آیت 7{ وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰی عَلَی اللّٰہِ الْکَذِبَ } ”اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹ تراشے“ { وَہُوَ یُدْعٰٓی اِلَی الْاِسْلَامِ } ”درآں حالیکہ اسے بلایا جا رہاہو اسلام کی طرف !“ یعنی اب اللہ کے آخری رسول ﷺ تم لوگوں کو دعوت ایمان و اسلام دے رہے ہیں اور تم لوگ اس دعوت پر لبیک کہنے کے بجائے ان ﷺ کی نبوت و رسالت اور قرآن کے بارے میں اللہ پر جھوٹ باندھ رہے ہو۔ { وَاللّٰہُ لَا یَہْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ۔ } ”اور اللہ ایسے ظالموں کو زبردستی ہدایت نہیں دیتا۔“ اب اگلی آیت میں یہودیوں کی ان کوششوں اور سازشوں کا ذکر ہے جو انہوں نے حضور ﷺ اور قرآن کے خلاف شروع کر رکھی تھیں۔ یہ آیت زیر مطالعہ مضمون کے کلائمکس کا درجہ رکھتی ہے :
سطوت و اتمام نور ارشاد ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ پر جھوٹ افترا باندھے اور اس کے شریک وسہیم مقرر کرے اس سے بڑھ کر کوئی ظالم نہیں اگر یہ شخص بیخبر ہوتا جب بھی ایک بات تھی یہاں تو یہ حالت ہے کہ وہ توحید اور اخلاص کی طرف برابر بلایا جا رہا ہے، بھلا ایسے ظالموں کی قسمت میں ہدایت کہاں ؟ ان کفار کی چاہت تو یہ ہے کہ حق کو باطل سے رد کردیں، ان کی مثال بالکل ایسی ہی ہے جیسے کوئی سورج کی شعاع کو اپنے منہ کی پھونک سے بےنور کرنا ہے، جس طرح اس کے منہ کی پھونک سے سورج کی روشنی کا جاتا رہنا محال ہے۔ اسی طرح یہ بھی محال ہے کہ اللہ کا دین ان کفار سے رد ہوجائے، اللہ تعالیٰ فیصلہ کرچکا ہے کہ وہ اپنے نور کو پورا کر کے ہی رہے گا، کافر برا مانیں تو مانتے رہیں۔ اس کے بعد اپنے رسول ﷺ اور اپنے دین کی حقانیت کو واضح فرمایا، ان دونوں آیتوں کی پوری تفسیر سورة برات میں گذر چکی ہے۔ فالحمد اللہ