سورہ شعراء: آیت 146 - أتتركون في ما هاهنا آمنين... - اردو

آیت 146 کی تفسیر, سورہ شعراء

أَتُتْرَكُونَ فِى مَا هَٰهُنَآ ءَامِنِينَ

اردو ترجمہ

کیا تم اُن سب چیزوں کے درمیان، جو یہاں ہیں، بس یوں ہی اطمینان سے رہنے دیے جاؤ گے؟

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Atutrakoona fee ma hahuna amineena

آیت 146 کی تفسیر

اتنراکون فی ……فرھین (149)

یہ لوگ ایسے معاشی حالات میں رہتے تھے جس کی تصویر کشی ان کے لئے ان کے بھائی صالح کر رہے تھے۔ لیکن یہ لوگ نہایت غفلت سے زندگی بسر کر رہے ہیں اور اس بات کی کوئی فکر نہیں کر رہے کہ یہ انعامات دینے والا کون ہے۔ ان انعامات کا سرچشمہ اور آنے کی جگہ کون سی ہے۔ یہ لوگ اس منعم حقیقی کا تصور بھی نہیں کرتے جس نے یہ انعامات عطا کئے ہیں۔ چناچہ رسول وقت نے ان کو اس طرف متوجہ کرنے کی ضرورت محسوس کی کہ ان نعمتوں پر اللہ کا شکر ادا کرو ورنہ واپس لی جاسکتی ہیں۔

حضرت صالح نے ان کو ایسے جھٹکے دیئے کہ ان کے غافل دل جاگ اٹھیں اور اللہ کا خوف کریں۔

اتترکون فی ماھھنا امنین (26 : 136) ” کیا تم ان سب چیزوں کے درمیان جو یہاں ہیں ، بس یوں ہی اطمینان سے رہنے دیئے جائو گے۔ “ مطلب یہ کہ کیا تم جس خوشحالی ، عیش و عشرت اور نعمتوں میں ڈوبے ہوئے ہو ، ہمیشہ رہو گے ، تمہیں کہیں جواب نہیں دینا ہے ، کہیں نہیں جاتا ہے۔ کسی بالائی قوت سے تمہیں کوئی ڈر نہیں ہے۔ ان کے زوال کا بھی کوئی ڈر نہیں ہے۔ کیا ڈرتے نہیں ہو کہ حالات بدل بھی سکتے ہیں۔

ان باغات اور چشموں میں ان فصلوں اور میوہ جات میں تاکستانوں اور نخلستانوں میں اور ان خوشگوار اور خوش ذائقہ میوہ جات میں ، زود ہضم پھلوں میں اور پہاڑوں میں تم جو مکانات بناتے ہو ، یا اپنی عیاشیوں کے لئے تم پہاڑوں جیسے اونچے مکانات بناتے ہو اور یہ سب کام عبث ہے کیونکہ یہ تمہاری رہائش کی ضرورت سے بہت ہی زیادہ ہے۔ محض مہارت حسن اور تعیش کے اظہار کے لئے۔

یوں حضرت صالح ان غافل لوگوں کو سخت جھٹکے دے کر جگانے کے بعد ان کو دعوت دیتے ہیں کہ اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو اور ان لوگوں کی مخالفت کرو جو ظالم سردار ہیں اور جو ہر وقت شر و فساد اور ظلم کی طرف مائل رہتے ہیں۔

آیت 146 اَتُتْرَکُوْنَ فِیْ مَا ہٰہُنَآ اٰمِنِیْنَ ”تمہارا کیا خیال ہے کہ تم ان سب چیزوں کے درمیان جو یہاں تمہیں میسر ہیں ‘ یونہی امن و سکون اور اطمینان سے ہمیشہ رہنے دیے جاؤ گے اور یہ نعمتیں کبھی تم سے جدا نہ ہوں گی ؟

صالح ؑ کی باغی قوم حضرت صالح ؑ اپنی قوم میں وعظ فرما رہے ہیں انہیں اللہ کی نعمتیں یاد دلا رہے ہیں اور اسکے عذابوں سے متنبہ فرما رہے ہیں کہ وہ اللہ جو تمہیں یہ کشادہ روزیاں دے رہا ہے جس نے تمہارے لئے باغات اور چشمے کھیتیاں اور پھل پھول مہیا فرمادئیے ہیں امن چین سے تمہاری زندگی کے ایام پورے کررہے ہیں تم اس کی نافرمانیاں کرکے انہی نعمتوں میں اور اسی امن وامان میں نہیں چھوڑے جاسکتے۔ ان باغات اور ان دریاؤں میں ان کھیتوں میں ان کھجوروں کے باغات میں جن کے خوشے کجھجوروں کی زیادتی کے مارے بوجھل ہو رہے ہیں اور جھکے پڑتے ہیں جن میں تہہ بہ تہہ تر کجھوریں بھر پور لگ رہی ہیں جو نرم خوش نما میٹھی اور خوش ذائقہ کجھوروں سے لدی ہوئے ہیں تم اللہ کی نافرمانیاں کرکے ان کو بہ آرام ہضم نہیں کرسکتے۔ اللہ نے تمہیں اس وقت جن مضبوط اور پر تکلف بلند اور عمدہ گھروں میں رکھ چھوڑا ہے اللہ کی توحید اور میری رسالت سے انکار کے بعد یہ بھی قائم نہیں رہ سکتے۔ افسوس تم اللہ کی نعمتوں کی قدر نہیں کرتے اپنا وقت اپنا روپیہ بےجا برباد کرکے یہ نقش ونگار والے مکانات پہاڑوں میں بہ تصنع وتکلف صرف بڑائی اور ریاکاری کیلئے اپنی عظمت اور قوت کے مظاہرے کیلیے تراش رہے ہو جس میں کوئی نفع نہیں بلکہ اسکا وبال تمہارے سروں پر منڈلا رہا ہے پس تمہیں اللہ سے ڈرنا چاہئے اور میری اتباع کرنی چاہئے اپنے خالق رازق منعم محسن کی عبادت اور اسکی فرمانبرداری اور اس کی توحید کی طرف پوری طرح متوجہ ہوجانا چاہئے۔ جس کا نفع تمہیں اپنے دنیا اور آخرت میں ملے تمہیں اس کا شکر ادا کرنا چاہیے اس کی تسبیح وتہلیل کرنی چاہئیے صبح وشام اس کی عبادت کرنی چاہئے تمہیں اپنے ان موجودہ سرداروں کی ہرگز نہ ماننی چاہئے یہ تو حدود اللہ سے تجاوز کر گئے ان موجودہ سرداروں کی ہرگز نہ ماننی چاہئے، یہ تو حدود اللہ سے تجاوز کر گئے ہیں، توحید کو، اتباع کو بھلا بیٹھے ہیں۔ زمین میں فساد پھیلا رہے ہیں نافرمانی، گناہ، فسق و فجور پر خود لگے ہوئے ہیں اور دوسروں کو بھی اسی کی طرف بلا رہے ہیں اور حق کی موافقت اور اتباع کرکے اصلاح کی کوشش نہیں کرتے۔

آیت 146 - سورہ شعراء: (أتتركون في ما هاهنا آمنين...) - اردو