شرط تو پہلے سے ان کے اندر موجود ہے۔
وتجاھدون ........................ وانفسکم (16 : 11) ” اور جہاد کرو اللہ کی راہ میں اپنے مالوں سے اور اپنی جانوں سے “۔ اور یہی اس صورت کا مضمون اور محور ہے۔ اس انداز میں یہ آتارہا ہے ، بار بار تکرار کے ساتھ ، اس طرح اسے مضمون کے اندر بار بار دہرایا جاتا ہے۔ یہ اس لئے کہ اللہ کو معلوم تھا کہ انسان کو تربیت دینے کے لئے بار بار کی یاددہانی کی ضرورت ہے۔ مختلف انواع و دلائل اور مختلف قسم کی تائید وتاکید کے ساتھ تاکہ اس قدر پر مشقت فرائض کی ادائیگی کے لئے نفس انسانی تیار ہوجائے۔ کیونکہ اس قسم کے پر مشقت فرائض کی ادائیگی کے بغیر نہ اسلامی منہاج یہاں زندہ رہ سکتا ہے اور نہ اس کو بچایا جاسکتا ہے۔ اس کے بعد اس تجارت پر مزید تبصرہ کیا جاتا ہے اور اس تجارت کی تعریف وتحسین کی جاتی ہے۔
ذلکم .................... تعلمون (16 : 11) ” یہی تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم جانو “۔ اس لئے کہ انسان کسی بھلائی کی طرف تب ہی لپکتا ہے جب اسے علم ہو کہ بھلائی یہ ہے۔ اس کے بعد اگلی آیات میں اس بھلائی اور تجارت کی مزید تفصیلات دی جاتی ہیں۔ کیونکہ اجمال کے بعد تفصیلات کا اثر بہت ہوتا ہے۔ اس طرح بات احساس میں مسقلا بیٹھ جاتی ہے۔
آیت 1 1{ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ وَتُجَاہِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ بِاَمْوَالِکُمْ وَاَنْفُسِکُمْ } ”وہ یہ کہ تم ایمان لائو اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر اور جہاد کرو اللہ کے راستے میں اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ۔“ یعنی اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ایسے ایمان لائو جیسا کہ ایمان لانے کا حق ہے۔ سورة النساء کی یہ آیت بھی اسی مفہوم میں اہل ایمان کو ایمان لانے کا حکم دے رہی ہے : { یٰٓــاَیـُّـہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْآ اٰمِنُوْا بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ…} آیت 136 ”اے ایمان والو ! ایمان لائو اللہ پر اور اس کے رسول ﷺ پر…“ گویا یہ ایمان کے دعوے داروں کے لیے ایسا مومن بننے کی دعوت ہے جو سورة الحجرات کی اس آیت کے معیار پر پورے اترتے ہوں : { اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ ثُمَّ لَمْ یَرْتَابُوْا وَجَاہَدُوْا بِاَمْوَالِہِمْ وَاَنْفُسِہِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِط } آیت 15 ”مومن تو بس وہی ہیں جو ایمان لائے اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ‘ پھر شک میں ہر گز نہیں پڑے اور انہوں نے جہاد کیا اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ اللہ کی راہ میں۔“{ ذٰلِکُمْ خَیْرٌ لَّــکُمْ اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۔ } ”یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم سمجھ رکھتے ہو۔“