الا الذین ……(721)
” بجز ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کئے اور اللہ کو کثرت سے یاد کیا اور جب ان پر ظلم کیا گیا تو صرف بدلہ لے لیا اور ظلم کرنے والوں کو عنقریب معلوم ہوجائے گا کہ وہ کس انجام سے دوچار ہوتے ہیں۔ “
لہٰذا اہل ایمان ان لوگوں میں داخل نہیں ہیں۔ یہ لوگ ایمان لائے تو ان کے دل و دماغ اسلامی عقیدہ اور ایمان سے بھرگئے۔ ان کی زندگی ایک منہاج پر رواں دواں ہوگئی۔ انہوں نے اپنی عمی زندگی میں نیک عمل کرنا شروع کردیا اور ان کی قوتیں اعمال صالحہ اور خوبصورت بھلائی کی راہ پر صرف ہونے لگیں۔ وہ صرف ادہام و تخیلات کی دنیا سے باہر آگئے اور انہوں نے اپنے فن کو بھی اپنے نظریہ کے لئے استعمال کیا۔ یعنی کسی نے ان پر ظلم کیا تو انہوں نے بدلہ لے لیا۔ یعنی میں سچائی کو انہوں نے عملاً قبول کیا اس کی حمایت میں ان کا فن بھی میدان میں آگیا۔
ایسے ہی اہل فن میں ، معرکہ توحید شرک کے ابتدائی دور میں ، رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں حضرت حسان ابن ثابت ، کعب ابن مالک ، عبد اللہ ابن رواحہ ؓ شعراء انصار میں سے تھے اور عبد اللہ ابن الزیسری ابوسفیان ابن الحارث ابن عبدالمطلب تھے۔ یہ دونوں ایام جاہلیت میں حضور اکرم کی جو بھی کرتے تھے۔ جب مسلمان ہوئے اور خوب ہوئے تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی نعت میں بھی خوب کمالات دکھائے اور اسلام کی مدافعت کی۔
صحیح حدیث میں آتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت حسان ابن ثابت کو حکم دیا ” ان کی ہجو کرو اور جبرئیل تمہارے ساتھ ہیں۔ “ عبدالرحمٰن ابن کعب نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ نے شعراء پر اشعار میں بھی نازل کیا ہے جو کچھ نازل کیا ہے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” ایک مومن اپنی تولار سے بھی جہاد کرتا ہے اور اپنی زبان سے بھی جہاد کرتا ہے ، اس خدا کی قسم ، جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ جس چیز سے تم ان کو مارتے ہو وہ تیروں کی بارش ہے۔ “ (امام احمد)
اسلامی شعر و فن کا تحقیق مختلف اسالیب میں ہو سکتا ہے۔ یعنی یہ ایک صورت جو ابتدائے اسلام میں وجود میں آئی اور اس وقت اس کی ضرورت بھی تھی لیکن اسلام تصور حیات کے مطابق شعر و سخن کے اور دائرے بھی بیشمار ہیں جن کی اسلام اجازت دیتا ہے۔
یہ ضروری نہیں ہے کہ اسلامی فن وہی ہوگا جو اسلام کے دفاع میں ہو۔ یا براہ راست اس میں دعوت اسلامی موجود ہو۔ یا جس میں اسلام کی تعریف ہو ، پیغمبر اسلام کی تعریف ہو یا اکابر اسلام کی تعریف و تمجید ہو۔ یا اللہ کی حمد و ثنا ؟ یہ ضروری نہیں ہے کہ شعر اگر ان موضوعات پر ہو تو اسلامی ہے اور اگر ان پر نہ ہو تو اسلامی نہیں ہے۔ گردش لیل و نہار پر ایک شاعرانہ نظر ، اور مناظر کائنات پر ایک ایسی نظر جس کے ذریعے ایک مسلم کا شعور اور اس کا تخیل قدرت الہیہ کا احساس کرتا ہو ، حقیقی اسلامی فن ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک لمحہ جس میں انسان کے دل و دماغ پر اللہ کی حکمت روشن ہوجاتی ہے اور جس کے اندر انسان اس کائنات کے عجائبات کا احساس کرتا ہے۔ ایسے لمحات ہی میں اسلامی ادب کی تخلیق ہوتی ہے۔
اسلامی فن اور غیر اسلامی فن کے درمیان امتیاز اس سے ہوتا ہے کہ اسلام کا اپنا ایک تصور حیات ہے۔ اسلامی سوسائٹی کے اندر روابط کی ایک مخصوص شکل پائی جاتی ہے۔ اگر کوئی فن اسلامی تصورات ، اسلامی روابط کے اور اسلامی اخلاق کی اساس پر تخلیق ہوتا ہے تو وہ اسلامی ہے اور اسے اسلام پسند کرتا ہے ورنہ نہیں ہے۔
اور سورت کا خاتمہ اس دھمکی اور مجمل تہدید پر ہوتا ہے۔
وسیعلم الذین طلموآ ای منقلب ینقلبون (62 : 822) ” اور ظلم کرنے والوں کو عنقریب معلوم ہوجائے گا کہ وہ کس انجام سے دوچار ہوتے ہیں۔ “ اس پوری سورت کا مضمون یہ رہا اور اس میں مشرکین کے عناد اور ہٹ دھرمی کی تصویر کشی کی گئی۔ یہ بتایا گیا کہ وہ اللہ کی وعید کے مقابلے میں سرکشی کرتے رہے بلکہ الٹا عالم غرور میں عذاب کے جلدی نزول کا مطالبہ کرتے رہے۔ نیز اس سورت میں ایسے تمام لوگوں پر نازل ہونے والے عذابوں کی تصویر کشی بھی کی گئی اور مختلف رسولوں کے انجام دکھائے گئے۔
اس لئے سورت کے آخر میں مجملاً نبی ﷺ کی مخالف قوتوں کو بھی سمجھا دیا گیا کہ تم بھی ذرا اپنی خیر منائو کہ تمہارا انجام کیا ہونے والا ہے۔ گویا کفار مکہ ذہنی دنیا پر یہ آخری ضرب ہے اور ایسے الفاظ میں ہے کہ فکر ہر کس بقدر ہمت اوست کے مطاق ہر شخص کا خیال اس کے معانی پہچان سکتا ہے۔ لہٰذا یہ مشرکین کے ایوان میں ایک زلزلہ ہے جو سورت کے آخر میں برپا کردیا گیا۔
آیت 227 اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَذَکَرُوا اللّٰہَ کَثِیْرًا ”یہ البتہ استثنائی حکم ہے۔ کوئی شاعر اگر حقیقی مؤمن ہو اور اعمال صالحہ پر کاربند ہونے کے ساتھ ساتھ کثرت ذکر اللہ پر بھی مداومت کرے تو وہ یقیناً مذکورہ بالا مذمت سے مستثنیٰ ہوگا اور اس کا کلام بھی خیر اور بھلائی کا باعث بنے گا۔ اس سلسلے میں حضرت حسانّ بن ثابت رض کی مثال دی جاسکتی ہے جو دربار نبوی ﷺ کے شاعر تھے۔ عرب میں اس وقت شاعری کا بہت رواج تھا اور مشرکین کے شعراء ہجویہ اشعار کے ذریعے حضور ﷺ کی شان میں گستاخی کرتے تھے۔ چناچہ اس میدان میں ان کے جواب کی ضرورت محسوس ہوئی تو یہ فریضہ حضرت حسانّ بن ثابت رض نے انجام دیا۔ اس لحاظ سے آپ رض سب سے پہلے نعت گو شاعر بھی ہیں۔ البتہ شعراء کے بارے میں قرآن کا یہ تبصرہ اس قدر جامع اور مبنی بر حقیقت ہے کہ استثنائی صورتوں میں بھی کہیں نہ کہیں ‘ کوئی نہ کوئی کسر رہ ہی جاتی ہے۔ چناچہ حضرت حسانّ بن ثابت رض کو اگرچہ دربار نبوی ﷺ کا شاعر ہونے کا اعزاز حاصل ہے اور بطور صحابی بھی ان کا درجہ بہت بلند ہے مگر یہ حقیقت ہے کہ آپ رض مرد میدان نہیں تھے۔ غزوۂ احزاب کے موقع پر حضور ﷺ نے ان کو اس مکان پر بطور پہرے دارمتعین فرمایا تھا جہاں پر مسلمان خواتین کو رکھا گیا تھا۔ حضور ﷺ کی پھوپھی حضرت صفیہ رض نے ایک یہودی کو مشکوک انداز میں اس مکان کے آس پاس پھرتے دیکھا تو انہوں نے حضرت حسان رض سے کہا کہ آپ جا کر اس شخص کو قتل کردیں۔ یہ سن کر حضرت حسان رض نے صاف معذرت کردی کہ میں یہ کام نہیں کرسکتا۔ اس پر حضرت صفیہ رض ایک لکڑی ہاتھ میں لے کر گئیں اور اس لکڑی سے یہودی کے سر پر ایسی ضرب لگائی کہ اس کا کام تمام کردیا۔ واپس آکر انہوں نے حضرت حسان رض ّ سے کہا کہ اب آپ جا کر اس یہودی کے ہتھیار وغیرہ اتار کرلے آئیں۔ اس پر انہوں رض نے جواب دیا کہ مجھے ان کی ضرورت نہیں ہے۔ وَّانْتَصَرُوْا مِنْم بَعْدِ مَا ظُلِمُوْا ط ”یہ ان مستثنیٰ قسم کے شاعروں کی چوتھی صفت بیان کی گئی ہے کہ وہ ضرورت پیش آنے پر ظالموں کے مقابلے میں حق کی حمایت کے لیے اپنی زبان سے وہی کام لیں جو ایک مجاہد تیر و شمشیر سے لیتا ہے۔ جیسے حضرت حسان بن ثابت رض کفار کی طرف سے حضور ﷺ کے خلاف کہے گئے ہجویہ اشعار کا جواب دیا کرتے تھے اور حضور ﷺ کی طرف سے مدافعت کرتے تھے۔ حضور ﷺ نے ان رض کے بارے میں فرمایا تھا کہ حسانّ کے اشعار کفار کے خلاف مسلمانوں کے تیروں سے بھی زیادہ مؤثر ہیں۔ بہر حال ہرچیز کی اپنی جگہ پر اہمیت مسلم ہے۔وَسَیَعْلَمُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْٓا اَیَّ مُنْقَلَبٍ یَّنْقَلِبُوْنَ ”ان کو عنقریب معلوم ہوجائے گا کہ وہ کس انجام سے دوچار ہوتے ہیں۔ یہ اسی طرح کا محاورہ ہے جیسے ہمارے ہاں اردو میں کہا جاتا ہے کہ دیکھیں اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔ یعنی ابھی ان لوگوں کو نظر نہیں آ رہا ‘ لیکن عنقریب وہ وقت آنے والا ہے جب قرآن کا بیان کردہ بھیانک انجام ان لوگوں کی نگاہوں کے سامنے ہوگا۔بارک اللّٰہ لی ولکم فی القرآن العظیم ‘ ونفعنی وایاکم بالآیات والذِّکر الحکیم