سورہ شعراء (26): آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں۔ - اردو ترجمہ

اس صفحہ میں سورہ Ash-Shu'araa کی تمام آیات کے علاوہ فی ظلال القرآن (سید ابراہیم قطب) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ الشعراء کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔

سورہ شعراء کے بارے میں معلومات

Surah Ash-Shu'araa
سُورَةُ الشُّعَرَاءِ
صفحہ 373 (آیات 137 سے 159 تک)

إِنْ هَٰذَآ إِلَّا خُلُقُ ٱلْأَوَّلِينَ وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِينَ فَكَذَّبُوهُ فَأَهْلَكْنَٰهُمْ ۗ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَءَايَةً ۖ وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُم مُّؤْمِنِينَ وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ ٱلْعَزِيزُ ٱلرَّحِيمُ كَذَّبَتْ ثَمُودُ ٱلْمُرْسَلِينَ إِذْ قَالَ لَهُمْ أَخُوهُمْ صَٰلِحٌ أَلَا تَتَّقُونَ إِنِّى لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌ فَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ وَأَطِيعُونِ وَمَآ أَسْـَٔلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ ۖ إِنْ أَجْرِىَ إِلَّا عَلَىٰ رَبِّ ٱلْعَٰلَمِينَ أَتُتْرَكُونَ فِى مَا هَٰهُنَآ ءَامِنِينَ فِى جَنَّٰتٍ وَعُيُونٍ وَزُرُوعٍ وَنَخْلٍ طَلْعُهَا هَضِيمٌ وَتَنْحِتُونَ مِنَ ٱلْجِبَالِ بُيُوتًا فَٰرِهِينَ فَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ وَأَطِيعُونِ وَلَا تُطِيعُوٓا۟ أَمْرَ ٱلْمُسْرِفِينَ ٱلَّذِينَ يُفْسِدُونَ فِى ٱلْأَرْضِ وَلَا يُصْلِحُونَ قَالُوٓا۟ إِنَّمَآ أَنتَ مِنَ ٱلْمُسَحَّرِينَ مَآ أَنتَ إِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا فَأْتِ بِـَٔايَةٍ إِن كُنتَ مِنَ ٱلصَّٰدِقِينَ قَالَ هَٰذِهِۦ نَاقَةٌ لَّهَا شِرْبٌ وَلَكُمْ شِرْبُ يَوْمٍ مَّعْلُومٍ وَلَا تَمَسُّوهَا بِسُوٓءٍ فَيَأْخُذَكُمْ عَذَابُ يَوْمٍ عَظِيمٍ فَعَقَرُوهَا فَأَصْبَحُوا۟ نَٰدِمِينَ فَأَخَذَهُمُ ٱلْعَذَابُ ۗ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَءَايَةً ۖ وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُم مُّؤْمِنِينَ وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ ٱلْعَزِيزُ ٱلرَّحِيمُ
373

سورہ شعراء کو سنیں (عربی اور اردو ترجمہ)

سورہ شعراء کی تفسیر (فی ظلال القرآن: سید ابراہیم قطب)

اردو ترجمہ

یہ باتیں تو یوں ہی ہوتی چلی آئی ہیں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

In hatha illa khuluqu alawwaleena

اردو ترجمہ

اور ہم عذاب میں مُبتلا ہونے والے نہیں ہیں"

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wama nahnu bimuAAaththabeena

ان ھذا ……بمعذبین (138)

یعنی وہ جو کام کر رہے ہیں وہ تو اسی رطح ہوتے چلے آئے ہیں۔ ہودعلیہ السلام خواہ مخواہ رفت کر رہے تھے وہ تو آباء و اجادد کی راہ پر جا رہے ہیں اور کوئی عذاب آنے کا ڈر نہیں ہے کیونکہ ہمارے آباء پر تو عذاب نہیں آیا۔

اب قرآن مجید اس مکالمے کے بقیہ حصوں کو چھوڑ دیتا ہے۔ بس انجام بتا دیا جاتا ہے ، اختصار کے ساتھ۔

اردو ترجمہ

آخرکار انہوں نے اُسے جھٹلا دیا اور ہم نے ان کو ہلاک کر دیا یقیناً اس میں ایک نشانی ہے، مگر ان میں سے اکثر لوگ ماننے والے نہیں ہیں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Fakaththaboohu faahlaknahum inna fee thalika laayatan wama kana aktharuhum mumineena

فکذبوہ فاھلکنھم

غرض صرف دو لفظوں میں ان کا انجام بتا دیا جاتا ہے۔ دو لفظوں میں قصہ تمام ” تکذیب “ کی ” ہلاک ہوئے “۔ وہ تمام محلات لپیٹ دیئے گئے۔ وہ تمام انعامات و اکرامات واپس لے لئے گئے۔ وہ تمام مویشی ، تمام آبادی ، تمام باغات اور تمام چشمے لپیٹے گئے۔

غرض صرف دو لفظوں میں ان کا انجام بتا دیا جاتا ہے۔ دو لفظوں میں قصہ تمام ” تکذیب “ کی ” ہلاک ہوئے۔ “ وہ تمام محلات لپیٹ دیئے گئے۔ وہ تمام انعامات و اکرامات واپس لے لئے گئے۔ وہ تمام مویشی ، تمام آبادی ، تمام باغات اور تمام چشمے لپیٹے گئے۔

قوم عاد کے بعد کئی دوسری اقوام نے انسانی تاریخ میں عادیوں کی طرح سوچا ، عادیوں کی طرح دھوکہ کھایا ، اللہ سے دور ہو کر انہوں نے تہذیب و تمدن میں ترقی کی اور یہ سوچا کہ اب انسان اس قدر ترقی کرچکا ہے کہ اسے خدا کی ضرورت نہیں ہے۔ کئی اقوام نے دوسروں کے لئے ہلاکت کا سامان تیار کیا اور اپنے آپ کو بچایا اور یہ سوچتی رہیں کہ یہ ساز و سامان اسے اپنے دشمنوں سے بچا لے جائے گا لیکن ایسی اقوام کو خبر بھی نہیں ہوتی کہ اس کے دائیں ، اس کے بائیں ، اس کے اوپر ، اس کے نیچے اور ہر طرف سے اس پر عذاب ٹوٹ پڑتا ہے۔

اردو ترجمہ

اور حقیقت یہ ہے کہ تیرا رب زبردست بھی ہے اور رحیم بھی

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wainna rabbaka lahuwa alAAazeezu alrraheemu

اردو ترجمہ

ثمود نے رسولوں کو جھٹلایا

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Kaththabat thamoodu almursaleena

درس نمبر 166 تشریح آیات

141……تا……159

کذبت ثمود ……رب العلمین (135)

وہی الفاظ اور وہی دعوت جسے ہر رسول پیش کر رہا ہے اور قرآن کریم تمام رسولوں کی طرف سے مختلف زبان و مکان اور مختلف اقوام و لسان کے باوجود ایک جیسے الفاظ لاتا ہے۔ یہ بتانے کے لئے کہ تمام رسولوں کی رسالت کا ایک ہی مقصد اور ایک ہی مضمون تھا۔ ایک فکر اور ایک منہاج تھا ۔ وہ ایک ہی اصول اور نظریہ تھا جس پر یہ رسالتیں اور یہ دعوتیں بلند ہوئیں۔ اللہ پر ایمان ، اس کی جو ابدی کا احساس اور ڈر ، اور ہر رسول کی اطاعت۔

اس کے بعد قرآن مجید قوم ثمود کی مخصوص باتیں بیان کرتا ہے۔ جو اس وقت سورت کے مضمون کے ساتھ مناسب ہیں۔ ان کو بھی حضرت صالح یاد دلاتے ہیں کہ دیکھو تم پر اللہ کے کیا کیا انعامات ہیں۔ یہ لوگ شام اور حجاز کے درمیان علاقہ حجر میں رہائش پذیر تھے۔ حضور اکرم ﷺ جب جنگ تبوک میں گئے تو اپنے صحابہ کرام کے ساتھ آپ نے ان کے علاقے اور گھروں کا عبرت ناک دورہ فرمایا۔ حضرت صالح فرمات یہیں کہ تمارے اعمال کے پیش نظر اللہ تم سے یہ انعامات چھین سکتا ہے ، ذرا خدا کا خوف کرو۔

اردو ترجمہ

یاد کرو جبکہ ان کے بھائی صالحؑ نے ان سے کہا "کیا تم ڈرتے نہیں؟

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Ith qala lahum akhoohum salihun ala tattaqoona

اردو ترجمہ

میں تمہارے لیے ایک امانت دار رسول ہوں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Innee lakum rasoolun ameenun

اردو ترجمہ

لہٰذا تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Faittaqoo Allaha waateeAAooni

اردو ترجمہ

میں اس کام پر تم سے کسی اجر کا طالب نہیں، میرا اجر تو رب العالمین کے ذمہ ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wama asalukum AAalayhi min ajrin in ajriya illa AAala rabbi alAAalameena

اردو ترجمہ

کیا تم اُن سب چیزوں کے درمیان، جو یہاں ہیں، بس یوں ہی اطمینان سے رہنے دیے جاؤ گے؟

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Atutrakoona fee ma hahuna amineena

اتنراکون فی ……فرھین (149)

یہ لوگ ایسے معاشی حالات میں رہتے تھے جس کی تصویر کشی ان کے لئے ان کے بھائی صالح کر رہے تھے۔ لیکن یہ لوگ نہایت غفلت سے زندگی بسر کر رہے ہیں اور اس بات کی کوئی فکر نہیں کر رہے کہ یہ انعامات دینے والا کون ہے۔ ان انعامات کا سرچشمہ اور آنے کی جگہ کون سی ہے۔ یہ لوگ اس منعم حقیقی کا تصور بھی نہیں کرتے جس نے یہ انعامات عطا کئے ہیں۔ چناچہ رسول وقت نے ان کو اس طرف متوجہ کرنے کی ضرورت محسوس کی کہ ان نعمتوں پر اللہ کا شکر ادا کرو ورنہ واپس لی جاسکتی ہیں۔

حضرت صالح نے ان کو ایسے جھٹکے دیئے کہ ان کے غافل دل جاگ اٹھیں اور اللہ کا خوف کریں۔

اتترکون فی ماھھنا امنین (26 : 136) ” کیا تم ان سب چیزوں کے درمیان جو یہاں ہیں ، بس یوں ہی اطمینان سے رہنے دیئے جائو گے۔ “ مطلب یہ کہ کیا تم جس خوشحالی ، عیش و عشرت اور نعمتوں میں ڈوبے ہوئے ہو ، ہمیشہ رہو گے ، تمہیں کہیں جواب نہیں دینا ہے ، کہیں نہیں جاتا ہے۔ کسی بالائی قوت سے تمہیں کوئی ڈر نہیں ہے۔ ان کے زوال کا بھی کوئی ڈر نہیں ہے۔ کیا ڈرتے نہیں ہو کہ حالات بدل بھی سکتے ہیں۔

ان باغات اور چشموں میں ان فصلوں اور میوہ جات میں تاکستانوں اور نخلستانوں میں اور ان خوشگوار اور خوش ذائقہ میوہ جات میں ، زود ہضم پھلوں میں اور پہاڑوں میں تم جو مکانات بناتے ہو ، یا اپنی عیاشیوں کے لئے تم پہاڑوں جیسے اونچے مکانات بناتے ہو اور یہ سب کام عبث ہے کیونکہ یہ تمہاری رہائش کی ضرورت سے بہت ہی زیادہ ہے۔ محض مہارت حسن اور تعیش کے اظہار کے لئے۔

یوں حضرت صالح ان غافل لوگوں کو سخت جھٹکے دے کر جگانے کے بعد ان کو دعوت دیتے ہیں کہ اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو اور ان لوگوں کی مخالفت کرو جو ظالم سردار ہیں اور جو ہر وقت شر و فساد اور ظلم کی طرف مائل رہتے ہیں۔

اردو ترجمہ

اِن باغوں اور چشموں میں؟

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Fee jannatin waAAuyoonin

اردو ترجمہ

اِن کھیتوں اور نخلستانوں میں جن کے خوشے رس بھرے ہیں؟

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

WazurooAAin wanakhlin talAAuha hadeemun

اردو ترجمہ

تم پہاڑ کھود کھود کر فخریہ اُن میں عمارتیں بناتے ہو

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Watanhitoona mina aljibali buyootan fariheena

اردو ترجمہ

اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Faittaqoo Allaha waateeAAooni

فاتقوا ……یصلحون (153)

لیکن جب کسی قوم کے دل خشک ہوجاتے ہیں اور ان سے غور و فکر ختم ہوجاتا ہے۔ تو ایسی درد بھری پکاریں ان کو سنائی نہیں دیتیں۔ وہ کسی بات پر کام نہیں دھرتے اور ان کے دل نرم نہیں ہوتے۔

اردو ترجمہ

اُن بے لگام لوگوں کی اطاعت نہ کرو

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wala tuteeAAoo amra almusrifeena

اردو ترجمہ

جو زمین میں فساد برپا کرتے ہیں اور کوئی اصلاح نہیں کرتے"

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Allatheena yufsidoona fee alardi wala yuslihoona

اردو ترجمہ

انہوں نے جواب دیا "تو محض ایک سحر زدہ آدمی ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Qaloo innama anta mina almusahhareena

قالوا انمآ ……(154)

ان کا جواب یہ تھا کہ اے صالح تم پر کسی نے جادو کردیا ہے ، اس لئے تو یہ باتیں بغیر سوچے سمجھے کر رہا ہے۔ ان کے خیالات کے مطابق خدا کی طرف دعوت دینے والے مجنون ہوتے ہیں۔

ما انت الا بشر مثلنا (26 : 153) ” تو ہم جیسے ایک انسان کے سوار اور کیا ہے۔ “ جب بھی انسانوں کے کسی گروہ کے پاس کوئی رسول آیا ہے۔ انہوں نے یہی کہا ہے کہ تم تو ہم جیسا ہی ایک آدمی ہے۔ انسانوں نے ہمیشہ رسولوں کے بارے میں اور رسالت کے بارے میں کوتاہ بینی سے کام لیا۔ وہ اس بات کو کبھی نہ سجھ سکے کہ رسول بشر کیوں ہوتا ہے۔ وہ یہ نہ سمجھ سکے کہ انسانوں میں سے کسی کو رسول بنا کر بھیجنا دراصل انسانیت کے لئے ایک عظیم تکریم ہے کہ انسانوں میں سے کوئی شخص عالم بالا سے مربوط ہوجاتی ہے اور رشد و ہدایت کے سرچشمے یعنی اللہ تعالیٰ کے دربار سے براہ راست ہدایت پاتا ہے۔

انسانوں نے ہمیشہ رسولوں کو ایک دوسری مخلوق سمجھا۔ یا لوگوں نے یہ سمجھا کہ ایسا ہونا چاہئے کہ رسول انسانوں سے کوئی بالا و برتر مخلوق ہو۔ یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ ایک انسان غیب کی خبریں دے۔ نظروں سے اوجھل دنیا کی بات کرے اور یہ انسان یہ بات اس لئے کرتے تھے کہ لوگ اس راز کو نہیں سمجھتے تھے کہ اللہ نے انسان کو یہ شرف بخشا …… کہ اس زمین میں رہتے ہوئے بھی اس انسان کے اندر ایسی صلاحیتیں ہیں کہ وہ عالم بالا سے رابطہ رکھ سکے جو اس دنیا میں رہے۔ کھائے پئے ، شادی کرے ، سوئے بازاروں میں پھرے اور وہ سب کام کرے جو بشر کرتے تھے۔ میلانات اور جذبات رکھنے والا ہو لیکن اس کے باوجودوہ اس بر اعظم کا مالک ہو۔ وحی الٰہی کا مہیط ہو۔

پھر ہر دور میں انسانوں نے رسولوں سے معجزہ طلب کیا ہے تاکہ انہیں معلوم ہو کہ حضور ایک سچے رسول ہیں۔

فات بایۃ ان کنت من الصدقین (26 : 153) ” لائو کوئی نشانی اگر تم سچے ہو “ تو ثمود نے بھی معجزہ طلب کیا اور حضرت صالح نے جواب دیا کہ ہاں یہ معجزہ یہ ناقہ کیسی تھی ؟ ہم یہاں اس کی تعریف ہیں وہ رعب ودیا بس کہانیاں لانا نہیں چاہتے جو مفسرین نے دی ہیں کیونکہ ان میں سے کوئی بھی کھٹائی صحیح اور مستند روایت سے منقول نہیں ہے۔ ہاں یہ ایک معجزاتی ناقہ تھی۔

اردو ترجمہ

تو ہم جیسے ایک انسان کے سوا اور کیا ہے لا کوئی نشانی اگر تو سچّا ہے"

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Ma anta illa basharun mithluna fati biayatin in kunta mina alssadiqeena

اردو ترجمہ

صالحؑ نے کہا "یہ اونٹنی ہے ایک دن اس کے پینے کا ہے اور ایک دن تم سب کے پانی لینے کا

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Qala hathihi naqatun laha shirbun walakum shirbu yawmin maAAloomin

قال ھذہ ……یوم عظیم (161)

یہ معجزانی اونٹنی اس شرط پر آئی کہ جو محدود آغوشی کی سہولتیں انہیں حاصل تھیں وہ ایک دن کے لئے ناقہ کے لئے وقف ہوں گی اور دوسرا دن ان کے لئے اور انکے مویشیوں کے لئے ہوگا۔ نافقہ کے دن میں یہ دخل اندازی نہ کریں گے اور نہ ناقہ ان کے دن پانی پینے گی۔ دونوں دنوں کا پانی اکٹھا نہ ہوگا۔ نہ ان کا ان ناقہ کے دن سے ملے گا اور نہ ناقہ کا ان کے دن سے۔ تو صالح (علیہ السلام) نے ان کو ڈرایا کہ اس کے ساتھ کوئی چھیڑ چھاڑ نہ کرو گے۔ ورنہ ایک عظیم عذاب تم پر نازل ہوجائے گا۔

ان سرکشوں کے لئے یہ معجزہ کوئی مفید ثابت نہ ہوا۔ ان کے دلوں کے اندر ایمان بھی نہ داخل ہوا ، ان کی روحانی دنیا پر ظلمتیں چھائی رہیں لیکن پانی ان کے لئے نصف ہوگیا۔ باوجود تاکید و وصیت کے ان سے نہ رہا گیا۔ انہوں نے وعدہ خلافی کردی۔

اردو ترجمہ

اس کو ہرگز نہ چھیڑنا ورنہ ایک بڑے دن کا عذاب تم کو آ لے گا"

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wala tamassooha bisooin fayakhuthakum AAathabu yawmin AAatheemin

اردو ترجمہ

مگر انہوں نے اس کی کوچیں کاٹ دیں اور آخرکار پچھتاتے رہ گئے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

FaAAaqarooha faasbahoo nadimeena

فعقروھا فاصبحوا ندمین (157)

’ عقر کے عنی ذبح کرنے کے ہوتے ہیں اور جن لوگوں نے یہ کام کیا ، یہ وہی تھے جو زمین میں فساد کرتے تھے اور اصلاح نہ کرتے تھے۔ ان کو حضرت صالح نے خوب ڈرایا تھا مگر وہ حضرت صالح کی نسیبات کو خاطر میں نہ لائے۔ اس جرم کا عذاب پوری قوم کو ملا اور سب پکڑے گئے۔

یہ لوگ آخر کار عذاب دیکھ کر نادم ہوگئے تھے لیکن وقت کے بعد ندامت کا فائدہ ہی کیا ہوتا ہے۔ وقت کے بعد ایمان اور تصدیق کا کیا فائدہ۔

اردو ترجمہ

عذاب نے انہیں آ لیا یقیناً اس میں ایک نشانی ہے، مگر ان میں سے اکثر ماننے والے نہیں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Faakhathahumu alAAathabu inna fee thalika laayatan wama kana aktharuhum mumineena

فاخذھم العذاب ط

یہاں اس عذاب کی تفصیلات نہیں دی گئیں کیونکہ اس سورت میں تمام قصص کو اختصار کے ساتھ لانا مقصود تھا۔

اور اب آخری سبق :

اردو ترجمہ

اور حقیقت یہ ہے کہ تیرا رب زبردست بھی ہے اور رحیم بھی

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wainna rabbaka lahuwa alAAazeezu alrraheemu
373