سورہ صف: آیت 12 - يغفر لكم ذنوبكم ويدخلكم جنات... - اردو

آیت 12 کی تفسیر, سورہ صف

يَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَيُدْخِلْكُمْ جَنَّٰتٍ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَٰرُ وَمَسَٰكِنَ طَيِّبَةً فِى جَنَّٰتِ عَدْنٍ ۚ ذَٰلِكَ ٱلْفَوْزُ ٱلْعَظِيمُ

اردو ترجمہ

اللہ تمہارے گناہ معاف کر دے گا، اور تم کو ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، اور ابدی قیام کی جنتوں میں بہترین گھر تمہیں عطا فرمائے گا یہ ہے بڑی کامیابی

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Yaghfir lakum thunoobakum wayudkhilkum jannatin tajree min tahtiha alanharu wamasakina tayyibatan fee jannati AAadnin thalika alfawzu alAAatheemu

آیت 12 کی تفسیر

یغفرلکم ذونوبکم (16 : 21) ” اللہ تمہارے گناہ معاف کردے گا “۔ اس تجارت اور بھلائی کی یہ ایک بات ہی کافی ہے۔ اگر اس کے بعد کوئی اور کیا چاہے گا کہ اس کے گناہ معاف ہوجائیں یا اپنے لئے اور کیا ذخیرہ کرے گا۔ لیکن اللہ کے فضل وکرم کی حدود نہیں ہوتیں اس لئے۔

ویدخلکم فی جنت ” اور تم کو ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی ، اور ابدی قیام کی جنتوں میں بہترین گھر تمہیں عطا فرمائے گا “۔ اس سے بڑی تجارت اور کیا ہے کہ ایک مجاہد اپنی اس مختصر زندگی میں جہاد کرے ، وہ اپنی جان دے دے اور اس کے عوض اسے یہ باغات اور ابدی زندگی ملے اور بہترین مکانات اور نعیم مقیم میں رہے۔ اور یہ عظیم حقیقت ہے کہ یہی بڑی کامیابی ہے۔

ذلک الفوز العظیم (16 : 21) ” یہ ہے عظیم کامرانی “ یہاں آکر اس نہایت ہی نفع بخش تجارت کا سودا ختم ہوگیا۔ فی الواقعہ یہ تو بہت بڑا نفع ہے۔ کہ ایک مومن مختصر دنیا دے کر ابدی آخرت لے لے۔ اگر کوئی ایک روپے کی تجارت کرکے دس کمالے تو بازار میں اس کا چرچا ہوجاتا ہے ، لیکن اس شخص کا حال کیا ہوگا کہ وہ اس دنیا کی محدود زندگی میں جہاد کرے اور دنیا کا محدود متاع دے دے اور آخرت کا لامحدود زمانہ مزے کرے اور آخرت کا متاع وعیش حاصل کرے ، جو لا محدود اور لا مقلوع ہے۔

یہ سودا حضرت محمد ﷺ اور حضرت عبداللہ ابن رواحہ ؓ کے درمیان ہوا تھا۔ یہ عقبہ کی رات کو ہوا تھا۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ آپ ﷺ اپنے لئے جو چاہیں ، شرائط رکھ لیں۔ تو حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کہ رب کے لئے میں یہ شرائط عائد کرتا ہوں کہ تم اس کی بندگی کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو۔ اور اپنے لئے میں یہ شرط عائد کرتا ہوں کہ تم میرا دفاع اس طرح کرو گے جس طرح تم اپنے مال اور جان کا دفاع کرتے ہو “۔ تو انہوں نے کہا کہ اگر ہم نے ایسا کیا تو ہمیں کیا ملے گا۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا :

(الجنة) تو انہوں نے کہا اس سودے میں بہت بڑا فائدہ ہوگیا ہمیں ، نہ ہم اس سودے کو منسوخ کرتے ہیں اور نہ فریق دوئم کی درخواست اس سلسلے میں مانتے ہیں۔

لیکن اللہ کا فضل تو بہت عظیم ہے۔ اللہ جانتا ہے کہ انسانی نفوس اس جہاں میں بھی کچھ چاہتے ہیں۔ انسان کی محدود ساخت چاہتی ہے کہ اس جہاں میں بھی کچھ مزا ملے تو اللہ عتالیٰ ان کو خوشخبری دیتا ہے کہ اس جہاں میں بھی تمہیں فتح مبین اور غلبہ دین حاصل ہوگا۔ اور اسلامی نظام زندگی قائم ہوکر رہے گا۔ اور تمہاری نسل کے اندر ہوکر رہے گا۔

آیت 12{ یَغْفِرْلَــکُمْ ذُنُوْبَکُمْ وَیُدْخِلْکُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہٰرُ } ”وہ تمہارے لیے تمہارے گناہ بخش دے گا اور تمہیں داخل کرے گا ان باغات میں جن کے دامن میں نہریں بہتی ہوں گی“ { وَمَسٰکِنَ طَیِّبَۃً فِیْ جَنّٰتِ عَدْنٍط ذٰلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ۔ } ”اور بہت پاکیزہ مساکن عطا کرے گا رہنے کے باغات میں۔ یہی سب سے بڑی کامیابی ہے۔“ اصل اور سب سے بڑی فوز و فلاح اور کامیابی تو آخرت کی کامیابی ہے۔ ایک بندئہ مومن کو چاہیے کہ دنیا کی کامیابیوں سے بےنیاز ہو کر اسی کامیابی کو اپنا ہدف بنائے۔ حتیٰ کہ غلبہ دین یا اقامت دین کے لیے جدوجہد کا نصب العین بھی آخرت کی کامیابی ہی ہونا چاہیے۔ اس لیے کہ اگر ہم اس جدوجہد میں دنیوی کامیابی پر نظر رکھیں گے تو اپنی کوششوں کو کامیاب نہ ہوتے دیکھ کر یا تو مایوس ہو کر بیٹھ جائیں گے یا الٹے سیدھے طریقے سے by hook or by crook مثبت نتائج حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔ تاریخ گواہ ہے کہ دنیوی نتائج کو منزل سمجھ لینے کی وجہ سے اس راہ کی بڑی بڑی تحریکیں یا تو مایوسی کے قبرستان میں دفن ہوگئیں یا شارٹ کٹ لگانے کی کوشش میں غلط موڑ مڑ کر اصل راستہ ہی گم کر بیٹھیں۔ چناچہ اقامت دین کی جدوجہد کے دوران ہمیں صرف اللہ کی رضا اور آخرت کی کامیابی پر نظر رکھنی چاہیے اور دنیا کی کامیابی یا ناکامی کی پروا نہیں کرنی چاہیے۔ اس حوالے سے یہ نکتہ بھی پیش نظر رہنا چاہیے کہ ہم صرف کوشش کرنے کے مکلف ہیں ‘ اس کوشش کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے ہم مکلف نہیں۔ ہاں اپنی جدوجہد کے طریق کار پر حالات و ماحول کے مطابق نظر ثانی ضرور کرتے رہنا چاہیے ‘ لیکن بنیادی طور پر ہمارا طریقہ اور راستہ وہی رہنا چاہیے جو منہج نبوی ﷺ سے ماخوذ ہو۔ یہ منہج حضور ﷺ کے توسط سے ہمیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : { لِکُلٍّ جَعَلْنَا مِنْـکُمْ شِرْعَۃً وَّمِنْہَاجًاط } المائدۃ : 48 ”تم میں سے ہر ایک کے لیے ہم نے ایک شریعت اور ایک راہ عمل طے کردی ہے“۔ چناچہ ہم پر لازم ہے کہ ہم اقامت دین کی جدوجہد کی راہیں متعین کرتے ہوئے روشنی اور راہنمائی منہجِ محمدی علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام سے ہی حاصل کریں۔

آیت 12 - سورہ صف: (يغفر لكم ذنوبكم ويدخلكم جنات تجري من تحتها الأنهار ومساكن طيبة في جنات عدن ۚ ذلك الفوز العظيم...) - اردو