سورہ صف: آیت 14 - يا أيها الذين آمنوا كونوا... - اردو

آیت 14 کی تفسیر, سورہ صف

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ كُونُوٓا۟ أَنصَارَ ٱللَّهِ كَمَا قَالَ عِيسَى ٱبْنُ مَرْيَمَ لِلْحَوَارِيِّۦنَ مَنْ أَنصَارِىٓ إِلَى ٱللَّهِ ۖ قَالَ ٱلْحَوَارِيُّونَ نَحْنُ أَنصَارُ ٱللَّهِ ۖ فَـَٔامَنَت طَّآئِفَةٌ مِّنۢ بَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ وَكَفَرَت طَّآئِفَةٌ ۖ فَأَيَّدْنَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ عَلَىٰ عَدُوِّهِمْ فَأَصْبَحُوا۟ ظَٰهِرِينَ

اردو ترجمہ

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ کے مددگار بنو، جس طرح عیسیٰ ابن مریمؑ نے حواریوں کو خطاب کر کے کہا تھا: "کون ہے اللہ کی طرف (بلانے) میں میرا مددگار؟" اور حواریوں نے جواب دیا تھا: "ہم ہیں اللہ کے مددگار" اُس وقت بنی اسرائیل کا ایک گروہ ایمان لایا اور دوسرے گروہ نے انکار کیا پھر ہم نے ایمان لانے والوں کی اُن کے دشمنوں کے مقابلے میں تائید کی اور وہی غالب ہو کر رہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Ya ayyuha allatheena amanoo koonoo ansara Allahi kama qala AAeesa ibnu maryama lilhawariyyeena man ansaree ila Allahi qala alhawariyyoona nahnu ansaru Allahi faamanat taifatun min banee israeela wakafarat taifatun faayyadna allatheena amanoo AAala AAaduwwihim faasbahoo thahireena

آیت 14 کی تفسیر

چناچہ سورت کا خاتمہ ایک نئی پکار سے ہوتا ہے ۔ اس پکار کا نیارنگ ہے ۔ ایک جدید دلیل ، ایک موثر مثال اور ایک نئے پہلو سے آمادگی اور اکسانا۔

یایھا الذین ................................ ظھرین (16 : 41) ” لوگو جو ایمان لائے ہو ، اللہ کی مددگار بنو ، جس طرح عیسیٰ ابن مریم نے حواریوں کو خطاب کرکے کہا تھا :” کون ہے اللہ کی طرف (بلانے) میں میرا مددگار ؟ “ اور حواریوں نے جواب دیا تھا : ” ہم ہیں اللہ کے مددگار “۔ اس وقت بنی اسرائیل کا ایک گروہ ایمان لایا اور دوسرے گروہ نے انکار کیا۔ پھر ہم نے ایمان لانے والوں کو ان کے دشمنوں کے مقابلے میں تائید کی اور وہی غالب ہوکر رہے “۔

حواری کون تھے ؟ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے شاگرد۔ یہ تعداد میں 21 تھے۔ یہ ہر وقت آپ کے ساتھ ہوتے تھے اور آپ سے تعلیمات لیتے تھے۔ یہی لوگ تھے جنہوں نے آپ کے اٹھائے جانے کے بعد آپ کی وصیتوں اور آپ کی تعلیمات کو پھیلایا۔

آیت کا مقصد ان کے حالات زندگی بیان کرنا نہیں ہے بلکہ انہوں نے دعوت کے حوالے سے جو موقف اختیار کیا ، اسے پیش کرنا ہے ، لہٰذا ہم بھی یہاں اسی پر اکتفاء کرتے ہیں۔

یایھا الذین ........................ انصار اللہ (15 : 41) ” اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، اللہ کی مددگار بنو “۔ کس قدر بلند مقام تک اللہ نے اپنے مجاہد بندوں کو لے جاتا ہے۔ انسان کے لئے اس سے بڑا مقام اور کیا ہوسکتا ہے کہ وہ اللہ کا معاون ہوجائے۔ اس صفت میں اتنی بڑی عزت افزائی ہے جو جنت اور اس کی نعمتوں سے بھی بڑی ہے۔ اللہ کے انصار بن جاﺅ!

کما قال ............................ انصار اللہ (16 : 41) ” جس طرح عیسیٰ ابن مریم نے حواریوں کو خطاب کرکے کہا تھا :” کون ہے اللہ کی طرف (بلانے) میں میرا مددگار ؟ “ اور حواریوں نے جوا دیا تھا :” ہم ہیں اللہ کے مددگار “۔ تو انہوں نے جواب آپ کو اس کام کے لئے وقف کردیا اور یہ مقام عزت پایا۔ اور عیسیٰ (علیہ السلام) کے فرائض منصبی میں یہ بات شامل تھی کہ آپ نبی آخرالزماں ﷺ کے بارے میں بشارت دیں اور دین آخیر کے بارے میں خوشخبری دیں۔ لہٰذا حضرت محمد ﷺ کے متبعین اس بات کے زیادہ مستحق ہیں کہ وہ اس کام کے لئے آگے بڑھیں۔ جس طرح حواریوں نے اپنے آپ کو پیش کیا۔ یہی اس حوالے میں آمادہ کرنے اور اکسانے والی بات ہے۔ اور پھر کیا ہوا انجام ؟

فامنت طائفة ........................ ظھرین (16 : 41) ” اس وقت بنی اسرائیل کا ایک گروہ ایمان لایا اور دوسرے گروہ نے انکار کیا۔ پھر ہم نے ایمان لانے والوں کو ان کے دشمنوں کے مقابلے میں تائید کی اور وہی غالب ہوکر رہے “۔ اس آیت کے دو معنی ہوسکتے ہیں۔ ایک یہ کہ جو لوگ حضرت مسیح کی نفس رسالت پر ایمان لائے تھے۔ یعنی مسیحی چاہے ان کے عقائد درست ہوں یا بعد میں مشرک ہوگئے ہوں اور ان کے عقائد میں شدید انحرافات آگئے ہوں ، ان کو اللہ نے ان لوگوں پر غالب کردیا جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی راسلت ہی کو نہ مانتے تھے۔ یعنی یہودیوں پر جس طرح تاریخ شاہد ہے اور دوسرے معنی یہ ہوسکتے ہیں کہ وہ لوگ جو ان کی رسالت پر ایمان لائے اور عقیدہ توحید اور بشریت رسول پر بھی قائم رہے تو اللہ نے ان اہل توحید کی حجت اور برہان کے لحاظ سے تائید کی بمقابلہ ان لوگوں کے جو مشرک ہوگئے اور جنہوں نے حضرت مسیح کہ الٰہ مانا ، ان کی والدہ کو الٰہیہ مانا یا روح القدس کو الٰہ مانا ، اور پھر ان اہل توحید کی تائید دین اسلام کے عقیدہ توحید سے بھی ہوئی اور دین مسیح ، دین اسلام کی شکل میں غالب ہوگیا ، تو یہ دوسری تفسیر زیادہ مناسب ہے۔

اس اشارہ اور اس واقعہ سے مراد عبرت یہی ہے جو ہم نے اوپر بیان کی۔ یہ کہ مومنین کو جہاد فی سبیل اللہ کے لئے تیار کرنا جو اس سورت کا محور ہے۔ کیونکہ مومنین ہی اللہ کے دین کے قیام کے ذمہ دار ہیں۔ یہی وارث ہیں رسالت آخرہ کے۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کو اس عظیم مقصد کے لئے نکالا گیا ہے۔ ان کو چاہئے کہ وہ انہیں اور اپنا فریضہ حیات پورا کریں۔” جس طرح عیسیٰ ابن مریم نے حواریوں سے خطاسب کرتے ہوئے کہا تھا : کون ہے اللہ کی طرف بلانے میں میرا مددگار۔ اور حواریوں نے جواب دیا تھا : ” ہم ہیں اللہ کے مددگار “۔ اور آخرت کی نصرت اور فتح انہی لوگوں کی ہوتی ہے جو اللہ کے مددگار اور اس کے دین کے خادم ہوتے ہیں۔

یہ اس سورت کی آخری پکار ہے۔ آخری چٹکی اور آخری اکساہٹ ہے۔ اس کا اپنا رنگ اور الگ ذائقہ ہے۔ اور یہ مثال اس سورت کے مضمون کے ساتھ نہایت ہی مناسب ہے۔ ایک تاریخی مثال اور تاریخی رنگ۔

اس سورة مبارکہ کی آخری آیت ایک طویل آیت ہے اور منطقی اعتبار سے یہ اس سلسلہ مضمون کا ایک انتہائی اہم اور بلند ترین مقام ہے جو گزشتہ آیات میں چلا آ رہا ہے۔ فرمایا :آیت 14{ یٰٓـــاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُوْنُوْٓا اَنْصَارَ اللّٰہِ } ”اے اہل ایمان ! تم اللہ کے مددگار بن جائو“ اللہ کے مددگار بننے کا طریقہ یہ ہے کہ تم اللہ کے دین کا جھنڈا سربلند کرنے پر کمربستہ ہو جائو۔ اور اگر تم اس مشن کو آگے بڑھانے کے لیے جدوجہد کرو گے تو تم محمد عربی ﷺ کے مددگار بھی بن جائو گے ‘ کیونکہ غلبہ دین کا یہ مشن اصل میں تو اللہ کے رسول ﷺ کا مشن ہے۔ تو اے اہل ایمان ! آئو آگے بڑھو ! اللہ کے دین کا جھنڈا اٹھائو ! جان و مال کا سرمایہ لگائو اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے مددگاروں میں اپنانام لکھوا لو۔ { کَمَا قَالَ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ لِلْحَوَارِیّٖنَ } ”جیسے کہا تھا عیسیٰ علیہ السلام ابن مریم نے اپنے حواریوں سے“ { مَنْ اَنْصَارِیْٓ اِلَی اللّٰہِط } ”کون ہے میرا مددگار اللہ کی طرف ؟“ یعنی کون ہے جو میری مدد کرے اللہ کی راہ میں ؟ مدد مجھے درکار ہے ‘ لیکن مشن اللہ کا ہے۔ اس فقرے میں وہی دو نسبتیں نظر آرہی ہیں جن کا ذکر سورة الفتح کی اس آیت میں حضور ﷺ کی بیعت کے حوالے سے آیا ہے : { اِنَّ الَّذِیْنَ یُبَایِعُوْنَکَ اِنَّمَا یُبَایِعُوْنَ اللّٰہَ ط یَدُ اللّٰہِ فَوْقَ اَیْدِیْھِمْج } آیت 10۔ یعنی بیعت حضور ﷺ کے ہاتھ پر ہو رہی ہے لیکن سودا اللہ تعالیٰ سے ہے۔ گویا عملی طور پر اس بیعت میں دو کے بجائے تین ہاتھ ہیں : بیعت کرنے والے کا ہاتھ ‘ حضور ﷺ کا ہاتھ اور اللہ کا ہاتھ۔ چناچہ اللہ کی مدد کرنے کا طریقہ یہی ہے کہ آپ اس ”بندے“ کی مدد کریں جو اللہ کے مشن کو لے کر اس کے راستے پر نکلا ہو۔ اسی فلسفے کے تحت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حواریوں نے اللہ کی مدد کے لیے آپ علیہ السلام کی آواز پر لبیک کہا تھا اور اسی جذبے کے ساتھ حضور ﷺ کے صحابہ رض نے اپنا سب کچھ آپ ﷺ کے قدموں میں نچھاور کر کے { وَالَّذِیْنَ مَعَہٗٓ} الفتح : 29 کی فہرست میں اپنے نام لکھوائے تھے۔ چناچہ آج بھی اس مشن کو آگے بڑھانے کا یہی طریقہ ہے کہ اللہ کی توفیق سے اللہ کا کوئی بندہ خود کو اس مشن کے لیے وقف کر کے { مَنْ اَنْصَارِیْٓ اِلَی اللّٰہِط } کی صدا بلند کرے کہ اے اللہ کے بندو ! میں نے تو یکسو ہو کر اللہ کی طرف رجوع کرلیا ہے۔ مجھے تو اب اس راستے پر چلنا ہی چلنا ہے۔ کوئی ساتھی ملے گا تب بھی چلوں گا اور اگر کوئی ساتھی نہیں ملے گا تب بھی چلوں گا۔ تو آئو آگے بڑھو اور میرے ہاتھ میں ہاتھ دے کر اللہ کے مددگار بن جائو ! { قَالَ الْحَوَارِیُّوْنَ نَحْنُ اَنْصَارُ اللّٰہِ } ”حواریوں نے کہا کہ ہم ہیں اللہ کے مددگار !“ یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر وہ لوگ اللہ تعالیٰ کے مددگار بن گئے۔ بنیادی طور پر اس آیت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حواریوں کے خلوص و ایثار کا ذکر ہے کہ انہوں نے { مَنْ اَنْصَارِیْٓ اِلَی اللّٰہِ } کی دعوت پر بلاتامل خود کو پیش کردیا۔ { فَاٰمَنَتْ طَّآئِفَۃٌ مِّنْم بَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ وَکَفَرَتْ طَّآئِفَۃٌج } ”تو بنی اسرائیل کا ایک گروہ حضرت مسیح علیہ السلام پر ایمان لے آیا اور دوسرا گروہ کفر پر اڑا رہا۔“ { فَاَیَّدْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا عَلٰی عَدُوِّہِمْ } ”تو ہم نے مدد کی ان کی جو ایمان لائے تھے ان کے دشمنوں کے خلاف“ { فَاَصْبَحُوْا ظٰہِرِیْنَ۔ } ”تو بالآخر وہی غالب ہوئے۔“ اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نام لیوا دنیا میں غالب ہوئے اور اللہ کے رسول علیہ السلام کا انکار کرنے والے یہودی مغلوب ہوئے۔۔۔۔ لیکن حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پیروکاروں کو یہ کامیابی آسانی سے نہیں ملی تھی ‘ اس کے لیے ان لوگوں کو تین سو سال تک جاں گداز جدوجہد کرنی پڑی اور بڑی بڑی آزمائشوں سے گزرنا پڑا۔ اس کے مقابل حضور ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ رض کی ابتلاء و آزمائش کا دورانیہ چند سال کے عرصے میں سمٹ گیا تھا۔ بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ جتنے طویل عرصے تک حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پیروکاروں نے مخالفین کی طرف سے تکلیفیں اور سختیاں برداشت کی ہیں اس کی کوئی مثال کسی اور نبی علیہ السلام یا رسول علیہ السلام کے پیروکاروں میں نہیں ملتی۔ قرآن مجید میں ان کی آزمائشوں اور قربانیوں کا ذکر متعدد مقامات پر آیا ہے۔ مثلاً سورة یٰسین کے آغاز میں جن تین رسولوں کا ذکر آیا ہے ان کے بارے میں زیادہ تر مفسرین کی رائے یہی ہے کہ وہ حضرت مسیح علیہ السلام کے حواریوں میں سے تھے۔ یعنی وہ حضرت مسیح علیہ السلام کے فرستادہ رسول علیہ السلام کے رسول تھے۔ اسی طرح سورة البروج میں جن اہل ایمان کا واقعہ بیان ہوا ہے وہ بھی عیسائی تھے اور انہیں بادشاہِ وقت ’ ابونواس ‘ نے خندقوں میں ڈال کر زندہ جلا دیا تھا۔ پھر اصحاب الکہف جو رومی بادشاہ کے تشدد کے خوف سے غار میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے تھے وہ بھی عیسائی تھے۔ بہرحال حضرت مسیح علیہ السلام کے پیروکاروں کی تین صدیوں پر محیط لازوال قربانیوں کے بعد بالآخر 300 عیسوی میں رومی سلطنت نے عیسائیت قبول کرلی۔ آیت میں اسی غلبے کا ذکر ہے۔ اس کے بعد حضرت مسیح علیہ السلام کے پیروکار جب گمراہ ہونے پر آئے تو انہوں نے شرک بھی بدترین ایجاد کیا۔ یعنی انہوں نے اپنے پیغمبر کو بربنائے عقیدت اللہ کا صلبی بیٹا بنا ڈالا نعوذ باللہ۔ اس ضمن میں آج ہمیں بھی اپنا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ ہمارے ہاں بھی بعض نعت خواں حضرات حضور ﷺ سے عقیدت اور عشق و محبت کے نام پر اتنا غلو کرتے ہیں کہ آپ ﷺ کو اللہ کے برابر بٹھانے سے کم پر ان کی تسلی ہی نہیں ہوتی۔ حتیٰ کہ ایسے لوگوں نے ہندوئوں کی دیکھا دیکھی حضور ﷺ کے لیے ”اوتار“ کا عقیدہ بھی گھڑ لیا ہے۔ عبرت کے لیے ملاحظہ ہوں یہ اشعار : ؎وہی جو مستویٔ عرش تھا خدا ہو کر اُتر پڑا وہ مدینے میں مصطفیٰ ﷺ ہو کر !اور : ؎مدینے کی مسجد میں منبر کے اوپر بغیر عین کا اِک عرب ہم نے دیکھا ! اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : { یٰٓـاَھْلَ الْکِتٰبِ لَا تَغْلُوْا فِیْ دِیْنِکُمْ } النساء : 171 کہ اے اہل کتاب ! اپنے دین میں غلو نہ کرو۔ اللہ تعالیٰ کا یہ حکم صرف یہود و نصاریٰ کے لیے ہی نہیں تھا ‘ ہمارے لیے بھی ہے۔ لیکن افسوس کہ ہم نے اللہ تعالیٰ کے احکام کو بھی درخورِ اعتناء نہیں سمجھا اور ہر اس گناہ اور جرم میں بےدھڑک اپنا حصہ ڈالنے کی کوشش کی جس کا ارتکاب کر کے پچھلی امتیں راندئہ درگاہ ہوئی تھیں۔ سوائے اس کے کہ قرآن کے متن میں ہم تحریف نہیں کرسکے اور وہ بھی اس لیے کہ اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے خصوصی تحفظ حاصل ہے۔ ورنہ اگر ممکن ہوتا تو اس میدان میں بھی ہم کسی سے پیچھے نہ رہتے۔

عیسیٰ ؑ کے 12 صحابہ کی روداد :۔ اللہ سحبانہ و تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ ہر آن اور ہر لحظہ جان مال عزت آبرو قول فعل نقل و حرکت سے دل اور زبان سے اللہ کی اور اس کے رسول کی تمام تر باتوں کی تعمیل میں رہیں، پھر مثال دیتا ہے کہ حضرت عیسیٰ کے تابعداروں کو دیکھو کہ حضرت عیسیٰ کی آواز پر فوراً لبیک پکار اٹھے اور ان کے اس کہنے پر کہ کوئی ہے جو اللہ کی باتوں میں میری امداد کرے انہوں نے بلا غور علی الفور کہہ دیا کہ ہم سب آپ کے ساتھی ہیں اور دین اللہ کی امداد میں آپ کے تابع ہیں، چناچہ روح اللہ علیہ صوالت اللہ نے اسرائیلیوں اور یونانیوں میں انہیں مبلغ بنا کر شام کے شہروں میں بھیجا، حج کے دنوں میں سرور رسل ﷺ بھی فرمایا کرتے تھے کہ کوئی ہے جو مجھے جگہ دے تاکہ میں اللہ کی رسالت کو پہنچا دوں قریش تو مجھے رب کا پیغام پہنچانے سے روک رہے ہیں، چناچہ اہل مدینہ کے قبیلے اوس و خزرج کو اللہ تعالیٰ نے یہ سعادت ابدی بخشی انہوں نے آپ سے بیعت کی آپ کی باتیں قبول کیں، اور مضبوط عہد و پیمان کئے کہ اگر آپ ہمارے ہاں آجائیں تو پھر کسی سرخ و سیاہ کی طاقت نہیں جو آپ کو دکھ پہنچائے ہم آپ کی طرف سے جانیں لڑا دیں گے اور آپ پر کوئی آنچ نہ آنے دیں گے، پھر جب حضور ﷺ اپنے ساتھیوں کو لے کر ہجرت کر کے ان کے ہاں گئے تو فی الواقع انہوں نے اپنے کہے کو پورا کر دکھایا اور اپنی زبان کی پاسداری کی اسی لئے انصار کے معزز لقب سے ممتاز ہوئے اور یہ لقب گویا ان کا امتیازی نام بن گیا اللہ ان سے خوش ہو اور انہیں بھی راضی کرے آمین ! جبکہ حواریوں کو لے کر آپ دین اللہ کی تبلیغ کے لئے کھڑے ہوئے تو بنی اسرائیل کے کچھ لوگ تو راہ راست پر آگئے اور کچھ لوگ نہ آئے بلکہ آپ کو اور آپ کی والدہ ماجدہ طاہرہ کو بدترین برائی کی طرف منسوب کیا ان یہودیوں پر اللہ کی پھٹکار پڑی اور ہمیشہ کے لئے راندہ درگاہ بن گئے، پھر ماننے والوں میں سے بھی ایک جماعت ماننے میں ہی حد سے گذر گئی اور انہیں ان کے درجہ سے بہت بڑھا دیا، پھر اس گروہ میں بھی کئی گروہ ہوگئے، بعض تو کہنے لگے کہ سیدنا حضرت عیسیٰ ؑ اللہ کے بیٹے ہیں بعض نے کہا تین میں کے تیسرے ہیں یعنی باپ بیٹا اور روح القدس اور بعض نے تو آپ کو اللہ ہی مان لیا، ان سب کا ذکر سورة نساء میں مفصل ملاحظہ ہو، سچے ایمان والوں کی جناب باری نے اپنے آخر الزماں رسول ﷺ کی بعثت سے تائید کی ان کے دشمن نصرانیوں پر انہیں غالب کردیا، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں جب اللہ کا ارادہ ہوا کہ حضرت عیسیٰ کو آسمان پر چڑھا لے آپ نہا دھو کر اپنے اصحاب کے پاس آئے سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے یہ بارہ صحابہ تھے جو ایک گھر میں بیٹھے ہوئے تھے آتے ہی فرمایا تم میں وہ بھی ہیں جو مجھ پر ایمان لا چکے ہیں لیکن پھر میرے ساتھ کفر کریں گے اور ایک دو دفعہ نہیں بلکہ بارہ بارہ مرتبہ، پھر فرمایا تم میں سے کون اس بات پر آمادہ ہے کہ اس پر میری مشابہت ڈالی جائے اور وہ میرے بدلے قتل کیا جائے اور جنت میں میرے درجے میں میرا ساتھی بنے، ایک نوجوان جو ان سب میں کم عمر تھا، اٹھ کھڑا ہوا اور اپنے آپ کو پیش کیا، آپ نے فرمایا تم بیٹھ جاؤ، پھر وہی بات کہی اب کی مرتبہ بھی کم عمر نوجوان صحابی ؓ کھڑے ہوئے، حضرت عیسیٰ نے اب کی مرتبہ بھی انہیں بٹھا دیا، پھر تیسری مرتبہ یہی سوال کیا، اب کی مرتبہ بھی یہی نوجوان کھڑے ہوئے آپ نے فرمایا بہت بہتر، اسی وقت ان کی شکل و صورت بالکل حضرت عیسیٰ جیسی ہوگئی اور خود حضرت عیسیٰ ؑ اس گھر کے ایک روزن سے آسمان کی طرف اٹھا لئے گئے۔ اب یہودیوں کی فوج آئی اور انہوں نے اس نوجوان کو حضرت عیسیٰ سمجھ کر گرفتار کرلیا اور قتل کردیا اور سولی پر چڑھا دیا اور حضرت عیسیٰ کی پیشین گوئی کے مطابق ان باقی کے گیارہ لوگوں میں سے بعض نے بارہ بارہ مرتبہ کفر کیا، حالانکہ وہ اس سے پہلے ایماندار تھے، پھر بنی اسرائیل کے ماننے والے گروہ کے تین فرقے ہوگئے، ایک فرقے نے تو کہا کہ خود اللہ ہمارے درمیان بصورت مسیح تھا، جب تک چاہا رہا پھر آسمان پر چڑھ گیا، انہیں یعقوبیہ کہا جاتا ہے، ایک فرقے نے کہا ہم میں اللہ کا بیٹا تھا جب تک اللہ نے چاہا اسے ہم میں رکھا اور جب چاہا اپنی طرف چڑھا لیا، انہیں سطوریہ کہا جاتا ہے، تیسری جماعت حق پر قائم رہی ان کا عقیدہ ہے کہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول حضرت عیسیٰ ہم میں تھے، جب تک اللہ کا ارادہ رہا آپ ہم میں موجود رہے پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف اٹھا لیا، یہ جماعت مسلمانوں کی ہے۔ پھر ان دونوں کافر جماعتوں کی طاقت بڑھ گئی اور انہوں نے ان مسلمانوں کو مار پیٹ کر قتل و غارت کرنا شروع کیا اور یہ دبے بھی ہوئے اور مغلوب ہی رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی حضرت محمد ﷺ کو مبعوث فرمایا، پس بنی اسرائیل کی وہ مسلمان جماعت آپ پر بھی ایمان لائی اور ان کافر جماعتوں نے آپ سے بھی کفر کیا، ان ایمان والوں کی اللہ تعالیٰ نے مدد کی اور انہیں ان کے دشمنوں پر غالب کردیا، آنحضرت ﷺ کا غالب آجانا اور دین اسلام کا تمام ادیان کو مغلوب کردینا ہی ان کا غالب آنا اور اپنے دشمنوں پر فتح پانا ہے۔ ملاحظہ ہو تفسیر ابن جریر اور سنن نسائی۔ پس یہ امت حق پر قائم رہ کر ہمیشہ تک غالب رہے گی یہاں تک کہ امر اللہ یعنی قیامت آجائے اور یہاں تک کہ اس امت کے آخری لوگ حضرت عیسیٰ ؑ کے ساتھ ہو کر مسیح دجال سے لڑائی کریں گے جیسے کہ صحیح احادیث میں موجود ہے۔ واللہ اعلم۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے سورة صف کی تفسیر ختم ہوئی، فالحمد للہ۔

آیت 14 - سورہ صف: (يا أيها الذين آمنوا كونوا أنصار الله كما قال عيسى ابن مريم للحواريين من أنصاري إلى الله ۖ قال الحواريون...) - اردو