اس صفحہ میں سورہ Ash-Shu'araa کی تمام آیات کے علاوہ فی ظلال القرآن (سید ابراہیم قطب) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ الشعراء کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔
قَالَ فَعَلْتُهَآ إِذًا وَأَنَا۠ مِنَ ٱلضَّآلِّينَ
فَفَرَرْتُ مِنكُمْ لَمَّا خِفْتُكُمْ فَوَهَبَ لِى رَبِّى حُكْمًا وَجَعَلَنِى مِنَ ٱلْمُرْسَلِينَ
وَتِلْكَ نِعْمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَىَّ أَنْ عَبَّدتَّ بَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ
قَالَ فِرْعَوْنُ وَمَا رَبُّ ٱلْعَٰلَمِينَ
قَالَ رَبُّ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَآ ۖ إِن كُنتُم مُّوقِنِينَ
قَالَ لِمَنْ حَوْلَهُۥٓ أَلَا تَسْتَمِعُونَ
قَالَ رَبُّكُمْ وَرَبُّ ءَابَآئِكُمُ ٱلْأَوَّلِينَ
قَالَ إِنَّ رَسُولَكُمُ ٱلَّذِىٓ أُرْسِلَ إِلَيْكُمْ لَمَجْنُونٌ
قَالَ رَبُّ ٱلْمَشْرِقِ وَٱلْمَغْرِبِ وَمَا بَيْنَهُمَآ ۖ إِن كُنتُمْ تَعْقِلُونَ
قَالَ لَئِنِ ٱتَّخَذْتَ إِلَٰهًا غَيْرِى لَأَجْعَلَنَّكَ مِنَ ٱلْمَسْجُونِينَ
قَالَ أَوَلَوْ جِئْتُكَ بِشَىْءٍ مُّبِينٍ
قَالَ فَأْتِ بِهِۦٓ إِن كُنتَ مِنَ ٱلصَّٰدِقِينَ
فَأَلْقَىٰ عَصَاهُ فَإِذَا هِىَ ثُعْبَانٌ مُّبِينٌ
وَنَزَعَ يَدَهُۥ فَإِذَا هِىَ بَيْضَآءُ لِلنَّٰظِرِينَ
قَالَ لِلْمَلَإِ حَوْلَهُۥٓ إِنَّ هَٰذَا لَسَٰحِرٌ عَلِيمٌ
يُرِيدُ أَن يُخْرِجَكُم مِّنْ أَرْضِكُم بِسِحْرِهِۦ فَمَاذَا تَأْمُرُونَ
قَالُوٓا۟ أَرْجِهْ وَأَخَاهُ وَٱبْعَثْ فِى ٱلْمَدَآئِنِ حَٰشِرِينَ
يَأْتُوكَ بِكُلِّ سَحَّارٍ عَلِيمٍ
فَجُمِعَ ٱلسَّحَرَةُ لِمِيقَٰتِ يَوْمٍ مَّعْلُومٍ
وَقِيلَ لِلنَّاسِ هَلْ أَنتُم مُّجْتَمِعُونَ
قال فرعون و ما رب العلمین (23)
اس کا خانہ خراب ہو وہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں کہتا ہے کہ رب العالمین کیا ہوتا ہے۔ جس کی طرف سے تم کو رسول بنا کر بھیجا گیا ہے۔ یہ اس انداز کا سوال ہے کہ گویا وہ رب العالمین کے بارے میں کچھ جانتا ہی نہیں لیکن یہ غرور کا ایک انداز ہے۔ وہ گویا حضرت موسیٰ کے دعویٰ کو ایک عجیب و غریب دعویٰ تصور کر کے اسے ناممکن الوقوع تصور کرتا ہے اور یہ تاثر قائم کرتا ہے کہ ایسے دعویٰ پر تو بات کرنا بھی فضول ہے۔
موسیٰ (علیہ السلام) اس طرح جواب دیتے ہیں کہ رب العالمین وہ ہے جس کی الوہیت تمام دکھائی دینے والی کائنات پر مشتمل ہے۔ زمین و آسمان اور ان کے درمیان کی تمام چیزوں کا رب۔
قال رب السموت والارض وما بینھما ان کنتم موقنین (24)
یہ جواب اس کے تجاہل عارفانہ کے انداز کے سوال کا شافی جواب ہے یعنی اے فرعون رب العالمین اس پوری کائنات مشہود و غیر مشہود کا رب ہے ۔ اور اس کی بادشاہت اور اقتدار تک تمہاری بادشاہت نہیں پہنچ سکتی۔ نہ اللہ کے علم تک تمہارا علم پہنچ سکتا ع ہے۔ فرعون کا دعویٰ تو صرف یہ تھا کہ وہ مصری قوم کا الہ اور حاکم ہے ، صرف وادی نیل کا فرمان روا ہے۔ رب العالمین کے مقابلے میں یہ کیا ربوبیت ہے۔ اس قدر حقیر جس طرح اس عظیم کائنات کے اندر ایک ذرہ ہوتا ہے۔
اس جواب کے ذریعے موسیٰ (علیہ السلام) اس کی توجہ اس عظیم کائنات کی طرف مبذول کراتے ہیں اور وہ خود جس ربوبیت کا دعویدار تھا اس کو حقیر اور باطل قرار دیتے ہیں اور اسے دعوت دیتے ہیں کہ اس کائنات میں تدبر کر کے ذرا اپنے ذہن کو کھول دیں اور رب العالمین کی حاکمت کے وسیع دائرے کو دیکھیں اور اس کے بعد مختصر تبصرہ بھی فرما دیتے ہیں کہ تدبر تم تب کرسکتے ہو جب
ان کنتم مومنین (26 : 23) ” اگر تم یقین کرنا چاہتے ہو۔ “ اگر تم یقین کرنا چاہو تو پھر رب العالمین ہی یقین کرنے کے لائق ہے۔
اب فرعون اپنے درباریوں کی طرف متوجہ ہو کر ان سے پوچھتا ہے کہ تم دیکھتے نہیں ہو کہ یہ صاحب کیا کہہ رہے ہیں۔
قال لمن حولہ الا تستمعون (35)
’ ۔ “ کیا تم اس شخص کی عجیب باتیں نہیں سنتے ؟ یہ باتیں تو ہمارے سامنے کسی نے نہیں کیں اور نہ ہم نے کبھی سنی ہیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بغیر توقف کے ایک دوسرا دار کیا۔ اور رب العالمین کا مزید تعارف کرایا۔
قال ربکم و رب ابآئکم الاولین (26)
یہ بات فرعون نے بہت زیادہ محسوس کی کیونکہ اس کی زد فرعون کے دعوئوں اور اس کے طرز عمل پر پڑتی تھی۔ اس لئے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کا مطلب یہ تھا کہ وہ رب العالمین تو تمہارا بھی رب ہے اور تمہارے آباء کا بھی رب ہے اور اے فرعون تم بھی تو بندگان رب العالمین میں سے ایک حقیر بندے ہو اور یہ کہ تم کسی کے رب نہیں ہو۔ جیسا کہ تم رب مصر ہونے کے مدعی ہو ، لہٰذا تمہارا دعوائے الوہیت و ربوبیت اور حاکمیت ہی سرے سے غلط ہے۔ اللہ ہی رب العالمین ہے ، تھا اور رہے گا۔
یہ فرعونی نظریات پر سخت تباہ کن بمباری تھی اور اس سے خود اس کے حاشیہ نشینوں کے متاثر ہونے کا خدشہ تھا۔ اس لئے وہ صبر نہ کرسکا لہٰذا اس نے حضرت موسیٰ کے بارے میں وہی الزام دہرایا جو ہمیشہ مستکبرین دہراتے ہیں۔
قال ان رسولکم الذی ارسل الیکم لمجنون (27)
یہ رسول جو بزعم خود تمہارے پاس بھیجا گیا ہے اس کا دماغ خراب معلوم ہوتا ہے۔ یہ شخص رسول خدا کے بارے میں یہ توہین آمیز ریمارکس اس لئے پاس کر رہا ہے کہ لوگوں پر اثر نہ ہوجائے اور یقین نہ کرلیں۔ مقصد یہ نہیں ہے کہ حضرت فی اوالقعہ رسول بھیجے گئے۔ یہ بات وہ بطور مذاق کہتا ہے کہ یہ شخص جو باتیں کرتا ہے وہ تو ہمارے مستحکم نظام سے متصادم ہیں اور ہمارا نظام تو صدیوں سے چل رہا ہے جس کے مطابق ہم رب ہیں اور یہ کسی دوسرے رب العالمین کی طرف بلا رہا ہے اور پھر یہ بھی کہتا ہے کہ وہ ہمارے آباء کا بھی رب العالمین ہے۔
لیکن اس مذاق اور استہزاء کا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر کیا اثر ہوگا۔ وہ تو اس پیغمبرانہ اعتماد سے بات کرتے ہیں۔ جس کے مقابلے میں بڑے بڑے جباروں کی ذہنی دنیا میں زلزلہ آجاتا ہے۔ چناچہ آپ فرماتے ہیں :
قال رب المشرق والمغرب وما بینھما ان کنتم تعقلون (28)
مشرق و مغرب تو ہر دن انسانوں کو نظر آتے ہیں اور اس دنیا میں ایک خوبصورت منظر پیش کرتے ہیں۔ یہ منظر تو بڑا عبرت آموز ہے لیکن چونکہ یہ 24 گھنٹوں میں مسلسل دھرایا جاتا ہے اس لئے لوگوں پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ لوگ اس کے عادی ہوگئے ہیں ان الفاظ سے جس طرح طلوع و غروب کا مفہوم ذہن میں آتا ہے ، اسی طرح طلوع و غروب کے مقام کا مفہوم بھی ان میں ہے۔ یہ دو مناظر حضرت نے اس لئے پیش کئے کہ طلوع و غروب کے مظاہر کو اور مقامات و طلوع اور مقامات غروب کو کوئی جابر بدل نہیں سکتا۔ نہ ان دونوں مناظر کی اس خصوصیت کا کوئی انکار کرسکتا ہے کہ آغاز تخلیق سے آج تک اس نظام کے اندر کوئی تبدیلی کوئی تقدیم و تاخیر نہیں ہے۔ کند ذہن سے کند ذہن شخص بھی اگر ان حقائق پر غور کرے تو وہ بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ غافل سے غافل دل جاگ اٹھتے ہیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اس مکالمے میں ان کے ضمیروں کو جاگنے کی بےحد کوشش کر رہے ہیں ، دعوت دے رہے ہیں کہ غور و فکر کرو۔
ان کنتم تعقلون (26 : 28) ” اگر آپ لوگ کچھ عقل رکھتے ہیں۔ “ سرکش حکمران دنیا میں کسی چیز سے نہیں ڈرتے جس قدر وہ قوم کی بیداری سے ڈرتے ہیں۔ ان کو دل و دماغ کی بیداری سے بہت ڈر لگتا ہے۔ یہ سرکش حکمران ہمیشہ ان لوگوں کو سخت حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں جو لوگوں میں بیداری کرتے ہیں۔ اس لئے ایسے حکمران ہمیشہ ایسے لوگوں کو ظلم و ستم کا نشانہ بناتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ فرعون کو حضرت موسیٰ پر بہت غصہ آجاتا ہے۔ جب وہ دیکھتا ہے کہ حضرت موسیٰ کی دعوت دل و دماغ کی پرسکون تاروں کو چھیڑ رہی ہے ، اس لئے وہ اب جوش میں آجاتا ہے۔ دھمکی دیتا ہے اور کھلے تشدد کی بات کرتا ہے اور جس وقت کسی شخص کے پاس دلائل کے ہتھیار ختم ہوجاتے ہیں تو وہ تشدد پر اتر آتا ہے۔
قال لئن اتخذت الھا غیری لاجعلنک من المسجونین (29)
یہ ہے سرکشوں کی دل یل اور حجت۔ یہ کہ تمہیں جیل میں ڈال دیا جائے گا۔ جیل تو تیار ہے اور دور بھی نہیں ہے اور نہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ جب سرکش عاجز آجاتے ہیں اور جب ان کو احساس ہوجاتا ہے کہ ان کا موقف تو سچائی کے مقابلے میں کمزور پڑ رہا ہے کیونکہ سچائی ہمیشہ جارح ہوتی ہے تو پھر لاجواب سرکشوں کا قدیم زمانے سے یہ آخری ہتھیار ہوتا ہے ۔ اور آج تک یہ آخری ہتھیار استعمال ہوتا ہے۔
لیکن حضرت موسیٰ حوصلہ نہیں ہارتے۔ آخر وہ رسول برحق ہیں۔ ان کے اور ان کے بھائی کے ساتھ ، اللہ بھی کھڑا ہے اور دیکھ رہا ہے چناچہ فرعون جس بحث کا سلسلہ ختم کرنا چاہتا تھا حضرت موسیٰ اس کا دوسرا باب کھول دیتے ہیں۔ آپ ایک نئے موضوع پر سوال کردیتے ہیں۔ ایک نیا استدلال
قال اولوجئتک بشیء مبین (30)
” موسیٰ نے کہا ” اگرچہ میں لے آئوں تیرے سامنے ایک صریح چیز بھی۔ “ یعنی اگر میں اپنی رسالت پر ایک صریح اور واضح دلیل بھی پیش کر دوں تو بھی میری یہی سزا ہے کہ جیل جائوں۔ حضرت موسیٰ اس طرح فرعون کو ، اس کے سرداروں کے سامنے جو یہ تمام گفتگو سنا رہے تھے ، سخت مشکل میں ڈال دیتے ہیں۔ اگر وہ حضرت موسیٰ کی بات نہیں سنتا تو ثابت ہوجاتا ہے کہ فرعون لاجواب ہوگیا حالانکہ وہ کہہ چکا ہے کہ یہ شخص تو مجنون ہے۔ چناچہ مجبور ہو کر اس نے ہا اچھا لائو دلیل۔
قال فات بہ ان کنت من الصدقین (31)
’ ۔ “ لائو اگر تمہارا دعویٰ سچا ہے۔ یا یہ کہ تم دعویٰ کرتے ہو کہ تمہارے پاس کوئی معجزانہ دلیل ہے ، اس دعویٰ میں اگر تم سچے ہو ، یہ شخص ابھی تک موسیٰ (علیہ السلام) کی حقانیت کے بارے میں شک کا اظہار کرتا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ اس کے اردگرد جو لوگ بیٹھے ہیں ، کہیں وہ متاثر نہ ہوجائیں۔
اب حضرت موسیٰ اپنے معجزات پیش فرماتے ہیں۔ فرعون کے ساتھ چیلنج اور جوابی چیلنج چونکہ انتہا تک پہنچ گئے ہیں۔ اس لئے اب وقت آگیا ہے کہ فرعون پر آخری وار کیا جائے۔
فالقی عصاہ ……للنظرین (32)
انداز بیان سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ عصا فی الحقیقت سانپ بن گیا تھا۔ زندہ ہوگیا اور زمین پر رینگنے لگا اور جب انہوں نے اپنا ہاتھ بغل سے نکالا تو وہ فی الواقعہ سفید تھا اور یہ مفہوم (فاذا ھی ) کے لفظ سے معلوم ہوتا ہے۔ یہ محض نظر بندی یا تخیل نہ تھا جس طرح جادو گر کرتے ہیں اور چیزیں اپنی حقیقت پر ہی رہتی ہیں۔ محض لوگوں کے جو اس کے اندر خلل آجاتا ہے۔ اشیاء کی حقیقت نہیں بدلتی۔
زندگی کا عظیم معجزہ ، جو اس کرہ ارض پر رواں ہے اور یہ معجزہ وقت ہوتا رہتا ہے۔ لوگ اس کی طرف متوجہ نہیں ہوتے۔ اس لئے کہ وہ اس کے ساتھ مانوس ہوگ ئے ہیں اور یہ معجزہ بار بار اس زمین پر دہرایا جاتا ہے یا لوگ زندگی کے ذریعہ رونما ہونے والی اس تبدیلی کا مشاہدہ نہیں کرتے لیکن حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کے سامنے یہ دونوں معجزے رکھے تو یہ ایک ایسا امر تھا کہ پہلی نظر میں اس نے لوگوں کو ہلاک کر رکھ دیا۔
فرعون نے اب محسوس کیا کہ یہ معجزہ تو بہرحال بہت بڑا ہے اور اپنے اندر بڑی قوت رکھتا ہے۔ چناچہ اس نے فوراً اس معجزے کے اثرات کا مقابلہ کرنے کی ٹھانی۔ اپنے دل میں تو وہ خود جانتا تھا کہ اس کا موقف غلط ہے۔ یہ بھی ممکن تھا اس کے حاشیہ نشین چاپلوسی کرتے ہوئے حقیقی صورتحال نہ بتائیں۔ اس لئے یہ شخص حضرت موسیٰ اور قوم موسیٰ کی طرف سے سامنے آنے والے خطرے کو خود حاشیہ نشینوں کے سامنے رکھتا ہے تاکہ وہ ان معجزات کے اثرات کو کم کرسکے۔
قال للملا ……تامرون (35)
فرعون کے اس تبصرے ہی سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ بھی مانتا ہے کہ یہ معجزہ غیر معملوی معجزہ ہے۔ اگرچہ وہ اسے سحر ہوتا ہے۔ کیونکہ وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں بتاتا ہے کہ وہ ساحر علیم ہے۔ اس کی بوکھلاہٹ کا اظہار اسی سے ہوتا ہے کہ قوم بھی معجزے سے متاثر ہوگئی ہے۔
یرید ان یخرجکم من ارضکم بسحرہ (26 : 25) ” وہ چاہتا ہے کہ اپنے جادو کے زور سے تم کو تمہارے ملک سے نکال دے۔ “ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ فرعون اندر سے شکست کھا گیا ہے۔ اب یہ اپنی قوم کے ساتھ نہایت مہذب انداز میں گفتگو کرتا ہے حالانکہ ان لوگوں کو وہ کہتا ہے کہ میں تمہارا الہہ ہوں اور وہ اس کے سامنے سجدے کرتے تھے۔ اب یہ الہہ صاحب خود ان سے مشورہ کرتے ہیں کہ بتائو اس مسئلے کو کس طرح حل کیا جائے۔
اس دنیا میں تمام ڈکٹیٹروں کا یہی انداز ہوتا ہے کہ یہ بہت کروفر میں ہوتے ہیں لیکن جیسے ہی دیکھتے ہیں کہ زمین ان کے قدموں کے نیچے سے نکل رہی ہے تو مجبور ہو کر یہ برخورداروں کی طرح بات کرتے ہیں۔ پھر یہ عوام کے ہاں پناہ لیتے ہیں۔ حالانکہ جب خطرے سے باہر تھے تو یہ ان عوام کو کچلتے تھے۔ بظاہر تو وہ یوں دکھاتے تھے کہ وہ شوریٰ ، مشورہ طلب کرتے ہیں لیکن دراصل ان کی حقیقت ایک بڑے ڈکٹیٹر کی ہوتی ہے اور یہ نرمی بھی وہ صرف اس حد تک کرتے ہیں کہ خطرہ دور ہوجائے لیکن جونہی خطرہ دور ہوتا ہے یہ لوگ ایسے ہی جبار ہوتے ہیں اور ویسے ہی ظالم ہوتے ہیں۔
فرعون کے درباریوں نے مشورہ دیا کہ انہیں روک لو ، کیونکہ فرعون کی سازش سے وہ غلط فہمی میں مبتلا تھے اور فرعون اور اس کے نظام باطل میں وہ برابر کے شریک بھی تھے اور فرعونی نظام کے علی حالہ رہنے میں ان کا مفاد بھی تھا کیونکہ اس نظام ہی کی وجہ سے یہ لوگ مقربین فرعون تھے۔ ان کو خوف یہ تھا کہ اگر عوام بھی بنی اسرائیل کے ساتھ حضرت موسیٰ کی اطاعت شروع کردیں تو یہ لوگ ان پر غالب آسکتے ہیں۔ اگر عوام نے حضرت موسیٰ کے صرف یہ دو معجزے ہی دیکھے اور پھر حضرت موسیٰ کی باتیں سننے لگ گئے تو انہوں نے مشورہ دیا کہ ان کو روک لیں اور ان کے جادو کے مقابلے میں ایسے ہی جادو کا بندوبست کریں۔ تیاری کے بعد مقابلہ ہو۔
قالوآ ارجہ واخاہ وابعث فی المدآئن حشیرین (36) یاتوک بکل سحار علیم (7) 3
یعنی ان کو اور ان کے بھائی کو روک لیں اور مصر کے بڑے بڑے شہروں میں ہر کارے بھیج دیں۔ ماہر ترین جادوگروں کو جمع کرلیں اور حضرت موسیٰ اور جادوگروں کے درمیان کھلا مقابلہ ہو۔
یہاں وہ گرتا ہے اور پھر جادوگروں کے گروہ نمودار ہوتے ہیں اور عوام الناس مقابلے کے لئے دوڑے آ رہے ہیں ۔ بادشاہ اور بادشاہ کے حامی عوام جادوگروں کے حق میں نعرے لگاتے آ رہے ہیں۔ اب حق و باطل کے درمیان کھلا مقابلہ ہے۔ ایمان اور کفر کے درمیان رسہ کشی شروع ہوتی ہے۔
فجمع السحرۃ لمیاقت ……الغلبین (40)
فرعون کی ان باتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ جادوگروں کی حمایت میں لوگوں کے اندر زبردست جوش و خروش پیدا کر رہا ہے۔
ھل انتم مجتمعون (39) لعلنا نتبع السحرۃ (30) ” تم اجتماع میں چلو گے شاید کہ ہم جادوگروں کے دین پر ہی رہ جائیں اگر وہ غالب رہے۔ “ یعنی کیا تم مقابلے کے دن ضرور آئو گے اور ہرگز پیچھے نہیں رہو گے۔ تاکہ ہم دیکھیں کہ جادوگر یہ میدان کس طرح مارتے ہیں اور موسیٰ اسرائیل کے مقابلے میں مصری کس طرح غالب ہوتے ہیں اور عوام الناس ہمیشہ ایسے معاملات میں جمع ہوا کرتے ہیں لیکن ان کو اصل حقیقت کا پتہ نہیں ہوتا ہے کہ حکمرانوں عوام الناس کو کس طرح استعمال کرتے ہیں اور ان جماعتوں اور جلسوں اور جلوسوں میں ان کو کس طرح کھلونا بناتے ہیں اور یہ کام وہ اس لئے کرتے ہیں تاکہ عوام پر وہ جو مظالم ڈھا رہے ہیں اور جس طرح ان کی پسماندگی کے وہ ذمہ دار ہیں ، ان کو ان باتوں پر غور کرنے کا موقعہ میں نہ ملے۔ وہ موسیٰ اور جادوگروں کے مقابلے میں شغل میلا کریں۔
مقابلے سے قبل جادوگر فرعون کے دربار میں حاضر ہیں۔ وہ یقین دہانی حاصل کرنا چاہتے ہیں کہ اگر ہمیں کامیابی حاصل ہوگئی تو ہمیں معقول معاوضہ دیا جائے گا۔ یہ فرعون کی جانب سے ایک پختہ وعدہ حاصل کرلیتے ہیں کہ اگر کامیاب ہوئے تو ان کو معقول اجرت کے ساتھ ساتھ شاہی تخت و تاج کا قرب بھی حاصل ہوگا اور تم میرے مقربین میں سے ہو گے۔